عیدِ اضحی کا پیغام
Al-Risala, December 2008, pp. 2–3
By Maulana Wahiduddin Khan
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحابہ نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول ، یہ قربانیاں کیا ہیں۔ نے جواب دیا کہ تمھارے باپ ابراہیم کا طریقہ (ماهذه الأضاحي، قال : سنة أبيكم إبراهيم مسند احمد، جلد 4، صفحہ 368؛ ابن ماجه، كتاب الأضاحي)۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ عیدِ اضحی کی حقیقت کیا ہے، وہ ہے۔ حضرت ابراہیم کے طریقے کو علامتی طور پر انجام دے کر اُس کو عملی اعتبار سے اپنی زندگی میں شامل کرنے کا عہد کرنا۔
عیدِ اضحی ہر سال ماہِ ذوالحجہ کی مخصوص تاریخوں میں دہرائی جاتی ہے۔ وہ دراصل حج کی عالمی عبادت کا حصہ ہے۔ حج پورے معنوں میں، حضرت ابراہیم کی زندگی کا علامتی اعادہ (symbolic performance) ہے۔ اس کا ایک حصہ وہ ہے جو ہر مقام پر عیدِ اضحی کی شکل میں جزئی طور پر انجام دیا جاتا ہے۔
حضرت ابراہیم کا مشن عالمی دعوتی مشن تھا۔ آپ نے اس مشن کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ کا سفر کیا۔ آپ نے اپنے اہل خاندان کو اسی کام میں لگایا۔ آپ نے اس دعوتی مشن کے مرکز کے طور پر کعبہ کی تعمیر کی اور اُس کا طواف کیا۔ آپ نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کر کے بتایا کہ دنیا میں میری دوڑ دھوپ تمام تر اللہ کے لیے ہوگی۔ آپ نے قربانی کر کے اپنے اندر اس عزم کو پیدا کیا کہ آپ اپنی زندگی کو پوری طرح، اللہ کے کام کے لیے وقف کریں گے۔ آپ نے احرام کی شکل میں سادہ کپڑے پہنے جو اس بات کی علامت تھے کہ ان کی زندگی مکمل طور سادہ زندگی ہوگی۔ شیطان کو کنکریاں مار کر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے آخری حد تک بچائیں گے، وغیرہ۔
اسی ابراہیمی طریقِ زندگی کو جزئی طور پر ہر سال عیدِ اضحی کے موقع پر تمام مسلمان اپنے اپنے مقام پر دہراتے ہیں۔ اس طرح یہ عیدِ اضحی، حضرت ابراہیم کے طریق حیات کو اپنی زندگی میں اپنانے
کا ایک سالانہ عہد ہے۔ یہی وہ نمونہ ہے جس کو سامنے رکھ کر ہر شخص کو یہ جانچنا چاہیے کہ اُس نے عیداضحیٰ کے دن کو صحیح طور پر منایا، یا صحیح طور پر نہیں منایا۔
عیداضحیٰ کے دن مسلمان اپنے قریب کے لوگوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ یہ ملاقاتیں گویا اِس دعوتی سرگرمی کی تجدید ہیں جو حضرت ابراہیم نے اپنے وقت کی آباد دنیا میں انجام دیں۔ آج ہر مسلمان کو اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان دعوتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہے۔ پھر ہر جگہ کے مسلمان لبّیک، اللھم لبّیک (اے اللہ، میں حاضر ہوں، اے اللہ میں حاضر ہوں) کہتے ہوئے مسجدوں میں جاتے ہیں اور وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں اور امام کا خطبہ سنتے ہیں۔ یہ اپنے اندر اِس روح کو زندہ کرنا ہے کہ میں خدا کی پکار پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہوں، اور یہ کہ میری پوری زندگی عبادت اور اطاعت کی زندگی ہوگی۔ اِسی کے ساتھ امام کے پیچھے نماز ادا کرنا اور نماز کے بعد خطبہ سننا، اِس بات کا عہد ہے کہ میں اِس دنیا میں اجتماعی زندگی گزاروں گا، نہ کہ متفرق زندگی۔ عیداضحیٰ کے دن قربانی کی جاتی ہے۔ اِس قربانی کے وقت یہ کلمات ادا کیے جاتے ہیں: اِنّ صلا تی ونسکی ومحیای ومماتی للہ ربّ العالمین (الأنعام: 161) یعنی بے شک، میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا صرف اللہ رب العالمین کے لیے ہوگا۔ قربانی کے وقت ادا کیے جانے والے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ قربانی کی اصل روح یا اس کی اصل حقیقت کیا ہے۔ قربانی دراصل ایک علامتی عہد (symbolic covenant) ہے۔ اِس علامتی عہد کا تعلق پوری زندگی سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عیداضحیٰ کے دن آدمی علامتی طور پر یہ عہد کرتا ہے کہ اس کی زندگی پورے معنوں میں، خدا رخی زندگی (God-oriented life) ہوگی۔ وہ اپنی زندگی میں عبادتِ الٰہی کو اُس کے تمام تقاضوں کے ساتھ شامل کرے گا۔ وہ اپنے آپ کو خدا کے مشن میں وقف کرے گا۔ وہ دنیا میں سرگرم ہوگا تو خدا کے مشن کے لیے سرگرم ہوگا۔ اِس پر موت آئے گی تو اِس حال میں آئے گی کہ اِس نے اپنے آپ کو پوری طرح خدا کے مشن میں لگا رکھا تھا، وہ پورے معنوں میں خداوند عالم کا بندہ بنا ہوا تھا۔ اِس کا جینا خدا کے لیے جینا تھا، نہ کہ خود اپنے لیے جینا۔