اعظم گڑھ کا سفر
Al-Risala, May 2009, pp. 12–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پروگرام کے تحت ، اعظم گڑھ (یوپی) کا سفر ہوا۔ میرے سوا اس سفر میں ہماری ٹیم کے پانچ افراد اور شریک تھے— مولانا محمد ذکوان ندوی ، مسٹر رامش صدیقی، سعد یہ خان، نغمہ صدیقی ، ڈاکٹر فریدہ خانم۔ ہم لوگ 29 دسمبر 2008 کی شام کو دہلی سے اعظم گڑھ گئے، اور 2 جنوری 2009 کو دہلی واپس آئے۔ یہ سفر دہلی- اعظم گڑھ ایکسپریس کے ذریعے ہوا۔ دہلی سے اعظم گڑھ کی مسافت تقریباً آٹھ سو کلومیٹر ہے۔ اس سفر کا انتظام مسٹر شکیل احمد خاں (مقیم شارجہ) نے کیا تھا۔ اعظم گڑھ میرا وطن ہے۔ وہاں میرے خاندان کے کچھ لوگ رہتے ہیں۔ ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے یہ سفر ہوا۔ پچھلے تقریبا پچاس برس سے میرا طریقہ یہ تھا کہ میں شادیوں میں شرکت نہیں کیوں کہ میں شادیوں میں شرکت کو وقت کا ضیاع سمجھتا تھا۔ حال میں مجھے ایک حقیقت کی دریافت ہوئی جو لمبی مدت سے مجھ پر مخفی تھی ، وہ یہ کہ شادی کی تقریب دو چیزوں کا نام ہے—ایک، شادی اور دوسرے، اجتماع (gathering)۔ میری سمجھ میں یہ بات آئی کہ ان دونوں پہلوؤں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھنا چاہیے۔ شادی کی تقریب اور اس کی دھوم سے اب بھی مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔ ایسے موقع پر لوگوں کا جو اجتماع ہوتا ہے، وہ ایک داعی کے لیے مدعو کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی نظریے کے تحت ہم لوگ وہاں گئے۔ ہمارے ساتھ پانچ کارٹن میں اسلامی لٹریچر تھا۔ ہمارے ساتھیوں نے وہاں لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو ہمارے یہاں کی مطبوعہ اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ دہلی سے اعظم گڑھ کے لیے ہمارا سفر جس ٹرین کے ذریعے ہوا، اُس کا نام "کیفیات ایکسپریس" ٹرین کا یہ نام اعظم گڑھ کے ایک مسلم شاعر کیفی اعظمی (وفات: 2002) کے نام پر رکھا گیا ہے۔ مشہور فلم اسٹار شبانہ اعظمی کے والد تھے۔ اس ٹرین کے ذریعے دہلی اور اعظم گڑھ کے درمیان پہلی بار براہ راست سفر ممکن ہو گیا ہے۔
حال میں پاکستان کی ایک ٹیلی ویژن کمپنی (Geo TV) نے ٹیلی فون پر میرا ایک انٹرویو
اُن کا ایک سوال یہ تھا کہ انڈیا میں مسلمانوں کے ساتھ بہت زیادہ تعصب کیا جاتا ہے۔ کا ثبوت انھوں نے یہ دیا کہ شبانہ اعظمی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں نے بمبئی کے ہندو علاقے میں ایک رہائشی فلیٹ لینا چاہا تھا، لیکن اُس کے مالکان نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ ہم کسی مسلمان کو فلیٹ نہیں دے سکتے۔
میں نے انٹرویو سے کہا کہ یہ اشتعال انگیز حد تک بے معنی بات ہے۔ شبانہ اعظمی اور ان کی فیملی نہایت عزت کے ساتھ انڈیا میں رہتی ہے۔ ان کو کئی نیشنل ایوارڈ دیا گیا ہے۔ اُن کے والد کے نام پر باقاعدہ ایک ایکسپریس ٹرین جاری کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں اُن کا یہ کہنا بالکل لغو بات ہے۔ اگر بالفرض ایسا کوئی واقعہ بمبئی میں پیش آیا ہو تو وہ ایک استثناء (exception) ہوگا، اور ایک استثنائی واقعے کو جنرلائز (generalize) کرنا بلا شبہ ایک مجرمانہ فعل کی حیثیت رکھتا ہے۔ دہلی سے ہم لوگ شام کو تقریباً آٹھ بجے روانہ ہوئے اور اگلے دن بارہ بجے اعظم گڑھ پہنچے۔ اس سفر میں میرے ساتھیوں نے کئی لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر دیا۔ ان میں ٹرین کاٹکٹ کلیکٹر بھی شامل ہے۔ ہماری ٹیم کے لیے یہ سفر عملاً سفری کلاس (class on wheel) کے ہم معنی تھا۔ میں اپنے ساتھیوں سے مختلف قسم کے موضوعات پر بات کرتا رہا۔ ایک موضوع یہ تھا کہ کنڈیشننگ اور ڈی کنڈیشننگ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ ہر عورت اور مرد کے ساتھ یہ واقعہ پیش آتا ہے کہ ماحول کے اثر سے کوئی منفی یا غیر منفی یا غیر واقعی بات اس کے ذہن میں آدمی اگر اس پر سوچے یا دوسروں سے اس کا چرچا کرے تو وہ بات اس کے تھنکنگ پراس میں شامل ہو جائے گی اور پھر دھیرے دھیرے وہ اس کے ذہن کا ایک مستقل جز بن جائے گی۔ اسی کا نام آدمی کو چاہیے کہ وہ اس قسم کی بات کو فوراً ہی اپنے ذہن سے نکال دے۔ نکالنے کی اسی تدبیر کا نام ڈی کنڈیشننگ ہے۔
میں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ حال میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی جو کمپیوٹر سائنس کے ایکسپرٹ ہیں۔ اُن سے میں نے کئی اہم باتیں کہیں، مگر وہ ان کو اخذ (grasp) نہ کر سکے۔
(superiority complex) میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ ان کی دنیوی کامیابی نے شاید اُن کو احساسِ برتری میں مبتلا کر دیا ہے۔ اِسی بنا پر وہ میری بات کو ماننے پر تیار نہیں ہو رہے ہیں۔ میں نے اپنے اِس احساس کو دوسروں سے بیان نہیں کیا، بلکہ اْس پر سوچنے لگا۔ میرا مزاج یہ ہے کہ میں کسی کے بارے میں اس کی نیت کو لے کر رائے قائم نہیں کرتا، بلکہ خالص عقلی انداز میں اس کی توجیہہ کرتا ہوں۔ چناں چہ میں نے اس واقعے کو لے کر سوچنا شروع کر دیا۔ آخر کار مجھ پر ایک نئی حقیقت کھلی جو اس سے پہلے میرے اوپر پوری طرح واضح نہ تھی۔ وہ یہ کہ فطری تقسیم کے مطابق، ذہانت کی دو قسمیں ہیں۔ فکری ذہانت (intellectual intelligence) اور پروفیشنل ذہانت اُس وقت مذکورہ صاحب سے میں نے جو بات کہی، اْس کا تعلق فکری ذہانت سے تھا، مگر وہ اپنی ذہنی ساخت کے اعتبار سے پروفیشنل ذہانت والے آدمی تھے۔ ٹکنکل پوائنٹ کو فوراً سمجھ لیتا ہے، لیکن فکری بات کو سمجھنا اس کے لیے مشکل ہوتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی گفتگو میں اِس فرق کو ملحوظ رکھے۔ غالباً اِس بات کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَلِّم الناس علی قدر عقولهم۔ یعنی لوگوں سے ان کے فہم کے مطابق بات کرو۔ مذکورہ واقعے کے مطابق، کنڈیشننگ کا سبب اکثر حالات میں یہ ہوتا ہے کہ آدمی کسی واقعے کو غلط زاویہ نگاہ (wrong angle) سے دیکھتا ہے اور اس کے مطابق، اپنی ایک رائے قائم کر لیتا ہے جو واقعے کے مطابق نہیں ہوتی۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ چیزوں کو ہمیشہ صحیح زاویہ نگاہ (right angle) سے دیکھنے کی کوشش کرے ۔ اور اگر کوئی غلط رائے اس کے ذہن میں آجائے تو وہ فوراً اپنا محاسبہ (introspection) کرے اور اِس طرح اپنے ذہن کو درست کرے۔ یہ محاسبہ بے رحمانہ محاسبہ ہونا چاہیے، ورنہ ڈی کنڈیشننگ کا عمل درست طور پر انجام نہ پا سکے گا۔
آج (29 دسمبر 2008) کے اخبار میں ایک خبر یہ تھی کہ مشہور امریکی رائٹر سموئیل ہنٹنگٹن (Samuel Huntington) کا انتقال ہو گیا۔ انتقال کے وقت ان کی عمر 81 سال تھی۔ ان کو اپنی ایک کتاب کی بنا پر کافی شہرت ملی۔ اس کتاب کا نام یہ تھا:
The Clash of Civilization and the Remaking of World Order (1996)
سموئل ہنٹنگٹن کے یہ خیالات پہلے ایک آرٹیکل کی صورت میں فارن افیرس (Foreign Affairs) میگزین میں چھپے۔ اس کے بعد مزید اضافے کے ساتھ اُس کو کتابی صورت میں شائع کیا گیا۔ نے اپنی اس کتاب میں بتایا تھا کہ مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان ٹکراؤ (conflict) ناگزیر ہے جس طرح اس سے پہلے وہ صلیبی حملہ (crusade) کی شکل میں پیش آیا تھا۔ 11 ستمبر 2001 کو کچھ مسلم انتہا پسندوں نے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر حملہ کر کے اس کو تباہ کر دیا اور اس کے بعد برابر اس طرح کے واقعات پیش آتے رہے تو سمجھ لیا گیا کہ ہنٹنگٹن کے بیان کے مطابق، مغربی دنیا اور اسلامی دنیا کے درمیان دوسری کروسیڈ شروع ہو چکی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ٹکراؤ کسی نہ کسی صورت میں پیش آ چکا ہے، لیکن یہ ٹکراؤ اسلام اور مسیحیت کے درمیان نہیں ہے، بلکہ وہ مسلم قوم اور مسیحی قوم کے درمیان وہ ایک قومی ظاہر ہے نہ کہ معروف معنوں میں کوئی مذہبی ظاہر ہے۔
راستے میں شاہ گنج کا ریلوے اسٹیشن آیا۔ یہاں ٹرین رکی تو شاہ گنج سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہو گئیں۔ شاہ گنج میں پہلے سے بڑی لائن (broad guage) تھی ۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں اسٹیشن کے قریب ریلوے لائن کے کنارے کھڑا تھا۔ اس دوران ایک ایکسپریس ٹرین وہاں سے گزری تو اچانک میری زبان سے نکلا— خدا کی قدرت کا دوڑتا ہوا نشان ۔ ٹرین جب میدانی علاقوں سے گزرتی ہے تو ریلوے لائن کے دونوں طرف پھیلے ہوئے قدرتی مناظر میرے لیے ایمان میں اضافے کا سبب بن جاتے ہیں۔
آزادی سے پہلے (1945) اسی شاہ گنج سے میں نے ایک انوکھا سفر کیا تھا۔ میں اپنے گاؤں سے پیدل روانہ ہو کر شاہ گنج پہنچا۔ یہ میرے تلاش حق کا زمانہ تھا۔ میں چل رہا تھا اور میری زبان پر یہ شعر جاری تھا : چلا ہے شوق بے خبر، جنوں میں جانے کدھر نہ کوئی منزلِ سفر، نہ قیدِ کچھ مقام کی شاہ گنج اسٹیشن سے میں ایک ایکسپریس ٹرین سے سوار ہوا جو اس وقت سیدھی لاہور (پاکستان) یہ ایک عجیب سفر تھا۔ میرے پاس غالباً واپسی کا کرایہ بھی نہ تھا۔ میرے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا سا بیگ تھا۔ لیکن میں ایک نامعلوم شوق کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ میرا یہ سفر جزئی طور پر سوامی وویکانند
(وفات: 1902) کے سفر سے مشابہ تھا۔ وہ 1893 میں بحری جہاز کے ذریعے کلکتہ سے امریکا (شکاگو) کے لیے روانہ ہوئے۔ اِس سفر میں اُن کے ایک دوست نے ایک طرف کے کرایے کا انتظام کر دیا تھا اور سوامی وویکانند کے پاس واپسی کے کرایے کے لیے پیسے نہ تھے۔ امریکا کے ایک شخص کے تعاون سے سوامی وویکانند اپنے وطن (کلکتہ) واپس آئے۔ اِسی طرح میں لاہور کی ایک ٹیلرنگ شاپ (B. Lilaram & Sons) کے تعاون سے اعظم گڑھ واپس آیا۔ اِس سفر کی بعض باتیں راقم الحروف پاک ڈائری‘‘ میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
30 دسمبر 2008 کو ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر پہنچے۔ پہلے یہاں میٹر گیج (metre gauge) ہوا کرتی تھی۔ اب یہاں شاہ گنج اور مئو کے درمیان براڈ گیج (broad gauge) بن گئی ہے۔ یہاں سے کئی گاڑیاں دور کی مسافت (distant destination) تک کے لیے جاتی ہیں۔ مثلاً اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے اور اعظم گڑھ سے بمئی کے لیے، وغیرہ۔ لیکن جہاں تک اسٹیشن کی عمارت کا تعلق ہے، اُس میں کوئی بڑی توسیع نہیں ہوئی ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ محکمہ ریلوے کی طرف سے یہاں ایک بڑا ریلوے اسٹیشن بننے والا ہے۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پر ڈاکٹر احمد صفی انصاری اور مسٹر ظہیر الاسلام ظلی موجود تھے۔ اس علاقے کے ذمے دار افراد ہیں اور مفید سماجی کام انجام دے رہے ہیں۔ اس علاقے میں دونوں حضرات کو معزز حیثیت حاصل ہے۔ ان لوگوں کے ذریعے اس علاقے میں کئی پروگرام ہوئے۔ اس بار میں تقریباً چالیس سال کے بعد اس علاقے میں آیا تھا۔ اس سے پہلے مجھے بار بار اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن سے گزرنے کا اتفاق ہوا ہے۔ بہت پہلے کی بات ہے۔ ایک بار میں اعظم گڑھ کے ریلوے اسٹیشن پر ٹکٹ کی ونڈو پر کھڑا ہوا تھا۔ ایک دیہاتی آدمی ٹکٹ لینے کے لیے آیا۔ اُس کے پاس نوٹ نہیں تھے۔ وہ اپنی مٹھی میں بہت سی ریزگاری لیے ہوئے تھا۔ اُس نے ونڈو پر جب ٹکٹ لینے کے لیے ریزگاری پیش کی تو ونڈو کے پیچھے بیٹھا ہوا کلرک غصہ ہو گیا۔ اُس نے یہ کہہ کر اُس کو ٹکٹ دینے سے انکار کر دیا کہ اتنی ساری ریزگاری میں کب تک گنوں گا۔ میں نے اپنی جیب سے نوٹ نکالے اور
اس دیہاتی آدمی سے کہا کہ یہ نوٹ تم لے لو اور اپنی ریزگاری مجھے دے دو۔ آدمی کچھ بولا نہیں، وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ کر باہر چلا گیا۔ اُس دیہاتی آدمی سے دوبارہ میری گفتگو نہ ہوسکی۔ سوچا کہ اُس آدمی نے ایسا کیوں کیا۔ میری سمجھ میں آیا کہ اس کا سبب بے اعتمادی (mistrust) ہے۔ آج کل کے حالات کی بنا پر ایسا ہوا ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے کے اوپر اعتماد باقی نہیں رہا۔ دیہاتی آدمی نے غالباً یہ سمجھا کہ میں اُس کو جعلی نوٹ دے کر اس کی ریزگاری حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ بے اعتمادی بلاشبہ موجودہ زمانے میں ہمارے سماج کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
اپنے تجربے کے مطابق، یہاں میں ایک بات لکھنا چاہوں گا۔ جب کوئی ادارہ یا کوئی تنظیم کسی شخصیت کو اپنے یہاں بلاتی ہے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ وہاں سے شکایت لے کر واپس آتے ہیں۔ عرصے تک اس پر غور کرتا رہا کہ ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اپنے موجودہ سفر میں میں نے اس کی حقیقت کو سمجھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ اگرچہ شکایت دوسروں کی کرتے ہیں، لیکن غلطی خود ان کی اپنی ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ جب بھی کوئی آپ کو اپنے علاقے میں آنے کی دعوت دیتا ہے، جیسا کہ میرے ساتھ اس سفر میں ہوا، تو فطری اصول کے اعتبار سے وہ صرف دو چیزیں آپ کو فراہم کرتا ہے۔ ایک، انفراسٹرکچر (infrastructure)، یعنی سفری انتظام، قیام کی سہولتیں اور ضروری اسباب کی فراہمی، وغیرہ، اس کو انفراسٹرکچر کہا جاسکتا ہے۔ دوسری چیز جو مدعو شخصیت کو اُس سے ملتی ہے، وہ اُس کی علاقائی ساکھ (goodwill) ہے، جو مدعو شخصیت کے لیے بے حد کار آمد ہوتی ہے۔ طور پر یہی دو چیزیں ہیں جو دعوت دینے والا ادارہ آپ کو فراہم کرتا ہے۔ اس کے بعد دوسری چیز وہ ہے جس کا تعلق آپ کے اپنے پروگرام سے ہے۔ یہ آپ کا اور آپ کے ساتھیوں کا کام ہے کہ وہ آپ کے پروگرام کی منصوبہ بندی کریں۔ اس معاملے میں آپ کی منصوبہ بندی جتنی زیادہ اچھی ہوگی، اتنا ہی زیادہ آپ کا پروگرام بھی کامیاب ہوگا۔ اگر آپ کا پروگرام زیادہ کامیاب نہ ہو تو اس کا سبب خود اپنی منصوبہ بندی میں ڈھونڈیئے۔ دوسروں کو ہرگز اُس کا ذمے دار نہ ٹھہرائیے ۔ کی صورت میں آپ غیر ضروری طور پر شکایت کی نفسیات میں مبتلا ہو جائیں گے۔ اور اس قسم کی
شکایت بلاشبہ عقل کے خلاف بھی ہے اور انسانی شرافت کے خلاف بھی۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک گاؤں ہے۔ اس کا نام پلھنی ہے۔ آزادی سے پہلے کے زمانے میں ایک کوی (شاعر) نے ایک طنزیہ کہانی کو نظم کیا تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ اعظم گڑھ کے ایک دیہاتی آدمی نے اپنے بیٹے کو انگریزی تعلیم دلوائی۔ اس کے بعد اُس کے بیٹے کو بمبئی میں ایک اعلیٰ عہدہ مل گیا۔ باپ کو اس خبر سے خوشی ہوئی۔ وہ ٹرین کے ذریعے سفر کر کے بمبئی گیا۔ وہاں جب وہ دفتر میں پہنچا اور اپنے بیٹے سے ملا تو بیٹا اُس وقت سوٹ بوٹ میں ملبوس تھا، اُس نے اپنے دیہاتی باپ سے اس طرح اعراض کیا جیسے کہ وہ اس کو پہچانتا نہیں۔ باپ کو اس واقعے سے بہت تکلیف ہوئی۔ ہو کر بمبئی کے ریلوے اسٹیشن پر پہنچا، لیکن اُس کے پاس واپسی کا کرایہ نہ تھا۔ اتفاق سے ایک انگریز اُس کو مل گیا۔ انگریز کو اس کی حالت پر ترس آیا۔ اُس نے کہا کہ چلو میں تم کو ٹکٹ دلوا دیتا ہوں۔ دیہاتی آدمی سے جگہ کا نام پوچھا۔ اُس نے کہا کہ پلھنی۔ وہ انگریز ونڈو پر گیا اور کلرک سے کہا: اِک ٹکٹ پلھنی کا ہونا مانگتا جس سے بڑھا گھر کو جانا مانگتا یہ بات سن کر کلرک نے کہا کہ پلھنی نام کا تو کوئی ریلوے اسٹیشن موجود نہیں، پھر بڑی مشکل سے معلوم ہوا کہ پلھنی سے مراد اعظم گڑھ ہے۔ انگریز نے اپنی طرف سے پیسہ ادا کر کے اعظم گڑھ کا ایک ٹکٹ لیا اور دیہاتی آدمی کو واپس اعظم گڑھ بھیج دیا۔
اعظم گڑھ کی وجہ تسمیہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہاں ایک مسلم نواب تھے، اُن کا نام اعظم شاہ تھا۔ اُن کے نام پر تقریباً 1665ء میں شہر اعظم گڑھ بسایا گیا۔ نواب اعظم شاہ کی فیملی کے لوگ اب بھی شہر کے ایک حصے میں رہتے ہیں جس کا نام سدھاری ہے۔ میرے استاد مولانانجم الدین اصلاحی (وفات: 1994) اپنے آخری زمانے میں اِسی سدھاری کی مسجد میں رہتے تھے۔ مولانا نجم الدین اصلاحی کی دو کتا بیں مشہور ہیں— یادگارِ سلف، مکتوباتِ شیخ الاسلام۔
اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن سے ہم لوگ دو بڑی کاروں کے ذریعے قافلے کی صورت میں شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں کئی ایسے مقامات آئے جن سے زمانہ ماضی کی کچھ یادیں تازہ ہوگئیں۔
مثلاً راستے میں سڑک کے کنارے ایک قدیم اسکول ہے جو مشن اسکول (قائم شدہ 1884ء) کے نام سے مشہور ہے۔ مجھے یاد ہے کہ بچپن کے زمانے میں ایک بار میں اس اسکول کے سامنے سے گزرا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں طلبا کی بھیڑ ہے۔ وہ ایک ونڈو کے سامنے لائن لگائے ہوئے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں طلبا کو انعامات تقسیم کیے جا رہے ہیں۔ خوش فہمی کے تحت میں بھی اس لائن میں کھڑا ہوگیا۔ ہوئے جب میں ونڈو کے پاس پہنچا تو اندر بیٹھے ہوئے آدمی نے کہا— آئیڈنٹی کارڈ دکھاؤ۔ کہا کہ میرے پاس تو کوئی آئیڈنٹی کارڈ نہیں۔ اس کے بعد اُس نے مجھ کو ونڈو سے ہٹا دیا۔ اُس وقت تو میں نے سادگی کے تحت ایسا کیا تھا۔ بعد کو میں نے سوچا کہ ایسا ہی معاملہ آخرت میں پیش آنے والا ہے۔ وہاں بھی لوگوں کو خدا کے انعامات تقسیم کیے جائیں گے۔ بھیڑ کا ہر شخص چاہے گا کہ اس کو یہ خدائی انعام حاصل ہو جائے، اُس وقت ایسا ہوگا کہ کچھ لوگ جن کے پاس استحقاقی کارڈ ہوگا، اُن کو انعام تقسیم کرنے والے فرشتے مبارک باد دیتے ہوئے انعام عطا کریں گے اور بہت سے لوگ وہ ہوں گے جن کے ساتھ استحقاقی کارڈ موجود نہ ہوگا اور وہ اُس دن خدائی انعام کو پانے سے محروم رہ جائیں گے۔ یہ صرف خدا کو معلوم ہے کہ آخرت کے دن کون مستحق قرار پائے گا، اور کون ابدی طور پر استحقاق سے محروم ہو کر قابلِ رَد قرار دے دیا جائے گا۔
آگے بڑھے تو وہ مقام آیا جس کو لال ڈگی کہا جاتا ہے۔ یہاں شہر اور ٹونس (Tawans) ندی کے درمیان ایک لمبا اور اونچا بند ہے جو انگریزی حکومت کے زمانے میں بنایا گیا تھا۔ اس مقام سے میری ایک گہری یادداشت وابستہ ہے۔ اس یاد کو میں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح لکھا تھا: ’’ہم اس وقت ایک ہول ناک طوفان کے سرے پر کھڑے ہیں جس نے چند ہفتوں کے اندر اعظم گڑھ کی تقریباً پانچ سو بستیوں کو ویران کر دیا ہے۔ شہر کا یہ حال تھا کہ دریا کے پانی نے اس کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا۔ جس کے درمیان پورا شہر بالکل ایک جزیرہ بن گیا تھا۔ بند کے آس پاس رہنے والے لوگ اپنے گھروں کو اس طرح خالی کر رہے تھے کہ اُن کے گھروں کی گرتی ہوئی دیواریں اُن کو رخصت کر رہی تھی۔ اس سیلاب نے پچھلے سو برس کے ریکارڈ توڑ دیے—
اعظم گڑھ شہر کے گرد ایک بہت بڑا بند ہے جو برٹش دور میں 1871 کے تاریخی سیلاب کے بعد بنایا اس بند سے اُس وقت شہر کی قسمت بندھی ہوئی تھی۔ اس بند کے دوسری طرف شہر کی عام سطح سے کئی گز اونچا پانی لگا ہوا تھا۔ ہر گھر میں اِسی کا چرچا تھا اور ہر شخص کی زبان پر اسی کا تذکرہ تھا، یہاں تک کہ 26 اور 27 جولائی 1955 کی درمیانی رات کو ضلع کلکٹر کی طرف سے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے یہ اعلان ہوا ”لال ڈگی کا بند ابھی ٹوٹنا چاہتا ہے۔ آپ لوگ اپنی جانوں کو بچانے کے لیے اونچی جگہوں پر چلے “ اُس وقت رات کے ایک بجے تھے۔ سارا شہر جاگ اٹھا اور عجیب سنسنی پھیل گئی۔ لوگ اپنے کچے اور پکے گھروں سے نکل کر بند کی طرف ڈھوے۔ سیکڑوں آدمیوں نے پھاوڑا اور بوریا لے کر اُس جگہ مٹی ڈالنی شروع کردی، جہاں سے بند پھٹ گیا تھا۔ ایسے ایسے لوگ جنھوں نے شاید زمین پر کبھی ننگے پاؤں قدم بھی نہ رکھا ہوگا، وہ اپنے سروں پر مٹی کا ٹوکرا لے کر دوڑ رہے تھے۔ درجنوں پیٹرومیکس کی روشنی میں ساری رات کام ہوا اور دوسرے دن دوپہر تک ہوتا رہا۔ بالآخر انجینئر نے کہہ دیا کہ اب بند قابو سے باہر آخرکار بارہ بجے دن کے بعد بند ٹوٹ گیا اور پانی سڑکوں پر بہنے لگا۔ سارے شہر میں کہرام مچ گیا۔ دکانیں بند ہوگئیں۔ لوگ اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف بھاگ رہے تھے اور پانی ان کے پیچھے اس طرح دوڑ رہا تھا کہ گویا وہ اُن کا پیچھا کر رہا ہے۔ زندگی کے مسائل سمٹ کر بس سیلاب کے گرد جمع ہوگئے، اور چند دنوں کے لیے شہر میں قیامت کا منظر دکھائی دینے لگا۔ “ (قرآن کا مطلوب انسان، صفحہ 61) آگے بڑھتے ہوئے ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے کیمپس میں داخل ہوئے۔ یہاں کالج کے گیسٹ ہاؤس میں میرے لیے اور میرے ساتھیوں کے لیے قیام کا انتظام کیا گیا تھا۔ یہ گیسٹ ہاؤس جدید طرز پر بنایا گیا اِس میں ہر قسم کی سہولتیں موجود ہیں۔ ہمارے میزبان نے بتایا کہ اس گیسٹ ہاؤس کے کمروں کو رزرو کرنے کے لیے ہم اِس کالج کے پرنسپل ڈاکٹر افتخار احمد کے پاس گئے۔ اُن کو جب میرا نام بتایا گیا تو انھوں نے کہا کہ اُن سے اور ان کی ٹیم سے کوئی کرایہ نہیں لیا جائے گا۔ جب تک وہ یہاں ہیں، وہ ہمارے مہمان میزبان نے بتایا کہ گیسٹ ہاؤس کے ان کمروں کا یومیہ کرایہ پندرہ ہزار روپے ہے۔ اِس تعلیمی ادارے کو مولاناشبلی نعمانی (وفات: 1914) نے 1883 میں قائم کیا تھا۔
مولانا شبلی نعمانی نے اپنی خاندانی زمین اس کو لیے وقف کی تھی اور اس کے لیے اپنے رشتے داروں کے بھی راضی کیا تھا۔ پہلے یہ شبلی نیشنل اسکول کے طور پر قائم ہوا تھا۔ اب ترقی کر کے وہ ایک بڑے ڈگری کالج کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت اُس کے تین بڑے شعبے ہیں— پرائمری اسکول، ہائی اسکول، شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں مولانا نظام الدین اصلاحی اور جامعۃ الفلاح (بلریا گنج) کے کئی اساتذہ ملاقات کے لیے آگئے ۔ اُن سے دیر تک گفتگو ہوئی۔ اسی گیسٹ ہاؤس میں ڈاکٹر خورشید احمد سے بھی تفصیلی ملاقات ہوئی۔
30 دسمبر 2008 کو دوپہر کے کھانے کا انتظام سیتا پور آنکھ اسپتال (ہرّا کی چنگی) کے سامنے ایک مقام پر کیا گیا تھا۔ اس موقع پر بہت سے لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں ۔ ہمارے ساتھیوں نے یہاں ایک بڑے میز پر اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر رکھ دیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ سارا لٹریچر ختم ہو گیا۔ اس موقع پر کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ غیر مسلم حضرات کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا گیا۔ 30 دسمبر 2008 کو شام کے کھانے کا انتظام ڈاکٹر خورشید احمد کے مکان (9۔ بدرقہ) پر تھا۔ یہ مکان میرے بڑے بھائی عبد العزیز خاں (وفات: 1988) نے بنوایا تھا۔ ایک عرصے تک میرا قیام اسی مکان میں رہا ہے۔ اس مکان سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ ایک قابلِ ذکر واقعہ یہاں نقل کیا جاتا ہے— میرے بھائی صاحب نے جب یہ مکان خریدا تو وہاں پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکے دار کا دونوں کے درمیان ایک خالی جگہ تھی۔ میرے بھائی نے یہ گھر ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹر گوڑ سے خریدا تھا۔ اُس وقت یہ گھر ناتمام تھا۔ بعد کو میرے بھائی نے موجودہ حالت میں اس کی تعمیر مکمل اُس گھر سے متصل ایک خالی زمین تھی۔ اس کا رقبہ 27x50 فٹ تھا۔ میرے بھائی کا خیال تھا کہ یہ زمین اُن کی اپنی زمین ہے اور وہ گھر کے ساتھ شامل ہے۔ چناں چہ انھوں نے اس زمین کی گھیرابندی کر کے اُس کو اپنے گھر میں شامل کر لیا اور اس میں کچھ پودے لگا دیے ۔ میرے بھائی کے پڑوس میں ایک ہندو ٹھیکے دار کا مکان تھا۔ انھوں نے اس پر اعتراض کیا۔
انھوں نے کہا کہ یہ زمین میری ہے۔ آپ کو اس کی گھیرا بندی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اس طرح اس زمین پر دونوں کے درمیان ایک نزاع قائم ہوگئی۔
یہ جن سنگھ کا زمانہ تھا۔ ہندو ٹھیکے دار جن سنگھ کے مقامی لیڈروں کے پاس گئے اور اُن سے شکایت کی کہ میرے پڑوس میں ایک مسلمان ہے، اُس نے میری زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ سن کر جن سنگھ کے لوگ بھڑک اٹھے۔ وہ اپنے حامی نوجوانوں کی ایک بھیڑ لے کر ہمارے بھائی کے گھر کے سامنے پہنچ گئے اور سڑک پر کھڑے ہو کر اشتعال انگیز نعرے لگانے لگے۔
اُس وقت ہمارے بھائی کے پاس لائسنس یافتہ دو بندوقیں تھیں، نیز اُن کے آفس میں کام کرنے والے ایک درجن سے زیادہ لوگ اُس وقت وہاں موجود تھے۔ ہمارے بھائی نے نہ بندوق اٹھائی اور نہ اپنے آدمیوں کو ساتھ لیا۔ وہ تنہا باہر نکل کر سڑک پر پہنچے۔ یہاں بھی انھوں نے بھیڑ سے خطاب نہیں کیا، بلکہ پہلا سوال یہ کیا کہ آپ کا لیڈر کون ہے۔ اس کے بعد ایک صاحب آگے اُن کا نام مسٹر سونڈ تھا۔ وہ مجمع کی قیادت کر رہے تھے۔ ہمارے بھائی نے اُن سے سڑک پر کوئی بات نہیں کی۔ انھوں نے مجمع سے کہا کہ آپ لوگ یہاں ٹھہریئے۔ اس کے بعد وہ مسٹر سونڈ کو اپنے ساتھ لے کر اندر دفتر میں آگئے۔ دفتر میں دونوں کرسی پر بیٹھے۔ اس کے بعد بھائی صاحب نے اُن سے بات انھوں نے پوچھا کہ آپ لوگ کیوں یہاں آئے۔ مذکورہ لیڈر اُس وقت غصے میں تھے۔ نے کہا کہ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ آپ نے ہمارے ایک بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس لیے ہم لوگ یہاں آئے ہیں۔ میرے بھائی نے ٹھنڈے انداز میں کہا کہ دیکھیے، زمین پیپر پر ہوتی ہے اور ہمیشہ پیپر ہی سے زمین کا فیصلہ ہوتا ہے۔ آپ ایسا کیجیے کہ زمین سے متعلق میرے پیپر مجھ سے لے لیجیے، اور ٹھیکے دار صاحب کے پاس جو پیپر ہیں، وہ اُن سے لے لیجیے۔ اُس کے بعد آپ اطمینان سے گھر چلے جائیے، پھر آپ ہم دونوں کے پیپر دیکھئے۔ پیپر دیکھنے کے بعد آپ جو فیصلہ کر دیں، وہ مجھ کو منظور ہوگا۔ یہ بات سن کر مسٹر سونڈ کا غصہ ختم ہو گیا۔ وہ اطمینان کے ساتھ باہر آئے۔ انھوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تم لوگ واپس جاؤ۔ خان صاحب نے خود ہم کو جج بنا دیا ہے۔ ہم جو فیصلہ کریں
گے، وہ اُس کو مان لیں گے۔ اِس کے بعد مسٹر سؤنڈ دونوں کا غذات کو چند دن دیکھتے رہے۔ انھوں نے کہا کہ ہندو ٹھیکے دار کی مانگ غلط ہے۔ پیپر کے مطابق، یہ زمین پوری کی پوری خاں صاحب چناں چہ انھوں نے مکمل طور پر میرے بھائی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ یہ زمین آج بھی 9- بدرقہ روڈ کا ایک حصہ ہے۔ اِس سفر کے دوران میں نے اس زمین کو دوبارہ دیکھا۔ محلہ بدرقہ کا مکان ہمارے بھائی نے خرید کر حاصل کیا تھا۔ اس سے پہلے وہ اسی علاقے کے ایک اور مکان میں رہتے تھے۔ یہ مکان کرایے پر تھا اور اس کا نام ’’باقی منزل‘‘ تھا۔ باقی منزل کے ایک کمرے میں میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اعظم گڑھ میں میری بیوی کی ایک سہیلی تھیں، اُن کا نام رضیہ تھا۔ رضیہ کے شوہر اور باپ دونوں وکیل تھے۔ معاشی اعتبار سے بظاہر اُن کا تعلق ایک آسودہ فیملی سے تھا۔
ایک دن میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ واپس آ کر جب میں باقی منزل میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں میری بیوی سابعہ خاتون (وفات 2006) بیٹھی ہوئی تھیں۔ داخل ہوتے ہی انھوں نے جو پہلی بات کہی، وہ یہ تھی کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تمھارے شوہر کوئی معاشی کام نہیں کرتے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی کمائی پر رہتے ہیں۔ ان کی زندگی تو اس طرح گزر جائے گی، لیکن اُن کے بعد تمھارا اور تمھارے بچوں کا کیا حال ہوگا۔ اُس وقت میری بیوی کمرے میں ایک چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں وہاں ان کے پاس میں نے کھڑے کھڑے جواب دیا۔ مجھے وہ الفاظ اب تک یاد ہیں جو میں نے اُس وقت کہا تھا۔ میں نے کہا کہ— رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔ یہ الفاظ جو اچانک میری زبان سے نکلے تھے، غالباً الہامی الفاظ تھے۔ میری بعد کی پوری زندگی ان الفاظ کی تصدیق بن گئی۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح میری زندگی پر صادق آتے ہیں: وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (الطلاق: 3) اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں اعظم گڑھ کی سڑکوں پر میں بار بار چلتا رہا ہوں۔ ان سڑکوں سے میری بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ مثلاً ایک واقعہ وہ ہے جو 15 اگست 1947 کی رات کو پیش آیا۔
جیسا کہ معلوم ہے، 15 اگست 1947 کی رات ہندوستان کو برطانیہ سے سیاسی آزادی ملی۔ اس موضوع پر چھپنے والی ایک کتاب کا نام یہ ہے۔ آدھی رات کی آزادی: