جہاد اسلامی تاریخ میں
Al-Risala, March 2008, pp. 3–14
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاد کے لفظی معنی کوشش یا جہد کے ہیں۔ اِس سے مراد اصلا پر امن کوشش ہے۔ سورہ نمبر پچیس میں ارشاد ہوا ہے، اُن سے جہاد کرو، قرآن کے ذریعے، بڑا جہاد (الفرقان: 52) قرآن کی اس آیت میں جہاد یا جہادِ کبیر سے مراد واضح طورپر پُرامن دعوتی جد و جہد ہے۔ حدیث میں آیا ہے: المجاهد من جاهد نفسه فی طاعة الله (مسند احمد، جلد 6، صفحہ (22) یعنی مجاہد وہ ہے جو اپنے نفس کے خلاف خدا کی اطاعت کے لیے جہاد کرے۔ اس حدیث رسول میں جس چیز کو جہاد کہا گیا ہے، وہ بھی واضح طور پر ایک پر امن عمل ہے، اُس کا جنگ اور قتال سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم، توسیعی معنوں میں کبھی جہاد کا لفظ قتال کے لیے بھی بولا جاتا ہے، یعنی حربی جہاد کے موجودہ زمانے میں جہاد کا لفظ عام طور پر مسلح جہاد کے لیے استعمال ہونے لگا ہے۔ آج کل مختلف ملکوں میں مسلمان اپنے مفروضہ دشمنوں کے خلاف مسلح کارروائیوں میں مشغول ہیں اور اُن کو وہ جہاد فی سبیل اللہ کہتے ہیں، مجھے اس سے اتفاق نہیں۔ تاہم، زیر نظر مضمون میں ہم عمومی استعمال کے لحاظ سے جہاد کو مسلح جہاد کے معنی میں لیتے ہوئے اس موضوع کا ایک تاریخی جائزہ لیں گے۔ 1 - پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنے مشن کا آغاز کیا۔ وقت مکہ پر مشرک لوگوں کا اقتدار قائم تھا۔ اُس وقت مکہ میں آپ کی حیثیت داعی کی تھی اور بقیہ لوگوں کی حیثیت مدعو کی ۔ مکہ کے مشرک سردار آپ کے نظریہ توحید کے دشمن بن گئے اور آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے لگے۔ اسی حال میں تیرہ سال گزر گیے ۔ اس دوران مکہ اور اطرافِ مکہ اور مدینہ کے بہت سے لوگ اسلام قبول کر کے آپ کے ساتھی بن گیے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ مکی دور کے آخر میں آپ کے ساتھیوں نے آپ سے اصرار کیا کہ ہم مشرکین مکہ کے خلاف لڑیں گے ۔ اُس وقت آپ کے ساتھیوں کی تعداد مجموعی طور پر تقریباً اتنی ہی تھی جتنی کہ غزوہ بدر کے موقع پر شریک ہونے والے صحابہ کی۔ لیکن اُس وقت آپ نے جنگ کا فیصلہ نہیں کیا، بلکہ
آپ نے اپنے ساتھیوں کو یہ جواب دیا کہ: اصبروا، فإنّی لم أومر بالقتال یعنی تم لوگ صبر کرو، کیوں کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ جواب، اسلام کی ایک اہم تعلیم کو بتاتا ہے۔ وہ تعلیم یہ کہ جنگ ایک قائم شدہ حکومت کا کام ہے، غیر حکومتی تنظیمیں، یا افراد جنگ نہیں کر سکتے۔ اُن کے لیے غیر سیاسی میدان میں پرامن جدوجہد کرنا ہے، نہ کہ مسلح ٹکراؤ کرنا۔ اِسی بات کو دورِ تابعین میں مسیّب ابن رافع تابعی نے اس طرح بیان کیا کہ کچھ اجتماعی چیزیں وہ ہیں، جن کا تعلق صرف حُکّام سے ہوتا ہے۔ اِسی لیے اُن کو ’صَوَافی الاُمراء‘ کہا جاتا ہے، یعنی حاکموں کا میدان (جامع بیان العلم، جلد 2، صفحہ 144)۔ کے اتفاق کے مطابق، مسلح جہاد کا تعلق، صوافی الامراء سے ہے، یعنی اُس کا فیصلہ صرف حکام کر سکتے ہیں، نہ کہ عوام (الرحیل للإمام)۔
مکی دَور کے تیرہ سالوں میں اہل اسلام کا اقتدار قائم نہیں ہوا تھا، اس لیے مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظلم کے باوجود جنگ اور قتال کا فیصلہ نہیں فرمایا۔ اس کے بعد جب ہجرت کا واقعہ پیش آیا اور مدینہ میں پیغمبر اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا تو آپ نے دفاع کے لیے جنگ کی اجازت اسی زمانے میں غزوۂ بدر (2 ہجری)، غزوۂ اُحُد (3 ہجری) اور غزوۂ حُنین (8 ہجری) کے واقعات پیش آئے، یہ سب دفاعی غزوات تھے۔ اسلام میں صرف دفاعی جنگ جائز ہے اور اٗس کا اختیار بھی صرف حاکم وقت کو حاصل ہوتا ہے، کسی غیر حکومتی گروہ کو مسلح جہاد کی ہرگز اجازت نہیں۔ اسلام میں اگر چہ دفاع کے لیے جنگ کی اجازت ہے، لیکن اسی کے ساتھ شدت سے اعراض کا حکم دیا گیا ہے، یعنی دفاع کے حالات پیدا ہونے کے باوجود آخری حد تک جنگ سے اعراض کی کوشش کی جائے گی اور جب اعراض کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں، اُس وقت آخری چارۂ کار کے طور پر دفاعی جنگ کی جائے گی۔ اس سلسلے میں یہ بات نہایت اہم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صرف تین بار باقاعدہ جنگ (fullfledged war) ہوئی، یعنی بدر اور احد اور حنین کی جنگ۔ اس کے سوا جن واقعات کو ’غزوہ‘ کہا جاتا ہے، وہ یا تو صرف پرامن مہمیں
(peaceful campaigns) تھیں، مثلاً غزوہ تبوک (9 ہجری)، یا جنگ کی حالت پیدا ہونے کے باوجود جنگ سے اعراض، مثلاً غزوہ خندق (5 ہجری) یا بعض واقعات کی صورت میں صرف جھڑپیں غزوہ خیبر (7 ہجری) کی نوعیت اسی قسم کی ہے۔
جنگ کے باقاعدہ واقعات بھی اس طرح ہوئے کہ اُن میں عملاً صرف آدھے دن کی لڑائی ہوئی، یعنی دوپہر کے بعد جنگ کا آغاز اور شام تک جنگ کا خاتمہ، جیسا کہ غزوہ بدر اور غزوہ احد اور غزوہ حنین کے موقع پر پیش آیا۔ اس لحاظ سے یہ کہنا درست ہوگا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے 23 سالہ دور نبوت میں مجموعی طور پر صرف ڈیڑھ دن کے لیے جنگ کی۔
2- حدیث کی کتابوں میں دوسرے ابواب کے ساتھ عام طور پر کتاب الفتن کا باب ہوتا اس باب کے تحت، بہت سی ایسی حدیثیں آئی ہیں، جن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے شدت کے ساتھ امت کو یہ حکم دیا کہ تم لوگ کسی بھی حال میں وقت کے حاکموں سے جنگ نہ کرنا۔ نے فرمایا کہ تمھارے نزدیک خواہ حکم رانوں میں کتنا ہی بگاڑ کیوں نہ آجائے، لیکن تم اُن کے خلاف لڑائی لوگوں نے پوچھا کہ پھر ایسے حالات میں ہم کیا کریں۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹوں اور اپنی بکریوں کو لے کر پہاڑیوں میں چلے جاؤ، یا کسی کے پاس زمین ہے تو وہ اپنی زمین میں جاکر کاشت کرنے لگے (مشکاۃ المصابیح، جلد 3، صفحہ 1482)۔
اسی بنا پر علما کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حکم رانوں کے خلاف خروج کرنا، یا اُن سے جنگ کرنا اہل اسلام کے لیے جائز نہیں۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: صحیح مسلم، شرح نووی، جلد 12، صفحہ 129)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صریح احکام اور علماے اسلام کے اس پر اتفاق عام کی بنا پر یہ ہوا کہ امت میں عوام اور حکم رانوں کے درمیان سیاسی ٹکراؤ کا بالکل خاتمہ ہو گیا۔ پیغمبر اسلام کے بعد تقریباً بارہ سو سال تک مسلم حکومتیں ساری دنیا میں قائم رہیں۔ اُن میں ہر طرح کے سیاسی بگاڑ بھی پیش آئے، لیکن وقت کے علما نے کبھی اُن کے خلاف سیاسی ٹکراؤ یا سیاسی جنگ نہیں چھیڑی۔
مفسرین اور محدثین، فقہا اور علما ہمیشہ اپنے علمی دائرے میں مشغول رہے۔ اُنھوں نے کبھی
سیاسی بگاڑ کے حوالے سے وقت کے حکم رانوں سے مسلح ٹکراؤ نہیں کیا۔ عدم ٹکراؤ کے یہی پالیسی تھی جس کے نتیجے میں اسلامی علوم کی تدوین ہوئی اور اسلام کا عظیم کتب خانہ وجود میں آیا۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اسلام کا کتب خانہ تو نہ بنتا، البتہ ہر جگہ شہیدوں کا قبرستان ضرور بن جاتا۔
3- بارہ سوسال کی اس طویل مدت میں ہم کو صرف ایک استثنائی واقعہ ملتا ہے اور وہ حسین بن علی (وفات: 680ء) کا واقعہ ہے، مگر میں اپنے مطالعے کی بنیاد پر کہہ سکتا ہوں کہ جس حسین کو لوگ جانتے ہیں، وہ ایک خود ساختہ شخصیت ہے، تاریخ میں ایسے کسی حسین کا وجود نہیں۔
اصل واقعہ یہ ہے کہ حسین بن علی مکہ میں تھے۔ اُن کو خبر ملی کہ کوفہ (عراق) کے کئی لوگوں نے اُن پر غائبانہ بیعت کر لی ہے اور وہ اُنھیں کوفہ بلا رہے ہیں۔ اس خبر کو سُن کر وہ مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ تاریخ بتاتی ہے کہ جس دن حضرت حسین مکہ سے روانہ ہوئے، اُس دن کوفہ کے لوگ اپنی بیعت توڑ چکے تھے۔ اگر وہ ٹیلی فون کا زمانہ ہوتا تو حضرت حسین کو فوراً ہی نقض بیعت کی خبر مل جاتی اور یقیناً وہ مکہ سے کوفہ کے لیے روانہ نہ ہوتے۔ اگر چہ اُس وقت بہت سے صحابہ موجود تھے اور انھوں نے حضرت حسین کو سفر سے روکا، لیکن وہ اپنے اہل خاندان کے تقریباً اسی افراد کو لے کر کوفہ کے لیے روانہ ہو گئے ۔ سفر میں کوئی صحابی اُن کے ساتھ موجود نہ تھا۔ گویا کہ یہ کوئی جنگی سفر نہ تھا، بلکہ وہ نجی نوعیت کا ایک سفر تھا۔ حضرت حسین اپنے خاندان کے لوگوں کے ساتھ جب کوفہ کے قریب کربلا کے مقام پر پہنچے تو وہاں یزید کے مقامی حاکم عبید اللہ بن زیاد (وفات : 686 ء) نے اُن کو آگے بڑھنے سے روکا۔ تاریخی روایات کے مطابق، اُس وقت حضرت حسین نے کہا کہ میں تم سے لڑنا نہیں چاہتا۔ تم مجھ کو چھوڑ دو، تاکہ میں واپس لوٹ کر مکہ پہنچ جاؤں ، یا پھر تم مجھ کو یزید کے پاس دمشق لے چلو اور میں یزید کے ہاتھ پر بیعت کر لوں گا (إما أن أضع يدي في يد يزيد، تاريخ الطبري، جلد 4، صفحه 313)۔ اُس وقت کوفہ میں یزید کی حکومت کی طرف سے شمر بن ذی الجوشن ایک فوجی دستے کے ساتھ یزید کی کسی ہدایت کے بغیر اُس نے خود سے یہ فیصلہ کیا کہ حسین کو واپس لوٹنے نہیں دینا اس کے بعد اُس نے اپنے مسلح فوجی دستے کے ساتھ حسین کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
حضرت حسین کے ساتھ وہی معاملہ کیا جس کو آج کل کی زبان میں فرضی مڈ بھیڑ (fake encounter) کہا جاتا ہے۔ چناں چہ شمر ذی الجوشن نے حضرت حسین کی آمادگی کے بغیر ان کو لڑنے پر مجبور کیا اور پھر انھیں قتل کر ڈالا۔
حسین بن علی کے معاملے میں جو اصل واقعہ پیش آیا، اُس کو تاریخ طبری یا البدایہ والنہایہ، وغیرہ میں دیکھا جاسکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یزید کی رضامندی کے بغیر ایک سرکش آدمی نے حسین کو گھیر کر انھیں قتل کر دیا۔ موجودہ زمانے میں جس طرح حسین کی شہادت کے عنوان سے اُس کو بیان کیا جاتا ہے اور شاعری اور انشا پردازی کی زبان میں اُس کو جس طرح گلوری فائی کیا جاتا ہے، وہ تمام تر حسین کی خود ساختہ تصویر ہے، اُس کا حقیقتِ واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل حقیقت بدستور یہی ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بارہ سو سال تک ایسا نہیں ہوا کہ علما سیاسی بگاڑ کے نام پر وقت کے حکم رانوں سے لڑائی کریں۔ اس کے بجائے، انھوں نے یہی کیا کہ حکّام سے عدم تعرض کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے اپنے آپ کو علمی اور دینی اور دعوتی کاموں میں مشغول رکھا۔
4- یہ تاریخ اٹھارھویں صدی عیسوی کے آخر میں بدلتی ہے۔ اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ مسلم حکم راں تمام سیاسی اور فوجی معاملات سے نبٹتے رہے، لیکن اٹھارھویں صدی میں مغربی قوموں کے ظہور کے بعد علما نے محسوس کیا کہ اب مسلم حکم راں اپنے فرض کی ادائیگی میں کوتاہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مثلاً عثمانی ترکوں کے بحری بیڑے کو اٹھارھویں صدی کے آخر میں مغربی قوموں نے تباہ کر دیا۔ 1799ء میں انگریزوں نے میسور کے سلطان ٹیپو کو ہلاک کر دیا۔ ہندوستان میں 1857ء میں برٹش فوج نے مغل سلطنت کا خاتمہ کر دیا، وغیرہ۔
اس طرح کے واقعات کے بعد پہلی بار ایسا ہوا کہ مسلم علما نے محسوس کیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس معاملے میں کچھ کریں۔ جس کام کو مسلم حکم راں انجام نہ دے سکے، اُس کو وہ اپنی مسلح مداخلت کے ذریعے انجام دیں۔ اس طرح، اسلامی تاریخ میں پہلی بار انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں یہ واقعہ پیش آیا کہ مسلم علما اور مسلم رہنماؤں نے اپنے دائرے سے نکل کر مسلح سیاست کے دائرے میں قدم رکھ دیا۔
میں ذاتی طور پر اس کو مبتدعا نہ سیاست سمجھتا ہوں ۔ یہ اسلام میں بلاشبہ ایک سیاسی بدعت اس سیاسی بدعت کا آغاز غالباً سب سے پہلے انڈیا میں ہوا۔ 1831 میں سید احمد بریلوی (وفات: 1831) اور اُن کے ساتھیوں نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ وہ اور اُن کا حلقہ واضح طور پر ایک غیر حکومتی گروہ کی حیثیت رکھتا تھا، اس اعتبار سے انھیں مسلح جہاد کا کوئی حق نہ تھا۔ مگر ان کا خیال تھا کہ مغل حکومت اتنی زیادہ کم زور ہو چکی ہے کہ وہ پیدا شدہ مسائل سے عہدہ برآ نہیں اُن کا یہ اقدام دینی اعتبار سے سیاسی بدعت اور عقلی اعتبار سے سیاسی نادانی کی حیثیت رکھتا تھا، کیوں کہ مہاراجا رنجیت سنگھ کی فوج نہایت طاقت ور فوج تھی۔ مہاراجا نے فرانس کے رٹائرڈ جزلوں کو بلا کر اپنی فوج کو ٹرینڈ کیا تھا۔ چناں چہ سید احمد بریلوی اور ان کے ساتھیوں کا پورا قافلہ بالا کوٹ کے میدان میں ہلاکت کا شکار ہو کر رہ گیا۔
اس کے بعد 1857ء میں سہارن پور (دیو بند) کے علما نے برٹش گورنمنٹ کے خلاف مسلح جہاد اس موقع پر طاقت کا توازن انتہائی غیر متناسب طورپر برطانیہ کے حق میں تھا۔ چناں چہ دوبارہ یک طرفہ تباہی کے سوا کچھ اور حاصل نہیں ہوا۔
انیسویں صدی عیسوی اور بیسویں صدی عیسوی میں اس طرح کے کئی واقعات عالم اسلام میں مثلاً مہدی سوڈانی (وفات: 1885 ء) نے سوڈان ( افریقہ) کے علاقے میں برٹش راج کے خلاف مسلح جہاد کیا، حالاں کہ اُن کو حکومتی حیثیت حاصل نہ تھی۔ اس اقدام میں اُنھیں ابتدائی طور پر کچھ کامیابی ہوئی، مگر بعد کو لارْڈ کچنر (Horatio Hebert Kitchner) نے جدید ٹکنالوجی کا استعمال کر کے مہدی سوڈانی کی ’’بغاوت‘‘ کو کچل دیا۔ لارْڈ کچنر کو 1898ء میں برطانیہ کی طرف سے سوڈان کا گورنر جنرل بنایا گیا۔
اسی طرح غیر حکومتی افراد کی طرف سے مسلح جہاد کا ایک معاملہ وہ ہے جو لیبیا میں پیش 1911 ء میں اٹلی نے سمندری راستے سے لیبیا پر حملہ کیا اور اُس پر اپنا قبضہ کر لیا۔ نے فروری 1976ء کے سفر میں وہ وسیع مکان دیکھا، جس میں اٹلی کا گورنر رہتا تھا۔ اس مکان کو
اب قومی میوزیم بنا دیا گیا ہے۔ اٹلی کا یہ قبضہ 1911ء سے 1943ء تک باقی رہا۔ اٹلی کے قبضے کے دوران یہاں مجاہدین کا ایک گروہ پیدا ہوا۔ یہ بھی غیر حکومتی گروہ کی حیثیت انھوں نے اٹلی کے قبضے کے خلاف مسلح جہاد کیا۔ اس گروہ کے لیڈر احمد الشریف السنوسی (وفات: 1933) تھے۔ اس ٹکراؤ میں مذکورہ گروہ نے غیر معمولی قربانیوں کا ثبوت دیا، لیکن انھیں اپنے مقصد میں کامیابی نہ ہوسکی۔ اس میوزیم میں ان مجاہدین کے کچھ آثار رکھے ہوئے ہیں۔ سے ایک کتبہ وہ ہے جس کے اوپر یہ نعرہ لکھا ہوا ہے: مُوتوا اليوم أعزاء، قبل أن تموتوا غداً أذلّاء ( آج عزت کے ساتھ مرجاؤ، قبل اس کے کہ کل تمھیں ذلت کے ساتھ مرنا پڑے)۔ یہ جملہ بتاتا ہے کہ ان عرب مجاہدین کے نزدیک، اُن کے لیے لیبیا میں صرف دو میں سے ایک کا انتخاب (option) تھا، یعنی بے عزتی کی زندگی جینا، یا عزت کے ساتھ مرجانا۔ مگر یہ صرف ایک ثنائی سوچ (dichotomous thinking) تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کے لیے ایک تھرڈ آپشن (third option) بھی وہاں موجود تھا، جو بلاشبہ اُن کے لیے زیادہ بہتر تھا، اور وہ تھا— سیاسی ٹکراؤ سے اعراض کرتے ہوئے غیر سیاسی میدان میں تعمیری کام کرنا۔ مثلاً تعلیم، دعوت، جدید ٹکنالوجی کو اقتصادی ترقی میں استعمال کرنا، وغیرہ۔
یہی معاملہ فلسطین میں پیش آیا۔ بالفور ڈیکلریشن (Balfour Declaration) کے تحت، فلسطین کے ایک حصے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ یہ 1948 کا زمانہ تھا۔ اُس وقت حسن البنا (وفات: 1949) اور الاخوان المسلمون نے قاہرہ کی سڑکوں پر بہت بڑا جلوس نکالا۔ اس جلوس کا نعرہ تھا: لبيك، يا فلسطين، لَبّیک، یا فلسطین حسن البنا، یا الاخوان المسلمون کو بلاشبہ حکومتی حیثیت حاصل نہ تھی، اس کے باوجود انھوں نے اسرائیل کے خلاف مسلح جہاد چھیڑ دیا۔ اس میں شک نہیں کہ یہ غیر حکومتی جہاد بھی ایک مبتد عانہ فعل تھا۔ چناں چہ وہ مکمل طور پر ناکام ہو کر رہ گیا۔ اسی طرح کا معاملہ جموں وکشمیر میں پیش آیا۔ یہاں مختلف ناموں کے ساتھ مجاہدین کی جماعتیں ان جماعتوں کو باہر کے مسلم ملکوں سے خفیہ امداد دی گئی۔ چناں چہ انھوں نے زبردست جانی اور
مالی قربانیوں کے ذریعے کشمیر میں مسلح جہاد شروع کر دیا۔ یہ کشمیری مجاہدین، حکومت کا حصہ نہ تھے۔ بنا پر انھیں مسلح جہاد کا کوئی شرعی حق نہیں تھا۔ مگر انھوں نے نہایت دھوم کے ساتھ مسلح جہاد شروع کیا۔ اگرچہ خود کش بم باری کی آخری حد تک پہنچنے کے باوجود اپنے مسلح جہاد میں کوئی کامیابی حاصل نہ وہ اپنے مطلوب نشانے تک پہنچنے میں پوری طرح ناکام ہو گئے۔
5- غیر حکومتی گروہوں کے ذریعے مسلح جہاد کا یہ عمل مکمل طور پر غیر شرعی تھا۔ اس کے باوجود وہ کیوں جاری رہا۔ اس کا واحد سبب یہ تھا کہ تمام دنیا کے علما نے یا تو اُس کی کھلی تائید کی، یا خاموش رہ کر اُس کی حوصلہ افزائی کی۔ دوسوسال کی اس پوری مدت میں پوری مسلم دنیا کے علما کا یہی رویہ تھا اور تادم تحریر اُن کا یہی رویہ بدستور قائم ہے۔ اس معاملے میں کچھ علما، خاص طور پر عرب علما، اس حد تک گئے کہ انھوں نے خود کش بم باری کو بھی ایک جائز فعل قرار دیا۔ مثلاً ڈاکٹر یوسف القرضاوی نے فلسطینیوں کی خود کش بم باری (suicide bombing) کو استشہاد قرار دیا ہے، یعنی طلب شہادت کا عمل (عملية استشهادية، المجتمع، 18 جون 1996، صفحہ 35، 34)۔ مگر یہ سراسرایک غیر اسلامی فتویٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں شہید ہونا ہے، اسلام میں شہید کروانا نہیں، جن لوگوں نے خود کش بم باری کو استشہاد قرار دیا، انھوں نے بلاشبہ ایک ایسا فعل کیا جس کا اسلامی شریعت میں کوئی جواز موجود نہیں۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے، اس مدت میں چند علما ایسے نکلے جنھوں نے مذکورہ قسم کے مسلح جہاد سے اتفاق نہیں کیا۔ مثلاً سید احمد بریلوی نے مہاراجا رنجیت سنگھ کے خلاف 1831ء میں پنجاب میں جو مسلح جہاد کیا، اُس کے خلاف خود اُن کے حلقے کے ایک عالم نے اُس سے سخت اختلاف اُن کا نام یہ تھا—مولانا میر محبوب علی دہلوی (وفات: 1864ء)۔ جب سید احمد بریلوی نے ان کی بات نہیں مانی تو وہ اُن سے الگ ہو کر اپنے وطن (دہلی) واپس آگئے۔
اسی طرح دیو بند اور سہارن پور کے علما نے 1857ء میں انگریزوں کے خلاف مسلح جہاد اُس وقت وہاں ایک بڑے عالم مولانا شیخ محمد تھانوی (وفات: 1865) موجود تھے۔ نے کہا کہ آپ لوگوں کے لیے یہ مسلح جہاد جائز نہیں۔ اس پر دیو بند کے علما سے اُن کی گفتگو ہوئی،
لیکن علما اُن کی بات کو ماننے پر تیار نہیں ہوئے۔
اسی طرح الاخوان المسلمون کے مرشد عام حسن الھضیبی (وفات : 2004) ایک مصری عالم انھوں نے الاخوان المسلمون سے اختلاف کیا اور اس پر ایک کتاب بھی لکھی جو عربی میں دُعاة... لا قُضاة‘ کے نام سے قاہرہ سے شائع ہو چکی ہے۔ حسن الھضیبی اگر چہ الاخوان المسلمون کے مرشد عام تھے، لیکن اس کتاب کا کوئی اثر الاخوان المسلمون کی تحریک پر نہیں پڑا۔ بعض علما کی یہ اصلاحی کوشش کیوں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ لوگ زیادہ مدلّل انداز میں اپنی بات پیش نہ کر سکے۔ اُن کے ارشادات زیادہ تر اختلاف کی نوعیت کے تھے، وہ معاملے کی مدلّل تردید کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس بنا پر اُن کے خیالات کا بے اثر ہو جانا ایک فطری امر تھا اور عملاً ایسا ہی ہوا۔
6- قرآن میں پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں کو خطاب کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وقاتلوهم حتى لا تكون فتنة، ويكون الدّينُ كلّه لله (الأنفال : 39) (یعنی تم اُن سے جنگ کرو، یہاں تک کہ فتنہ نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ کا ہو جائے۔ اس آیت میں 'قاتلوهم' سے مراد عوام سے جنگ نہیں، بلکہ سرداران وقت سے جنگ ہے۔ جنگ ہمیشہ اقتدار کے مالکوں سے کی جاتی ہے، جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: قاتلوا أئمة الكفر (التوبة: (12)
اس آیت میں 'فتنة' کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مفسرین قرآن نے عام طور پر یہ لکھا ہے کہ فتنہ سے مراد کفر اور شرک ہے۔ مگر اس کا مطلب مجرد شرک یا اعتقادی شرک نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ شرک یا کفر، دوسرے امتحانی پرچوں کی طرح امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ امتحان کے تمام پرچے قیامت تک باقی رہیں اُن میں سے کسی امتحانی پرچے کو قیامت سے پہلے منسوخ یا معدوم نہیں کیا جا سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت میں فتنہ سے مراد شرک جارح، یا کفر جارح ہے، جیسا کہ عبداللہ بن عباس کی روایت سے معلوم ہوتا ہے۔
شرک جارح کیا چیز ہے، اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو آج کل کی اصطلاح میں مذہبی تعذیب
کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک حوالہ قرآن کی سورہ نمبر 85 میں ملتا ہے۔ اس سورہ میں ارشاد ہوا ہے: ہلاک ہوئے خندق والے جس میں بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی۔ جب کہ وہ اُس پر بیٹھے ہوئے تھے۔ جو کچھ وہ ایمان والوں کے ساتھ کر رہے تھے، وہ اُس کو دیکھ رہے تھے۔ اور اُن سے اُن کی دشمنی اِس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر، جو زبردست ہے، تعریف والا ہے (البروج: 8-4)۔ اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے میں مذہب کو اسٹیٹ کے معاملات (state affairs) میں سے ایک معاملہ سمجھا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں اسٹیٹ ریلیجن (state religion) کے سوا، کسی اور مذہب کو اختیار کرنا، اسٹیٹ سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔ یہ صورت حال، خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کے خلاف تھی۔ خدا کے تخلیقی نقشے کا تقاضا ہے کہ دنیا میں مذہبی جبر نہ ہو، بلکہ مذہبی آزادی ہو۔ لوگوں کے بارے میں صحیح یا غلط کا حکم لگایا جاسکے۔ اس لیے خدا نے پیغمبر اور اصحاب پیغمبر کو یہ حکم دیا کہ وہ اس سیاسی جارحیت کا خاتمہ کر دیں، تاکہ اسٹیٹ کا معاملہ اور مذہبی عقیدے کا معاملہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں۔
اس معاملے پر مزید غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ اس تعلیم کا مطلب انسانی تہذیب میں ایک نئے دور کا آغاز کرنا تھا۔ ایک ایسا دور جس میں اسٹیٹ کا حاکمانہ تعلق صرف انتظام ملکی سے رہے اور بقیہ تمام معاملات حکومتی اقتدار سے باہر کی چیز بن جائیں۔ یہ گویا کہ مذہبی آزادی کی تکمیل ہے۔ اس معاملے کو دوسرے لفظوں میں، ڈی سنٹرلائزیشن آف پاور (de-centralization of power) کہا جا سکتا ہے۔ سیاسی اقتدار کی تحدید (demarcation) انسانی تاریخ میں ایک انقلابی تبدیلی لانے کا معاملہ اس قسم کا انقلاب تاریخ میں اچانک واقع نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ ایک لمبے عمل (process) کے ذریعے ظہور میں آتا ہے۔ اس معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا۔ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں شرک جارح کو ختم کیا گیا۔ یہ واقعہ عرب میں مشرکانہ اقتدار کے خاتمے اور دوسری طرف بازنطینی ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے خاتمے کے ذریعے پیش آیا۔
اس واقعے کے بعد تاریخ میں ایک نیا پراسس شروع ہوا۔ یہ ڈی سنٹرلائزیشن آف پاور کا
یہ پرائس مدینہ سے شروع ہوا۔ اس کے بعد وہ مسلسل جاری رہا۔ اٹھارھویں صدی کا آخر اس پرائس کا نقطہ انتہا (culmination) تھا۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ ساری دناور میں یہ نظام قائم ہو گیا کہ حکومتی اقتدار کا تعلق صرف انتظام ملکی (administration) تک محدود ہو گیا۔ اس کے سوا، زندگی کے تمام شعبے سیاسی اقتدار سے آزاد ہو گئے، مثلاً تعلیم، مذہب، صحافت، نظریاتی اشاعت، صنعت اور تجارت، وغیرہ۔
اس انقلاب کے بعد دنیا میں ایک نیا دور آ گیا، جس کو انسٹی ٹیوشن کا دور کہا جاتا ہے، یعنی وہ دور جب کہ آزاد ادارہ بنا کر کسی بھی کام کو کیا جا سکتا ہے۔ پولیٹکل پاور کو اب یہ حق نہیں رہا کہ وہ اداروں کے قیام کو روکے۔ موجودہ زمانے میں سیاسی ادارہ صرف ایڈمنسٹریشن تک محدود ہو گیا۔ اس کے سوا تمام دوسرے کام، آزاد اداروں کے ذریعے انجام دیے جا سکتے ہیں۔
قتال فتنے کی مذکورہ آیت میں ارشاد ہوا تھا ” اور دین سب اللہ کا ہو جائے“۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی انتظام کے سوا جو مذہبی معاملات ہیں، براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر، وہ سب سیاسی حاکمیت سے آزاد ہو جائیں۔ انسان کو یہ موقع حاصل ہو جائے کہ وہ مذہب کے معاملے میں آزادانہ طور پر جو چاہے کرے، کسی سیاسی اقتدار کو اُس پر پابندی عائد کرنے کا حق باقی نہ رہے۔ 7- وہ زمانہ جس کو موجودہ زمانہ کہا جاتا ہے، وہ اسی کامل مذہبی آزادی کا زمانہ تھا۔ میں اہلِ اسلام کو مکمل طور پر یہ موقع حاصل تھا کہ وہ سیاسی اقتدار کے محدود دائرے کے باہر اسلام کی تمام سرگرمیاں آزادانہ طور پر جاری کر سکیں۔ اسلامی تنظیم، اسلامی تعلیم، اسلامی دعوت، اسلامی اصلاح، اسلامی اقتصادیات، وغیرہ تمام معاملات میں اُنھیں پورا اختیار حاصل ہو چکا تھا، مگر زمانی تبدیلی سے بے خبری کی بنا پر اہل اسلام جدید مواقع کے استعمال کی منصوبہ بندی نہ کر سکے، بلکہ انتہائی نادانی کے ساتھ سیاست کی چٹان سے ٹکرانے لگے۔
جدید مواقع سے مراد مذہبی آزادی، جدید کمیونیکیشن، پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا، ادارتی تنظیم کی جدید سہولتیں، اشاعتِ افکار کے عالمی مواقع، سائنٹفک دلائل کا ظہور، ذہنی کڑپن کا خاتمہ،
اسپرٹ آف انکوائری، انگریزی کی صورت میں عالمی زبان کا وجود میں آنا، اعلیٰ ترین تعلیمی اداروں کے قیام کے امکانات، وغیرہ۔ ان جدید مواقع کو استعمال کرنے کی صوت میں مسلمان تمام اسلامی مقاصد کو اعلیٰ ترین درجے میں حاصل کر سکتے تھے۔
آغازِ اسلام کے بعد ایک ہزار سال سے زیادہ مدت تک علماءِ اسلام یہ کرتے رہے کہ حکم رانوں سے ٹکراؤ، یا مفروضہ ظالموں کے خلاف مسلح جہاد سے وہ مکمل طور پر دور رہے۔ انھوں نے اپنی ساری توانائی قرآن اور حدیث اور دوسرے علومِ اسلامی کی خدمت میں لگا دی۔ وہ دعوتِ دین اور تعلیمِ اسلام جیسے کاموں میں مصروف رہے۔ انھوں نے مسجد اور مدرسہ جیسے تعمیری اور ربانی ادارے قائم کر کے غیر سیاسی انداز میں اسلام کی خدمات انجام دیں۔ اسی پالیسی کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلام ایک اعلیٰ تہذیب اور ایک شان دار تاریخ کے روپ میں دنیا میں قائم ہو گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ماضی میں اسلام کے تمام شان دار کارنامے علماءِ دین کی اسی تعمیری پالیسی کا نتیجہ تھے۔
موجودہ زمانے میں علماءِ اسلام کو یہی موقع دوبارہ زیادہ بڑے پیمانے پر حاصل ہوا۔ چاہیے تھا کہ وہ اہل اقتدار کے خلاف مسلح جہاد کے ممنوعہ میدان میں نہ داخل ہوں، بلکہ وہ اسلام کو دوبارہ علمی اور فکری اور تہذیبی اعتبار سے آج کی دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ ایسا کرتے تو وہ قدیم سیاسی ایمپائر سے بھی زیادہ بڑے پیمانے پر اسلام کا غیر سیاسی ایمپائر بنا سکتے تھے، مگر علماءِ اسلام کو ز مانی بصیرت سے محرومی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ انھوں نے اپنے خیال کے مطابق، قربانی کی یادگاریں تو ضرور قائم کیں، لیکن وہ اسلام کو دنیا کے سامنے اس طرح پیش نہ کر سکے کہ دینا، اسلام کو اپنے لیے زندگی کا سر چشمہ سمجھے اور حال کا انسان بھی اُس کو اُسی طرح قبول کرے جس طرح ماضی کے انسان نے اس کو آگے بڑھ کر قبول کیا تھا۔