اسلام کی پانچ بنیادیں
Al-Risala, January 2009, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بنی الإسلام علی خمس : شهادة أن لا إله إلا الله، وأنّ محمداً عبده ورسوله، وإقام الصلاة، وإيتاء الزكاة، والحجّ، وصوم رمضان“ (صحیح البخاری، مسلم، الترمذی، النسائی)۔
یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے— اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی اور محمد اللہ کے بندے اور اُس کے رسول ہیں، اور نماز قائم کرنا، اور زکوٰۃ ادا کرنا، اور حج کرنا، اور رمضان کے روزے رکھنا۔
اس حدیث رسول میں جن پانچ چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، وہ سب عقیدے اور عبادت سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان میں خلافت اور حکومت کا کوئی ذکر نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلافت اور حکومت کی حیثیت اسلام کی عمارت کے ستون کی نہیں ہے۔ قرآن کے لفظوں میں وہ ایک ”شیئ آخر“ (الصف : 13) ہے، یعنی ثانوی چیز۔ اس کے مطابق ، مذکورہ پانچ ارکان، اسلام کی تعمیر میں ستون کی حیثیت رکھتے ہیں اور حکومت کی حیثیت صرف ثانوی (secondary) ہے، یعنی وہ حاصل ہو جائے تب بھی ٹھیک ہے اور حاصل نہ ہو تب بھی ٹھیک ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سیاسی اقتدار ہمیشہ کسی ایک گروہ کے پاس نہیں رہتا، وہ بدلتا رہتا ہے، یعنی کبھی ایک گروہ کے پاس اور کبھی دوسرے گروہ کے پاس (وتلک الأيام نداولها بين الناس، آل عمران: 140)۔ اس قرآنی آیت کا تعلق، غلبہ اور اقتدار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلبہ اور اقتدار پر کسی ایک گروہ کی اجارہ داری نہیں ہوتی، وہ لوگوں کے درمیان بدلتا رہتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس دنیا میں جو چیزیں انسان کو ملتی ہیں، وہ بطور انعام نہیں ملتیں، بلکہ وہ پرچہ امتحان کے طور پر ملتی ہیں۔ یہی حیثیت غلبہ واقتدار کی بھی ہے۔ قرآن کے مطابق، حضرت سلیمان کو غلبہ واقتدار عطا ہوا تھا، مگر انھوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ ہم کو بطور انعام ملا ہے، بلکہ انھوں نے یہ کہا کہ وہ
ہم کو امتحان کے طور پر ملا ہے : لیبلونی اً أشکر أم أكفر ( النمل : 45 ) یعنی خدائے جو اقتدار مجھ کو عطا فرمایا ہے ، وہ اس لیے ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ اُس کو پا کر میں شکر و اعتراف کا اظہار کرتا ہوں یا اُس کی ناشکری کر کے سرکش اور متکبر بن جاتا ہوں ۔
قرآن کی سورہ نمبر 22 میں ارشاد ہوا ہے : ’’ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں تو وہ نماز کا اہتمام کریں گے اور زکوٰۃ ادا کریں گے اور معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے ۔ سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے ‘‘ ( الحج : 41 ) ۔
اس آیت میں تمکین کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ اس سے مراد سیاسی اقتدار ہے ۔
سیاسی اقتدار پانے کے بعد جن کاموں کو مسلمانوں کا کام بتایا گیا ہے ، وہ آیت کے الفاظ کے مطابق یہ ہیں — اقامت صلوٰۃ ، ایتاء زکوٰۃ ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ۔
یہ کل چار کام ہیں ۔ یہ چاروں کام وہ ہیں جن کا کوئی براہ راست تعلق ، سیاسی اقتدار سے نہیں ۔ ان چاروں کاموں کے بارے میں یہ مطلوب ہے کہ وہ ہر مسلم معاشرے میں اور ہمیشہ جاری رہیں ، پھر یہاں ان کاموں کو سیاسی اقتدار کے ساتھ کیوں بیان کیا گیا ۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار پانے کے بعد بھی مسلمانوں کو وہی کام جاری رکھنا ہے جو وہ سیاسی اقتدار کے بغیر کر رہے تھے ، یعنی سچے اہل ایمان کو اگر سیاسی اقتدار مل جائے تب بھی وہ گھمنڈ میں نہیں پڑیں گے ، وہ سرکشی نہیں کریں گے ، وہ اقتدار کو کسی غلط کام میں استعمال نہیں کریں گے ، بلکہ وہ اُنھیں دینی کاموں کو جاری رکھیں گے جو وہ اقتدار سے پہلے کر رہے تھے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں اقتدار کی حیثیت اُس کے اضافی حصہ (relative part) کی جہاں تک اصل اسلام کا تعلق ہے، وہ تقویٰ اور عبادت اور اخلاقیات پر قائم ہوتا ہے۔ سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ اسلام اپنی نوعیت کے لحاظ سے روحانی نظام (spiritual system) سے قریب تر ہے، نہ کہ سیاسی نظام (political system) سے۔