Basic Human Values in Islam
Al-Risala, February 2008, pp. 42–43
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن اور حدیث کی روشنی میں اس موضوع پر اظہار خیال کیا گیا ۔ آخر میں کچھ سوالات کیے گیے۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ مغربی کلچر میں فریڈم کو خیر اعلیٰ (Summum Bonum) مانا جاتا ہے، لیکن اسلام میں امن (peace) کو خیر اعلیٰ کی حیثیت حاصل ہے۔
2- راشٹریہ سہارا (ہندی) کے نمائندہ مسٹر کمار و جے نے 2 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو یہ انٹرویو ٹیلی فون پر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ انٹرویو جہاد کے موضوع پر تھا۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں اُن کے سوالات کا جواب دیا گیا۔
3- آل انڈیا ریڈیو (نئی دہلی) سے 4 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو نشر کیاگیا اس انٹرویو کا موضوع ــــــ نان وائلنس تھا۔ یہ انٹرویو صبح کے نشریے کے تحت نشر کیا گیا۔
4- اسٹار نیوز (نئی دہلی) کے نمائندے نے 14 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ اس انٹرویو کا موضوع تھا: خط کے ذریعے عورت کو طلاق دینے کا مسئلہ۔ اس موضوع پر قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کے سوالات کا جواب دیا گیا۔
5- سرو دھرم سنسد (Parliament of religions) کے اُدگھاٹن کے طور پر 5 اکتوبر 2007 کی شام کو انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (نئی دہلی) میں ایک بڑا فنکشن ہوا۔ اس میں سوامی اگنی ویش ، شری شری روی شنکر، اور فادر والسن تھمپو، وغیرہ شریک ہوئے۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بھی اس میں شرکت کی اور تقریباً پندرہ منٹ کی ایک تقریر انھوں نے اپنی تقریر میں سماجی اصلاح کے لیے ایجوکیشن کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر سی پی ایس انٹرنیشنل افراد نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی اور انگریزی میں چھپے ہوئے اسلامی بروشرز بڑی تعداد میں لوگوں کے درمیان یہ پروگرام اسلامک کلچر سنٹر کے بڑے آڈیٹوریم میں ہوا۔ پورا ہال سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ 6- نوئیڈا کے ایک ٹی وی پر گیا ویژن (Pragya Vision) کی ٹیم نے 10 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کے انٹرویو کی ویڈیو ریکارڈنگ کی۔ اس کے انٹرویو ر مسٹر طارق عالم خان تھے۔ انٹرویو کا موضوع ــــــ مذہب اور اس سلسلے میں اسلام اور صوفیوں کے نقطہ نظر کو بتایا گیا۔
7- سائی انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) میں 10 اکتوبر 2007 کو حسب معمول، ایک پروگرام ہوا۔
مختلف نوودے ویڈالیہ کے پرنسپل حضرات شریک ہوئے ۔ اس موقع پر صدر اسلامی مرکز کو دعوت دی گئی تھی کہ وہ اسلام میں بنیادی انسانی اقدار (Basic Human Values in Islam) پر ایک تقریر کریں۔ اس کے مطابق، انھوںنے وہاں اس موضوع پر ایک مفصل تقریر کی۔ تقریر کے آخر میں سامعین کی طرف سے سوالات کیے گیے، جن کا جواب دیا گیا۔ حاضرین نے اُس پر کافی پسندیدگی کا اظہار کیا۔ آخر میں اُن کے درمیان انگریزی میں چھپے ہوئے اسلامی پمفلٹ تقسیم کیے گیے، جس کو انھوںنے نہایت شوق سے لیا۔
8- ٹائمس ناؤ (Times Now) کے نمائندے نے 11 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اجمیر میں بم دھماکے سے متعلق تھا۔ سوالات کے دوران بتایا گیا کہ اس طرح کا متشددانہ فعل ہر اعتبار سے قابل مذمت ہے۔ اسلام امن اور رحمت کا مذہب ہے، نہ کہ تشدد اور بے رحمی کا مذہب۔ 9- راشٹریہ سہارا، ہندی (نئی دہلی) کے نمائندہ وجے کمار نے 12 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو اجمیر کے بم دھماکہ (11 اکتوبر 2007) کے موضوع پر تھا۔ جواب میں بتایا گیا کہ اسلام میں تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلام میں معصوم لوگوں کو مارنا حرام ہے۔ جو لوگ اس قسم کا متشددانہ فعل کر رہے ہیں، وہ امن کی طاقت سے بے خبر ہیں۔ اسلام میں امن سب سے بڑی طاقت ہے، نہ کہ تشدد۔
10 - ای ٹی وی (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر قاسم ندوی نے 17 اکتوبر 2007 کو صدر اسلامی مرکز کا ایک انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو روزے سے متعلق تھا۔ سوالات کے دوران قرآن اور حدیث کی روشنی میں روزے کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
11- انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر (لودھی روڈ، نئی دہلی) میں 20 اکتوبر 2007 کی شام کو ایک پروگرام ہوا۔ کا انتظام سی پی ایس اور گڈ ورڈ بکس کی طرف سے کیا گیا۔ یہ پروگرام صدر اسلامی مرکز کی تقریر کے لیے کیا گیا تھا۔ کا موضوع تھا ۔ قرآن کا پیغام :