امرِ موعود، امرِ مقصود
Al-Risala, December 2008, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ نمبر 24 میں اجتماعی زندگی کے بارے میں ایک حکم بیان ہوا ہے۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُن لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا، جیسا کہ اُن سے پہلے لوگوں کو اقتدار عطا کیا تھا، اور اُن کے لیے ان کے اُس دین کو جما دے گا جس کو ان کے لیے پسند کیا ہے۔ اور ان کے خوف کی حالت کے بعد اس کو امن سے بدل دے گا۔ وہ صرف میری عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرا شریک نہ بنائیں اور جو اس کے بعد انکار کرے، تو ایسے ہی لوگ نافرمان ہیں‘‘ (النور: 55)۔ قرآن کی اِس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر سیاسی اقتدار کی حیثیت امرِ موعود کی ہے، نہ کہ امرِ مقصود کی۔ مسلمانوں کے لیے اپنے عمل کا نشانہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے اندر ایمان اور عمل صالح کی صفات پیدا کریں، وہ اپنی ساری توجہ اسی داخلی نشانے پر لگادیں۔ جہاں تک زمین پر سیاسی غلبہ کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ تعالیٰ سے ہے۔ سیاسی غلبہ کا فیصلہ براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، اور وہ اُسی کو ملتا ہے جس کے لیے اللہ نے اس کا فیصلہ کیا ہو (آل عمران: 26)۔
اس سے معلوم ہوا کہ سیاسی نظام کے قیام کو نشانہ بنا کر عمل کرنا، ایک مبتدعانہ عمل ہے۔ کے نام پر بے دینی ہے۔ وہ اسلام کے نام پر اسلام سے انحراف کرنا ہے۔ اس قسم کی کوشش کو کبھی خدا کی نصرت نہیں ملے گی، اس لیے ایسی کوشش کبھی کامیاب ہونے والی نہیں۔
قرآن اور حدیث کے مطابق، اسلام میں امرِ مقصود، یا نشانہ مطلوب، ایمان اور عملِ صالح اور دعوت الی اللہ ہے۔ اس کے سوا جو چیزیں ہیں، وہ سب امرِ موعود سے تعلق رکھتی ہیں، یعنی وہ خدا کے فیصلے سے کسی کو ملیں گی، نہ کہ ان کو نشانہ بنا کر ان کے لیے براہِ راست کوشش کرنے سے۔ اسلام کی پوری تاریخ اِس سنتِ الہی کی تصدیق کرتی ہے۔
دعوہ ایکٹوزم، پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم Dawah Activism, Political Status quoism قرآن کی سورہ نمبر 74 نبوت کے ابتدائی دور کی سورہ ہے۔ اس میں پیغمبر کو حکم دیا گیا کہ : قم فأنذر (المدثر : 2) یعنی اٹھو اور لوگوں کو آگاہ کر دو۔ اس کے بعد اسی سورہ میں فرمایا: ولربک فاصبر ، یعنی دوسرے معاملات میں صبر کا طریقہ اختیار کرو۔ یہ پیغمبرانہ لائحہ عمل تھا۔ یہ لائحہ عمل دو بنیادی اصولوں پر مبنی تھا۔ یہ بنیادی اصول دوسرے لفظوں میں یہ تھے ۔ دعوہ ایکٹوزم (dawah activism) اور پولیٹکل اسٹیٹس کو ازم (plitical status quoism)۔
اسلام کے دو حصے ہیں۔ ایک، اسلام کا وہ حصہ جس کا تعلق فکر اور عقیدہ سے ہے۔ اس کو اسلام کی آئیڈیالوجی کہا جا سکتا ہے۔ اسلام کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کا تعلق اس آئیڈیالوجی کی بنیاد پر بننے والے عملی ڈھانچے سے ہے۔ مثلاً اسلام کا اجتماعی اور سیاسی نظام۔
نظریاتی معنوں میں ، اسلام کی آئیڈیالوجی کی بات کی جائے تو دوسروں کے ساتھ کوئی ٹکراؤ پیش نہیں آتا، لیکن اجتماعی اور سیاسی نقشے کا تعلق براہ راست طور پر دوسروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس نقشے کو اُس وقت عمل میں لایا جا سکتا ہے، جب کہ دوسرے لوگوں کے اندر اس کی قبولیت (acceptance) پیدا اگر دوسرے لوگوں کے اندر قبولیت پیدا نہ ہوئی ہو، تو اجتماعی نقشے کو بدلنے کی کوشش صرف ٹکراؤ پیدا کرے گی۔ اور اس قسم کا ٹکراؤ ہمیشہ الٹا نتیجہ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ ایسی حالت میں حکیمانہ طریقہ صرف یہ ہے کہ عملی نقشے کو علی حالہ باقی رکھتے ہوئے پُر امن دعوتی جدوجہد کی جائے۔ پیغمبرانہ نمونے کے مطابق، یہی اسلامی کام کا صحیح طریقہ ہے۔ کسی عمل کی قدر و قیمت کا معیار اس کا نتیجہ ہے، نہ کہ نظریہ۔ ایک کام نظریاتی طور پر اچھا معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کا نتیجہ الٹا نکلنے والا ہو تو نظریاتی حسن کے باوجود ایسے کام کو نہیں کیا جائے گا۔ یہی عمل کا واحد دانش مندانہ طریقہ ہے۔