تواضع ایک عظیم عبادت
Al-Risala, January 2008, pp. 6–12
By Maulana Wahiduddin Khan
حدیث میں آیا ہے کہ: كلّ بن آدم خطّاؤن، وخير الخطّائين التّوابون (الترمذی، یعنی ہر انسان خطا کار ہے، اور سب سے اچھا خطا روہ ہے جو خطا کے بعد توبہ کرے ۔ اعترافِ خطا ، ایک عظیم عبادتی عمل ہے۔ یہ اعترافِ خطا، خدا کے مقابلے میں بھی ہوتا ہے اور انسان کے مقابلے میں بھی۔ جب خدا کے مقابلے میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا جائے تو اُس کو توبہ کہا جاتا ہے،اِ وریہی عمل جب انسان کے مقابلے میں کیا جائے تو اُس کا نام اعترافِ خطا ہے۔
اصحابِ رسول کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ بہت زیادہ توبہ کرنے والے اور اعتراف کرنے والے تھے، حتّیٰ کہ بہت سے ایسے واقعات ہیں جب کہ ایک صحابی نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوئی، مجھ کو معاف حالاں کہ خالص قانونی اعتبار سے اِس کو دیکھا جائے تو وہاں صحابی نے ایسی کوئی غلطی نہیں کی تھی۔ ایسا کیوں ہے ۔ اِس کا سبب یہ ہے کہ یہ کہنا کہ میں غلطی پر تھا، در اصل اپنی تواضع کو اسٹیبلشڈ (established) کرنا ہے۔ اسلامی عقیدے کے مطابق ، ہر انسان کے پاس ہر وقت خدا کے فرشتے موجود رہتے ہیں، جو اُس کے ہر قول و عمل کا ریکارڈ تیار کرتے رہتے ہیں ۔ ایسی حالت میں یہ بالکل فطری بات ہے کہ ایک سچا مومن اِس بات کا حریص ہو کہ فرشتے اپنے ریکارڈ میں اِس کو ایک متواضع انسان کی حیثیت سے درج کریں، نہ کہ ایک سرکش انسان کی حیثیت سے۔
یہ جذبہ ایک فطری جذبہ ہے۔ ہر مومن کے اندر وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر موجود رہتا ہے۔ بنا پر مومن طبعاً اس کو پسند نہیں کرتا کہ وہ فرشتوں کی نظر میں ایک سرکش انسان دکھائی دے۔ کسی معاملے میں خواہ بظاہر اُس کی غلطی نہ ہو، تب بھی اُس کا متواضعانہ مزاج اِس کی زبان سے اِس طرح ظاہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ بار بار یہ کہہ دیتا ہے کہ میں غلطی پر تھا۔ غلطی کا اعتراف نہ کرنے سے سرکشی کے جذبات کو تسکین ملتی ہے۔ اس کے برعکس غلطی کا اعتراف مومن کی متواضعانہ نفسیات کی تسکین کا ذریعہ ہے۔ بے اعترافی اگر سرکش انسان کی غذا ہے تو اعترافِ اُس مومن کی غذا ہے جو اپنے آپ کو ہمہ تن خدا کے آگے جھکائے ہوئے ہو۔
ایک انسان جس نے سیارۂ زمین کو نہ دیکھا ہو، وہ کسی تیز رفتار خلائی جہاز کے ذریعے پوری کائنات کا سفر کرے اور اس کے بعد وہ پہلی بار زمین پر اترے تو وہ زمین کو دیکھ کر اچانک مبہوت ہو جائے گا۔ کیوں کہ انتہائی وسیع کائنات میں سیارۂ زمین اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک واحد استثناء وسیع کائنات میں یا تو ستارے ہیں، جہاں بھڑکتی ہوئی آگ کے سوا اور کچھ نہیں، یا سیارے (planets) ہیں، جو خشک چٹان کی مانند خلا میں گھوم رہے ہیں۔ یہ صرف سیارۂ زمین ہے جہاں استثنائی طور پر انسان جیسی مخلوق کے لیے تمام زندگی بخش چیزیں موجود ہیں، یعنی وہ تمام موافق حیات اسباب جن کے مجموعے کو لائف سپورٹ سسٹم(life support system) کہا جاتا ہے۔ ہر انسان اسی سیارۂ زمین پر پیدا ہوتا ہے اور اپنی پوری زندگی وہ اسی کے اوپر گزارتا ہے، لیکن اُس کو زمین کی اس استثنائی نوعیت کا تحیّر خیز احساس نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ بچپن سے زمین کو دیکھتا ہے، اس طرح روزانہ دیکھتے دیکھتے، وہ اس کا عادی (used to) ہو جاتا ہے۔ زمین کا استثنائی انوکھا پن اس کی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہر صبح کو جب وہ زمین کو دیکھے تو وہ پکار اٹھے ــــ اوہ، کتنی حسین اور کتنی مکمل زمین:
Oh, what a beautiful earth, what a perfect world!
سیارۂ زمین کی یہ حیات بخش حیثیت ہمیشہ سے تھی، لیکن موجودہ زمانے میں سائنس کی دریافتوں نے اُس کی انوکھی نوعیت کو ہزاروں گنا زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے لیے ایک معلوم واقعہ بنا دیا ہے۔ زمین میں لائف سپورٹ سسٹم کے انوکھے نظام کو آج کا انسان جتنا زیادہ جانتا ہے، اتنا زیادہ اس سے پہلے کبھی اس کو کسی انسان نے نہیں جانا تھا۔
لائف سپورٹ سسٹم کیا ہے۔ وہ ایک انعام (gift) ہے۔ وہ کسی دینے والے (giver) کے ذریعے
انسان کو ملا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ انسان اس انعام میں اس کے منعم کو پہچانے، وہ اس انعام پر اس کے دینے والے کا اعتراف کرے، وہ اُس کے سامنے پورے دل و دماغ کے ساتھ جھک جائے۔ جاننے کی کوشش کرے کہ دینے والے نے یہ انوکھا تحفہ اس کو کیوں دیا ہے۔ اور پھر دینے والے کی منشا کے مطابق، وہ اس کو استعمال کرے، وہ اس کی منشا کو جان کر اُس کے مطابق یہاں زندگی گزارے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ انسان اس زمین پر زندگی گزارتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے ایک تہذیب کی تشکیل کرتا ہے۔ وہ یہاں اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے شان دار مستقبل بنانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اس کو کبھی خیال نہیں آتا کہ وہ اس بات کو جاننے کی کوشش کرے کہ لائف سپورٹ سسٹم کا یہ انوکھا نظام کس نے بنایا ہے، اور یہ بنانے والا اس کے بدلے میں انسان سے کیا چاہتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز کے دو پہلو ہوتے ہیں— اُس کا درست استعمال، اور اس کا مثلاً پیدا کرنے والے نے زمین میں لوہا پیدا کیا۔ لوہے کا ایک استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے مفید مشین بنائی جائے ۔ اور لوہے کا دوسرا استعمال یہ ہے کہ اس کے ذریعے تباہ کن ہتھیار بنایا جائے مشین بنانا، لوہے کا درست استعمال ہے، اور ہتھیار بنانا، لوہے کا نادرست استعمال۔ یہی معاملہ لائف سپورٹ سسٹم کا ہے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ اُس کو صحیح زاویہ (right angle) سے دیکھا جائے، اور دوسرے یہ کہ اُس کو غلط زاویہ (wrong angle) سے دیکھا جائے ۔ صحیح زاویے سے دیکھنے والا آدمی لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں اپنے صحیح اور مطلوب رویّے کو جان لے گا، اور جو شخص لائف سپورٹ سسٹم کو غلط زاویے سے دیکھے، اس کے بارے میں اس کا رویّہ بھی ہر اعتبار سے غلط رویّہ ہو جائے گا۔
لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں صحیح زاویے اور غلط زاویے کا تعین کیسے ہو۔ اس کے تعین کا واحد ذریعہ یہ ہے کہ ہم یہ جانیں کہ خالق (Creator) کا اپنا مقرر کیا ہوا تخلیقی پلان (creation plan) اس تخلیقی پلان ہی کے ذریعے یہ معلوم ہوگا کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں ہمارا کون سا رویّہ درست تھا اور کون سا رویّہ نادرست۔
پیغمبروں کے ذریعے خالق نے زندگی کے بارے میں اپنا جو تخلیقی پلان بتایا ہے، وہ یہ ہے کہ پیدا کرنے والے نے انسان کو ایک ابدی مخلوق کے طور پر پیدا کیا۔ پھر اُس کی عمر کے ایک مختصر حصے کو قبل از موت مرحلہ حیات (pre-death period) میں رکھا اور اُس کی عمر کے بقیہ طویل حصے کو بعد از موت مرحلہ حیات (post-death period) میں رکھ دیا۔ قبل از موت مرحلہ حیات، ٹسٹ (test) کا مرحلہ ہے اور بعد از موت مرحلہ حیات، ٹسٹ کے مطابق بدلہ پانے کا مرحلہ۔ جب انسانی تاریخ کا خاتمہ ہوگا، اُس وقت وسیع پیمانے پر ایک روزِ جزا (day of judgement) واقع ہوگا۔ انسانوں کا خالق ظاہر ہو کر تمام لوگوں کو اُن کی زندگی کے موجودہ ریکارڈ کے مطابق، ان کو انعام یا سزا انعام پانے والوں کے لیے ابدی جنت ہے اور سزا پانے والوں کے لیے ابدی جہنم۔ خدا کے اِس تخلیقی پلان کی روشنی میں یہ سمجھا جاسکता ہے کہ زندگی، یا لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے میں انسان کا رویہ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے۔ لائف سپورٹ سسٹم کے معاملے کو صحیح زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو خالق کی نظر سے دیکھا جائے، اور اس کو غلط زاویے سے دیکھنا یہ ہے کہ اس کو انسان کے اپنے ذاتی زاویے سے دیکھا جائے۔ یہی وہ چیز ہے جو اس دنیا میں انسان کے رویے کو یا تو درست بناتی ہے، یا وہ اس کو غلط بنا کر رکھ دیتی ہے۔
اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کے بارے میں دو مختلف رویے خالق کے پلان کے مطابق جو رویہ بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نظام کو ٹسٹ سپورٹ سسٹم (test support system) سمجھا جائے۔ اس کے برعکس، انسان کے ذہن سے دیکھنے کی صورت میں وہ صرف ایک انجوائے سپورٹ سسٹم (enjoy support-system) بن کر رہ جاتا ہے۔ میں زندگی ایک ذمّے داری (responsibility) کا معاملہ قرار پاتی ہے، اور دوسری صورت میں زندگی کا مقصد گھٹ کر صرف اس حیوانی سطح پر آ جاتا ہے کہ کھاؤ، پیو اور خوش رہو، اور اسی حال میں مر جاؤ۔ موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات کے ذریعے انسانی زندگی اور لائف سپورٹ سسٹم کی معنویت ہمیشہ سے زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت ہوئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ مقصد حیات
کے بارے میں انسان اور زیادہ سنجیدہ ہو جائے ، وہ انعام کو استعمال کرتے ہوئے ہمیشہ سے زیادہ مُنْعِم کا اعتراف کرنے والا بن جائے ، لیکن نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔ انسان اِس حقیقت کو بھول گیا کہ لائف سپورٹ سُسٹم دراصل لَٹ ٹ سپورٹ سُسٹم ہے۔ اِس کے بجائے یہ ہوا کہ انسان نے لائف سپورٹ سُسٹم کو صرف اِنجوائے سپورٹ سُسٹم کے ہم معنی سمجھ لیا۔ اور زندگی کا مقصد صرف یہ بن گیا کہ چیزوں کو اپنے لیے زیادہ سے زیادہ حاصل کرو، تا کہ اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ پُرمسرت بنا سکو۔ یہاں مجھے اپنا ایک سبق آموز تجربہ یاد آتا ہے۔ یہ تجربہ موجودہ صورتِ حال کے لیے ایک نہایت عمدہ توضیحی مثال (illustration) کی حیثیت رکھتا ہے۔ غالباً 1972 میں، میں راجستھان کے ایک علاقے میں گیا۔ اِس سفر میں میرے ساتھ مفتی محمد جمال الدین قاسمی اور دوسرے کچھ لوگ تھے۔ ایک غیر آباد پہاڑ تھا۔ وہاں اوپر جانے کے لیے سڑک بنی ہوئی تھی۔ ہم لوگ اِس پہاڑ کے اوپر چڑھے۔ یہ سفر جیپ کے ذریعے طے ہوا تھا۔ جب ہم لوگ پہاڑ کے اوپر پہنچے تو وہاں ناقابلِ قیاس طور پر ایک عجیب منظر دکھائی دیا۔ یہاں غیر آباد علاقے میں ایک ہال نُما بڑی بلڈنگ بنی ہوئی تھی۔ غالباً کسی راجہ نے یہ بلڈنگ بنائی تھی ۔ یہ بلڈنگ ابھی تک بالکل درست حالت میں تھی ، مگر وہاں ہم کو کوئی انسان نظر نہیں اِس کے برعکس، ہم نے دیکھا کہ اُس بلڈنگ کے اندر اور اِس کے باہر ہر طرف ہزاروں کی تعداد میں بندر موجود ہیں۔ وہ شور کر رہے تھے اور ہر طرف بے معنی اچھل کود کر رہے تھے۔ بندر کی یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ ایک غیر مُستحق مقام پر قبضہ کر کے ، وہاں بے معنی قسم کی اچھل کود کرنے لگے۔ اِس صورتِ حال کی بنا پر ہم لوگ بلڈنگ کے اندر نہ جا سکے ، اُس کو صرف باہر سے دیکھ کر لوٹ آئے۔ میں وہاں کھڑا ہوا دیر تک اِس منظر کو دیکھتا رہا۔ میں نے سوچا کہ ان قابض بندر ہوں کو اِس کا کوئی دھیان نہیں کہ یہ بلڈنگ کس نے بنائی ہے اور کس کام کے لیے بنائی ہے، اور یہ کہ یہ بندر جو وہاں بے معنی اچھل کود کر رہے ہیں اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہے ہیں ، اِس کا کوئی تعلق بنانے والے کی منشا سے ہے یا نہیں۔ اِن سوالات سے مكمل طور پر بے خبر کہ وہاں ایسے کام کر رہے ہیں جو اِس بلڈنگ کا صرف ایک مجرمانہ استعمال ہے، وہ اِس بلڈنگ کا درست استعمال نہیں۔
پھر میں نے سوچا کہ کہ کیا بلڈنگ کا یہ مجرمانہ استعمال اسی طرح ہمیشہ جاری رہے گا، یا بلڈنگ کا معمار ظاہر ہو کر ان ’’ بندروں ‘‘ کو اُن کی اس مجرمانہ روش کی سزا دے گا، اور پھر وہ اس خوب صورت بلڈنگ کو ایسے لوگوں کے حوالے کر دے گا جن کے لیے وہ بنائی گئی تھی۔
اِس مثال پر غور کیجیے۔ بنانے والے نے یہ بلڈنگ کسی خاص مقصد کے تحت بنائی تھی۔ بلڈنگ کا صحیح مصرف یہ تھا کہ اُس کو اس کے مقصد تعمیر کے مطابق استعمال کیا جائے، لیکن اس کے بجائے یہ ہوا کہ اُس پر وحشی بندروں نے قبضہ کر لیا اور اس عمارت کو وہ اپنی بے معنی اچھل کود کے لیے استعمال کرنے لگے۔
یہ مثال زیادہ بڑے پیمانے پر آج کی پوری انسانی دنیا پر صادق آرہی ہے۔ موجودہ سیارہ زمین گویا کہ زیادہ وسیع پیمانے پر مذکورہ بلڈنگ کے مانند ہوگئی ہے۔ تمام دنیا میں یہ حال ہے کہ عورتیں اور مرد انتہائی غیر ذمے دارانہ انداز میں زمین کے اوپر پھیل گئے ہیں۔ وہ زمین کو صرف اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ یہاں اپنی خواہشیں کس طرح پوری کریں۔ وہ اس حقیقت کے بارے میں کچھ نہیں سوچتے کہ یہ زمین کس نے بنائی ہے اور کس مقصد کے لیے بنائی ہے۔
ایسا کیوں ہوا۔ موجودہ زمانے میں جب سائنس نے لائف سپورٹ سسٹم کو زیادہ بڑے پیمانے پر دریافت کیا تو عین اُسی وقت ایک اور واقعہ پیش آیا، وہ یہ کہ مختلف اسباب سے دنیا میں عالمی سطح پر ایک نیا کلچر وجود میں آگیا، جس کو انجوائے منٹ کلچر (enjoyment culture) کہا جاتا ہے۔ انجوائے منٹ کلچر کے ماحول میں لوگوں نے بطور خود یہ سمجھ لیا کہ یہاں جو کچھ ہے، وہ سب اس لیے ہے تاکہ انسان اُس سے انجوائے کرسکے۔ اس طرح یہ ہوا کہ ماحول کے اثر سے، نہ کہ کسی عقلی سبب سے، لائف سپورٹ سسٹم نے عملی طور پر انجوائے سپورٹ سسٹم کی حیثیت اختیار کرلی۔ اور پھر ایسا ہوا کہ انسانی سماج، حیوانی سماج بن کر رہ گیا۔
انسان اور حیوان میں کیا فرق ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ حیوان صرف اپنے ذاتی انٹرسٹ کو جانتا اور انسان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنے ذاتی انٹرسٹ کے ساتھ اپنی ذمے داری کو بھی جانتا ہے اور
اس کے تقاضے پورے کرتا ہے۔ مگر آج کی دنیا میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرق مٹ گیا ہے۔ کا انسانی کلچر بھی وہی ہے جو حیوانی کلچر ہے۔ ظاہری فرق کے سوا، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ واضح طور پر فطرت کے راستے سے ہٹنے کے ہم معنی ہے۔ فطرت کے راستے سے ہٹنا ہمیشہ دُگنا محرومی کا سبب بنتا ہے— قبل از موت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی اور بعد از موت مرحلۂ حیات میں بھی محرومی۔ انسان اس دنیا میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہوئے، فطرت کے راستے سے انحراف تو کر سکتا ہے، لیکن وہ اس پر قادر نہیں کہ وہ اس انحراف کے مہلک انجام سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ یہی وہ سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے آج کا انسان دوچار ہے۔ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں محروم ہو جانا کیا ہے، اس کو ہر آدمی خود اپنے ذاتی تجربے سے جان سکتا ہے۔ ہر انسان کے سامنے اپنے لیے ایک خوش نما منزل ہوتی ہے، جہاں وہ پہنچنا چاہتا ہے۔ اپنے سارے وقت اور ساری توانائی کو اس مقصد کے حصول میں لگا دیتا ہے، لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ آخر میں ہر ایک کے حصے میں صرف مایوسی آرہی ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، جب اپنی عمر پوری کر کے مرتا ہے تو ہر شخص مایوسی (despair) میں مرتا ہے، اس میں کسی بھی مرد یا عورت کا کوئی استثنا نہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی جس منزل کو پانا چاہتا ہے، اس کے اسباب اس دنیا میں سرے سے موجود ہی نہیں۔ چناں چہ یہ ہوتا ہے کہ ساری کوششیں صرف کرنے کے بعد ہر آدمی کا خاتمہ صرف ایک انجام پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ آدمی اس دنیا میں اپنی مطلوب منزل تک نہ پہنچ سکا۔ اپنے مقصود کو پانے میں ناکام رہا۔
انسان کے جسم میں خصوصی طور پر پانچ ممتاز صلاحیتیں (five faculties) پائی جاتی ان صلاحیتوں کو حواس خمسہ (five senses) کہا جاتا ہے۔ وہ پانچ ممتاز صلاحیتیں یہ ہیں— دیکھنا، چھونا، چکنا، سونگھنا اور سننا: