فارمل ایجو کیشن، انفارمل ایجو کیشن
Al-Risala, March 2009, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانے میں مختلف رہ نماؤں نے بڑے بڑے ادارے بنائے۔ اُن کا خیال تھا کہ وہ ان اداروں میں اپنے نوجوانوں کو تربیت دے کر ایک نئی نسل بناسکیں گے۔ مگر یہ تمام خواب منتشر ہوکر کوئی بھی ادارہ مطلوب نئی نسل کو وجود میں لانے کا ذریعہ نہ بن سکا۔ ایسا صرف اس لیے ہوا کہ یہ منصوبہ غیر فطری تھا، اور کوئی بھی غیر فطری منصوبہ اس دنیا میں کبھی کامیاب ہونے والا نہیں۔ تعلیم کی دو قسمیں ہیں— فارمل ایجو کیشن (formal education)، اور انفارمل ایجو کیشن فارمل ایجو کیشن وہ ہے جو وقت کے منظم اداروں میں باقاعدہ نصاب کے تحت دی جاتی ہے۔ انفارمل ایجو کیشن سے مراد تعلیم کے وہ غیر رسمی ذرائع ہیں جو ادارے سے باہر اپنا کام کرتے ہیں۔ مثلاً لٹریچر اور تربیت بذریعہ صحبت، وغیرہ۔
صحیح یہ ہے کہ فارمل ایجو کیشن کو تعلیم برائے تعلیم (education for the sake of education) کے اصول پر چلایا جائے۔ اور جہاں تک ذہن سازی یا افراد سازی کا معاملہ ہے، اُس کو انفارمل ایجو کیشن کے ذریعے انجام دیا جائے، ایجو کیشن کے یہ دونوں ذرائع ہر اعتبار سے، ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ الگ الگ رکھ کر ہی اُن کو بخوبی طور پر انجام دیا جا سکتا ہے۔ اگر دونوں کو یک جا کر دیا جائے تو دونوں میں سے کسی ایک کے بھی تقاضے پورے نہ ہوں گے، اور نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں میں سے کسی ایک کا بھی مطلوب فائدہ حاصل نہ ہو سکے گا۔ موجودہ زمانے میں انفارمل ایجو کیشن کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں۔ لیکن ان بڑھے ہوئے ذرائع کا استعمال ذہن سازی یا افراد سازی کے لیے نہ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ کام صرف اُس وقت انجام پاتا ہے، جب کہ ایک اعلیٰ صلاحیت کا انسان ایک قربانی دے، وہ یہ کہ وہ شہرت اور قیادت کے اسٹیج کو چھوڑ دے اور ایک مقام پر بیٹھ کر اپنے آپ کو ہمہ تن افراد سازی کے خاموش کام میں لگا دے۔ موجودہ زمانے کے رہ نماؤں نے یہ قربانی نہیں دی، اس لیے انفارمل ایجو کیشن کا کام بھی اعلیٰ امکانات کے باوجود مؤثر طور پر انجام نہ پا سکا۔