Al-Risala · April 2009

اسبابِ شکر کو دریافت کیجیے

Al-Risala, April 2009, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اگر آپ لذیذ کھانا کھائیں اور اس کو کھا کر الحمد للہ کہیں تو یہ حیوانی درجے کا شکر ہے۔ کیوں کہ یہ مشاہدہ اور ذائقہ پر مبنی ہے، اور مشاہدہ اور ذائقہ کے درجے کا شکر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے، وہ اعلیٰ انسانی درجے کا شکر نہیں۔

انسان کے درجے کا شکر یہ ہے کہ جب کھانا آپ کے سامنے آئے تو اس کو دیکھ کر خدا کا پورا تخلیقی نظام آپ کو یاد آ جائے۔ آپ سوچیں کہ یہ تمام غذائی چیزیں پہلے غیر غذائی چیزیں تھیں۔ ایک برت عمل (process) کے ذریعے ایک عظیم واقعہ بر پا کیا، وہ تھا غیر غذا (non-food) کو غذا (food) میں تبدیل کرنا۔ اس طرح ایک کائناتی عمل کے ذریعے یہ تمام غذائی چیزیں وجود میں آئیں۔ پھر آپ یہ سوچیں کہ یہ غذائی چیزیں اپنی ابتدائی صورت میں میرے لیے توانائی (energy) کا ذریعہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ چناں چہ خدا نے مزید یہ کیا کہ اُس نے میرے جسم کے اندر ایک پیچیدہ قسم کا نظام ہضم (digestive system) رکھ دیا۔ یہ نظام ہضم ایک خود کار نظام ہے۔ جب میں کوئی چیز کھاتا ہوں تو یہ نظام ہضم ان غذائی چیزوں کو حیرت انگیز طور پر زندہ خلیات (living cells) میں تبدیل کر دیتا ہے، پھر یہ زندہ خلیات میرے جسم میں گوشت اور خون جیسی چیزوں میں ڈھل جاتے یہ سوچ کر آپ کے اندر شکر کا ایسا احساس امنڈے، جس کو الفاظ میں ظاہر کرنے کے لیے آپ اپنے آپ کو عاجز پاتے ہوں۔

اس مثال سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی شکر کیا ہے اور حیوانی شکر کیا۔ اگر آپ کے اندر صرف حیوانی درجے کا شکر ہے تو آپ ہمیشہ ناشکری کے احساس میں جئیں گے۔ شکر کے اعلیٰ احساس میں جینے کے لیے انسانی درجے کا جذبہ شکر درکار ہے۔ مگر یہی وہ چیز ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ کم پائی جاتی ہے (وقليل من عبادي الشكور) ۔ انسان سے اللہ تعالیٰ کو جو شکر مطلوب ہے، وہ انسانی درجے کا صرف حیوانی درجے کا شکر انسان جیسی مخلوق سے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔

Printed page