Al-Risala · February 2008

آسیہ بنتِ مزاحم

Al-Risala, February 2008, pp. 21–22

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح کی ایک مثال آسیہ بنتِ مزاحم کی ہے۔ اُن کا زمانہ ساڑھے تین ہزار سال پہلے کا

اُن کے زمانے میں پیغمبر موسیٰ کا ظہور ہوا۔ اُس وقت فرعون مصر کا بادشاہ تھا۔ حضرت موسیٰ کا دشمن ہو گیا۔ لیکن فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم حضرت موسیٰ کے پیغام توحید سے متاثر ہوئیں اور اُن پر ایمان لائیں۔ اِس پر فرعون سخت برہم ہوا اور آسیہ کے قتل کا حکم دے دیا۔ آسیہ بنت مزاحم نے قتل ہونا منظور کر لیا، لیکن وہ دین توحید کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوئیں۔ اُن کے لیے ایک عظیم قربانی کا عمل تھا۔ اُن کی اِس قربانی کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے ایمان کو قبول اُس وقت ان کی زبان سے یہ دعا نکلی: رب ابن لی عندک بیتاً فی الجنة، ونجنی من فرعون وعمله، ونجنی من القوم الظالمین (التحریم: 11) یعنی اے میرے رب، میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھ کو فرعون اور اُس کے عمل سے بچالے، اور مجھ کو ظالم قوم سے نجات دے۔

یہ دعا اسمِ اعظم کے ساتھ کی ہوئی دعا تھی جو اُسی وقت مقبول ہو گئی۔ اِس واقعے میں یہ نصیحت ہے کہ اگر کوئی عورت (یا مرد) آسیہ جیسی قربانی کا ثبوت دے تو اُس کو اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کی توفیق ملتی ہے، اس کو یقینی طور پر قبولیت کا درجہ حاصل ہوتا ہے۔

Printed page