Al-Risala · April 2009

موت کے بعد

Al-Risala, April 2009, pp. 16–17

By Maulana Wahiduddin Khan

موت ہر انسان کے لیے ایک غیر مطلوب واقعہ ہے۔ آدمی لمبی مدت تک جینا چاہتا ہے، مگر وہ اچانک ایک دن مر جاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدمی سفر میں تھا، وہ زیادہ دور تک جانا چاہتا تھا، مگر منزل پر پہنچنے سے پہلے موت نے یک طرفہ فیصلے کے تحت، اس کی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ یہ ہر عورت اور ہر مرد کا سوال ہے۔ ہر ایک یہ جاننا چاہتا ہے کہ کیوں کر ایسا زندگی کیا ہے اور موت کیا۔ کیوں ایسا ہے کہ آدمی زیادہ دن تک جینا چاہتا ہے، مگر اس کو درمیان ہی میں اس کی مرضی کے بغیر، موت کے فیصلے کو قبول کرنا پڑتا ہے۔ جب ہم اس معاملے پر غور کرتے ہیں تو ہم کو سب سے پہلا سراغ (clue) ڈی این اے (DNA) کی جدید دریافت میں ملتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، ہر انسان کے اندر اس کا ڈی این اے بھی موجود ہوتا ہے۔ ہر انسان کا ڈی این اے گویا کہ اس کی شخصیت کا مکمل انسائیکلو پیڈیا ہے۔ ڈی این اے کو ڈی کوڈ (decode) کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ وہ ہماری بڑی سے بڑی انسائیکلو پیڈیا سے بھی سیکڑوں گنا زیادہ بڑا ہے۔ ہر انسان کے ڈی این اے میں اس کی شخصیت (personality) کے تمام چھوٹے اور بڑے پہلو موجود ہیں۔

مگر عجیب بات ہے کہ ڈی این اے انسانی شخصیت کے صرف ایک پہلو کے اندراج سے خالی کسی انسان کے ڈی این اے کا مطالعہ کرکے، اس کے بارے میں ہر بات کو معلوم کیا جا سکتا ہو، مگر صرف ایک بات کو معلوم کرنا ممکن نہیں، اور وہ یہ کہ کسی انسان کی موت کب واقع ہوگی۔ یہ فطرت کی طرف سے اس بات کا اعلان ہے کہ انسان اپنی حیثیت کے اعتبار سے ایک نہ مرنے والی مخلوق ہے۔ انسان کے لیے مسلسل زندگی ہے، حقیقی معنوں میں اس کی شخصیت پر موت وارد ہونے والی نہیں۔ اب یہاں انسانی شخصیت کے ایک اور پہلو کو شامل کر لیجیے، وہ یہ کہ تمام ذی حیات چیزوں میں صرف انسان ہے جو کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔ تمام حیوانات صرف آج (today) میں

جیتے ہیں، کسی حیوان کا کوئی کل نہیں۔ اپنے محدود شعور کے اعتبار سے حیواناتمیں سے ہر ایک کا معاملہ یہ ہے کہ وہ آج میں پیدا ہوئے اور آج ہی میں ان کا خاتمہ ہو گیا۔ مگر انسان استثنائی طور پر ایک ایسی مخلوق ہے جو واضح طور پر کل (tomorrow) کا تصور رکھتا ہے۔

اس معاملے میں درست رائے قائم کرنے کے لیے ایک پہلو کو شامل کرنا ضروری ہے۔ کہ معلوم ہے، ہر آدمی جو اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ ان گنت تمناؤں (ambitions) کے ساتھ پیدا مگر اسی کے ساتھ دوسری حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی اس طرح مر جاتا ہے کہ اس کی تمنائیں پوری اس اعتبار سے، ہر آدمی نامکمل تمناؤں (unfulfilled desires) کا کیس ہے۔ کے عام نظام کو دیکھیے تو یہ واقعہ بالکل بے جوڑ ہے۔ اس وسیع کائنات میں صرف انسان ہے جو اس مسئلے سے دوچار ہے، انسان کے سوا کوئی بھی دوسری مخلوق اس مسئلے سے دوچار نہیں۔ یہ صورتِ حال بتا رہی ہے کہ اس مسئلے کا جواب ہونا چاہیے۔ انسان کی تمناؤں کو اُسی طرح فل فل مینٹ ملنا چاہیے جس طرح دوسری مخلوقات کو ملا ہوا ہے۔ یہ صورتِ حال بتاتی ہے کہ موجودہ دنیا کے بعد ایک اور دنیا آنے والی ہے، یعنی وہ دنیا جہاں انسان اپنی تمناؤں کی کامل تسکین پاسکے۔ اس طرح اس معاملے کا ایک اور پہلو بہت زیادہ اہم ہے، وہ یہ کہ انسان کے اندر فطری طور پر انصاف (justice) کا ذہن پایا جاتا ہے۔ انسان فطری طور پر یہ چاہتا ہے کہ اس دنیا میں عدل کے ساتھ فیصلہ ہو۔ نیک لوگوں کو ان کی نیکی کا پورا بدلہ ملے، اور بُرے لوگوں کو ان کی بُرائی کی سزا دی یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے۔ یہ تقاضا بھی چاہتا ہے کہ ایک دنیا آئے، جہاں عدل کا یہ تقاضا کیوں کہ موجودہ دنیا میں ایسا ہونا ممکن نہیں۔

مذکورہ سوالات کو سامنے رکھ کر سوچا جائے تو آخرت (hereafter) کا نظریہ بالکل حقیقی نظریہ معلوم ہوتا ہے۔ آخرت کے نظریے کو ماننے کی صورت میں آدمی کو ہر سوال کا مکمل جواب مل جاتا ہے۔ ہر چیز اپنی جگہ پر درست ہو جاتی ہے:

Printed page