Change has come to American presidency.
Al-Risala, January 2009, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی تاریخ میں ہمیشہ ایسا ہی ہوا ہے۔ لوگ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ پانچ سال تک پیرک اوباما اسی طرح پر شور الفاظ بولتے رہیں گے، یہاں تک کہ جب پانچ سال پر ان کا دور صدارت ختم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا، جس کو تبدیلی (change) کہا جاسکے، امریکا کے اصل مسائل بدستور موجود ہیں، بلکہ اُن میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ زندگی میں حقیقی تبدیلی عمومی حالات میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ صدر یا وزیر اعظم کے بدلنے لوگ عام طور پر اس فرق کو نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار ایسا ہوتا ہے کہ لوگ پہلے جشن فتح مناتے ہیں، اور آخر میں مایوس ہو کر اگلے الیکشن میں اُسی شخص کو ہرا دیتے ہیں جس کی انتخابی جیت کو انھوں نے حقیقی تبدیلی کے ہم معنی سمجھ لیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ زندگی میں تبدیلی، انسان میں تبدیلی سے آتی ہے، نہ کہ سیاسی عہدے داروں کی تبدیلی سے۔