Al-Risala · February 2008

ذاتی دفاع ، قومی دفاع

Al-Risala, February 2008, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

حملے کے وقت اپنا دفاع کرنا، ایک جائز حق تسلیم کیا جاتا ہے۔ لیکن حملے کی دو قسمیں ہیں، اور اس اعتبار سے دفاع کی دو قسمیں بنتی ہیں— ذاتی دفاع (self defence) اور قومی دفاع دونوں قسم کے حملے کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے، اس بنا پر دونوں کے لیے دفاع کا حکم بھی الگ ہے۔

ذاتی دفاع وہ ہے جب کہ کسی ایک شخص پر دوسرے شخص کی طرف سے حملہ کیا گیا ہو، یا اس کا مال چھیننے کی کوشش کی جائے۔ ایسے موقع پر فرد کا یہ حق ہے کہ وہ اپنے بچاؤ کے لیے حملہ آور سے لڑے۔ یہ ایک جائز لڑائی ہے۔ اسی قسم کی لڑائی کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: مَن قُتِل دون ماله فهو شهید ( صحیح البخاری، کتاب المظالم ؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان )

دوسری صورت وہ ہے جب کہ ایک ملک کی فوج دوسرے ملک کی سرحد میں داخل ہو جائے اور وہ اس پر حملہ کر دے۔ ایسے موقع پر ملک کو بچانے کے لیے لڑنا مسلمہ طور پر جائز ہے، اسی قسم کی جارحیت کے خلاف لڑائی کو قومی دفاع کہا جاتا ہے۔

قومی دفاع مکمل طور پر قائم شدہ ریاست کا ایک حق ہے۔ مگر قومی دفاع صرف ریاست کی طرف سے کیا جائے گا، غیر حکومتی عوام کو یہ حق نہیں کہ وہ بطور خود تنظیمیں بنا کر حملہ آور کے خلاف لڑائی چھیڑ اگر حکومتِ وقت، عوام کو پکارے تو وہ پکار کے مطابق، دفاع کی مہم میں شریک ہو سکتے ہیں، ورنہ جہاں تک ذمّے داری کا سوال ہے، صرف قائم شدہ ریاست ہی ایسے موقع پر دفاعی جنگ کی خدمت انجام دے گی۔ اسلامی فقہ میں اسی مسئلے کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: الرّحيل للإمام۔ اس فرق کو نہ جاننے کی صورت میں ایسا ہوگا کہ غیر حکومتی تنظیمیں، یا غیر حکومتی افراد دفاع کے نام پر جنگ چھیڑ دیں گے اور اس کو جائز جنگ سمجھیں گے، حالاں کہ یقینی طور پر وہ ایک ناجائز جنگ ہوگی۔ وہ ایک ایسی جنگ ہوگی جس میں قربانیوں کے باوجود لڑنے والے کو خدا کا انعام حاصل نہیں ہوگا۔

Printed page