Al-Risala · December 2008

بے مسئلہ انسان

Al-Risala, December 2008, pp. 41–42

By Maulana Wahiduddin Khan

اس دنیا میں کامیاب زندگی کے دو اہم اصول ہیں ۔ یا تو دوسروں کے لیے نفع بخش (useful) انسان بنئے، یا دوسروں کے لیے بے مسئلہ انسان (no problem person) بن جائیے ۔ میں کامیاب زندگی حاصل کرنے کے یہی دو اصول ہیں، ان کے سوا کوئی تیسرا اصول نہیں۔ تیسرا اصول ہے تو وہ ہلاکت ہے، نہ کہ کامیابی۔

ایک شخص جب دوسروں کے لیے نفع بخش بنتا ہے تو وہ دوسروں کی نظر میں محبوب بن جاتا ہے۔ یہ فطرت کا تقاضا ہے۔ انسان اپنی فطرت کے اعتبار سے مجبور ہے کہ وہ دینے والے کا احسان مانے، وہ فائدہ پہنچانے والے کا اعتراف کرے۔ جو اُس کے کام آئے، اُس کا دل اُس کے لیے جھک جائے۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے لیے نفع بخش بنتا ہے تو وہ فطرت کی اِس سطح پر دوسرے انسان کا مطلوب شخص (wanted person) بن جاتا ہے۔

اس نفع بخشی کا تعلق صرف بڑی بڑی چیزوں سے نہیں، کسی کو چھوٹی چیز دے کر بھی آپ اس کا دل جیت سکتے ہیں، اور اگر آپ کے پاس کچھ بھی دوسروں کو دینے کے لیے نہ ہو تو آپ صرف اتنا کیجئے کہ آپ دوسروں سے میٹھا بول بولیے، آپ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کیجیے، دوسروں کے حق میں خدا سے دعا کیجئے، یہ سب چیزیں بھی نفع بخشی کا درجہ رکھتی ہیں۔

اگر آپ دوسروں کے لیے کچھ بھی نہ کر سکیں، تب بھی آپ کے لیے ایک کام ہر حال میں ممکن ہوتا ہے، وہ یہ کہ آپ دوسروں کے لیے بے مسئلہ انسان (no problem person) بن جائیے۔ آپ دوسروں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتے تو آپ دوسروں کو نقصان بھی نہ پہنچائیے۔ آپ اس کا اہتمام کیجئے کہ آپ اپنے ساتھی یا اپنے پڑوسی کے لیے کسی بھی اعتبار سے ناگواری (nuisance) کا سبب نہ بنیں۔ اگر آپ صرف اتنا کریں کہ اپنے کام سے کام رکھیں اور دوسروں کے کام میں دخل نہ دیں، تب بھی آپ دوسروں کے لیے باعث رحمت بن جائیں گے۔

سوال و جواب عرض ہے کہ میں ازدواجی زندگی کے مسائل میں گھرا ہوا ہوں۔ مجھ کو اپنی بیوی کی طرف سے مسلسل شکایت رہتی ہے۔ وہ خود کو بدلنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا ذہنی معیار بہت اس لیے گھر میں طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے میں سخت قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا ہوں۔ براہ مہربانی، میرے اس مسئلے کا کوئی حل تجویز فرمائیں (ایک قاری الرساله، جموں و کشمیر)۔

آپ جس ذہنی تناؤ میں مبتلا ہیں، اس کا حل صرف ایک ہے، اور وہ ہے اس کا سبب خود اپنے اب تک آپ اس کا سبب فریق ثانی کے اندر ڈھونڈتے رہے۔ اب آپ یہ کیجیے کہ اس کا سبب اپنے اندر تلاش کیجیے اور خود اپنے آپ کو بدلیے۔ آپ کے مسئلے کا یہی واحد حل ہے، اس کے سوا کوئی اور ممکن حل موجودنہیں۔

اصل یہ ہے کہ آدمی کی زندگی میں جب بھی کوئی مسئلہ پیش آتا ہے، تو وہ فوراً یہ کرتا ہے کہ خود اپنے ذہنی معیار کے مطابق ، اُس کا حل تلاش کرنے لگتا ہے۔ مگر جب اس کے خود ساختہ فارمولے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، تو وہ فریق ثانی کو الزام دینے لگتا ہے۔ اس کی سوچ یہ بن جاتی ہے کہ میں تو صحیح ہوں، یہ دراصل دوسرا فریق ہے جو مسئلہ پیدا کر رہا ہے۔ یہ آئڈیل ازم (idealism) کا طریقہ ہے، مگر اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ۔ یہاں آئڈیل ازم کبھی حاصل نہیں ہوتا:

Printed page