Al-Risala · February 2008

پیچھے کی سیٹ

Al-Risala, February 2008, pp. 39–40

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی زبان کی ایک مشہور مثل ہے کہ ٹاپ کی جگہ ہمیشہ خالی رہتی ہے: There is always room at the top یہ بات بجائے خود درست ہے، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ درست اور اہم بات وہ ہے جو اس قول کے برعکس ہے، اور وہ یہ کہ پیچھے کی سیٹ پر ہمیشہ جگہ خالی رہتی ہے: There is always room at the back seat. بیک سیٹ پر جانا، کسی آدمی کے لیے بظاہر شکست خوردگی اور پسپائی کی بات ہوتی ہے۔ بیک سیٹ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہاں سے آدمی کو ہر حال میں ایک نیا آغاز مل جاتا ہے، وہ کھوئی ہوئی چیز کو دوبارہ نئی صورت میں حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہو جاتا ہے۔ مسیحیت میں بعد کے زمانے میں پوپ کا مذہبی عہدہ شروع ہوا۔ اس کی اتنی ترقی ہوئی کہ قرونِ وسطیٰ کے زمانے میں پوپ عملی طور پر پورے یورپ کا پولیٹیکل ہیڈ بن گیا تھا۔ یورپ کی نشأۃ ثانیہ کے بعد چرچ کے خلاف طاقت ور تحریک اُٹھی، یہاں تک کہ یہ ناممکن ہو گیا کہ پوپ کی سیاسی طاقت بدستور باقی رہے۔ اُس وقت مسیحی چرچ اور سیاسی لیڈروں کے درمیان ایک معاہدہ ہوا، جس کو لیٹرین ٹریٹی (Lateran Treaty) کہا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ 1929 میں ہوا، جب کہ اٹلی میں مسولینی (وفات: 1945) حکومت کر رہا تھا۔ اس معاہدے کے مطابق، پوپ پچھلی سیٹ پر بیٹھنے پر راضی چناں چہ روم کے اندر ویٹکن سٹی (Vatican City) کے نام سے ایک خود مختار اسٹیٹ وجود میں آئی، جس کا رقبہ تقریباً ایک سو دس ایکڑ تھا۔

اس طرح ویٹکن کے محدود رقبے پر راضی ہونے کا یہ فائدہ مسیحی چرچ کو ملا کہ پوپ کا پرعظمت تاریخی ٹائٹل محفوظ رہا۔ پوپ، دنیا کی سب سے چھوٹی اسٹیٹ کا ہیڈ ہے۔ لیکن عملاً اس کو پوری دنیا کے اندر ایک عظیم مقام ملا ہوا ہے۔ وہ اس پوزیشن میں ہے کہ پوری دنیا میں مسیحی سرگرمیوں کو منظم کر سکے۔

اس کے برعکس اب دوسری مثال لیجیے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسلمانوں میں خلافت کا سیاسی ادارہ قائم ہوا۔ وہ ایک ہزار سال تک شوکتِ اسلام کی علامت بنار ہا۔ میں ترکی اس خلافت کا صدر مقام تھا۔ یہاں خلیفہ المسلمین رہتا تھا، جو عملاً ساری مسلم دنیا کے لیے انٹرنیشنل ہیڈ کی حیثیت رکھتا تھا۔

پہلی عالمی جنگ میں ترک خلافت، جرمنی کے اتحاد میں شریک ہوئی۔ اس جنگ میں ترک خلافت کو زبردست شکست ہوئی۔ اسی زمانے میں نیشنل ازم کا عروج ہوا اور بین الاقوامی خلافت کا بقا عملاً نا ممکن ہو گیا۔ اس طرح یہ مسلم خلافت عملاً ٹوٹ پھوٹ گئی، یہاں تک کہ کمال اتا ترک نے 1924 میں اس ختم شدہ خلافت کے رسمی خاتمے کا اعلان کر دیا۔

اس معاملے میں مسلمانوں کے لیے بھی یہ موقع تھا کہ وہ بیک سیٹ پر چلے جائیں۔ کی طرح خلیفہ المسلمین کے ٹائٹل کو محفوظ رکھیں جو ہزار سالہ تاریخی روایات کے نتیجے میں ایک پُر اسرار عظمت حاصل کر چکا تھا۔ اُس زمانے کے مسلم رہ نما اگر ایک محدود رقبۂ زمین میں خلیفہ المسلمین کا مرکز قائم کرنے پر راضی ہوجاتے تو آج مسلمانوں کے پاس بھی ایک اسلامی ویٹیکن (Islamic Vatican)

مگر اُس زمانے کے مسلم رہ نما، مثلاً سید جمال الدین افغانی، محمد علی جو ہر اور ابو الکلام آزاد، وغیرہ نے انتہائی نادانی کے ساتھ غو غائی سیاست بر پا کر دی ۔ وہ بیک سیٹ پر جانے کے بجائے، خلافت کو دوبارہ اُس کی قدیم حیثیت کے ساتھ باقی رکھنا چاہتے تھے، مگر عملاً اس سیاست کی کامیابی کا کوئی امکان نہ تھا۔ چناں چہ ایک ذلت آمیز نا کامی کے سوا، مسلم رہ نماؤں کو کچھ اور نہیں ملا۔ کی تاریخی روایات نے خلیفہ المسلمین کا پر شوکت ٹائٹل بنایا تھا، پیچھے کی سیٹ پر بیٹھنے کی صورت میں یہ ٹائٹل بلاشبہ اسی طرح باقی رکھا جا سکتا تھا، جس طرح پوپ کا ٹائٹل باقی ہے۔ مگر مسلم رہ نماؤں کی نا قابل فہم نادانی کے نتیجے میں یہ امکان واقعہ نہ بن سکا۔

Printed page