حد کے اندر رہیے
Al-Risala, December 2008, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک شخص آپ پر تنقید کرتا ہے، اور کوئی قابلِ شکایت بات کر دیتا ہے۔ اب اعلیٰ اخلاقی درجہ یہ ہے کہ آپ اس کی طرف سے پیش آنے والی ناخوش گواری کو برداشت کر لیں۔ آپ اس کو نظر انداز کر کے اس کے ساتھ اپنے حسنِ سلوک کو بدستور باقی رکھیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ جب ناخوش گوار بات پیش آئی تو آپ برداشت نہ کر سکے۔ جس طرح اس نے آپ کو سخت الفاظ کہے تھے، آپ نے بھی اس کو سخت الفاظ کہہ دیے۔ یہ برابر کا معاملہ ہے اور یہ بھی اسلام میں جائز ہے (الشورى: 45)۔ تیسری صورت یہ ہے کہ جس آدمی سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے، اس کے خلاف آپ کے دل میں کینہ پیدا ہو گیا۔ آپ اس کو دوسروں کے سامنے بے عزّت کرنے لگے۔ آپ اس کی کردار کشی اور اس پر الزام تراشی میں لگ گئے۔ آپ کی نفسیات یہ ہو گئی کہ آپ اس کو بے عزّت کر کے خوش ہوں، اس کو لوگوں کے سامنے بے آبرو کر کے آپ کو لذت ملے۔ یہ تیسری صورت اسلام میں ناجائز ہے۔ کر کے آپ اپنے کو اللہ کے سامنے گنہ گار بنا رہے ہیں۔
چوتھی صورت یہ ہے کہ آپ صرف بے عزّت کرنے پر نہ رکیں۔ بلکہ قابلِ شکایت آدمی کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بنائیں ۔ اس کو قتل کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس کی جائداد پر قبضہ اس کے اثاثہ کو نقصان پہنچائیں۔ اس کے مستقبل کو تباہ کرنے پر تل جائیں۔ یہ چوتھی صورت گنہ گاری پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ جو شخص اس حد تک چلا جائے، وہ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دے رہا ہے کہ وہ اللہ سے آخری حد تک بے خوف ہو چکا ہے۔ اللہ کی پکڑ کا اس کو اتنا اندیشہ بھی نہیں جتنا کسی کو چیونٹی کے کاٹنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے اللہ کی رحمتوں میں کوئی حصہ نہیں۔ ہر آدمی غلطی کرتا ہے۔ کوئی انسان غلطی سے پاک نہیں۔ مگر غلطی کی ایک حد ہے۔ جو شخص اپنی غلط کاری میں حد کو پار کر جائے وہ خدا کی غیرت کو چیلنج کر رہا ہے۔ اور جو شخص خدا کی غیرت کو چیلنج کرے اس کا انجام نہ دنیا میں بہتر ہو سکتا ہے اور نہ آخرت میں۔