Al-Risala · January 2009

مطلوب قرأت، رعایتی قرأت

Al-Risala, January 2009, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی مختلف کتابوں میں ایک روایت آئی ہے۔ اس کو قرأتِ سبعہ کی روایت کہا جاتا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ صحابہ مختلف عرب قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔ ان قبائل کی زبان مشترک طور پر عربی تھی، لیکن ہر ایک کا لہجہ الگ الگ تھا، جیسا کہ ہر زبان میں ہوتا ہے۔ جب قرآن لوگوں کے درمیان پھیلا تو ہر ایک اپنے اپنے قبیلے کی زبان میں اُس کو پڑھنے لگا۔ اس پر لوگوں کے درمیان اختلافات ہوئے۔ لوگ، رسول اللہ ﷺ سے ایک لہجے میں قرآن کو سنتے اور صحابہ اس کو دہراتے تو وہ مختلف لہجات میں اس یہ اختلاف بعض اوقات شدت اختیار کر لیتے تھے، یہاں تک کہ عمر فاروق نے ایک بار ایک صحابی کو اپنے سے مختلف لہجے میں قرآن کو پڑھتے ہوئے سنا تو اُنھوں نے کہا: کذبت۔ جب یہ اختلاف بڑھا تو لوگ اس مسئلے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے۔ نے ہر ایک کے قرآن کو پڑھا ہوا کر سنا اور پھر ہر ایک کے لہجے کی تصویب فرمائی (فأئی ذلك قرأتم أصبتُم، فلا تماروا فيه ) آپ نے کہا کہ تم جس طرح پڑھتے ہو، اُسی طرح پڑھو، کیوں کہ قرآن سات لہجوں میں اتارا گیا ہے (إنما أنزل القرآن علی سبعة أحرف) تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: فتح الباری لابن حجر العسقلانی، جلد 8، صفحہ 639۔

اس سلسلے کی مختلف روایات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سات قرأت کا مطلب، سات مطلوب قرأت نہیں ہے، بلکہ سات رعایتی قرأت ہے۔ قرآن کی مطلوب قرأت صرف وہی ہے جو قبیلہ قریش کے لہجے کے مطابق ہے۔ کیوں کہ عرب میں قریش کا لہجہ ہی اسٹینڈرڈ لہجہ سمجھا جاتا تھا۔ یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدل لینے پر قادر نہیں ہوتا۔ یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے، اٗس کو قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا، البتہ رعایتی طور پر لوگوں کو اجازت ہوگی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ حقیقت ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاقرؤا ما تيسر منه۔

Printed page