Al-Risala · April 2009

بل تو اپنا بل

Al-Risala, April 2009, pp. 41–44

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک قدیم ہندی مثل ہے کہ بل تو اپنا بل۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جو کام کرے، وہ خود اپنی طاقت کی بنیاد پر کرے۔ دوسروں کی طاقت کے بھروسے پر کام کرنا، ایک ایسا تجربہ ہے جو بار بار نا کام ہوا ہے۔ اب اس قسم کے تجربے کو دہرانا، کسی عقل مند آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو دیکھا ہے۔ وہ بزنس کرنا چاہتے تھے۔ ان کے پاس سرمایہ کم تھا۔ اپنے محدود سرمائے سے وہ صرف چھوٹا بزنس کر سکتے تھے۔ انھوں نے بڑے بزنس کے شوق میں بینک سے قرض لے لیا، یا کسی کو اپنا پارٹنر (partner) بنا لیا۔ چند سال کے بعد وہ پریشانی میں مبتلا ہو گئے۔ آخر کار اُن کا بزنس ناکامی کے ساتھ ختم ہو گیا۔

اس معاملے میں صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی محنت اور اپنے سرمائے پر بھروسہ کرے۔ اپنی محنت اور اپنے سرمائے سے اگر وہ صرف چھوٹا کاروبار کر سکتا ہے، تو اُس کو چاہیے کہ وہ چھوٹے پیمانے پر اپنا کام شروع کرے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتے ہوئے ترقی کے مقام تک پہنچے۔ یہی کام کا فطری طریقہ ہے۔ اس کے برعکس، دوسرا طریقہ چھلانگ (jump) کا طریقہ ہے، اور چھلانگ کا طریقہ اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔

چھوٹے چھوٹے چشموں سے مل کر دریا بنتا ہے۔ دھیرے دھیرے بڑھ کر ایک پودا درخت بنتا ذرہ ذرہ کے ملنے سے پہاڑ وجود میں آتے ہیں۔ یہی وہ فطری طریقہ (natural course) ہے جس سے اس دنیا میں کوئی بڑا واقعہ وجود میں آتا ہے۔ انسان کو بھی اسی فطری طریقے کی پیروی کرنا اس دنیا میں کسی اور طریقے کو اختیار کر کے کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں۔ یہی فرد کی کامیابی کا اصول ہے، اور یہی قوم کی کامیابی کا اصول بھی۔ اپنی ذاتی طاقت کے بعد جو چیز آدمی کے کام آتی ہے، وہ فطرت کا نظام ہے، نہ کہ کسی دوست یا پارٹنر کی مدد— اس دنیا میں آدمی کا واحد مددگار فطرت کا نظام ہے، نہ کہ کسی دوسرے انسان کا تعاون۔

سوال و جواب الرساله ،ستمبر 2008 میں آپ نے’’معرفتِ حدیث ،معرفتِ قرآن‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ اس کو حاصل کرنے کے لیے کثرتِ مطالعہ اور کثرتِ دعا کی ضرورت ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے، کثرتِ مطالعہ کے بجائے کثرتِ دعوت الی اللہ ،اور دعا ہے۔ کیوں کہ صحابہ کو کثرتِ مطالعہ حاصل نہیں تھا۔ دن کو دعوت اور رات کو دعا سے اُن کو اللہ نے معرفتِ حدیث و معرفت قرآن کا حصہ عطا فرمایا تھا۔ میں صرف اِس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لیے آپ کو یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔ میں آپ کا ہم فکر ہوں ،ہم خیال ہوں۔ الرسالہ کے علاوہ ،کوئی دوسرا مجلہ پابندی سے نہیں پڑھتا۔ (حکیم محمد صفدر شریف عمری ، تمل ناڈو)۔

دین کا ایک ظاہری علم ہے۔ یہ علم قرآن اور حدیث کے سادہ مطالعے سے حاصل ہو جاتا ہے۔ کے علم کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کا تعلق دین کی گہری معرفت سے ہے۔ یہ معرفت غور و فکر کے ذریعے حاصل اِس غور و فکر کی مختلف قسمیں ہیں۔ مثلاً محاسبۂ خویش ایک غور و فکر ہے۔ کائنات کا مشاہدہ ایک غور و فکر ہے۔ قرآن اور حدیث کا تحقیقی مطالعہ ایک غور و فکر ہے۔ دعوت الی اللہ کے دوران اپنی عقل کو متحرک رکھنا ایک غور و فکر ہے۔ کتابوں کا مطالعہ بھی غور و فکر کی ایک صورت ہے۔ غور و فکر کے اس عمل میں اللہ سے مدد چاہنے کا نام دعا ہے۔ دعا کا تعلق ہر دوسرے عمل سے ہے اور اسی طرح معرفت سے بھی۔ اصحابِ رسول بظاہر کتابوں کا مطالعہ نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ اُس زمانے میں آج کی طرح مطبوعہ کتابیں موجود نہیں تھیں۔ لیکن حقیقت مطالعہ اُن کی زندگی میں پوری طرح شامل تھی، اور وہ ہے تفکر، تدبر، تذکر اور توسم، وغیرہ۔ اصحابِ رسول کا ذہن مسلسل طور پر ان چیزوں میں مشغول رہتا تھا۔ مزید یہ کہ ان کے اندر سیکھنے کی طلب بے پناہ حد تک پائی جاتی تھی۔ وہ یہ صلاحیت رکھتے تھے کہ چیزوں کو غیر متعصبانہ ذہن کے ساتھ دیکھیں اور بے لاگ طور پر اس کے بارے میں رائے قائم کر سکیں۔

چیزیں مطالعے کا حاصل ہیں، اور اس معنی میں ہر صحابی پوری طرح ایک صاحب مطالعہ انسان تھا۔ اکثر لوگ اور علماء کہتے ہیں کہ علم نجوم سیکھنا گناہ ہے۔ یہ کس حد تک درست ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ اُس میں یہ ذکر نہیں ہے کہ وہ کون سا علم بہر حال علم ہے۔ وہ علم جو عوامی فلاح و بہبود کے لئے موثر اور فائدہ مند ثابت ہو۔ علم نجوم بھی ایک علم ہے، لہذا آپ سے گزارش ہے کہ آپ اِس سوال کا جواب ارسال فرما کر شکریہ کا (مولوی ایم ایس بابا تاج، کپواڑہ کشمیر)

علماء نے علوم کی دو قسمیں کی ہیں—علوم عالیہ، اور علوم آلیہ۔ علوم عالیہ سے مراد شریعت کا علم ہے، اور علوم آلیہ سے مراد وہ علوم ہیں جو معاون علم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ علم نجوم اپنی نوعیت کے اعتبار سے، علوم آلیہ میں شامل ہے۔ اصولی طور پر وہ ایک جائز علم ہے۔ لیکن علم نجوم کے دو دور ہیں۔ ایک قبل از سائنس، اور دوسرا بعد از سائنس۔ سائنس کے ظہور سے پہلے جو علم نجوم دنیا میں رائج تھا، وہ تمام تر توہمات (superstitions) پر مبنی تھا۔ یہ قدیم علم نجوم بلا شبہہ ایک غیر مطلوب علم تھا، عقلی اعتبار سے بھی اور اسلامی اعتبار سے بھی۔ آج اگر کوئی شخص قدیم علم نجوم میں مشغول ہو تو وہ صرف ایک لغو کام میں مشغول ہونے کے ہم معنی ہوگا۔ اور قر آن میں اہلِ ایمان کی یہ صفت بتائی گئی ہے کہ وہ لغو سے اعراض کرتے ہیں۔

موجودہ زمانے میں علم نجوم (astrology) سائنسی اعتبار سے ایک متروک علم بن چکا ہے۔ اب اس معاملے میں جس علم کا رواج ہے، وہ علم فلکیات (astronomy) ہے۔ جدید علم فلکیات ایک خالص سائنسی علم ہے، اور مسلمانوں کو بلاشبہہ اس علم میں درک حاصل کرنا چاہیے، کیوں کہ وہ پورے معنوں میں علوم آلیہ میں شامل ہے۔

علوم عالیہ یعنی شرعی علوم کی اہمیت یہ ہے کہ اُس کے ذریعے ہمیں خدا کی معرفت اور دین کا فہم حاصل

اس کے مقابلے میں، علومِ آلیہ کی اہمیت یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا میں زندگی کی تعمیر و تشکیل کے لیے مددگار علم کی حیثیت رکھتے ہیں، اور اہل ایمان کے لیے دونوں کا حصول ضروری ہے۔ قرآن کی سورہ الصافات کی آیت نمبر 8 میں شیطان کے مارنے کی بابت تذکرہ آیا ہے۔ شیطان کو مارنے سے کیا مراد ہے۔ تذکیر القرآن صفحہ 1223 پر اس کی تشریح درج ہے۔ مگر بار بار اس کا مطالعہ کرنے کے بعد بھی میں اس کی حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہا۔ (شاہ عمران حسن، نئی دہلی) قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ علوم کی دو قسمیں محکمات، اور متشابہات (آل عمران : 7) محکمات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات (data) قابلِ حصول ہوں اور اس بنا پر ان کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ممکن ہو۔ علم کی اس قسم کے بارے میں غور و فکر کرنا ایک مطلوب چیز ہے اور اس سے ذہنی ارتقا ہوتا ہے۔

متشابہات سے مراد وہ علم ہے جس میں ضروری معلومات قابل حصول نہ ہوں۔ ایسے علمی شعبے میں ہمارے لیے صرف یہ ممکن ہے کہ ہم علمِ قلیل (الإسراء : 85) پر قناعت کریں، اور مجمل علم سے زیادہ جاننے کی کوشش نہ کریں۔ کیوں کہ ایسا کرنا ہمیں کسی یقینی علم تک نہیں پہنچائے گا، بلکہ وہ ہمیں کنفیوژن میں مبتلا کر دے گا۔ سورہ الصافات کی مذکورہ آیت میں جس واقعے کا ذکر ہے، وہ اسی علمِ قلیل کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کو علمِ کثیر کے زمرے میں لاکر اس کی تفصیل جاننے کی کوشش کرنا صرف ایک غیر مطلوب فعل ہے۔ اس کے نتیجے میں آدمی کو کنفیوژن کے سوا اور کچھ ملنے والا نہیں۔ طرح کے معاملات میں آدمی کے لیے صرف ایک ہی ممکن راستہ ہے، وہ یہ کہ آدمی اُن کی کُنہ تک پہنچنے کے بجائے، اپنی محدودیت (limitations) کو جاننے کی کوشش کرے۔ اس طرح کے معاملات میں اپنی محدودیت کو جاننا ہی سب سے بڑا علم ہے۔

Printed page