خدا کا وجود
Al-Risala, April 2009, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان جب رحم مادر (womb) کے خول میں ہوتا ہے، تو اس کو اُس وقت خول کے باہر کی دنیا کے بارے میں کوئی علم نہیں ہوتا۔ اس خول کے باہر ایک پوری دنیا موجود ہوتی ہے، لیکن بچے کو اس کی کوئی خبر یہی معاملہ خود انسان کا بھی ہے۔ انسان کی تمام معلومات زمان و مکان (time and space) کے اندر تک محدود ہوتی ہیں۔ وہ زمان و مکان کے باہر کی حقیقتوں کے بارے میں کوئی علم نہیں رکھتا۔ برٹش فلسفی جان اسٹوارت مل (وفات: 1873) جب نو جوانی کی عمر میں تھا، اُس وقت اس کے باپ جیمس مل (وفات: 1836) نے اُس سے کہا کہ خدا کا عقیدہ ایک غیر عقلی عقیدہ ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ خدا نے انسان کو پیدا کیا، تو سوال یہ ہے کہ خدا کو کس نے پیدا کیا: If God created man, who created God. یہ بات جان اسٹوارت مل نے اپنی آٹو بائیو گرافی میں لکھی۔ اس کے بعد اس بات کو برٹرنڈ رسل (وفات: 1970) اور جولین ہکسلے (وفات: 1975) جیسے فلاسفہ دہرانے لگے۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ جیمس مل کے تقریباً سوسال بعد 1916 میں البرٹ آئن اسٹائن (وفات: 1955) نے نظریہ اضافیت (theory of relativity) پیش کیا۔ اس نظریے کے تحت آئن اسٹائن نے دکھایا کہ اس دنیا میں انسان کا ہر علم اضافی (relative) ہے، نہ کہ حقیقی (real)۔ آئن اسٹائن نے ثابت کیا کہ انسان کے پاس کوئی مطلق فریم آف ریفرنس موجود نہیں: