Al-Risala · February 2008

مریم والدہ حضرت مسیح

Al-Risala, February 2008, pp. 22–23

By Maulana Wahiduddin Khan

اِسی طرح کی ایک مثال حضرت مریم کی ہے جو پیغمبر مسیح کی والدہ تھیں۔ اُن کا زمانہ ڈھائی ہزار سال پہلے کا زمانہ تھا۔ انھوں نے اپنی زندگی کو مکمل طور پر خدا کے کام کے لیے اور خدا کے ذکر ودعا کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اِس کے نتیجے میں اُنھیں خدا کی طرف سے یہ خصوصی عنایت حاصل ہوئی کہ اُن کو رزقِ خداوندی (آل عمران: 37) پہنچنے لگا۔

رزق خداوندی کیا ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملنے والی روحانی غذا ہے۔ یہ خدائی فیضان (divine inspiration) ہے، جو خدا کی طرف سے اُس کے خاص بندوں کو عطا ہوتا ہے۔ عورتیں (یا ایسے مرد) اعلیٰ ربانی کیفیات میں جینے لگتے ہیں۔ اُن کو وہ چیز عطا ہوتی ہے جس کو ربانی حکمت (divine wisdom) کہا جاتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کے خصوصی الہامات کا مہبط بن جاتے ہیں۔

خدا کی یہ خصوصی رحمت جو حضرت مریم کو حاصل ہوئی، اُس کا دروازہ ہر عورت اور ہر مرد کے لیے کھلا ہوا ہے، بشرطیکہ وہ اِسییی اخلاص کا ثبوت دے جس کا ثبوت حضرت مریم نے دیا تھا۔ خدیجہ بنت خویلد اِس طرح کی ایک مثالی خاتون خدیجہ بنت خویلد (وفات: 620ء) ہیں۔ وہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی زوجہ تھیں ۔ ان کو یہ درجہ حاصل ہے کہ انھوں نے آگے بڑھ کر پیغمبرِ اسلام کی دعوت کو قبول کیا۔ پیغمبرِ اسلام کے لیے مکہ کا زمانہ بہت زیادہ تکلیف اور صعوبت کا زمانہ تھا۔ اِس پوری مدت میں انھوں نے کھلے دل کے ساتھ آپ کا ساتھ دیا۔ پیغمبرِ اسلام سے نکاح کے بعد ان کو بہت زیادہ مصیبتیں پیش آئیں، لیکن انھوں نے کبھی آپ سے شکایت نہیں کی۔ وہ ہر حال میں صبر اور شکر کا نمونہ بنی رہیں۔ روایات میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت جبریل ان کے گھر آئے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا لیکن حضرت خدیجہ نے جبریل کو نہیں دیکھا۔ پیغمبرِ اسلام نے حضرت خدیجہ نے کہا کہ یہ جبریل ہیں اور وہ تم کو خدا کی طرف سے سلام پہنچانے کے لیے آئے ہیں۔ وہ تم کو خوش خبری دے رہے ہیں کہ جنت میں تمھارے لیے ایک خوب صورت گھر ہے، جہاں نہ شور ہوگا اور نہ تکلیف (لا صخب فيه ولا نصب ۔ سيرت ابن هشام، جلد 1، صفحہ 259)۔

حضرت خدیجہ کو اِس دنیا میں جنت کی خوش خبری دی گئی۔ یہ واقعہ ایک استثنائی معاملے کو نہیں بتاتا، بلکہ وہ ایک نمونے کو بتا رہا ہے۔ حضرت خدیجہ کے ذریعے تاریخ میں یہ نمونہ قائم ہوا کہ جو عورت (یا مرد) حضرت خدیجہ جیسے صبر اور شکر کا ثبوت دے، اُس پر خدا کے فرشتے اتریں گے اور اِس دنیا میں وہ اُس کو اِس بات کی بشارت دیں گے کہ اگلے مرحلۂ حیات میں تمھارے لیے جنت ہے، یعنی خوشیوں اور راحتوں کی ابدی دنیا۔

Printed page