Al-Risala · December 2008

ختم فتنه کا دور

Al-Risala, December 2008, pp. 24–25

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 8 میں رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ : قاتلوهم حتى لا تكون فتنة ويكون الدين كله لله (الأنفال: 39) یعنی ان سے لڑو، یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ اس آیت میں کوئی سیاسی حکم نہیں بتایا گیا ہے۔ یہ آیت تمام تر مذہب کے معاملے میں اسلام کے اصول کو بتاتی ہے۔

آیت میں 'فتنہ' سے مراد مذہبی جبر (religious persecution) ہے ۔ قدیم زمانے میں ہر جگہ بادشاہی نظام قائم تھا۔ بادشاہوں نے یہ مذہبی اصول اختیار کر رکھا تھا کہ اسٹیٹ کا جو مذہب ہو، وہی ملک کے تمام باشندوں کا مذہب ہو۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ کے مذہب کے سواکسی اور مذہب کو اختیار کرنا، ریاست سے بغاوت کے ہم معنی سمجھا جاتا تھا اور ایسے لوگوں کے ساتھ وہ معاملہ کیا جاتا تھا جس کو تاریخ میں مذہبی ایذارسانی (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ اسی بنا پر یہ عمومی مثل بن گئی تھی کہ : الناس على دين ملوكهم ۔

مذہب کو اسٹیٹ کا معاملہ قرار دینے کا یہ طریقہ خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھا۔ تخلیقی پلان (creation plan) کے مطابق، موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے ہر انسان کو آزادی ہے کہ وہ جس دین کو چاہے اختیار کرے۔ یہی بات قرآن کی اس آیت میں کہی گئی ہے : لا إكراه في الدين (البقرة: 256)۔ مذہبی جبر یا مذہب کو ریاست کے تابع قرار دینا، خدا کے تخلیقی پلان کی نفی کے ہم معنی تھا۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ اس سیاسی روایت کو ختم کر دو، تا کہ انسان آزادی کے ساتھ جو مذہب چاہے، اختیار کرے۔ مذہب کا معاملہ امتحان کا معاملہ ہے، نہ کہ قانونی اور سیاسی ختم فتنہ کا یہ کام ایک وقتی کام تھا جو رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں کامل طور پر انجام جیسا کہ تاریخ بتاتی ہے، یہ واقعہ ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ واقعات بتاتے ہیں کہ تاریخ میں دوبارہ ایسا ہوا کہ مذہب کو اسٹیٹ کے ماتحت شعبہ قرار دے دیا گیا۔

پہلی بار قدیم بادشاہت کے زمانے میں، اور دوسری بار جدید کمیونسٹ ایمپائر کے زمانے میں۔ نظام، خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف تھے۔ اس لیے خدا نے ایسے حالات پیدا کیے کہ ان دونوں نظاموں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو گیا۔ قدیم بادشاہت کے تحت قائم ہونے والے نظام کو دور اول کے اہل اسلام کے ذریعہ ختم کیا گیا تھا، اور جدید کمیونسٹ ایمپائر کے نظام کو ختم کرنے کے لیے امریکا کو ذریعہ بنایا یہ ایک خدائی انتقام تھا کہ تشدد کا استعمال کیے بغیر کمیونسٹ ایمپائر کا خاتمہ ہو گیا۔ اب ساری دنیا میں مذہبی جبر کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اب ہر ملک میں کامل معنوں میں، مذہبی آزادی (religious freedom) حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے حقوق انسانی کے چارٹر کے تحت، تمام ملکوں نے اجتماعی طور پر مذہبی آزادی کا حق ہر ایک کے لیے تسلیم کیا ہے۔ اسی کے ساتھ ہر ملک کے دستور میں، بشمول ہندوستان، مذہبی آزادی کا حق ہر عورت اور مرد کو مکمل طور پر عطا کیا گیا ہے۔ اس عالمی تبدیلی کے بعد اب جنگ کا دور ختم ہو چکا ہے۔ اب کرنے کا کام صرف یہ ہے کہ اس ملی ہوئی آزادی کو بھر پور طور پر استعمال کیا جائے اور خدا کے دین کو ساری دنیا میں ہر چھوٹے اور بڑے گھر کے اندر پہنچادیا جائے، جیسا کہ حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے (لايبقى على ظهر الأرض بيتُ مدرٍ ولا وبرٍ إلا أدخله الله كلمة الإسلام)۔

قرآن کے مطابق، خدا نے انسان کو ابتلا کے لیے پیدا کیا ہے (الملک : 2)، یعنی دنیا میں انسان کو بسا کر اس کو کامل آزادی دی گئی ہے، تاکہ وہ جس طرح چاہے رہے اور پھر اپنے عمل کے مطابق، آخرت میں سزا اور انعام پائے۔ قرآن ، تخلیق کے اسی خدائی نقشے کی تفصیل ہے۔ موجودہ دنیا میں فتنہ کی حالت (مذہبی جبر کی حالت) خدا کے تخلیقی پلان کے خلاف ہے۔ کے فطری نظام میں مداخلت ہے۔ خدا اپنی دنیا میں اس قسم کی مداخلت کو کبھی برداشت نہیں کر سکتا۔ اس کو ختم کردے گا، کبھی ایک انسانی گروہ کے ذریعے اور کبھی دوسرے انسانی گروہ کے ذریعے ۔ خدائی آپریشن کا معاملہ ہے۔ اس قسم کا آپریشن فرشتوں کے ذریعے انجام نہیں دیا جاتا، بلکہ اسباب و علل کا پردہ باقی رکھتے ہوئے، اس کا خاتمہ کیا جاتا ہے۔ مذکورہ دونوں واقعات اسی کی تاریخی مثالیں ہیں۔

Printed page