Save yourself, and do Dawah work
Al-Risala, March 2009, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماع ہمیشہ تاریخی روایات کے تحت ہوتا ہے۔ کچھ چیزیں ہمیشہ لمبی روایت کے نتیجے میں موضوعِ اجتماع بن جاتی ہیں۔ اس لیے لوگ ان روایتی عنوانات کے تحت اکٹھا ہوتے ہیں۔ نکاح، ولیمہ، خاندانی تقریبات، اداروں کے سالانہ جلسے، تعزیتی اور تہنیتی تقریبات، مشہور شخصیات کے نام پر اجتماعات، جماعتوں اور پارٹیوں کے فنکشن مختلف قسم کے تہوار اور جشن، میلہ اور عُرس، اس قسم کے اجتماعات مختلف مقاصد کے تحت کیے جاتے ہیں، مگر اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ وہاں کثیر تعداد میں عورت اور مرد اکٹھا ہوتے ہیں ۔ گویا کہ مقصدِ اجتماع خواہ کچھ بھی ہو، لیکن ہر اجتماع داعی کو ایک قابلِ خطاب مجمع (audience) فراہم کرتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اعراض کے اصول کو اختیار کرے، یعنی وہ غیر مطلوب پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے، صرف مطلوب دعوتی پہلو کو دیکھے اور ان مواقع میں شریک ہو کر دعوتی مقصد کے لیے اس کو بھر پور طور پر استعمال کرے۔ مشہور قول ہے: خذ ما صفا و دع ما کدر (پسندیدہ چیز کو لے لو اور نا پسندیدہ چیز کو چھوڑ دو)۔ یہ قول مذکورہ دعوتی حکمت کو بتاتا ہے، وہ یہ کہ لوگوں کے جمع ہونے کے مقام پر اگر ناپسندیدگی کے کچھ اسباب ہوں تو اُن کو نظر انداز کرو اور اس کے پسندیدہ پہلو، یعنی دعوتی موقع کو اصلاح و تبلیغ کے لیے یہ حکمت، دعوت کی توسیع واشاعت کے لیے بے حد کار آمد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس حکمت کو اختیار کیے بغیر دعوتِ حق کی عمومی توسیع کا کام انجام دینا ممکن نہیں۔