بادشاہی شوق
Al-Risala, January 2009, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک بار میں پرانی دلی میں ایک صاحب کے یہاں گیا۔ ہم دونوں گھر کی چھت کے اوپر بیٹھے پڑوس کے مکان کی چھت پر ایک مسلمان لڑکا کبوتر اڑا رہا تھا اور طرح طرح کی آوازیں نکال رہا تھا۔ میں نے اُس لڑکے سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو۔ لڑکے نے جواب دیا—بادشاہی یہ جواب میری سمجھ میں نہیں آیا، تو صاحبِ مکان نے بتایا کہ وہ کہہ رہا ہے—بادشاہی شوق ہے، یعنی میں کبوتر اڑا رہا ہوں، اور کبوتر اڑانا، بادشاہی شوق ہے۔
میرے تجربے کے مطابق، موجودہ زمانے کے تقریباً تمام مسلمانوں کا مزاج یہی ہے۔ کے مسلمان، خواہ وہ کسی بھی خطے میں ہوں، وہ اپنے اندر بادشاہی مزاج لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ لوگ جو تاریخیں پڑھتے ہیں، اُن میں قدیم مسلم بادشاہوں کے کارنامے درج کیے جاتے ہیں۔ اُن کے لکھنے اور بولنے والے لوگ اُن کو بادشاہی دور کی کہانیاں سناتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا پورا ماحول بادشاہی روایات کے تحت بنا ہے۔ ہر ایک اسی انداز میں سوچتا ہے، خواہ وہ اپنی زبان سے اس قسم کے الفاظ بولے یا نہ بولے۔ اسلامی مزاج تواضع کا مزاج ہے۔ اس لحاظ سے، بادشاہی مزاج سرتا سر اسلامی مزاج کے خلاف ہے۔
اس قسم کے مزاج نے مسلمانوں کو موجودہ زمانے میں بے جوڑ (unfit) بنا دیا ہے۔ زمانہ جمہوریت کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان شہنشاہیت کے مزاج میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ امن کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان تشدد کے مزاج میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ ایڈجسٹمینٹ کا زمانہ ہے، لیکن مسلمان اس کے برعکس مزاج میں جی رہے ہیں۔ اس مزاج کا نتیجہ دو برائیوں کی صورت میں نکلا ہے—کچھ مسلمان اس مزاج کو لے کر دوسروں سے لڑ رہے ہیں، اور کچھ مسلمان اپنے اس قومی مزاج کے باوجود مفاد پرستانہ جذبے کے تحت بظاہر دوسروں سے موافقت کیے ہوئے ہیں۔ اور یہ دونوں ہی باتیں یکساں طور پر ہلاک خیز ہیں۔