Al-Risala · December 2008

Idealism can not be achieved in this world.

Al-Risala, December 2008, pp. 42–44

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ کے لیے ذہنی تناؤ سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ پریکٹیکل طریقہ ہے، یعنی یہ دیکھنا کہ موجودہ صورت حال میں عملی طور پر کیا ممکن ہے، نہ یہ کہ معیاری اعتبار سے کیا ہونا چاہئے۔ اسی طریقے کا نام حکمت ہے۔ اور ہر مسئلہ صرف حکمت کے ذریعے حل ہوتا ہے۔

پریکٹکل طریقہ اختیار کرنے کا مطلب پسپا ہونا یا شکست قبول کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد اپنے لیے فرصت عمل تلاش کرنا ہے۔ ذہنی تناؤ کے ساتھ کوئی شخص ،مواقع کو استعمال (avail) نہیں اس لیے عقل مندی یہ ہے کہ آدمی یک طرفہ طور پر ایڈجسٹ کرلے، تا کہ وہ مواقع کو زیادہ بہتر طور پر استعمال کرنے کے قابل ہو سکے۔

ذہنی تناؤ ایک قسم کی نفسیاتی خودکشی ہے۔ ذہنی تناؤ ہمیشہ کسی خارجی سبب سے پیدا ہوتا ہے۔ اور آدمی اُس سے متاثر ہو کر خود اپنے آپ کو اس کی سزا دینے لگتا ہے۔ ایسی نادانی آپ کیوں کریں۔ اس خود اختیار کردہ سزا سے بچنے کی آسان تدبیر یہ ہے کہ آدمی آئیڈیل ازم کو چھوڑ دے، وہ پریکٹکل بن وہ اُس فارمولے کو اختیار کرے جس کو ایک شخص نے مثال کی صورت میں اِس طرح بیان کیا ہے: ’’اگر تم چوکور ہو، اور تم کسی گول خانے پڑجاؤ تواپنے آپ کو گول بنالو‘‘۔ یہ شکست کا فارمولا نہیں ہے، بلکہ وہ فتح کا فارمولا ہے۔ کیوں کہ ایسا کر کے آدمی اپنے آپ کو نفسیاتی ہلاکت سے بچا لیتا ہے۔ میں کافی عرصے سے مستقل طور پر آپ کے مؤقر علمی اور دعوتی مجلہ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا میں نے ہر لحاظ سے الرسالہ کو مفید اور چشم کشا پایا ہے۔ مدرسہ کے دیگر اساتذہ بھی الرسالہ سے برابر استفادہ کر رہے ہیں۔ ادارے کے بہت سے نزاعی امور کو حل کرنے میں بھی الرسالہ نے ہمیں خالص عملی رہ نمائی دی اور کئی نازک مسائل نہایت احسن طریقے سے حل ہوگئے۔ تاہم ایک چیز جو مجھے آپ سے عرض کرنا ہے، وہ یہ کہ بسا اوقات آپ ایک انگریزی عبارت نقل کرتے ہیں، مگر اس کا ترجمہ درج نہیں ہوتا۔ اس سے پوری بات سمجھنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ اگر آپ ہر انگریزی عبارت کا ترجمہ بھی تحریر فرمادیں تو ہم جیسے لوگوں کے لیے الرسالہ سے مزید استفادہ کرنا آسان ہو جائے گا (مولانا محمد شاہد قاسمی، ہریانہ)۔

ماہ نامہ الرسالہ میں انگریزی عبارتیں بھی ہوتی ہیں اور قرآن اور حدیث کے حوالے بھی۔

ان کا ترجمہ ساتھ ساتھ موجود رہتا ہے، مگر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوتا۔ ایسا بھول کر نہیں ہوتا، بلکہ ایسا بالقصد کیا جاتا ہے۔ ایسا ایک مقصد کے تحت کیا جاتا ہے۔ الرسالہ کے قارئین کو چاہیے کہ وہ اس مقصد کو سمجھیں اور اس سے فائدہ اٹھائیں۔

جیسا کہ عرض کیا گیا، الرسالہ ایک مشن ہے۔ مشن لازمی طورپر انٹریکشن (interaction) چاہتا بعض اوقات ترجمہ نہ دینے کا مقصد قارئین کے لیے انٹریکشن کے انھیں مواقع کو پیدا کرنا ہے۔ مثلاً جب الرسالہ میں کوئی انگریزی لفظ یا انگریزی جملے ہوں اور ان کا ترجمہ وہاں موجود نہ ہو، تو غیر انگریزی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر آس پاس کے کسی انگریزی داں آدمی سے ملے، اور اُس کے ذریعے سے انگریزی عبارت کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اِس طرح، قارئین الرسالہ کی ملاقات دوسرے لوگوں سے ہوگی اور نتیجہ ایسی ملاقات مشن کی توسیع کا ذریعہ بن جائے گی۔ اسی طرح، جب کبھی الرسالہ میں قرآن اور حدیث کا کوئی حوالہ ہو اور وہاں اس کا ترجمہ موجود نہ ہو، تو غیر عربی داں قاری کو چاہیے کہ وہ الرسالہ کو لے کر قریب کے کسی عالم سے ملے۔ وہ اُس عالم کی مدد سے اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس طرح یہ ہوگا کہ الرسالہ کے قارئین کا تعلق علما سے بڑھے گا اور اس کے نتیجے میں ان کو بہت سے دینی فوائد حاصل ہوں گے۔

الرسالہ کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد یہ ہے کہ اس کے قارئین کا عمومی انٹریکشن بڑھے، جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں کا تعلق علما سے قائم ہو، اور اسی طرح، علما کا تعلق جدید تعلیم یافتہ طبقے کے لوگوں سے قائم ہو۔ اس طرح، دونوں کے اجتماع سے دینی اور دعوتی فوائد کے علاوہ، ان کے لیے ذہنی ارتقا کا دروازہ کھلے اور وہ زیادہ بہتر طور پر الرسالہ کے دعوتی مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا رول ادا کر سکیں۔

Printed page