Al-Risala · February 2008

جس خوشی کی ہمیں تلاش ہے

Al-Risala, February 2008, pp. 34–35

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک بار میں راجستھان کے ایک مقام پر گیا۔ یہ سفر مولانا محمد تقی امینی (وفات : 1991) کے ساتھ ہوا تھا۔ ہم دونوں ایک صاحب سے ملے۔ وہ آبادی سے باہر ایک فارم ہاؤس میں رہتے تھے۔ اُن کو اپنے والد سے کافی مال وراثت میں ملا تھا۔ انھوں نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی، اور دونوں اس فارم ہاؤس میں رہنے لگے۔ بظاہر یہ فارم ہاؤس ایک خوب صورت دنیا کا منظر پیش کر رہا تھا، لیکن اُس کے اندر جو عورت اور مرد رہ رہے تھے، وہ کامل افسردگی کی تصویر تھے۔ ان دونوں نے اپنی پسند کی شادی کی، اور پھر اس فارم ہاؤس کے اندر ایک پُرمسرت ازدواجی زندگی گزارنے لگے۔ کچھ سالوں تک دونوں بہت خوش تھے۔ اُس کے بعد دونوں، فارم ہاؤس کی اس زندگی سے اکتا گیے۔ میں اور مولا نا محمد تقی امینی اُس گھر میں ایک رات اور ایک دن ٹھیرے ۔ اس مدت قیام میں میں نے ایک بار بھی نہیں دیکھا کہ وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے ہوں ۔ یہ فارم ہاؤس جو کبھی خوشیوں کا گہوارہ معلوم ہوتا ہوگا، اب وہ افسردگی کا ایک قبرستان بنا ہوا نظر آتا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں اس طرح کے بہت سے لوگ دیکھے ہیں، مسلمانوں میں بھی اور غیر مسلموں میں بھی۔ یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے نہایت محنت سے مال کمایا، لیکن جب مال اُنھیں حاصل ہو گیا تو انھوں نے دریافت کیا کہ مال میں اُن کے لیے کوئی خوشی نہیں۔

کسی نے نہایت ذوق وشوق کے ساتھ اپنی پسند کی شادی کی، لیکن تھوڑے دنوں کے بعد انھیں معلوم ہوا کہ شادی اُن کے لیے صرف ایک خشک ذمے داری ہے، نہ کہ خوشیوں کی پُرمسرت زندگی۔ کسی نے اپنی پوری زندگی کو سیاست میں وقف کیا، تا کہ وہ سیاسی اقتدار کی کرسی پر پہنچ سکے، لیکن جب سیاسی اقتدار حاصل ہو گیا تو اُس کے لیے خوشیوں کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ کسی کا نشانہ یہ تھا کہ اُس کے پاس ایک کشادہ اور خوب صورت مکان ہو، لیکن مکان جب بن کر تیار ہو گیا تو اس کے چہرے سے خوشی رخصت ہو چکی تھی، وغیرہ۔

موجودہ دنیا کا سب سے زیادہ الم ناک پہلو یہ ہے کہ یہ دنیا انسان کے لیے (tragedy) کے سوا اور کچھ نہیں۔ بڑے بڑے ادیبوں نے ہر زبان میں لاکھوں کی تعداد میں ناول لکھے یہ ناول گویا انسانی جذبات کی ترجمانی کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم یہ ایک عجیب حقیقت ہے کہ کسی بھی زبان میں کوئی طربیہ (comedy) ناول کبھی زیادہ مقبول نہ ہوسکا۔ دنیا میں جتنے بھی مقبول ناول ہیں، وہ سب کے سب المیہ (tragedy) ہیں۔

اس کا سبب یہ ہے کہ ہر انسان اس احساس میں جی رہا ہے کہ وہ جس خوشی کو پانا چاہتا تھا، وہ اس کو حاصل نہ ہوسکی۔ یہی وجہ ہے کہ المیہ ناول انسان کے دل کو چھوتے ہیں، طربیہ ناول انسان کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتے۔

یہ انسانی زندگی کا بڑا عجیب پہلو ہے کہ ہر انسان کی عمر کا پہلا نصف حصہ خوشی کی تلاش میں گزرتا ہے، اور بقیہ نصف حصہ اس احساس میں کہ بظاہر خوشیوں کے سامان حاصل کرنے کے باوجود میں اپنے لیے خوشیوں کی مطلوب دنیا نہ بنا سکا۔

تاریخ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ انسان کی موجودہ زندگی اس لیے نہیں ہے کہ وہ یہاں اپنے لیے خوشیوں کی ایک دنیا بنائے۔ موجودہ زندگی صرف اس لیے ہے کہ آدمی حسنِ عمل سے اپنے آپ کو اس قابل بنائے کہ وہ موت کے بعد کی ابدی زندگی میں خوشیوں کی مطلوب دنیا پا سکے۔ پہلے کا مرحلۂ حیات، اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانے کا مرحلہ ہے، اور موت کے بعد کا مرحلۂ حیات حسب استحقاق جنت میں داخلے کا مرحلہ، یعنی خوشیوں کی اُس دنیا میں داخلے کا مرحلہ، جس کو ہر آدمی کی روح تلاش کر رہی ہے۔

Printed page