جنت کا مستحق کون
Al-Risala, April 2009, pp. 24–25
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت خوشیوں اور راحتوں کی ایک ناقابلِ قیاس دنیا ہے۔ جنت صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو ناقابلِ قیاس کردار کی قیمت دے کر، اس کا استحقاق ثابت کردیں۔ جنت، ابدی خدا کے پڑوس میں ابدی سیٹ حاصل کرنے کا نام ہے (القمر : 55)۔ اس قسم کی غیرمعمولی اقامت گاہ صرف انھیں خوش قسمت لوگوں کو مل سکتی ہے جو اُس کی اعلیٰ قیمت دینے کا حوصلہ کرسکیں ۔ جنت کی ناقابلِ قیاس سیٹ کو پانے کے لیے انسان کو ناقابلِ قیاس عمل کا ثبوت دینا ہے۔ کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ناقابلِ مشاہدہ(unobservable) کو قابلِ مشاہدہ (observable) بنا وہ زمان ومکان (time and space) کے اندر رہتے ہوئے، زمان ومکان کے باہر دیکھنے والی نگاہ پیدا کرے۔ وہ الفاظ کے تاریک جنگل میں معانی کی روشنی کو پاسکے ۔ وہ خواہشوں کے سمندر میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو اس سمندر میں ڈوبنے سے بچائے۔ وہ انانیت (egoism) کا پہاڑ ہوتے ہوئے، اپنے آپ کو بے انا (egoless) بناسکے۔ وہ بدخواہ لوگوں کی بھیڑ میں رہتے ہوئے، اپنے آپ کو لوگوں کا خیر خواہ (well wisher) بنائے ۔ وہ ایک کم زور انسان ہوتے ہوئے، ایک طاقت ور انسان کا رول ادا کرے ۔ وہ کامل آزادی کا مالک ہوتے ہوئے، اختیارانہ طورپر اپنے آپ کو سرینڈر وہ نہ بولے ہوئے الفاظ کو سنے، اور نہ دکھائی دینے والی حقیقت کا اعتراف کرے۔ سے بھری ہوئی دنیا میں سچ بولنے کا ثبوت دے۔ وہ بددیانتی (dishonesty) کے ماحول میں، دیانت داری (honesty) کے رویہ پر قائم رہے ۔
خدا کے فرشتے دن رات سرگرم ہیں کہ وہ اُن لوگوں کی فہرست تیار کریں جو آخرت میں خدا کی جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی اعلیٰ معرفت نے ان کو اس قابل بنایا کہ انھوں نے ہر دوسری چیز سے اپنی توجہ ہٹا کر صرف ایک خدا کو اپنا سپریم کنسردن(supreme concern) جن کا حال یہ تھا کہ ان کے شوقِ جنت نے ان کے لیے دنیا کی ہر پیش کش چیز کو بے کشش بنا دیا۔
خدا کی عظمت (glory of God) کے احساس نے جن کے اندر سے فخر (pride) اور بڑائی کے تمام جذبات کو مٹا دیا۔ خدا کی پکڑ کے اندیشے نے جن کا یہ حال کیا کہ لذتوں کے درمیان رہتے ہوئے، لذتوں سے محظوظ ہونا ان کے لیے ممکن نہ رہا۔ جن کا حال یہ ہوا کہ جو آوازیں دوسروں کے لیے قابلِ سماعت آوازیں تھیں، وہ ان کے لیے ناقابلِ سماعت آوازیں بن گئیں۔ جن کو دنیا کی ترقی اور دنیا کی محرومی، دونوں یکساں طور پر بے معنی نظر آنے لگیں۔ جن کا حال یہ تھا کہ اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے بجائے، ان کے لیے یہ کہنا زیادہ محبوب بن گیا کہ ــــ میں غلطی پر تھا: