Every thing falls into place.
Al-Risala, April 2009, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
آج کل مسلمان مختلف مقامات پر متشددانہ کارروائی میں مبتلا ہیں۔ جب اُن کو اس سے روکا جائے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو وہی کر رہے ہیں جس کا حکم ہم کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہے۔ اس سلسلے میں وہ اُس حدیثِ رسول کو پیش کرتے ہیں جس میں اہلِ ایمان کو تغییرِ منکر کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح مسلم کے الفاظ یہ ہیں: مَن رأى منكم منكراً فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبہ، وذلك أضعف الإيمان (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی تم میں سے جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے، اور اگر وہ اس کی فاستطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنی زبان سے، اور اگر وہ اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو پھر اپنے دل سے، اور یہ سب سے زیادہ کم زور ایمان ہے۔ دوسری روایت میں اس حدیث کا پہلا ٹکڑا ان الفاظ میں آیا ہے: مَن رأى منكراً استطاع أن يغيّره بيده فليغيّره بيده (سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم) یعنی جو شخص کسی منکر کو دیکھے، تو اگر وہ استطاعت رکھتا ہو تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے۔ روایت کے بقیہ الفاظ مشترک ہیں۔
اس حدیث کو عام طور پر تشدد کے جواز میں پیش کیا جاتا ہے، حالاں کہ حدیث میں اس کا ذکر اس حدیث میں منکر کو عملاً بدل دینے، یا عملاً بدل دینے کی استطاعت نہ ہونے کی صورت میں اس کے خلاف بولنے کا ذکر کیا گیا ہے، نہ کہ منکر کو دیکھ کر لوگوں کے اوپر تشدد کرنے کا، یا خود کُش بم باری (suicide bombing) کا۔ اس حدیث سے متشددانہ کارروائیوں کا جواز ہرگز نہیں نکلتا۔ اس روایت میں منکر کی تغییر کا لفظ آیا ہے۔ تغییر کے معنی عربی زبان میں بدل دینے (replacement) کے ہیں، یعنی منکر کی حالت کو بدل کر غیر منکر کی حالت قائم کرنا۔ میں اصلاحِ حال کا حکم ہے، نہ کہ تخریب اور فساد کا۔
عربی زبان کے مشہور لغت لسان العرب میں تغییر کا مفہوم ان الفاظ میں بتایا گیا ہے—
غیره: حوله و بدله کأنه جعله غیر ما کان (40/5) اس کی تغیر کی، یعنی اس کو بدل دیا۔ اس کو ایسا بنا دیا جیسا کہ وہ پہلے نہ تھا۔ امام راغب الاصفهانی (وفات: 1108) نے اپنی کتاب ”المفردات فی غریب القرآن“ میں اس لفظ کی تشریح اس طرح کی ہے: يقال غيرت داری إذا بنيتها بناء غير الذي كان۔ کہا جاتا ہے کہ میں نے اپنے گھر کی تغیر کی، یعنی جب تم اس کی تعمیر کو بدل کر دوسری طرح اس کی تعمیر کرو (صفحه 368)۔
موجودہ زمانے میں جگہ جگہ جہاد کے نام پر تشدد کے واقعات ہورہے ہیں۔ یہ ”مقدس تشدد“ مسلم رہنماؤں کی قیادت میں انجام پارہا ہے۔ اس فعل میں تقریباً تمام امت شریک ہے۔ اس لیے کہ جو لوگ براہ راست اس میں شریک نہیں ہیں، وہ اس کے بارے میں خاموش ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے، اُن کی یہ خاموشی بالواسطہ شرکت کا درجہ رکھتی ہے۔ اس لیے اسلامی اصول کے مطابق، پوری امت کو اس عمل میں شریک مانا جائے گا، کچھ لوگوں کو براہ راست طور پر، اور بقیہ لوگوں کو بالواسطہ طور پر۔ واقعات بتاتے ہیں کہ اس متشددانہ عمل کا کوئی بھی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہورہا ہے۔ اس عمل کا ہر جگہ صرف ایک ہی نتیجہ نکل رہا ہے، اور وہ تخریب ہے، نہ کہ تعمیر۔ ایسی حالت میں بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ متشددانہ کارروائیاں اور جو کچھ ہوں، لیکن وہ تغییرِ منکر کا عمل ہرگز نہیں۔ تغییرِ منکر یہ ہے کہ آدمی ناپسندیدہ صورتِ حال کو بدل کر اس کی جگہ پسندیدہ صورتِ حال قائم کرے ۔ اس کے برعکس، ایک ایسی کوشش جو کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہو، وہ یقینی طور پر تخریب اور فساد ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی عمل۔
کسی غیر مطلوب صورتِ حال کو دیکھ کر اس کے خلاف منفی ردِ عمل ظاہر کرنا، صرف فساد کا ایک عمل ہے، وہ تغییر منکر نہیں۔ تغییر منکر مکمل طور پر ایک مثبت عمل ہے۔ وہ حالات کی اصلاح کے لیے کیا جاتا ہے، نہ کہ حالات کو مزید بگاڑنے کے لیے۔ اصلاحِ حال کا طریقہ یہ ہے کہ غیر متاثر ذہن کے ساتھ حالات کا مطالعہ کیا جائے اور پھر تعمیری منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کو درست کرنے کی کوشش جو لوگ اس کے خلاف کریں، وہ بلاشبہ مفسد ہیں، نہ کہ مصلح۔