Al-Risala · May 2009

My way is to begin from the beginning.

Al-Risala, May 2009, pp. 22–26

By Maulana Wahiduddin Khan

اس موقع پر طلبا کی نسبت سے جو باتیں میں نے بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حصولِ علم کے لیے روح تجسس (spirit of inquiry) لازمی طور پر ضروری ہے۔ آپ لوگوں کو اپنے اندر تجسس کی اسپرٹ نہایت گہرائی کے ساتھ پیدا کرنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ زندگی کی کامیابی کے لیے حضرت علی کا ایک قول بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قول یہ ہے: قیمۃ المرء ما یحسنہ: The value of a person lies in excellence. اس کے بعد کلیۃ البنات میں جامعہ کی طالبات سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ نہایت ڈسپلن کے ساتھ جامعہ کے ایک حصے میں بٹھائی گئی تھیں۔ میں نے اپنی تقریر میں ایک مغربی مفکر کے اس قول کو دہرایا— ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے:

There is a woman at the beginning of all great things. اس کی تفصیل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ کا یہ مدرسہ آپ کو اسی قسم کی عظیم خاتون بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ تاریخ کی عظیم خاتون عائشہ صدیقہ تھیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ مدرسۂ نبوت کی ایک کامیاب طالبہ تھیں۔ تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے اندر اخذ (grasp) کی صلاحیت مُردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اُس کا ایک ثبوت حضرت عائشہ کی مثال ہے۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عام پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: ما خُیّر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين إلا اختار أيسرهما (صحيح البخاری، کتاب الأدب)۔ یہاں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ رسول اللہ نے لفظی طور پر

کبھی یہ بات نہیں کہی تھی۔ اس کے باوجود عائشہ نے رسول اللہ کی پالیسی کے بارے میں اس اہم اصول کو اخذ کیا۔ اس قسم کی اخذئیت کا ثبوت کسی مرد کے یہاں نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے— لیڈ یز فرسٹ (ladies first)— اس مقولے کی سب سے اعلیٰ مثال پیغمبرانہ تاریخ میں ہے، اور وہ حضرت ہاجرہ کی مثال ہے۔ یہ دراصل ہاجرہ کی عظیم قربانی تھی جس کے ذریعے ہیروؤں کی وہ نسل (nation of heroes) ظہور میں آئی جس میں رسول اور اصحاب رسول جیسے اعلیٰ افراد پیدا ہوئے۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل (process) تھا جس کا آغاز ایک عورت کی بے مثال قربانی سے ہوا۔

میں نے کہا کہ ہر عورت کے لیے اس دنیا میں ایک بڑا رول مقدر ہوتا ہے۔ اس رول کو ادا کرنے کی صرف ایک خاص شرط ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو ڈسٹریکشن (distraction) سے بچانا۔ ہر وہ چیز جو آپ کو اپنے مقصدِ اعلیٰ کی طرف کامل توجہ دینے سے ہٹائے، وہ ڈسٹریکشن کا ذریعہ ہے۔ مثلاً شاپنگ، آؤٹنگ، فیشن، تقریبات اور اولاد، وغیرہ۔ اسلام کے مطابق، اولاد ایک آزمائش (التغابن: 15) ہے۔ اولاد کے بارے میں والدین کی ذمے داری اُن کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے، نہ کہ اُن کو قلبی محبت کا مرکز بنانا۔ قلبی محبت کا مرکز صرف خدا وند ذوالجلال ہے، نہ کہ اولاد۔ ہر انسان کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عورت کا عورت کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ موجود ہے، اور وہ اُس کا آرائش پسندانہ مزاج ہے۔ عورت کو اپنی اِس کم زوری کے بارے میں شعوری طور پر زیادہ بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ عورت کے اوپر اُس کا آرائش پسندانہ مزاج غالب آجائے گا اور وہ زندگی میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔

جامعۃ الفلاح کے پروگرام میں شرکت کے بعد ہم لوگ بذریعہ کار بڑھریا گئے۔ اعظم گڑھ شہر سے بڑھریا کا فاصلہ 27 کلومیٹر ہے۔ بڑھریا میرا آبائی وطن ہے۔ راستے میں سڑک کے کنارے چند اُن میں سے ایک پھر یہا تھا۔ پھر یہاں اعظم گڑھ کا وہ گاؤں ہے جہاں 1863 میں مشہور

مفسر قرآن مولا نا حمید الدین پیدا ہوئے ۔ مولا نا حمید الدین نے پھریہا کی تعریب کر کے اُس کو فراہا بنایا اور پھر اس میں یائے نسبت شامل کر کے اپنے نام کے ساتھ فراہی لکھنا شروع کیا۔ تعریب کا یہ ذوق اس علاقے میں کافی بڑھا اور کئی گاؤں کے لوگوں نے اس کی تقلید کی ۔ مثلاً سیدھا کے لوگ اپنے کو مستقیمی چھاؤں کے لوگ اپنے کوظلی لکھنے لگے۔ اساڑھاکے لوگ مطری لکھنے لگے، وغیرہ۔ مولا نا حمید الدین فراہی کا انتقال 1930 میں ہوا۔ میں نے اُن کو دیکھا نہیں۔ لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اُن کے دو خاص شاگردوں سے مجھے حصولِ علم کا موقع ملا مولا نا امین احسن اصلاحی (وفات : 1998)، اور مولانا اختر احسن اصلاحی (وفات: 1985)۔ مولا نا حمید الدین فراہی کے بارے میں کئی لوگوں نے اُن کے مختصر تذکرے شائع کیے ہیں ۔ مثلاً سید سلیمان ندوی ، مولا نا امین احسن اصلاحی، وغیرہ۔ لیکن مولا نا حمید الدین فراہی پر زیادہ جامع کتاب ڈاکٹر شرف الدین اصلاحی (مقیم اسلام آباد، پاکستان) نے ” ذکر فراہی‘ کے نام سے شائع کی ہے ۔ یہ کتاب 840 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کی تیاری میں تقریباً 18 سال صرف ہوئے ہیں۔ میرے پاس کتاب کا وہ نسخہ ہے جو 2001 میں دائرہ حمیدیہ (مدرسۃ الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڑھ) سے شائع ہوا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اس کتاب کا ایک ایڈیشن دار التذکیر (لاہور) نے شائع کیا ہے۔ اس میں مصنف نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ پھریہا کا گاؤں ایک سڑک کے کنارے واقع ہے۔ یہ سڑک انگریزوں کے زمانے میں بنائی لیکن پھریہا سے ہمارے گاؤں تک پختہ سڑک نہ تھی ۔ اب یہاں اچھی سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی اس سڑک پر گزرتے ہوئے وہاں پہنچی جہاں گنورندی واقع ہے۔ یہ ندی ہمارے گاؤں کی سرحد پر ہے۔ اس ندی کے اوپر ایک پل ہے ۔ اُس وقت یوپی میں پہلی بار برطانی اقتدار کے تحت کانگریسی وزارت بنی تھی ۔ مولا نا اقبال احمد خاں سہیل اس صوبائی اسمبلی کے ایک رکن تھے ۔ کوششوں سے 1937 میں یہاں ایک پل بنایا گیا۔

اُس وقت میں نوجوانی کی عمر میں تھا۔ یہ پل بنا تو میں نے اس کے بارے میں یہ شعر لکھا تھا: بحمد للہ کہ ایں جسر عظیم الشاں مکمل شد زسعی مولوی اقبال احمد خاں مکمل شد

اُس زمانے میں یہ پل میرے لیے غارِ حرا کے مانند بن گیا۔ میں صبح و شام یہاں آتا اور پل کی فصیل پر بیٹھ کر سورج کے نکلنے اور سورج کے ڈوبنے کا منظر دیکھتا رہتا۔ پل کے نیچے دریا بہہ رہا ہوتا چاروں طرف دور تک درخت اور کھیت کے سرسبز مناظر تھے جن کے اوپر چڑیاں اڑتی ہوئی نظر آتی اوپر نیلے آسمان کا پرشکوہ منظر ہوتا تھا۔ یہاں میں دیر تک اکیلا بیٹھا رہتا اور فطرت کے مناظر میں کھویا ہوا اُس کو دیکھتا رہتا تھا۔ یہ پل گویا کہ میرے لیے تلاش حق کے طویل سفر کا ایک ابتدائی مرحلہ فطرت کی یہ دنیا میرے لیے ایک کھلی تربیت گاہ کے ہم معنی بن گئی۔

کنورندی کے اس پل سے آگے بڑھ کر ہم گاؤں میں داخل ہوئے تو سب سے پہلے ہمارے سامنے وہ اسکول تھا جس کے سالانہ جلسے میں شرکت کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ ہمارے گاؤں میں تقریباً ڈیڑھ سو سال پہلے ڈاکٹر عبد العلی کے خاندان نے ’’درس گاہِ اسلامی‘‘ کے نام سے ایک مکتب قائم کیا تھا۔ اس میں اب کافی تو سیع ہو چکی ہے۔ میری ابتدائی تعلیم اسی درس گاہ میں ہوئی ۔ میرے بچپن کے زمانے میں یہاں مولا نا فیض الرحمن اصلاحی (وفات: 1972) اُس کے معلم تھے۔ وہ مدرسۃ الاصلاح کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات: 1945) کے صاحب زادے تھے۔ اُن سے میں نے ابتدائی تعلیم حاصل اس کے بعد میرے چچا صوفی عبد المجید خاں (وفات: 1949) نے مزید تعلیم کے لیے مجھے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر، اعظم گڑھ) میں داخل کرایا۔

اس گاؤں کے کنارے ہمارے خاندان کے لوگ رہتے تھے۔ یہ ایک بڑا علاقہ تھا جس میں باغ وغیرہ شامل تھا۔ موجودہ زمانے کے تقاضے کے تحت جب ہمارے خاندان کے لوگ گاؤں سے نکل کر شہروں میں چلے گئے تو یہ پورا علاقہ تقریباً غیر آباد ہو گیا۔ میرے بھتیجے مسٹر شکیل احمد خاں انجینئر جو شارجہ میں رہتے ہیں، اُن سے میری ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ ہمارے خاندان والوں نے خود تو اپنے بچوں کو پڑھایا، لیکن انھوں نے کوئی تعلیمی ادارہ قائم نہیں کیا۔ اب آپ یہ کیجیے کہ ہمارے خاندان کے گھر اور باغ کو ملا کر جو ایک بڑی جگہ موجود ہے، وہاں ایک معیاری اسکول قائم کر دیجیے۔ مسٹر شکیل احمد خاں کی سمجھ میں آ گئی ۔ انھوں نے طے کر لیا کہ یہ کام اُنھیں کرنا ہے۔ چناں چہ انھوں نے

لمبی کوشش کے بعد 2000ء میں یہاں ایک اسکول کی بنیاد رکھ دی۔ پھر ان کو خود خاندان کے ایک فرد ڈاکٹر احمد صفی انصاری کا مقامی تعاون حاصل ہو گیا، جنھوں نے اپنے آپ کو اس تعمیری کام میں وقف اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج یہاں ایک اچھا انگلش میڈیم اسکول وجود میں آ چکا ہے۔ کے قیام میں مسٹر یمین الاسلام خاں انجینئر ( صاحب زادہ مولانا اقبال احمد خاں سہیل ) کا بہت بڑا کنٹری بیوشن ہے۔ اُن کے تعاون کے بغیر اس کام کو انجام دینا سخت مشکل تھا۔

1971 میں جب میں پاکستان گیا تو وہاں کے ایک اخبار میں میں نے پاکستان کے بارے میں ایک مضمون دیکھا۔ اس مضمون میں ترتیب کے ساتھ تین لوگوں کی تصویر چھپی ہوئی تھی— ڈاکٹر محمد اقبال، محمد علی جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خاں۔ ہر تصویر کے سامنے تین جملے الگ الگ لکھے ہوئے تھے : He thought, He fought, He sacrificed. کچھ ایسا ہی معاملہ ہمارے گاؤں کے اس اسکول کا بھی ہے۔ اس اسکول کا تصور راقم الحروف اس کے بعد مسٹر شکیل احمد خاں نے اس کی بنیاد رکھی، اور پھر ڈاکٹر احمد صفی انصاری نے اس کو مکمل کیا، اس طرح ان تینوں آدمیوں کو لے کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ :

Printed page