حضرت مولا نا وحید الدین خاں صاحب
Al-Risala, February 2008, pp. 43–46
By Maulana Wahiduddin Khan
الرساله جون 2007 کے شمارے میں شائع ایک مضمون مسیحی ماڈل کے خلاف اگست 2007 کے مہینے میں یہاں سری نگر (کشمیر) کے بعض علما، واعظین اور ائمہ مساجد کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آ رہا ہے اور اس سلسلے میں
مقامی اخبارات میں ایسے بیانات منظر عام پر آئے ہیں جن کا علم و دلیل اور زبان و ادب کی شائستگی سے کوئی تعلق ان بیانات میں کہیں بھی یہ بات نہیں ثابت کی گئی ہے کہ آپ نے کہاں غلطی کی اور آپ کس طرح (العیاذ باللہ) اہانت رسول کے مرتکب ٹھہرے۔ لہذا جب ان کے پاس آپ کا نقطہ نظر غلط ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے تو ثابت ہوا کہ حق اُن لوگوں کا نہیں، آپ کا ساتھ دے رہا ہے۔ کیوں کہ آپ اپنی ہر بات کو قرآن و حدیث کے واضح دلائل کی روشنی میں پیش کرتے ہیں اور زیر نظر مضمون میں بھی آپ نے اسی اسلوب کو اختیار فرمایا ہے۔ اکتوبر 2007 کا شمارہ نظر سے گزرا۔ اس شمارے میں ’’ دین اور منہاج‘‘ کے عنوان سے ایک فکر انگیز مضمون پڑھنے کو یہ مضمون علمی دلائل کے اعتبار سے بہت ہی جامع اور مدلل ہے۔ میں نے اس مضمون کی ایک ایک سطر پر غور کیا اور اب میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ سے اختلاف کرنا کسی عام واعظ و امام تو کجا، بڑے سے بڑے عالم دین کے بھی بس کی بات نہیں ہے۔ اس بات کا کھلا ہوا ثبوت یہ ہے کہ آپ نے مولانا مودودی کے تصور دین پر جو جامع اور مدلل تنقید کی ہے، اس کا جواب نہ مولانا مودودی سے بن پایا اور نہ آج تک جماعت اسلامی کے علما میں سے کسی نے اس کا علمی جواب دینے کی جرأت کی ہے۔ سچائی یہ ہے کہ آپ کی یہ تحریریں آج بھی جواب کے لیے منتظر ہیں۔ آپ بلا شبہ علمی اور فکری اعتبار سے پورے عالم اسلام میں اپنی نوعیت کے واحد عالم دین ہیں۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے علما کی کوئی کمی نہیں ہے، مگر آپ کے اندر جو گوں ناگوں علمی و فکری، ذہنی و قلمی صلاحیتیں ہیں اور عصری و دینی علوم پر جو گہری نظر اور دست رس آپ کو حاصل ہے، وہ کسی دوسرے عالم دین کے یہاں نہیں ملتی ہے۔ اس لحاظ سے آپ کا علمی و فکری قد بہت اونچا اور بلند ہے اور بلاشبہ آپ جیسے مصلح، داعی اور مفکر صدیوں کے بعد ہی پیدا ہوتے ہیں۔ 2007 کے اس تازہ مضمون (دین اور منہاج) کی اس بات نے مجھے خاص طور پر زیادہ متاثر کیا ہے کہ آپ نے اس مضمون میں اپنے مخالفین، جن پر اگر ’’ بدترین مخالفین‘‘ کے الفاظ بھی استعمال کیے جائیں گے تو کم پڑ جائیں گے، ان کا کوئی تذکرہ نہیں کیا، بلکہ نفس مسئلہ کی طرف اپنے فکر ونظر اور قلم و ذہن کو مرکوز رکھا ہے، جب کہ نئی دہلی سے شائع ہونے والا ایک ماہ نامہ خاص طور پر آپ ہی کی بے جا اور سطحی مخالفت میں شائع ہوتا ہے اور جس میں کثرت سے ایسی تحریریں شائع ہوتی ہیں جن میں زیادہ تر آپ کی ذات کو ہدف ملامت بنایا جاتا ہے اور آپ کے خلاف ہر لکھی جانے والی تحریر، خواہ اس میں علم و دلیل کا فقدان ہی کیوں نہ ہو اور اسلوب تحریر کتنا ہی غیر اخلاقی و غیر شرعی کیوں نہ ہو، اس کو صرف اس وجہ سے خوش آمدید کے ساتھ شائع کیا جاتا ہے کہ وہ آپ کے خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جہاں ایک طرف، آپ کے مخالفین، الرسالہ مشن سے سخت خائف ہیں اور اس کو نا کام بنانے کے لیے ہر طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں، وہاں دوسری طرف، اللہ تعالیٰ الرسالہ مشن کے فروغ کے سلسلے میں غیب سے اسباب مہیا فرما رہا ہے اور وہ الرسالہ کے حلقہ قارئین میں روز افزوں اضافہ کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں ایک تازہ اور دل چسپ مثال ملاحظہ کیجیے۔ مکتب فکر کا ایک ماہ نامہ ’’ جام نور‘‘ دہلی سے شائع ہوتا ہے جس کے خصوصی شماروں میں آپ کے بھی کئی انٹرویو شائع حال ہی میں اس کا ایک خصوصی شمارہ ’’ اجتہاد و تقلید‘‘ کے عنوان سے منظر عام پر آیا ہے اور اس شمارے میں
بھی آپ کا ایک طویل انٹرویو شائع ہوا ہے۔ اس کے آخر میں آپ نے اُس رسالے کے متعلق، اپنے تاثرات کا اس طرح تذکرہ فرمایا ہے: ’’ماہ نامہ جام نور میرے پاس آتا ہے، میں اس کو ایک اچھا رسالہ سمجھتا ہوں، میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ میری دعا ہے کہ ماہ نامہ جام نور ہمیشہ ترقی کرتا رہے اور مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع کا باعث بنے (ماہ نامہ جام نور، اپریل 2007ء، ص: 96)۔ لیکن اِسی رسالے کے ایک اور شمارے میں ایک مستقل کالم (اظہارِ خیال) کے تحت، ایک قاری کا ایک جگہ آپ کے اور رسالے کے بارے میں تعصب و تنگ نظری سے بھر پور یہ ریمارک اِس طرح شائع ہوا ہے: ’’میں آپ کو شہر گل برگہ کی بات بتاؤں کہ ایک اسٹال پر’’الرسالہ‘‘ کثیر تعداد میں پہنچتا ہے اور صف بستہ منتظرین اس کو ہاتھوں ہاتھ اٹھا لے جاتے ہیں، حالاں کہ دس کی جگہ یہاں قارئین گیارہ روپے دیتے ہیں، یہاں کی اکثر لائبریریوں میں جہاں کوئی رسالہ پہنچتا ہے’’الرسالہ‘‘ ضرور پہنچتا ہے، جب کہ اہل سنت کے کسی بھی رسالے سے لائبریریاں خالی ہیں۔ لائبریریوں میں مستقل آکر پڑھنے والوں کا حال یہ ہے کہ وہ دیگر رسائل کو چھوڑ کر‘‘ الرسالہ’’ ہی ایک دوسرے سے لے کر پڑھنے کے منتظر رہتے ہیں... میں پر اُمید ہو کر یہ کہوں گا کہ جولائی کے الرسالہ پر بھی تبصرہ لکھیے جو اسلامی تعلیمات کے مخالف سوچ اور فکر سے پر ہے‘‘ (جام نور، ستمبر 2007ء، ص: 28) یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ ایک طرف آپ نے اپنے اوپر دیے گئے اقتباس میں جام نور کی تعریف کی اور مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نفع کا باعث بننے کی دعا فرمائی ہے مگر دوسری طرف اِس اقتباس میں خود آپ کے خلاف اور الرسالہ کے خلاف بے بنیاد طور پر رائے زنی کی گئی ہے۔ تا ہم اس اقتباس سے اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلکی تعصب اور فرقہ بندی کے چنگل سے آزاد ہیں اور دل و دماغ کے اعتبار سے بیدار بھی ہیں، الرسالہ ایک بار پڑھنے سے وہ اُنھیں فطرت کی آواز اور اسلام کی روح معلوم ہوتا ہے اور وہ اس کی طرف پلٹ جاتے ہیں اور اس کی خریداری کے لیے صف بستہ کھڑے ہو کر انتظار کرتے ہیں، یہ خوش آئند بات نہیں تو کیا ہے۔ چوں کہ الرسالہ، اسلام کی دریافت ہے اور اس میں اسلام کی دعوت کو بے لوث اور حکیمانہ انداز میں پیش کیا جاتا ہے اور اس طرح کی دعوت جب تحریک اور مشن کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو اس وقت اس دعوت حق کو روکنے کی طاقت کسی میں نہیں ہوتی ہے اور جو بھی دعوت الی اللہ کے راستے میں روڑے اٹکاتا اور رکاوٹیں کھڑی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ خود اس کا وجود اور اس کا نام ونشان مٹا دیتا ہے، جیسا کہ ارشادِ خداوندی ہے: يُرِيدُونَ لِيُطْفِؤُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (الصف: 8) اگر کوئی چاہے کہ سورج کو اپنی پھونکوں سے بجھادے تو یہ اس کی سراسر حماقت ہوگی۔ جس طرح سورج روشن رہے گا اور روشنی دیتا رہے گا، اُسی طرح حق کی روشنی اپنا راستہ ڈھونڈ نکالے گی، خواہ اس کے مخالفین اسے بجھانے کے لیے کتنی بھی تدبیر اور ہتھکنڈے آزمائیں، مگر اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سے اس کی تکمیل ہوکر رہے گی۔ حق کی یہ روشنی دنیا کے کونے کونے اور گوشے گوشے کو روشن کر دے گی۔ تاہم یہ نصیحت صرف اس آدمی کو فائدہ پہنچانے والی ہے حق کے معاملے میں انتہائی سنجیدہ ہو اور حق کی تڑپ رکھتا ہو، ورنہ اندھے مخالفین کے لیے ساری تفصیلیں اور ساری شرحیں مبہم ہیں۔ (غلام نبی کشافی، سری نگر، کشمیر) ایک خط: قابل احترام مولانا وحید الدین خاں صاحب! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ کا موقر جریدہ
الرسالہ باقاعدگی سے مل رہا ہے جس کے لیے بے حد ممنون ہوں۔ نومبر 2007 کے تازہ شمارے میں "اسماء حسنیٰ اور اسم اعظم" کے موضوع پر آپ کا بصیرت افروز مضمون نہ صرف قابل تعریف اور فکر انگیز ہے، بلکہ وہ اسم اعظم کے تعلق سے ہمیں ایک نئے زاویہ فکر سے روشناس بھی کراتا ہے۔ آپ نے ٹھوس دلائل کے ذریعے سے اسم اعظم کی وضاحت جس طرح فرمائی ہے، اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر پھیلے ہوئے شکوک اور مفروضات کا ازالہ ہو جانا چاہیے۔ بہر حال آپ نے یہ بڑا نیک کام انجام دیا ہے۔ مبارک باد قبول فرمائی (سعید رحمانی، ایڈیٹر اخبار اڑیسہ، کٹک، 22 اکتوبر، 2007)۔ 14- ایک خط: حضرت مولانا وحید الدین خاں صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ خدا آپ پر اور آپ کے تمام اہل خانہ پر کرم کا معاملہ فرمائے، آمین۔ نومبر 2007 کا الرسالہ زیر مطالعہ ہے۔ پریشان ہوں کہ بات کیا اور کہاں سے شروع کروں کیوں کہ مجھے اپنی کم علمی کا پورا احساس ہے۔ ایک سند یافتہ عالم کے سامنے بات پیش کرنا اور بات ہے لیکن جب سامنے معرفت کی سطح پر زندگی گزارنے والا اور اللہ کی طرف سے خیر کثیر (البقرہ: 269) سے نوازا ہوا شخص ہو، تو قلم حرکت کرنے سے عاجز ہو جاتا ہے۔ یوں آپ کی بیش تر تحریروں نے اکثر مجھ کو رلایا ہے۔ تب بھی میں بہت رویا تھا جب آپ کی کتاب ’’الاسلام‘‘ کے عنوان ’’عبادت‘‘ (صفحہ 7) سے گزرا تھا۔ لیکن آج تو حد ہوگئی، کس جملے اور کون سے صفحے کی بات کروں۔ بہ شک دنیا کے تمام الفاظ مل کر بھی اسماء حسنیٰ کی تعریف بیان نہیں کر سکتے، لیکن اس شمارے میں جیسے خدا نے لفظوں کو گویائی عطا کر دی ہے۔ یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اس شمارے نے بہت سی روحوں کو رلايا ہوگا اور اسم اعظم کو شعوری سطح پر پانے کا احساس زندہ کیا ہوگا۔ سچ کہوں تو اس شمارے کو ’’اسم اعظم اور خیر کثیر نمبر‘‘ کہنا زیادہ مناسب ہے۔ ایک خیر کثیر کے طالب کے لیے اس خاص کتاب کا روزانہ مطالعہ معرفت کی سطح پر زندگی گزارنے کے لئے بے حد معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ دل چاہتا ہے کہ اس شمارے کی لاتعداد کاپیاں چھپوا کر ایک ایک بندے تک پہنچادوں (محمد وسیم اختر، بہادر گنج، بہار، 23 اکتوبر 2007)۔
15- 28 اکتوبر 2007کو بیروہ (کشمیر) میں حلقہ الرسالہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ حضرات شریک ہوئے ۔ اس موقع پر جناب غلام نبی کشافی نے ’’اسوہ حسنہ اور مسیحی ماڈل‘‘ کے عنوان سے ایک مفصل مقالہ پیش کیا۔ اس میں قرآن اور حدیث کے واضح دلائل کے ذریعے اس سلسلے میں اٹھنے والے شبہات کا مدلل جواب اس میں بتایا گیا کہ ’دین‘ اور ’منہاج‘ کے معاملے میں الرسالہ کا نقطہ نظر وہی ہے، جو تمام علماء اسلام کا نقطہ نظر اس سلسلے میں محدثین اور علماء سلف کی تحریروں کے کئی حوالے پیش کیے گئے۔ ایک بات یہ کہی گئی کہ سیرت رسول کے موضوع پر مطبوعات الرسالہ کے تحت، ایک درجن سے زیادہ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ایسی حالت میں علمی طریقہ صرف یہ ہوگا کہ ان مطبوعہ کتابوں کو سامنے رکھ کر اس معاملے میں کوئی رائے قائم کی جائے، نہ کہ صرف ایک بات کو لے کر اُس کے خلاف سطحی قسم کی بے معنی دھوم مچائی جائے۔