Al-Risala · January 2008

ہر چیز پرچہ امتحان

Al-Risala, January 2008, p. 5

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: أن ما أصابك لم يكن ليخطئك، وأن ما أخطأك لم يكن ليصيبك (مشكاة المصابيح، رقم الحديث: 115) یعنی جو تم کو ملا، وہ تم سے کھویا جانے والا نہ تھا۔ اور جو کچھ تم سے کھویا گیا، وہ تم کو ملنے والا ہی نہ تھا۔

اس حدیث رسول پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ نہ اتفاقاً ملتا ہے اور نہ بطور انعام۔ موجودہ دنیا میں کسی آدمی کو جو کچھ ملتا ہے، وہ صرف پرچہ امتحان کے طور پر ملتا ہے۔ خدا کے فیصلے کے تحت، ہر عورت اور مرد کو کچھ چیزیں دی جاتی ہیں، تاکہ اُن چیزوں میں آزما کر دیکھا جائے کہ آدمی کا رویہ کیسا تھا۔ خدا کبھی کوئی چیز دے کر امتحان لیتا ہے کہ آدمی نے اُس پر شکر کیا، یا اِس کو پا کر وہ گھمنڈ میں مبتلا ہو گیا۔ اسی طرح کوئی چیز چھین کر خدا آدمی کا امتحان لیتا ہے کہ اِس سے محروم ہو کر اُس نے صبر کیا، یا وہ شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہو گیا۔ یہ خدا کا تخلیقی نقشہ (creation plan) ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کی نظر اِس پر نہیں ہونی چاہیے کہ اُس نے کیا پایا اور اُس سے کیا چھینا گیا۔ اِس کے بجائے اِس کو اپنا سارا دھیان اِس پر لگانا چاہیے کہ اُس کو جن حالات میں رکھ کر خدا نے اُس کا امتحان لینا چاہا تھا، اُس میں اِس نے مطلوب رسپانس (response) دیا، یا وہ مطلوب رسپانس دینے میں ناکام ہو گیا۔

یہ زندگی کا مثبت تصور ہے۔ یہ زندگی کا مثبت فارمولا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ مزاج پیدا ہو جائے، وہ کبھی ٹینشن میں مبتلا نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں مایوسی یا تلخی کا شکار نہیں ہوگا۔ اُس کو زندگی کی تعمیری شاہ راہ سے ہٹانے والا ثابت نہ ہوگا۔ وہ کبھی فکری انتشار کا شکار نہ ہوگا۔ زندگی میں کبھی یہ حادثہ پیش نہیں آئے گا کہ اِس کی زندگی حالات کے بھنور میں پھنس کر رہ جائے اور وہ آخری منزل تک نہ پہنچے۔

Printed page