Al-Risala · May 2009

Freedom At Midnight

Al-Risala, May 2009, pp. 14–22

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ تجربہ نہایت وقتی تھا۔ الجمعیۃ ویکلی میں اس تجربے کا ذکر کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا کہ 15 اگست 1947 کی رات کو خوشیوں کے جو چراغ جلائے گئے تھے، وہ سب اگلی صبح کو بجھ چکے یہ چراغ دوبارہ نہیں جلائے گئے۔ مولانا اقبال احمد خان سہیل (وفات: 1955) نے آزادی کے اوپر اس سے پہلے بہت سے اشعار کہے تھے۔ لیکن آزادی کے بعد اُنھیں سخت مایوسی ہوئی۔ چناں چہ انھوں نے بعد کو حسب ذیل شعر لکھا:

شبِ غم کاٹ دی تھی، جس کے جاں پرور تصور میں چھپی ہے شب کے پردے میں، وہ صبحِ زرنگاراب تک میری نو جوانی کے زمانے میں اعظم گڑھ کے شبلی نیشنل کالج میں ایک صاحب اُس کے شعبہ انگریزی میں استاد تھے۔ تعلیم کے اعتبار سے اُن کا مضمون انگلش لٹریچر تھا، لیکن خیالات کے اعتبار سے وہ کمیونسٹ تھے۔ دن کے وقت وہ کالج میں پڑھاتے تھے اور شام کو اعظم گڑھ کے چوک میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر کمیونسٹ اخبار بیچتے تھے۔ گویا کہ دن کے وقت وہ ایک پروفیسر تھے اور شام کے وقت وہ ایک ہاکر۔ اُس وقت وہ لوگوں سے کہتے تھے کہ۔ دیکھو، میں کالج کا پروفیسر ہوں اور یہاں سڑک کے اوپر کھڑے ہو کر کمیونسٹ پارٹی کا اخبار بیچ رہا ہوں۔ ایسی پارٹی کی کامیابی کو کون روک سکتا مجھے یقین ہے کہ کمیون ازم کا نظام ساری دنیا میں قائم ہو کر رہے گا۔ آج میں سوچتا ہوں تو کالج کے مذکورہ استاذ کی بات صرف ایک بے بنیاد خوش فہمی معلوم ہوتی کمیونسٹ نظام 1917 میں روس میں قائم ہوا۔ یہ ایک کُلّیت پسند نظام تھا۔ اُس زمانے میں پریس اور میڈیا کے ذریعے مسلسل پروپیگنڈہ کیا جاتا تھا کہ کمیونسٹ روس میں سرخ جنت بسی ہوئی ہے۔ 1991 میں جب سوویت روس ٹوٹ کر بکھر گیا اور اس کے گرد آہنی دیواریں باقی نہ رہیں، تو ساری دنیا

نے دیکھ لیا کہ سرخ جنت کے اندر صرف سرخ جہنم بسی ہوئی تھی۔

ی واقعہ نام نہاد اسلام پسندوں کے ساتھ پیش آیا ہے۔ اسلام پسند لوگ بھی اپنے خودساختہ نظریے کے تحت ساری دنیا میں اسلام کا سیاسی نظام بنانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، لیکن یہ خواب ابھی تک ٹوٹانہیں ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام کا سیاسی نظریہ ابھی تک صرف نظریاتی دور میں ہے۔ ابھی تک کسی عملی نظام کی صورت اختیار نہیں کی۔ اسی لیے بہت سے نوجوان ابھی تک اس کے نظریاتی سحر میں جی رہے ہیں۔ عملی نظام کی صورت اختیار کرنا اور عملی نظام کی ناکامی کی صورت میں اس کا منفی انجام دیکھ لینے کا واقعہ اُن کے اوپر ابھی تک نہیں گزرا۔

1947 کے بعد کئی سال تک میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا۔ اُس وقت میں اپنے بڑے بھائی عبدالعزیز خاں کے ساتھ باقی منزل (محلہ بدرقہ) میں رہتا تھا۔ بچپن سے میرے مزاج میں شدت پسندی تھی ۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر اکثر ایسا ہوتا تھا کہ مجھے کسی سے اختلاف ہوتا تو میں نہایت شدید انداز میں اُس پر تنقید کرتا تھا۔ مگر اسی کے ساتھ میرے اندر خود احتسابی کا مزاج بھی بہت زیادہ تھا۔ چناں چہ تنقید کے بہت جلد بعد مجھے احساس ہو جاتا تھا کہ میری بات اگر چہ درست تھی، لیکن میں نے اپنی رائے کو ظاہر کرنے کے لیے جو سخت انداز اختیار کیا، وہ بہ اعتبار انداز درست نہ تھا۔ میرا یہ احساس اتنا شدید ہوتا تھا کہ میں فوراً یہ کوشش کرتا تھا کہ میں اُس آدمی سے مل کر اُس سے معافی مانگوں۔ میرے ایک ساتھی مولانا احمد محمود اصلاحی اُس زمانے میں اعظم گڑھ میں رہتے تھے۔ نے ایک بار میرے اس مزاج کا ذکر کرتے ہوئے کچھ لوگوں سے کہا کہ یہ ـــــ یہ اگر کسی کے یہاں بے وقت ملنے کے لیے آئیں تو سمجھ لو کہ وہ اُس سے معافی مانگنے کے لیے آئے ہیں۔ میرے مزاج کی یہ شدت اکثر ایسے معاملات میں ظاہر ہوتی تھی جن کا تعلق سماجی اخلاقیات یا آداب حیات سے ہو۔ مثلاً کسی کو میں نے دیکھا کہ وہ اپنا وقت ضائع کر رہا ہے، یا کسی کو دیکھا کہ وہ فضول خرچی کر رہا ہے، یا کسی نے وعدہ کیا اور اُس نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا، یا کسی شخص نے مقرر وقت پر اپنے کام کو انجام نہیں دیا، یا کسی شخص نے بات چیت میں کوئی بے اصولی کی بات کہہ دی، اس

طرح کے معاملات میں اکثر میں بہت شدید ہو جاتا تھا اور نہایت سخت انداز میں اس کی گرفت کرتا تھا، چاہے وہ شخص چھوٹا ہو یا بڑا۔ مجھے اکثر یہ احساس ہوتا تھا کہ مجھے درست بات کہنے کا حق ہے، لیکن درست بات کے نام پر سخت کلامی کرنے کا حق نہیں۔ یہی احساس مجھے بار بار مجبور کرتا تھا کہ میں لوگوں سے اپنے شدتِ کلام کی معافی مانگوں۔

اعظم گڑھ میں جب میں شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا، اُس وقت مجھے اس کالج سے متعلق ایک واقعہ یاد آیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا ایک بے حد سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ 1966 کی بات ہے جب کہ میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا اور انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں بہت زیادہ غرق تھا، اُس زمانے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میں جدید مغربی افکار کو برطانیہ کا مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات: 1970) کو مغربی فکر کا امام سمجھا جاتا ہے۔ میں نے چاہا کہ میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھوں۔ اس کی تلاش میں میں شبلی کالج کی لائبریری میں وہاں ایک الماری میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کا ایک سیٹ رکھا ہوا تھا۔ میں نے لائبریرین سے کہا کہ میں ان کتابوں کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ بہ یک وقت ان میں سے کتنی کتابیں مجھے دے سکتے لائبریرین نے کہا کہ یہاں ان کتابوں کو کوئی پڑھتا نہیں ہے، یہ صرف یہاں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ پورا سیٹ لے جائیے ۔ پڑھ کر واپس کر دیجیے گا۔

میں تمام کتابوں کو لے کر واپس اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اُس رائٹر کی کتابیں ہیں جو موجودہ زمانے میں سب سے بڑا ملحد (atheist) انسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سن کر میری بیوی متوحش ہو گئیں۔ انھوں نے کہا کہ اب آپ ضرور گم راہ ہو جائیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ برٹرینڈ رسل اس دور کا سخت ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے، اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق، خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اُس سے اس طرح نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا۔ برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے جو کچھ پایا، اُس کا مختصر ذکر میں نے اپنی کتاب ”مذہب اور سائنس‘‘ میں کیا ہے۔ یہ کتاب اردو کے علاوہ، عربی اور انگریزی زبان میں

بھی چھپ چکی ہے۔ میرے مذکورہ علمی تجربے کو اس کتاب میں دیکھا جاسکتا ہے۔

اپنی عمر کے ابتدائی دور میں جب میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا تو اکثر میں دارالمصنفین جایا کرتا تھا، جو میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ یہ علمی ادارہ مولا نا شبلی نعمانی نے اپنے آخری زمانے میں قائم اس ادارے سے میری دلچسپی کا سبب زیادہ تر دو ہوا کرتا تھا— اہل علم سے ملنا، اور یہاں کے کتب خانے سے استفادہ کرنا۔

اُس وقت مولانا مجیب اللہ ندوی (وفات: 2006) یہاں بہ طور رفیق رہا کرتے تھے۔ بار مولانا مجیب اللہ ندوی سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ آدمی کو کب لکھنے کا کام کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے اپنے استاد مولانا سید سلیمان ندوی (وفات: 1953) سے یہ سوال کیا تھا۔ انھوں نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا تھا— اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ ابلنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔ اُس زمانے میں مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی (وفات: 1974) دارالمصنفین کے ناظم وہ یہاں تنہا رہا کرتے تھے۔ اُن کی صرف ایک صاحب زادی تھیں۔ ایک بار انھوں نے بتایا کہ میں نے اپنی لڑکی کی شادی کی تو اُس موقع پر میں نے نہ بارات بلائی اور نہ کوئی اور رواجی کام کیا۔ میں نے ایک لڑکے سے سادہ طور پر اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا۔ اُس وقت میرے بینک کے کھاتے میں پانچ ہزار روپے تھے۔ میں نے پانچ ہزار روپے کا ایک چیک لکھا اور اپنی لڑکی کو دے دیا اور کہا کہ تم لوگ جس طرح چاہو، اس پیسے کا استعمال کرو۔ یہی میری کل پونجی ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ یہ نکاح کا بہترین طریقہ ہے۔ مگر اس طرح کی کوئی دوسری مثال میرے علم میں نہیں آئی۔ لوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ شادیوں میں بڑی بڑی رقمیں خرچ کرتے ہیں ۔ خرچ صرف نمائشی رسموں کے لیے ہوتا ہے۔ اس کا کوئی فائدہ کسی کو نہیں پہنچتا۔ موجودہ زمانے میں شادیوں میں جس طرح بڑی بڑی رقمیں خرچ کی جاتی ہیں، وہ بلاشبہ تبذیر مال کے ہم معنی ہیں، اور قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جولوگ تبذیر کا کام کریں، وہ شیطان کے بھائی ہیں (الإسراء : 27)۔ اعظم گڑھ کے زمانہ قیام میں میرا سارا وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔

میں میرا حال یہ تھا کہ میں نہ صرف اپنے گھر پر یا لائبریریوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، بلکہ راستہ چلتے ہوئے بھی میرے پاس کتاب ہوتی تھی اور دونوں ہاتھ میں لیے ہوئے میں اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ عادت تھی کہ میں ہمیشہ ٹریفک اصول کے مطابق، بالکل بائیں طرف (extreme left) چلتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات: 1985) کو معلوم ہوا کہ میں راستہ چلتے ہوئے کتاب پڑھتا ہوں تو انھوں نے کہا کہ یہ شخص ضرور ایک دن سڑک پر کسی سواری سے ٹکرا کر مرے گا۔

دار المصنفین کا کتب خانہ مولانا شبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کوششوں سے قائم ہوا اس کتب خانے میں قرآن کی عربی تفاسیر، حدیث کی کتابیں اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر عربی زبان میں تقریباً تمام مستند کتابیں موجود تھیں ۔ اس طرح مجھے ایک ہی کتب خانے میں اسلام کے بنیادی موضوعات پر گہرے مطالعے کا موقع مل گیا۔

کارل مارکس (وفات: 1883) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے اقتصادیات اور اُس کے متعلق موضوعات کا تفصیلی مطالعہ جرمنی کے کتب خانے میں کیا تھا۔ اُس زمانے میں اُس کے انہماک کا حال یہ تھا کہ صبح کو جب لائبریری کا دروازہ کھلتا تو کارل مارکس پہلا شخص تھا جو اُس کے اندر داخل ہوتا۔ طرح شام کو جب لائبریری کا دروازہ بند ہوتا تو کارل مارکس آخری شخص تھا جو اُس سے باہر نکلتا تھا۔ دار المصنفین کے کتب خانے میں مطالعے کے دوران میرا بھی عرصہ دراز تک یہی حال رہا۔ دوپہر کے وقت لنچ (lunch) کے لیے کتب خانہ بند کیا جاتا تھا۔ میں نے وہاں کے لائبریرین سے کہہ دیا تھا کہ آپ باہر سے دروازہ بند کر کے چلے جائیں اور مجھ کو کتب خانے کے اندر چھوڑ دیں۔ اُس زمانے میں مجھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ اِس بنا پر کبھی کبھی بھوک سے مجھے چکر آ جاتا اُس زمانے کا ایک واقعہ میں نے اپنی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ میں اِن الفاظ میں نقل کیا ہے : ”دار المصنفین (اعظم گڑھ) کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علم کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں اور تمام

لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے۔ طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اُس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اُس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اٹھا تو کم زوری کی وجہ سے مجھے چکر آ گیا اور میں سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے، مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ کتابوں کی متعلقہ الماری فلاں سمت میں موجود ہے‘‘ (صفحہ 14)۔

دار المصنفین میں ہال نما ایک بڑا کمرہ ہے جس میں دار المصنفین سے متعلق علماء کی تاریخی یادگاریں رکھی ہوئی ہیں۔ اُنھیں میں سے ایک لکڑی کا پاؤں ہے، جس کو مولا نا شبلی نعمانی نے حادثے کے بعد استعمال کیا تھا۔ 1907 میں ایسا ہوا کہ شکار کے لیے بھری ہوئی بندوق چل گئی جس کی وجہ سے اُن کا بایاں پاؤں شدید طور پر زخمی ہو گیا، اور بالآخر ڈاکٹروں کے مشورے کے مطابق، اُس پاؤں کو کاٹ اِس واقعے کے بعد مختلف شعراء نے حسن تعلیل کے طور پر نظمیں لکھیں۔ مولانا اقبال احمد خاں سہیل نے بھی اس پر کچھ اشعار لکھے تھے۔ اُن کا ایک شعر یہ تھا:

تھا اہلِ عدم کو بھی اشتیاق پابوس اک پاؤں وہاں بھی چاہیے تھا جانا مولانا شبلی نعمانی نے اس طرح کے حسن تعلیل کو پسند نہیں کیا۔ انھوں نے اِس معاملے میں اپنے جذبات کا اظہار اپنے ایک فارسی شعر میں اس طرح کیا تھا:

شبلی نامہ سیہ را بہ جزائے عملش پا بریدند و صدا خاست کہ سرمی باید دوسرے شعراء نے اِس معاملے کو جس طرح نظم کیا تھا، وہ صرف مضمون بندی یا حسنِ تعلیل کے طور پر تھا۔ لیکن مولانا شبلی نعمانی نے اس واقعے پر جو شعر لکھا، وہ اس معاملے میں ایک مومن کے احساسات

کی ترجمانی کرتا ہے۔ مومن کبھی دوسروں کی تعریف سے غلط فہمی میں نہیں پڑتا۔ عین اُس وقت جب کہ لوگ اس کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، اس کی اندرونی نفسیات اُس کو اپنی بے حقیقتی یاد دلاتی ہے۔ ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938) کو دار المصنفین سے اور مولانا سید سلیمان ندوی سے گہرا اقبال کا خیال تھا کہ اُخروی جنت ایک روحانی جنت ہے۔ ڈاکٹر اقبال نے اپنی کتاب ’’تشکیلِ جدید الہیاتِ اسلامیہ‘‘ میں لکھا ہے کہ ـــ جنت اور جہنم احوال ہیں، مقامات نہیں: Heaven and Hell are states, not localities. ڈاکٹر اقبال اور سید صاحب کے درمیان ایک بار جنت کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اقبال کا کہنا تھا کہ جنت روحانی ہے۔ اس کے برعکس، سید صاحب کہتے تھے کہ جنت مادی ہے۔ کافی بحث کے بعد دونوں کے درمیان اتفاق نہ ہوسکا۔ آخر کار، سید صاحب نے کہاـــ ٹھیک ہے، آپ اپنی روحانی جنت میں جایئے گا اور ہم ان شاء اللہ اپنی مادی جنت میں جائیں گے۔

جنت کے بارے میں اقبال کا مذکورہ نظریہ صرف ایک فلسفیانہ تصور تھا، حقیقت سے اُس کا کوئی قرآن کے واضح بیانات اس تصور کے خلاف ہیں۔ مثلاً قرآن کی سورہ نمبر 2 میں ارشاد ہوا ہے: ’’اور خوش خبری دے دو اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک کام کیے، اِس بات کی کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہوں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ جب بھی اُن کو اُن باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا، تو وہ کہیں گےـــ یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا۔ اور ملے گا اُن کو اس سے ملتا جلتا‘‘ (البقرہ: 25)۔

حقیقت یہ ہے کہ روحانی جنت کا تصور قرآن کے خلاف بھی ہے اور انسانی فطرت کے خلاف یہ خدا کی رحمت سے بعید ہے کہ وہ دنیا میں مومن کو ایسی ذمے داریوں میں ڈالے جس کو انجام دینے کے لیے اُس سے مادی نعمتیں چھوٹ جائیں، لیکن آخرت میں جب وہ مومن کو اس کے عمل کا انعام دے تو وہ صرف پر اسرار روحانی جنت کی شکل میں ہو۔ مادی قربانی کا انعام بھی مادی نعمت کی صورت میں ہونا چاہیے۔ یہ انسانی فطرت کا ایسا تقاضا ہے جس سے کوئی بھی شخص مستثنیٰ نہیں۔

30 دسمبر 2008 کو میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس جامعۃ الفلاح (بلریا گنج، اعظم گڑھ) کے کچھ اساتذہ، مولانا نظام الدین اصلاحی کے ہمراہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان حضرات سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ پھر انھوں نے ہم لوگوں کو جامعۃ الفلاح آنے کی دعوت دی۔ میں نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور اس کے مطابق، اگلے دن صبح کو مولانا نظام الدین اصلاحی کے ساتھ جامعۃ الفلاح کا سفر ہوا۔

جامعۃ الفلاح عربی اور دینی تعلیم کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ جامعۃ الفلاح پہنچ کر اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور یہاں اساتذہ اور طلباسے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس تعلیمی ادارے کا آغاز 1954 میں ایک معمولی مکتب سے ہوا تھا۔ اس کے بعد حکیم محمد ایوب (وفات: 2004) اور دوسرے اصحاب کی مسلسل کوشش سے وہ اب ایک بڑے جامعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ جامعہ کے دو بڑے حصے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک حصے کا تعلق طلبا سے ہے، اور دوسرے حصے کا تعلق طالبات سے۔ دونوں میں عالمیت اور فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔ مجموعی تعداد تقریبا چار ہزار ہے۔ طلبا کے مقابلے میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ جامعۃ الفلاح میں میرے دو خطابات ہوئے۔ ایک، طلبا کے درمیان اور دوسرا، طالبات کے طلبا سے خطاب کا انتظام یہاں کے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ طلبا اور اساتذہ دونوں یہاں موجود تھے اور پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ طلبا کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔

میرے سامنے نو جوان طلبا بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب میں نو جوانوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے نوجوانوں کی شکل میں اپنی زمین پر کچھ پھول کھلائے خدا چاہتا ہے کہ یہ پھول مہکیں اور دنیا کو اپنی خوش بو سے معطر کر دیں۔ میں نے کہا کہ اس مدرسے کا نام الفلاح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی مدرسے کا سب سے زیادہ درست نام ہے۔ کیوں کہ مدرسہ آدمی کو حقیقی فلاح کا راز بتاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ

آپ نے یہاں آکر زندگی کا صحیح آغاز پالیا ہے۔ آپ نے یہاں آکر علم سے اپنی زندگی کا آغاز کیا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا آغاز علم (اقرأ) سے ہوا ہے۔ جس آدمی نے زندگی کا صحیح آغاز پا لیا، وہ ضرور اس کے صحیح انجام تک پہنچے گا۔ اسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے— میرے آغازِ کار کا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے:

Printed page