Al-Risala · January 2009

قیامت دستک دے رہی ہے

Al-Risala, January 2009, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسانی تاریخ اپنے خاتمہ (end) پر پہنچ گئی ہے۔ غالباً انسانی تاریخ کی آخری صدی ہے۔ اس کے بعد انسان کے اوپر شاید بائیسویں صدی آنے والی موجودہ صورتِ حال یہ ہے کہ برائی اپنی آخری حد تک پہنچ چکی ہے، اور جب برائی اپنی آخری حد تک پہنچ جائے تو انسان، خدا کی زمین پر مزید بسنے کا جواز (justification) کھو دیتا ہے۔ اس معاملے میں غیرمسلموں کو جانچنے کا معیار اخلاقی معیار ہے۔ اخلاقی معیار کے اعتبار سے، آخری چیز حیا ہے۔ جب لوگوں کے اندر حیا کی صفت باقی نہ رہے تو سمجھنا چاہیے کہ وہ برائی کی آخری حد پر پہنچ چکے ہیں۔ موجودہ زمانے میں یہی صورتِ حال نظر آتی ہے۔ ہم جنسی (homosexuality) کو یکساں جنس (same sex) قرار دے کر اس کو قانونی طور پر جائز بنایا جا رہا ہے۔ اور فحاشی (pornography) اب کلچر کا حصہ بن گئے ہیں۔ آرٹ اور آزادی کے نام پر ہر اخلاقی برائی کو جواز کا درجہ دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال، اخلاقی شناعت کی آخری حد تک پہنچ چکی ہے۔ جب انسان اخلاقی برائی کے اس درجے تک پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے خدا کی زمین پر مزید بسنے کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔

جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے، اس معاملے میں ان کے لیے جو معیار ہے، وہ شرعی معیار اس شرعی معیار کو قرآن اور حدیث میں انکار منکر کہا گیا ہے، یعنی جب کچھ افراد برائی میں مبتلا ہوں تو دوسرے لوگ اس کی سخت مذمت کریں۔ وہ کھلے طور پر اس کو کنڈم کریں۔ برائی کو دیکھنے یا جاننے کے بعد اُس پر خاموش رہنا اور اس کی کھلی مذمت نہ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جو پوری قوم کو لعنت کا مستحق بنا دیتا یہ بات قرآن اور حدیث میں واضح طور پر موجود ہے، حتی کہ یہ معاملہ اتنا سخت ہے کہ اگر دوسرے لوگ اس طرح کی برائی کے معاملے میں اعلان کے ساتھ اُس سے اظہارِ برأت (disown) نہ کریں تو نسل در نسل وہ اُس برائی میں شامل سمجھے جائیں گے، وہ اُس وقت تک بری الذمہ قرار نہیں پائیں گے،

جب تک وہ اعلان کے ساتھ اُس سے اپنی بے تعلقی کا اظہار نہ کریں۔ دونوں ہی طبقے کا کیس مشترک طور پر شدید بے حسی کا کیس ہے۔ ایک طبقے میں اس بے حسی کا اظہار اخلاقی بے حیائی کی صورت میں ہو رہا ہے اور دوسرے طبقے میں انکار منکر کے فریضے کو ترک کرنے کی صورت میں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں انکار منکر نہ کرنے کی صفت آخری حد تک عام ہو چکی ہے۔ جدید میڈیا نے اس معاملے میں مسلمانوں کا عالمی ایکسپوژر (universal exposure) کر دیا ہے۔ یہ بم دھماکے کے واقعات ہیں۔ موجودہ زمانے میں مسلمان جگہ جگہ بم دھماکے کر رہے ہیں۔ میں فلسطین کے ایشو کو لے کر بم دھماکے کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح، پاکستان اور افغانستان اور کشمیر میں بم دھماکے جاری ہیں۔ آج کل ہندوستان میں بھی جگہ جگہ بم دھماکے ہو رہے ہیں۔ ان بم دھماکوں میں بے قصور لوگ مرتے ہیں، جب کہ بے قصور لوگوں کو مارنا اتنا بڑا گناہ ہے کہ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ ایک بے قصور کو مارنا گویا کہ تمام انسانوں کو مار ڈالنا ہے (المائدة: 32)۔

اس قسم کے بم دھماکے لمبی مدت سے جگہ جگہ ہو رہے ہیں، مگر معلوم طور پر ساری دنیا میں کوئی بھی نہیں جو ان واقعات پر حقیقی معنوں میں انکار منکر کا فریضہ انجام دے رہا ہو، یعنی غیر مشتبہ انداز میں اور متعین طور پر ایسے لوگوں کی مذمت کرنا۔ مسلمانوں میں جو لکھنے اور بولنے والے لوگ ہیں، وہ جب بھی لکھتے اور بولتے ہیں، وہ اس انداز میں لکھتے اور بولتے ہیں جس سے ایسے مسلمانوں کو سند جواز مل جائے، یعنی ٹوسٹ (twist) کر کے بولنا، قیاس کی بنیاد پر کلام کرنا، غیر متعین اور غیر مشخص انداز میں تبصرہ کرنا، سرے سے واقعے کا انکار کرنا، ایسے واقعات کو پولیس اور میڈیا کی سازش بتانا، مسلمانوں کے فعل پر اُن کی مذمت کرنے کے بجائے اس پر خاموش رہ کر اسلامی تعلیمات کا حوالہ دے کر یہ کہنا کہ اسلام میں ایسا نہیں ہے، وغیرہ۔ مسلمان، شرعی معیار کی بنیاد پر اس دنیا میں اپنے لیے حق زیست کھو چکے ہیں، اور غیر مسلم، اخلاقی معیار کی بنیاد پر یہ ثابت کر رہے ہیں کہ اُنھیں اس دنیا میں مزید مہلت حیات ملنے کا کوئی جواز ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ قیامت ہمیں دروازے پر پہنچ کر دستک دے رہی ہے۔ نہیں معلوم کہ کب وہ دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائے۔

Printed page