مسئلے کا یقینی حل
Al-Risala, March 2009, pp. 40–43
By Maulana Wahiduddin Khan
حیدر آباد کے ایک مسلم تاجر نے بتایا کہ ایک صاحب سے ان کی پارٹنر شپ تھی۔ کچھ عرصہ بعد دونوں کے درمیان شکایتیں پیدا ہوئیں ۔ ایسا محسوس ہوا کہ یہ پارٹنر شپ اب چل نہیں سکتی ۔ مذکورہ مسلم تاجر نے اپنے پارٹنر سے کہا کہ میری رائے ہے کہ اب یہ پارٹنر شپ ختم کردی جائے ۔ آپ الگ اپنا کام کریں اور میں الگ اپنا کام کروں ۔ پارٹنر نے پوچھا کہ اُس کا طریقہ کیا ہوگا ۔ مسلم تاجر نے کہا کہ اس کا طریقہ بہت آسان ہے ۔ اس معاملے کا پورا اختیار میں آپ کو دیتا ہوں ۔ میری طرف سے کوئی شرط نہیں ہے ۔ آپ جس طرح چاہیں ، کاروبار کو دونوں کے درمیان تقسیم کر دیں ۔ جو چاہیں آپ لے لیں ، اور جو چاہیں مجھ کو دے دیں ۔ پارٹنر نے کہا کہ میں فوری طور پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ۔ مجھ کو دو دن سوچنے کا موقع دیجیے ۔ اس کے بعد میں آپ کو اپنی رائے بتاؤں گا۔ دو دن کے بعد پارٹنر نے مذکورہ تاجر سے ملاقات کی ۔ نے کہا کہ غور کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ سے اچھا کوئی اور شریک تجارت مجھے نہیں مل سکتا ۔ اس لیے میں اپنے اختلاف کو یک طرفہ طور پر ختم کرتا ہوں ۔ میں آپ کو پورا حق دیتا ہوں کہ آپ جس طرح چاہیں ، کاروبار کو چلائیں ۔ ہماری اور آپ کی پارٹنر شپ اسی طرح باقی رہے گی اور جہاں تک اختیار کا تعلق ہے ، آپ کو ہر قسم کے فیصلے کا اختیار حاصل رہے گا ۔
مذکورہ مسلم تاجر ماہ نامہ الرسالہ کے مستقل قاری ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کو کئی سال ہو چکے ہیں اور ہماری پارٹنر شپ نہایت کامیابی کے ساتھ چل رہی ہے ۔ ہم دونوں کے درمیان نہ کوئی شکایت ہے اور نہ کوئی بدگمانی ۔ اس فیصلے کے بعد کاروبار میں کئی گنا زیادہ ترقی ہوئی ہے اور دونوں پارٹنر پہلے سے زیادہ خوش ہیں ۔ نزاعی معاملے کو ختم کرنے کا یہی سب سے اچھا طریقہ ہے ۔ نزاع کے وقت جب ایک شخص یک طرفہ طور پر پیچھے ہٹ جائے تو وہ فریق ثانی کے اندر معقولیت کو جگا دیتا ہے ۔ وہ فریق ثانی کے اندر حقیقت پسندی کا مزاج پیدا کر دیتا ہے ۔ اور جب فریقین کے درمیان معقولیت اور حقیقت پسندی کی فضا قائم ہو جائے تو مسئلہ اس طرح ختم ہو جاتا ہے ، جیسے کہ اُس کا کوئی وجود ہی نہ تھا ۔
سوال و جواب میں تدریسی پیشے سے منسلک ہوں اور الحمد للہ دین کی سمجھ بنیادی طور پر رکھتا ہوں۔ پریشانی یہ ہے کہ کبھی تو دل میں ولولہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو دین سے قریب کرنے کی کوشش کروں، لیکن پھر قوم کی بے رخی اور ان کو برائی کے دلدل میں پھنسا ہوا دیکھتا ہوں اور ان کی بہانہ بازی دیکھتا ہوں تو پھر ان سے بات تک نہ کرنے اور کوئی کام نہ کرنے کی بات دل میں آ جاتی ہے۔ مہربانی فرما کر اپنے مشورے سے مجھے نوازیں کہ میں اپنوں کے درمیان اصلاح کا کام کس طرح کروں۔ چوں کہ میں سرکاری ملازم ہوں اس لیے غیر مسلم اساتذہ سے اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ کچھ مذہب کے متعلق خیالات کا تبادلہ بھی ہوتا ہے، لیکن میرے پاس کوئی لٹریچر ان حضرات کو اسلام کی معلومات دینے والا نہیں ہے۔ اگر آپ کچھ ارسال کر سکیں تو میں آپ کا شکر گزار ہوں گا۔ میں منتظر ہوں کہ آپ میری رہ نمائی فرمائیں (غلام فرید، ایوت محل، مہاراشٹر)۔
دعوت واصلاح کا کام ایک ذمے داری ہے۔ وہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت میں کیا جاتا ہے۔ اہلِ ایمان کے لیے لازمی طور پر ضرور یہ ہے کہ وہ پیغمبر کے ذریعے ملے ہوئے خدائی پیغام کو اُس کے بندوں تک پہنچائیں۔ اس معاملے میں نتیجہ (result) کا پہلو ایک اضافی (relative) دعوت واصلاح کے عمل کا مطلوب نتیجہ نکلے یا نہ نکلے، ہر حال میں دعوت و اصلاح کا کام جاری رکھنا ہے، اُس وقت تک جب تک کہ موت نہ آ جائے۔
دعوت واصلاح کا کام صرف مدعو کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ وہ خود داعی کے اعتبار سے ہے۔ دعوت واصلاح کے کام میں ہمیشہ مختلف قسم کے تجربات ہوتے ہیں۔ یہ تجربات داعی کی شخصیت کی تعمیر کے لیے انتہائی حد تک اہم ہیں۔ ان تجربات کے بغیر داعی کے اندر مطلوب شخصیت بن سکتی۔ مطلب یہ ہے کہ اگر مدعو کی طرف سے مثبت جواب (positive response) نہ ملے، تب بھی دعوتی عمل
کا یہ فائدہ بہر حال حاصل ہوتا ہے کہ داعی کی اپنی شخصیت مسلسل طور پر ترقی کا سفر طے کرتی رہتی ہے، آپ قرآن کو اس پہلو سے پڑھیں تو آپ واضح طور پر اس حقیقت کو دریافت کر لیں گے۔ میں نے پہلا خط آپ کی جانب لکھا تھا۔ اس کا جواب مجھے ’الرسالہ‘ میں مل گیا۔ امید ہے کہ آپ آگے بھی ہماری رہ نمائی فرمائیں گے۔ حال ہی میں ایک درسگاہ میں ایک اجتماع کا انعقاد ہوا جو ہمارے پاس ہی واقع ہے۔ مجھے اللہ نے وہاں جانے کی توفیق عطا فرمائی۔ وہاں ایک مقرر نے جو مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، آپ کی ایک کتاب کا حوالہ دے کر لوگوں کو بہت سی باتوں سے واقف میں بہت متاثر ہوا۔ جب بھی کسی سے بات کرنے کا موقع ملتا ہے تو اکثر آپ کی کتابوں کو پڑھنے کا مشورہ دیتا رہتا ہوں۔ میری دلی تمنا ہے کہ دنیا بھر میں امن و امان قائم ہو اور ہمارے علماء آپ کی طرح سوچنے لگیں اور دین کی اصل صورت لوگوں تک پہنچائیں۔ لوگوں میں جو ذہن پیدا ہوا ہے، وہ ہمارے علماء ہی کی دین ہے۔ ان لوگوں کا کوئی قصور نہیں۔ ہمارے دلوں میں علماء کا احترام ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہماری سوچ بھی ویسی ہو جاتی ہے۔
چند دن پہلے میں اپنے ایک دوست سے بات کر رہا تھا تو جواب میں وہ بولنے لگے کہ آپ نے بات اچھی کی، لیکن آپ دین کے معاملے میں زیادہ ڈیپ (deep) ہو رہے ہیں اور اگر آگے بھی ایسا چلتا رہا تو اللہ ہی آپ کا نگہبان ہے۔ آپ کو ایک رہبر کی ضرورت ہے۔ میں سمجھ گیا کہ رہبر سے ان کی مراد کیا ہے کیوں کہ یہاں پر عام لوگوں کا یہی عقیدہ ہے۔ میں بات کو زیادہ بڑھانا نہیں چاہتا ہوں۔ مقصد صرف یہ ہے کہ خط کے ذریعے یا کتاب کے ذریعے میرے اندر ایک زندہ شعور پیدا ہو۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے اور آپ کی تحریروں میں اثر دے اور ہمارے دلوں میں خلوص دے تا کہ ہم جو پڑھیں یا سنیں، وہ ہمارے دلوں میں اتر جائے (شکیل احمد ملک، سری نگر، کشمیر)۔
آپ کے ساتھی کا یہ کہنا کہ آپ دین کے معاملے میں زیادہ ’’ڈیپ‘‘ میں کیوں جا رہے ہیں،
کوئی سادہ بات نہیں ۔ یہ ایک نہایت خطر ناک بھول ہے جس میں موجودہ زمانے کے بیشتر مسلمان آج کل اکثر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنی دنیوی ترقی کے معاملے میں تو ’’ ڈیپ‘‘ میں جاتے ہیں، لیکن آخرت کے معاملے میں وہ صرف کچھ رسمی اعمال کو کافی سمجھے ہوئے ہیں۔ دہرا معیار ہے۔ اسی دہرا معیار کا دوسرا نام منافقت ہے، اور منافقت کسی آدمی کو خدا کے غضب کا مستحق بناتی ہے، نہ کہ خدا کی رحمت کا مستحق۔
اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اپنی دنیا کے معاملے میں سادگی پر قانع ہو۔ ضروری حد تک اپنے آپ کو دنیا کی چیزوں میں مشغول کرے۔ اس کے بعد جہاں تک دین کا اور آخرت کا معاملہ ہے، وہ اُس میں پوری طرح ڈِیپ میں جائے۔ وہ زیادہ سے زیادہ گہرائی کے ساتھ دین اور آخرت کے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ اس کے بغیر کسی کو آخرت کی جنت ملنے والی نہیں۔ جنت کی قیمت کچھ رسمی اعمال نہیں ہیں۔ جنت میں صرف وہ انسان داخل کیا جائے گا جس نے اپنا تزکیہ کیا ہو۔ تزکیہ کوئی پر اسرار چیز نہیں۔ تزکیہ ذہنی عمل کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے۔ خدا کی کتاب کو تدبر کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ جب اپنا محاسبہ کرتا ہے، وہ خشوع والی عبادت انجام دیتا ہے، وہ خدا رخی زندگی (God-oriented life) اختیار کرتا ہے تو اس کے اندر ایک مزّگی شخصیت (purified personlity) بنتی ہے۔ یہی مزّگی انسان وہ انسان ہے جس کو آخرت میں جنت کے باغوں میں داخل کیا جائے گا۔ امانی یا خوش فہمی (wishful-thinking) کے ذریعے کسی کو جنت ملنے والی نہیں۔