Al-Risala · December 2008

کم زور دفاع

Al-Risala, December 2008, pp. 28–29

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب جو جاہل اور غریب عوام میں کام کرتے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں بہت سالوں سے اس طبقے میں کام کر رہا ہوں۔ میں نے پایا کہ یہ لوگ بہت زیادہ جھوٹ بولتے ہیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جھوٹ ہی ان کا کلچر ہے۔ میں نے سوچا کہ ایسا کیوں ہے۔ آخر کار میری سمجھ میں آیا کہ یہ لوگ دفاع کے طور پر جھوٹ بولتے ہیں۔ اس طبقے کا کوئی شخص جب ایک غلطی کرتا ہے اور اس کا آقا اس سے باز پرس کرتا ہے، تو وہ اپنی کم زوری کی بنا پر محسوس کرتا ہے کہ وہ کسی اور انداز سے اپنا دفاع نہیں کر سکتا، اس لیے وہ فوراً جھوٹ بول دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے ایسا نہیں کیا۔

کم زور دفاع کا یہ طریقہ صرف جاہل عوام کی اجارہ داری نہیں، وہ پڑھے لکھے لوگوں میں بھی عام طور پر پایا جاتا ہے۔ اس معاملے کا ایک تجربہ مجھے ذاتی طور پر پیش آیا۔ میں تقریباً پچاس سال سے ایک مشن چلا رہا ہوں بعض لوگوں کو کسی سبب سے مجھ سے اختلاف ہو گیا۔ انھوں نے تقریر اور تحریر کے ذریعے میرے خلاف زبردست مہم شروع کردی۔ آپ ان لوگوں کی تقریروں اور تحریروں کو پڑھیے، آپ پائیں گے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص بھی نہیں جس نے علمی دلائل کے ذریعے، راقم الحروف کے نقطۂ نظر کا تجزیہ کیا ہو۔ ان میں سے ہر ایک صرف ایک کام کر رہا ہے، اور وہ ہے کوئی منفی شوشہ نکال کر مجھ کو اور میرے مشن کو بدنام کرنا۔

یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ کم زور دفاع کا ایک معاملہ ہے۔ یہ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ دلیل کے میدان میں وہ شکست کھا چکے ہیں۔ خالص علمی دلائل کے ذریعے وہ میرے نقطۂنظر کو غلط ثابت نہیں کر سکتے، اس لیے وہ عیب زنی اور الزام تراشی کے ذریعے مجھ کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ صرف غیرمتقیانہ ہے، بلکہ وہ علمی ذوق کے اعتبار سے نہایت پست طریقہ ہے۔ یہ دفاع کے نام پر خود اپنی شکست کا اعلان کرنا ہے۔

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ کسی شخص کے پاس اپنے دشمن کو مارنے کے لیے اگر بم ہو، تو وہ ہرگز ایسا

نہیں کرے گا کہ اورہ کنکری سے اپنے دشمن کو مارنے لگے۔ یہی معاملہ تنقید کا ہے۔ ایک ناقد کے پاس اگر علمی دلیل ہو، تو یہ ممکن نہیں کہ وہ عیب زنی اور الزام تراشی کے ذریعے اپنے حریف کا مقابلہ کرے۔ ایسا آدمی لازمی طور پر علمی دلائل کے ذریعے تنقید کرے گا۔ اس لیے جو لوگ ہمارے مشن کے خلاف الزام تراشی کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں، وہ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کر رہے ہیں کہ ان کے پاس علمی دلائل موجود نہیں اگر ان کے پاس علمی دلائل موجود ہوتے، تو وہ ہرگز کم زور دفاع کا موجودہ طریقہ اختیار نہ کرتے۔ اسی طرح کی ایک مثال موجودہ زمانے کے مسلم علماء کے یہاں ملتی ہے۔ یہ علماء کچھ لوگوں کو گم راہ، یا بد دین سمجھتے ہیں۔ وہ ان کے خلاف تقریر و تحریر کی مہم چلائے ہوئے ہیں۔ مثلاً منکرین حدیث، منکرین ختم نبوت، وغیرہ مسلم علماء ان'' منکرین‘‘ کے خلاف کتابیں چھاپتے ہیں اور جلسے کرتے ہیں اور احتجاج کرتے ہیں، مگر یہ سب میرے نزدیک کم زور دفاع کی مثالیں ہیں۔ اس طرح کے لفظی ہنگاموں، یا مخالفانہ فتویٰ شائع کرنے سے ’’منکر‘‘ گروہوں کا نہ اب تک کوئی نقصان ہوا ہے اور نہ آئندہ اس سے ان کا کوئی نقصان ہوگا۔

اصل کام یہ ہے کہ ان ’’منکرین‘‘ کے نظریے کا گہرا مطالعہ کرکے، اُن کے اٗس نظریے کو سمجھا جائے جس کے اوپر انھوں نے اپنی بنیاد کھڑی کی ہے اور پھر علمی دلائل کے ذریعے اس نظریے کا باطل ہونا ثابت کیا جائے۔ علماء کا موجودہ طریقہ بلا شبہ ایک کم زور دفاع ہے، اور کم زور دفاع کا یقینی طور پر کوئی فائدہ نہیں۔ کم زور دفاع خود اپنی کم زوری کا اعلان ہے، نہ کہ دوسرے کی تردید یا دفاع۔ مقابلے کی اس دنیا میں آدمی کے لیے صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہے— صبر یا حقیقی دفاع۔ آدمی یا تو نتیجہ خیز دفاع کرے، اور اگر وہ نتیجہ خیز دفاع کی پوزیشن میں نہ ہو تو وہ صبر اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ اگر آدمی نزاعی معاملے میں یک طرفہ طور پر صبر کرے، تو حالات خود بخود اس کی طرف سے خاموش دفاع کرنے لگتے ہیں۔ ایسی حالت میں بے نتیجہ دفاع کرنا، فطرت کے عمل کو روکنے کے ہم معنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بے نتیجہ دفاع صرف ایک نادانی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی دفاعی عمل۔

Printed page