I have discovered my identity in the Quran.
Al-Risala, April 2009, p. 10
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ معاملہ صرف ایک شخص کا نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد آئیڈنٹٹی کرائسس (identity crisis) کے مسئلے سے دوچار رہتے ہیں، کوئی شعوری طور پر کوئی غیر شعوری طور پر۔ مگر بیشتر لوگ اس دریافت سے محروم رہتے ہیں۔ لوگوں کا ٹنشن میں مبتلا ہونا، اِسی بنا پر ہر آدمی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی آئیڈنٹٹی کو جانے، لیکن اس معرفت میں ناکامی اُس کونشن میں مبتلا کردیتی ہے۔
اصل یہ ہے کہ کوئی عورت یا مرد جب پیدا ہو کر اس دنیا میں آتے ہیں، تو فطری طور پر اُن کے ذہن میں اس قسم کے سوالات ابھرنے لگتے ہیں— میں کون ہوں۔ میں کیسے بن گیا۔ میری زندگی کا مقصد موت کیا ہے، اور موت کے بعد کیا ۔ میں کہاں سے آیا ہوں اور مجھے کہاں جانا ہے، وغیرہ۔ انھیں سوالات کا نام آئیڈنٹٹی کی تلاش ہے۔ برطانی سائنس داں سر جیمز جینز (وفات: 1946) نے دیکھا کہ بظاہر دنیا میں ان سوالات کا جواب موجود نہیں، چناں چہ اس نے اپنی کتاب— پُر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں لکھا ہے کہ — بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے نہیں بنائی گئی تھی:
Man has strayed into a world that was not made for him.