He thought, He founded, He finalized.
Al-Risala, May 2009, pp. 26–40
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر شکیل احمد خاں وغیرہ نے اس اسکول کا نام یہ رکھا ہے— ضیاء الدین خاں میموریل اسکول۔ اسکول کا الحاق سی بی ایس سی بورڈ (دہلی) سے ہو چکا ہے۔ اس اسکول میں اطراف کے تقریباً 900 لڑکے اور لڑکیاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ اسکول کے پاس طلبا کی آمد و رفت کے لیے اس وقت 9 بسیں ہیں، ان بسوں کے ذریعے 70 کلومیٹر کے دائرے میں اطراف کے علاقوں سے طلبا اور طالبات اسکول میں آتے ہیں۔ 31 دسمبر 2008 کو اسکول کا سالانہ جلسہ (annual function) تھا۔ اس کا اسٹیج اسکول کے وسیع کیمپس میں نہایت پُر رونق انداز میں بنایا گیا تھا۔ اس پروگرام میں گاؤں کے لوگوں کے علاوہ، طلبا کے سر پرست اور متعلقین حضرات بھی شریک تھے۔ اس موقع پر اسکول کے طلبا اور طالبات نے مختلف قسم کے پروگرام پیش کیے ۔ یہ پروگرام اردو اور ہندی کے علاوہ، زیادہ تر انگریزی زبان میں تھے۔
طالبات نے غیر معمولی طور پر شان دار انداز میں اس کو پیش کیا، جو بلاشبہ اسکول کے اساتذہ اور ذمہ دار حضرات کی مخلصانہ کوششوں کا نتیجہ تھا۔
یہ فنکشن دیر تک چلتا رہا۔ آخر میں میرا خطاب تھا۔ میں نے اپنی تقریر میں بہادر شاہ ظفر (وفات: 1862) کے اس شعر کو پڑھا:
فیض گر چاہتا ہے، فیض کے اسباب بنا پل بنا، چاہ بنا، مسجد و تالاب بنا میں نے کہا کہ ہمارے خاندان نے یہاں یہ چاروں چیزیں بنائیں—پل بھی، کنواں بھی، اور مسجد بھی اور تالاب بھی۔ لیکن یہاں مطلوب رونق پیدا نہ ہوسکی۔ آج یہاں ہر طرف رونق دکھائی یہ تعلیمی ادارے کا نتیجہ ہے۔ موجودہ زمانے میں سب سے زیادہ اہمیت تعلیم کو ہوگئی ہے۔ موجودہ زمانے کے اکثر معاملات تعلیم سے وابستہ ہوگئے ہیں۔ اس لیے زندگی میں بیداری اور سرگرمی لانے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ اچھے تعلیمی ادارے قائم کیے جائیں۔ مولانا الطاف حسین حالی (وفات: 1914) جو سرسید احمد خاں (وفات: 1898) کے شاگرد تھے، انھوں نے اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا:
بس اب وقت کا حکم ناطق یہی ہے کہ دنیا میں جو کچھ ہے، تعلیم ہی ہے بڑھہریا (بڑہرہ) میرا آبائی وطن ہے۔ لمبے عرصے کے بعد جب میں یہاں آیا تو اس سے متعلق بہت سی یادیں تازہ ہوگئیں۔ میرے خاندان کی تاریخ یہ ہے کہ تقریباً پانچ سو سال پہلے میرے مورثِ اعلیٰ حسن خاں سوات (قدیم افغانستان) سے گھوڑے پر سوار ہو کر انڈیا آئے۔ پہلے وہ جون پور آئے۔ یہاں ایک افغانی خاندان حکومت کرتا تھا۔ اُس کو شاہانِ شرقی کہا جاتا تھا۔ بعد کو ضیاء الدین خاں کے زمانے میں یہ خاندان جون پور سے اعظم گڑھ آیا اور بڑہریا میں آباد ہوا۔ اسی گاؤں میں میری پیدائش ہوئی۔ جب میں سنِ شعور کو پہنچا تو اکثر میں سوچتا تھا کہ میرے مورثِ اعلیٰ جب افغانستان سے چلے تو راستے میں ان کو برصغیر ہند کے بہت سے بڑے بڑے شہر ملے، لیکن وہ کسی شہر میں آباد نہیں ہوئے، بلکہ چلتے چلتے آخر کار وہ بڑہریا میں آباد ہوگئے جو کہ ایک دور افتادہ (remote) اور غیر ترقی یافتہ گاؤں تھا۔
اُس کی حکمت میری سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ لیکن اب میں سوچتا ہوں تو اس واقعے میں خدا کی عظیم حکمت دکھائی دیتی ہے۔ اگر ہمارے مورثِ اعلیٰ کسی بڑے شہر میں آباد ہو گئے ہوتے تو میرا بھی وہی حال ہوتا جو عام طور پر دوسرے مسلم مفکرین کا ہوا ہے۔ اُن کا ذہن شہری حالات کے تحت بنا، فطری حالات میں جو ذ ہن سازی ہوتی ہے، اُس کا انھیں تجربہ نہ ہوسکا۔ اس معاملے پر جب میں غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے حالات میں اور بنواسماعیل کے قدیم حالات میں عجیب مشابہت دکھائی دیتی ہے۔ چار ہزار سال پہلے حضرت ابراہیم اپنے وطن عراق سے نکلے۔ راستے میں بہت سے شہر ملے، لیکن وہ ان میں سے کسی شہر میں آباد نہیں ہوئے۔ چلتے چلتے وہ قدیم مکہ کے صحرا میں پہنچے اور یہاں ہاجرہ اور اسماعیل کو آباد کر دیا۔ اِسی صحرائی ماحول میں رفتہ رفتہ بنواسماعیل کی نسل بنی جو مخصوص حالات کی بنا پر اپنی اصل فطرت پر قائم تھی۔ اِس نسل سے رسول اور اصحابِ رسول پیدا ہوئے۔ اِسی گروہ میں سے وہ لوگ تیار ہوئے جن کو بدر کے موقع پر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ’عصابہ‘ کا لقب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ ــــ خدایا، اگر تو اس عصابہ کو ہلاک کر دے تو اس کے بعد زمین پر تیری عبادت نہ ہوگی (اللہم إن تهلك هذه العصابة، لا تُعبد في الأرض أبداً) اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں تمام واقعات اسباب کے پردے میں ہوتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا مطلب یہ تھا کہ ایک لمبے تاریخی عمل (historical process) کے بعد یہ عصابہ بنا ہے، اگر یہ لوگ ہلاک ہو جائیں تو دوبارہ ایک لمبا تاریخی عمل درکار ہوگا۔ اور اِس قسم کا تاریخی عمل اِس دنیا میں کبھی ٹھیک اُسی طرح قابلِ اعادہ (repeatable) نہیں ہوتا۔ بنواسماعیل پر مشتمل عصابہ قدیم روایتی ماحول میں بنا تھا۔ میں جب اپنے حالات پر غور کرتا ہوں تو تعجب خیز طور پر یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ میری زندگی میں اپنی نوعیت کے اعتبار سے اِسی قسم کا عمل نئے حالات کی نسبت سے دوبارہ پیش آیا ہے۔
میرے مورثِ اعلیٰ بھی دور کے ایک ملک افغانستان سے روانہ ہوئے۔ درمیان میں وہ بڑے بڑے شہروں کو چھوڑتے ہوئے ایک دور افتادہ گاؤں (بڈھریا) پہنچے اور یہاں آباد ہوئے۔
جس طرح ایک صحرائے فطرت تھا، اُسی طرح بڈھریہ کا علاقہ بھی ایک صحرائے فطرت کے ہم معنیٰ تھا، اس فرق کے ساتھ کہ قدیم صحرا ایک خشک صحرا تھا، اور موجودہ صحرا ایک سرسبز صحرا۔ بڈھریہ میں میری پیدائش ہوئی تو میرے حالات نے آغاز ہی سے مجھ کو حق کا متلاشی بنا دیا۔ لمبے عرصے کی تلاش کے بعد آخر کار میرے ساتھ دریافتِ حق کا وہ معاملہ ہوا جس کو قرآن میں: و وجدک ضالاً فهدى (الضحیٰ: 7) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔
اس دریافت کے بعد میں نے اللہ کی توفیق سے اپنا دعوتی مشن شروع کیا۔ ابتدائی طور پر میرے گھر والوں نے میرا ساتھ دیا۔ اُس کے بعد دھیرے دھیرے ایک دعوتی ٹیم بنی جس کے افراد نہ صرف دہلی میں، بلکہ دنیا کے مختلف مقامات پر پائے جاتے ہیں۔ میرے گھر والے اگر میرے لیے بلا تشبیہ اہل بیت ہیں تو میرے ساتھی میرے لیے بلا تشبیہ اصحاب کا درجہ رکھتے ہیں۔ تعجب خیز طور پر یہ واقعہ پیش آیا کہ عصرِ حاضر میں قدیم عصابہ کی طرح ایک جدید عصابہ وجود میں آیا۔ جدید عصابہ استثنائی طور پر دو صفتوں کا حامل ہے۔ ایک طرف حدیث کے الفاظ میں، اس کو بصیرتِ زمانہ حاصل ہے اور دوسری طرف وہ استثنائی طور پر دعوت الی اللہ کا بے آمیز شعور رکھتا ہے۔ جب میں ان باتوں کو سوچتا ہوں تو ایسا معلوم ہوتا ہے، جیسے خاتمۂ تاریخ (end of history) سے پہلے آنے والے دور میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی واقعہ بن رہی ہے، یعنی اصحابِ رسول کے بعد جدید تاریخ میں غالباً وہ دوسرا گروہ وجود میں آیا ہے جس کو پیغمبرِ آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے اخوانِ رسول سے تعبیر کیا تھا۔
بڈھریہ میرا مسقطِ رأس (birth place) ہے۔ یکم جنوری 1925 کو جب کہ میں پیدا ہوا، اُس وقت بڈھریہ صرف ایک دور افتادہ (remote) معمولی گاؤں تھا۔ سیاسی سرگرمیاں یا تمدنی ترقیاں ابھی تک یہاں نہیں پہنچی تھیں۔ میری ابتدائی تعلیم گاؤں کے مدرسے میں ہوئی۔ استاذ مولا نا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میرے بچپن اور جوانی کی پوری عمر اسی ماحول میں گزری۔ میری زندگی کا سب سے انوکھا واقعہ یہ ہے کہ بعد کے زمانے میں کس طرح دعوت الی اللہ میرا مشن
اُس وقت میرے خاندان میں زیادہ تر شعر و شاعری کا ماحول تھا۔ ہم لوگ اکثریت بازی کیا 1938 میں میرے چچا صوفی عبد المجید خاں نے مدرسۃ الاصلاح (سرائے میر) میں میرا داخلہ کرایا تو یہاں بھی کوئی شہری ماحول نہ تھا۔ مدرسے کا تعلیمی ماحول بھی تمام تر نظم قرآن کے مخصوص فرامہی فکر پر مبنی تھا۔ اس پوری مدت میں کہیں بھی میں نے یہ بات نہیں سنی کہ غیر مسلموں کے درمیان دعوتی کام کرنا لازمی طور پر مسلمانوں کی شرعی ذمے داری ہے۔ مدرسے میں اور مدرسے کے باہر میں نے اسلامیات کا جو مطالعہ کیا، اُس میں بھی دعوت کا یہ تصور حذف تھا۔ قرآن کی تفسیروں میں سے کوئی بھی تفسیر دعوت الی اللہ کے تصور کے تحت نہیں لکھی گئی۔ حدیث کے مجموعوں میں جو تراجمِ ابواب ہیں، اُن میں سے کسی بھی کتاب میں دعوت کو ترجمہ باب نہیں بنایا گیا ہے۔ فقہ کے موضوع پر بہت زیادہ کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سیاسی اور غزواتی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔ مسلم تاریخ میں جو بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں بھی سارے ابواب ہیں، مگر اُس میں دعوت کا باب موجود نہیں۔ الغزالی، ابن تیمیہ، شاہ ولی اللہ دہلوی، وغیرہ کی کتابیں ۔ ایسی حالت میں یہ ایک انتہائی انوکھی بات ہے کہ کس طرح بعد کے دور میں دعوت الی اللہ میری زندگی کا واحد مشن بن گیا۔
اسی طرح میری زندگی کا ایک انوکھا پہلو یہ ہے کہ میرے زمانے میں، مسلم دنیا میں ہر طرف، ادبی ذہن چھایا ہوا تھا۔ ادب اور شاعری کا اسلوب غالب اسلوب کی حیثیت رکھتا تھا۔ یہ ذہن اتنا زیادہ عام تھا کہ اس معاملے میں مسلمانوں کے روایتی طبقہ اور انگریزی داں طبقہ کے درمیان کوئی فرق موجود نہ تھا۔ مسلمانوں کا یہ عمومی ذہن آج تک بدستور قائم ہے۔ ایسی حالت میں یہ انتہائی عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں کس طرح میں پوری مسلم ملت میں ایک واحد استثنا بن گیا۔ میرے اندر سائنٹفک تھنکنگ پیدا ہوئی ۔ میں نے حوصلہ شکن ماحول میں انگریزی زبان سیکھی ۔ میں نے جدید علوم کا تفصیلی اور یہ سب کچھ صرف اس لیے تھا کہ میں عصری ذہن کے سامنے اسلام کی دعوت کو مؤثر انداز میں پیش کر سکوں، حتی کہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرنا ہی میرا اصل موضوع بن گیا۔ میرے ساتھ یہ جو استثنائی معاملہ پیش آیا، اُس پر جب میں غور کرتا ہوں تو اس کی کوئی بھی تو جیہہ
اس کے سوا سمجھ میں نہیں آتی کہ اُس کو قرآن کے الفاظ میں اجتباء (انتخاب) کا ایک معاملہ سمجھا جائے۔ اجتباء کے لفظی معنی ہیں___ چن لینا (to choose) ۔ اجتباء کے بارے میں قرآن کا تصور یہ ہے کہ خدا ، دعوت الی اللہ کے مقصد کے لیے کسی انسان کو چن لیتا ہے ، پھر اُس کے لیے ایسے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں کہ وہ اپنے زمانے میں دعوت الی اللہ کے کام کو مطلوب انداز میں کر سکے۔ دعوت کا کام کوئی سادہ کام نہیں ۔ یہ موجودہ دنیا میں خدا کی نمائندگی کا کام ہے ۔ اس قسم کی نمائندگی بلاشبہ اس دنیا کا مشکل ترین کام ہے ۔ یہ کام صرف وہی انسان کر سکتا ہے جس کو خداوند ذوالجلال کی خصوصی نصرت اور توفیق حاصل ہوئی ہو ۔
اجتباء کا لفظ مختلف صورتوں میں قرآن میں 10 بار استعمال ہوا ہے ۔ امام راغب الاصفہانی (وفات: 1108ء) نے لکھا ہے کہ قرآن کے مطابق ، اجتباء کا معاملہ پیغمبر اور غیر پیغمبر دونوں کے ساتھ پیش آتا ہے (المفردات، صفحہ 87) ۔ اجتباء کے اس معاملے کا تعلق صُلحاء اور اتقیاء سے نہیں اُن کا معاملہ ایک مختلف معاملہ ہے ۔ اجتباء کا تعلق دراصل اُس مخصوص عمل سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت قرار دیا ہے (الحج: 40) ، یعنی دعوت الی اللہ کا عمل ۔
میری شخصیت کا ارتقاء جو بڑھریا اور سرائے میر اور اعظم گڑھ جیسے ماحول میں ہوا ، وہ اتنا زیادہ انوکھا ہے کہ بظاہر اس کو اجتباء کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ میری پیدائش کا ایک واقعہ شاید اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ میری والدہ زیب النساء (وفات: 1985) بتاتی تھیں کہ بڑھریا کے گاؤں میں میری پیدائش ہوئی ۔ جس صبح کو میں پیدا ہونے والا تھا ، اُس کی رات کو میری ماں نے یہ خواب دیکھا کہ میں پیدا ہوا ہوں ، پھر ایک بہت بڑا ہاتھی آتا ہے ۔ وہ اپنی سونڈ سے اٹھا کر مجھ کو اپنی پیٹھ پر رکھ لیتا ہے اور مجھ کو جنگل کی طرف لے کر چلا جاتا ہے ۔ میری ماں خواب میں کہتی ہیں کہ دیکھو، اتنا اچھا بچہ تھا اور اُس کو ہاتھی اٹھا لے گیا ۔
اب سوچتا ہوں تو میری سمجھ میں آتا ہے کہ یہ غالباً بلا تشبیہ اُسی قسم کا ایک واقعہ تھا جس کا ذکر قرآن میں حضرت موسیٰ کے بچپن کے حوالے سے ان الفاظ میں آیا ہے : واصطنعتک لنفسی (طہٰ: 41)
مجھے ایسا محسوس ہوا ہے کہ مذکورہ خواب غالباً اس بات کی علامت تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کی دعوت کے لیے بچپن ہی سے میرا انتخاب فرما لیا تھا، اور اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرت سے اس حصے کے تمام مرحلے انجام پاتے رہے۔
اس معاملے کا مزید انوکھا پن یہ ہے کہ یہ پورا معاملہ مجھے "کَبّرَنی موتُ الكُبراء" کا مصداق معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ میں انتہائی قسم کا ایک ضعیف انسان ہوں۔ بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے اپنے اندر عجز کے سوا کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ میری اہلیہ سابعہ خاتون (وفات: 2006) جو 63 سال تک میرے ساتھ رہیں، وہ اکثر میرے بارے میں یہ کہا کرتی تھیں کہ آپ کو لکھنے پڑھنے کے سوا اور کچھ نہیں آتا۔ ایسے ایک بے قیمت انسان کے لیے کیسے یہ ممکن ہوا کہ وہ عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر تیار کرے اور پھر ایسے اسباب مہیا ہوں کہ یہ لٹریچر مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر تمام دنیا میں پھیل جائے۔
میں نے کئی بار اپنے اس احساس کو اپنے ساتھیوں کے سامنے ایک کہانی کی صورت میں بیان وہ کہانی یہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایک راجا تھا۔ اُس کی کوئی اولاد نہ تھی۔ اس کا انتقال ہوا تو اس کے بعد یہ سوال ہوا کہ راج گدّی پر کس کو بٹھایا جائے۔ درباریوں نے فیصلہ کیا کہ صبح سویرے ہم لوگ باہر جنگل کی طرف جائیں گے، وہاں پہلا جو انسان ملے گا، اُس کو ہم اپنا راجہ مان لیں گے اور اس کو راج گدی پر بٹھا دیں گے۔ درباریوں نے ایسا ہی کیا۔ صبح سویرے وہ جنگل میں پہنچے تو وہاں اُنھیں ایک غریب لکڑ ہارادکھائی دیا، جو لکڑی چننے کے لیے وہاں آیا تھا۔ درباری اس کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ آج سے تم ہمارے راجا ہو۔ لکڑ ہارے نے کہا کہ میرے ساتھ مذاق نہ کرو، میں تو صرف ایک غریب لکڑ ہاراہوں۔ لیکن درباری نہیں مانے۔ انھوں نے اس لکڑ ہارے کو پکڑا۔ وہ اس کو شاہی محل میں لائے اور اس کو راج گدی پر بٹھا دیا۔
میں نے کہا کہ ایسا ہی کچھ معاملہ میرے ساتھ پیش آیا ہے۔ موجودہ زمانہ ایک بالکل بدلا ہوا قدیم دور اگر روایتی دور تھا تو موجودہ دور سائنسی دور ۔ ضرورت تھی کہ جدید دور کے اعتبار سے،
وقت کے اسلوب میں خدا کے دین کی مؤثر دعوت پیش کی جائے۔ پچھلے دوسوسال کے اندر اللہ تعالی نے مسلم ملت کے اندر بہت سے اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد پیدا کیے۔ ایسے اعلیٰ دماغ اسی لیے پیدا کیے گئے تھے کہ وہ جدید تقاضوں کی روشنی میں اسلامی دعوت کا کام کریں۔ لیکن یہ اعلیٰ دماغ رکھنے والے افراد دوسرے میدانوں میں کود پڑے، وہ خالق کی امید کو پورا نہ کرسکے۔ ایسے حالات میں مذکورہ واقعے کی طرح یہاں بھی شاید یہی معاملہ پیش آیا کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ تم دنیا میں جاؤ اور ایک فلاں’’ لکڑہارے‘‘ کو اس کام کے لیے چن لو اور اس کو ہر قسم کا سپورٹ دو، تا کہ کامل عجز کے باوجود وہ دورِ جدید میں دعوت کا کام انجام دے سکے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہانی بیان کی اور کہا کہ قدیم لکڑ ہارے کا قصہ تو غالباً صرف ایک قصہ تھا، لیکن میرے لیے وہ ایک صد فی صد حقیقت ہے۔ یہ دراصل اس معاملے میں دوسرے اعلی صلاحیت والے افراد کی ناکامی تھی جس نے میرے جیسے عاجز اور بے قیمت انسان کو یہ موقع دیا کہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی نصرتیں مجھے حاصل ہوں اور میں دورِ جدید میں دعوت الی اللہ کا مطلوب کام کر سکوں۔ مدرسۃ الاصلاح کے ذمے داروں کو معلوم ہوا کہ میں اعظم گڑھ آرہا ہوں تو انھوں نے ٹیلی فون کے ذریعے مولانا محمد ذکوان ندوی سے ربط قائم کیا۔ اس کے بعد مدرسۃ الاصلاح کا ایک پروگرام پروگرام کے مطابق، مدرسۃ الاصلاح کے دو اساتذہ مولانا انیس احمد اصلاحی، مولانا سرفراز احمد ندوی بڑھیا آئے ۔ ان کے ساتھ 31 دسمبر 2008 کی شام کو مدرسۃ الاصلاح کا سفر ہوا۔ یہ سفر بذریعہ کار ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے افراد بھی شامل تھے۔
مدرسۃ الاصلاح 1908 میں قائم ہوا۔ اس علاقے کے ایک مسلم زمین دار نے مدرسے کے لیے ایک بڑی زمین وقف کردی۔ اسی زمین پر مدرسۃ الاصلاح کا قیام عمل میں آیا۔ اس کے بانی مولانا محمد شفیع (وفات : 1945) تھے، جو ایک قریبی گاؤں سیدھا سلطان پور کے رہنے والے تھے۔ اقبال احمد خاں سہیل کے تذکرے کے تحت بتایا گیا ہے کہ ابتدائی دور میں اُن کی عربی اور فارسی تعلیم کے لیے مولانا محمد شفیع صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں۔ میری براہِ راست ملاقات مولانامحمد شفیع صاحب
سے نہیں ہوئی، البتہ میں اُن کے صاحب زادگان کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ اُن سے میر کے قریبی تعلقات رہے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اعظمی، مولانا عبد الرحمٰن پرواز اصلاحی، وغیرہ۔ مدرسۃ الاصلاح کے تعارف نامے میں بتایا گیا ہے کہ مولا نا شبلی نعمانی نے اس کے ابتدائی اغراض و مقاصد اور طریقہ کار کا اجمالی خاکہ تیار کیا۔ مولانا حمید الدین فراہی نے اس کے ابتدائی دور سے لے کر اپنی زندگی کے آخری لمحے تک بحیثیت ناظم مدرسۃ الاصلاح کی خدمت کی۔ مولانا فراہی نے اس کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی اور اس کے لیے نصاب تعلیم مقرر کیا۔
مدرسۃ الاصلاح میں داخل ہونے کے بعد ایک شخص جو پہلی چیز محسوس کرتا ہے، وہ یہاں کی سادگی ہے۔ ہم لوگ مدرسے کے مختلف حصوں میں گئے ۔ ہر جگہ ہم نے نمایاں طور پر جو چیز دیکھی، وہ اس کی سادگی تھی ۔ یہاں کے لوگ بھی سادہ اور متواضع نظر آئے۔ کا یہ ماحول غالباً اُس کے بانیوں کے تصور کی بنا پر ہے۔ یہ روایت وہاں اب تک باقی ہے۔ مولا نا شبلی نعمانی کو یہاں کی غربت اور سادگی سب سے زیادہ پسند تھی، اور انھوں نے اس کو قائم رکھنے کی سخت تاکید مولانا حمید الدین فراہی اُس زمانے میں دار العلوم حیدر آباد میں پرنسپل تھے ۔ مولانا شبلی نعمانی نے اُن کو مدرسۃ الاصلاح کے متعلق اپنے ایک خط مورخہ 19 اپریل 1910 میں لکھا کہ : ’’کیا تم چند روز سرائے میرے مدرسے میں قیام کر سکتے ہو۔ میں بھی شاید آؤں۔ اُس کا نظم و نسق درست کر دیا اُس کو گروکُل کے طور پر خالص مذہبی مدرسہ بنانا چاہیے، یعنی سادہ زندگی، قناعت اور مذہبی خدمت اس کا مطمحِ زندگی ہو‘‘ (مکاتیب شبلی، جلد 2، صفحہ 33)
مجھ کو 1938 میں مدرسۃ الاصلاح میں داخل کیا گیا ۔ اُس وقت یہ مدرسہ چند چھوٹی عمارتوں پر اب وہاں کئی بڑی بڑی عمارتیں بن گئیں ہیں۔ مثلاً اُس وقت یہاں کا کتب خانہ (دار المعلومات) صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ اب یہاں کتب خانے کے لیے ایک مستقل عمارت بن گئی ہے جس میں کتب خانہ قائم ہے۔
اس دار المعلومات سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہاں میں تقریباً روزانہ آتا تھا اور کتابوں
اور جرائد کا مطالعہ کرتا تھا۔ اُس وقت یہاں مصر کا ایک عربی جریدہ آتا تھا۔ اُس کا نام "المقتطف" تھا۔ اُس میں ایک بار ایک دل چسپ چیز چھپی تھی۔ اُس میں ایک عمل بتایا گیا تھا جس کے مطابق، آدمی اپنے مستقبل کے بارے میں جان سکتا تھا۔ وہ عمل یہ تھا کہ مخصوص تعداد میں ’’ابرا کا دابیسن كاتن‘‘ کہو۔ کے بعد ایک خاص عمل کر کے اپنا نتیجہ نکالو۔ اُس وقت امتحان کا زمانہ تھا اور جلد ہی مجھے سالانہ امتحان میں نے مذکورہ عمل کو دہرایا۔ اُس کے بعد ان الفاظ میں نتیجہ نکلا: ستنجح نجاحاً كبيراً (تم جلد ہی ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے)۔ اِس کے بعد امتحان ہوا تو میں اپنے درجے میں فرسٹ یہ صرف ایک اتفاق تھا، ورنہ کسی بھی عمل کے ذریعے مستقبل کو جاننا ممکن نہیں۔ 31 دسمبر 2008 کو مغرب کی نماز کے بعد مدرسے کی وسیع مسجد میں طلبرا اور اساتذہ کا ایک اس موقع پر مجھے خطاب کے لیے یہ عنوان دیا گیا تھا— عصرِ جدید اور نو جوانوں کی ذمے داریاں۔ اس موضوع پر میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ دورِ جدید کو معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دورِ جدید کے ذہن کو معلوم کیا جائے۔ اس معاملے میں علامہ الشاطبی نے اپنی کتاب میں درست طور پر لکھا ہے کہ استدلال نام ہے خصم کے مسلمہ عقلی پر اس کو ایڈریس کرنے کا۔ اس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آج کے انسان کو مؤثر طور پر اسلام کا پیغام پہنچائیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ آج کے انسان کا طرزِ فکر کیا ہے اور کون سا طرزِ استدلال اس کے لیے قابلِ قبول استدلال بن سکتا ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کے زمانہ قیام کی بہت سی یادیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس سفرنامے کے ذیل میں اُن میں سے کچھ کا تذکرہ کر دیا جائے۔ گاؤں کے مدرسے میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی میں نے اسی مدرسے میں عربی اور فارسی کی تعلیم شروع کر دی تھی۔ اسی زمانے میں میں نے عربی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً کتاب النحو، کتاب الصرف (مولانا عبدالرحمن، امرت سری)۔ میں نے یہاں فارسی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً گلستاں اور بوستاں (شیخ سعدی شیرازی)۔ زمانے میں یہ سب کتابیں مجھ کو ایک معمہ کی طرح نظر آتی تھیں۔ اُس زمانے میں میرے اندر نہ عربی کا
کوئی ذوق پیدا ہوا تھا اور نہ فارسی کا کوئی ذوق۔
1938 میں مجھے مدرسۃ الاصلاح میں داخل کرایا گیا۔ یہاں میں نے دوبارہ عربی اور فارسی ہوئی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے کہ میں اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آگیا ہوں۔ اب ہر مضمون میری سمجھ میں آنے لگا، یہاں تک کہ میں امتحانات میں اچھے نمبر سے پاس ہونے لگا۔ اس ذاتی تجربے سے میں نے یہ جانا کہ تعلیم کے لیے ایک پورا ماحول درکار ہوتا ہے۔ عربی علوم کی تعلیم کے لیے مدرسے کا ماحول ضروری ہے۔ اسی طرح انگریزی علوم کی تعلیم کے لیے کالج اور یونی ورسٹی کا ماحول ضروری ہے۔ انفرادی طور پر پڑھنے سے نہ کسی کو عربی علوم میں درک حاصل ہوسکتا ہے اور نہ انگریزی اس عموم میں استثنا ہوسکتا ہے، لیکن ایسا استثنا صرف ایک نادر استثنا (rare exception) ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کی زندگی کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو میں نے اپنی کتاب ’’دین وشریعت‘‘ میں درج کیا ہے۔ وہ واقعہ اس طرح ہے:
”غالباً 1940 کی بات ہے۔ ہمارے علاقے میں سخت خشک سالی ہوئی۔ برسات کا موسم گزرتا جا رہا تھا۔ مگر بارش کا کہیں پتہ نہ تھا۔ کسان روزانہ صبح اٹھتے ہی آسمان کی طرف دیکھتے تھے، مگر بادل کا ایک ٹکڑا بھی کہیں نظر نہ آتا تھا۔ بالآخر جب مایوسی حد کو پہنچ گئی تو یہ تحریک کی کہ استسقاء کی نماز پڑھی جائے۔ مدرسۃ الاصلاح سے تقریباً دو کلومیٹر دور ایک میدان میں مدرسہ کے طلبہ اور اساتذہ اور اطراف کی بستیوں کے مسلمان جمع ہوئے۔ مرحوم مولانا محمد سعید صاحب جو اس وقت مدرسۃ الاصلاح میں استاد تھے اور جن سے میں نے حدیث پڑھی تھی، انھوں نے استسقاء کی نماز پڑھائی اور آخر میں بارش کے لیے دعا کی۔ مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ ہم لوگ سخت چلچلاتی ہوئی دھوپ میں سفر کر کے وہاں پہنچے تھے اور اس حال میں نماز ادا کی تھی کہ جسم پسینے سے شرابور ہو رہا مگر نماز سے فارغ ہو کر جب ہم لوگ واپس ہوئے تو راستے ہی میں بارش شروع ہوگئی۔ لوگوں نے درختوں کے نیچے پناہ لی اور کچھ لوگ بھیگتے ہوئے اپنے گھروں کو بھاگے۔ اس تجربے میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ میں خدا کی مدد کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔
یہ واقعہ میرے اس عقیدہ کا ایک حسی مظاہرہ بن گیا کہ ’’مانگو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو وہ تمھارے واسطے کھولا جائے گا‘‘۔ اس وقت میری عمر 20 سال کے قریب تھی جب کہ انسان چیزوں کو نہایت شدت کے ساتھ اخذ کرتا ہے۔ چناں چہ یہ تجربہ میرے شعور کا مستقل جز بن وہ میری پوری شخصیت میں اس طرح شامل ہو گیا کہ پھر وہ کبھی مجھ سے جدا نہ ہو سکا۔ اس طرح کے تجربات صرف دینی مدرسہ کے ماحول میں پیش آتے ہیں۔ مدرسہ علم کے حصول کے ساتھ روحانی تربیت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ مدرسہ کے ماحول میں آدمی کو بار بار اعتماد علی اللہ اور معرفت آخرت کی خوراک ملتی رہتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں تیار ہونے والا انسان علم اور روحانیت دونوں کا مجموعہ ہوتا ہے، نہ کہ یک طرفہ قسم کا انسان، جیسا کہ عام طور پر سیکولر تعلیم گاہوں میں پایا جاتا ہے۔ مدرسہ کی یہ تربیت میرے لئے زندگی کے بعد کے دور میں میرا سب سے بڑا سرمایہ بنی کسی بڑے کام کا حوصلہ اللہ پر اعتماد کے بغیر نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہی سرمایہ مدرسہ سے مجھ کو مجھے اپنے مقصد حیات کے اعتبار سے مادی ذرائع سے زیادہ اللہ پر بھروسہ کرنا اس قسم کے مشکل فیصلہ پر قائم رہنا میرے لئے زیادہ تر اسی مدرسی تربیت کی بنا پر ممکن احیاء دعوت کا مشن جو میں نے اپنی زندگی میں اختیار کیا، وہ حدیث کی زبان میں معروف دین کے مقابلے میں اجنبی دین کے لئے کھڑا ہونا تھا۔ یہ بلاشبہہ اس آسمان کے نیچے سب سے زیادہ مشکل مشن ہے۔ اس میں آدمی کو اکیلا ہی سفر کرنا پڑتا ہے۔ سمندروں کو عبور کرنا آسان ہے، مگر اجنبی دین کو لے کر چلنا آسان نہیں۔ اللہ کے فضل سے میں اس دشوار ترین منصوبے پر ہر قسم کی رکاوٹوں اور ناموافق حالات کے باوجود قائم رہا، یہاں تک کہ فضا تبدیل ہوگئی۔ اس انجام کو دیکھنے کے لئے مجھے 40 سال کا صبر آزما انتظار کرنا اور اس قسم کا انتظار اعتماد علی اللہ کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ میرے زمانہ تعلیم میں مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) مدرسۃ الاصلاح کے
صدر مدرس تھے۔ میرے تجربے کے مطابق، مولانا موصوف ایک بہترین مدرس تھے۔ وہ اگر مدرسے میں مستقل قیام کرتے تو وہ زیادہ بڑا کام کر سکتے تھے۔ تقسیم ملک (1947) کے وقت وہ پاکستان چلے گئے اور وہیں اُن کا انتقال ہوگیا۔ میرے نزدیک، مولانا موصوف کا مدرسۃ الاصلاح چھوڑ کر پاکستان جانا کوئی درست فیصلہ نہ تھا۔ اگر وہ آخر وقت تک مدرسے میں قیام کرتے تو وہ تعمیرِ افراد کی صورت میں ملت کو زیادہ بڑا فائدہ پہنچا سکتے تھے۔
مولانا امین احسن اصلاحی کے اندر ایک خاص صفت تھی جو میں نے اپنے تجربے میں کسی اور استاد کے اندر نہیں پائی، وہ ہے تدریس کے دوران ذہنی تربیت کی غذا دیتے رہنا۔ اس نوعیت کا ایک نمایاں واقعہ یہاں راقم الحروف کی کتاب ’’ دین و شریعت ‘‘ سے نقل کیا جاتا ہے: ” مدرسۃ الاصلاح میں قرآن خصوصی طور پر داخلِ نصاب تھا۔ یہاں مجھے یہ موقع ملا کہ میں مشہور عالم دین اور مفسر مولانا امین احسن اصلاحی (صاحبِ تدبر قرآن) سے براہِ راست قرآن کی تعلیم حاصل کروں۔ مولانا محترم اُس مدرسے میں استادِ تفسیر بھی تھے اور صدر مدرس ایک روز درسِ قرآن کے دوران قرآن کے تیسویں پارہ کی یہ آیت سامنے آئی: أفلا ينظرون إلى الإبل كيف خلقت (الغاشية: 17)۔ استادِ محترم مولانا امین احسن اصلاحی نے اس موقع پر طلبہ سے سوال کیا کہ اونٹ کے سُم پھٹے ہوتے ہیں یا وہ جڑے ہوئے ہوتے ہیں، یعنی وہ بیل کی مانند ہوتے ہیں یا گھوڑے کی مانند۔ اس وقت ہماری جماعت میں تقریباً 20 طالب علم تھے، مگر کوئی بھی شخص یقین کے ساتھ اس کا جواب نہ دے سکا۔ اٹکل سے کبھی ایک جواب دیتا اور کبھی دوسرا جواب۔
اس کے بعد استادِ محترم نے ایک تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ تمھارے جوابات سے اندازہ ہوتا ہے کہ تم لوگ اونٹ کے سُم کی نوعیت کے بارے میں نہیں جانتے۔ پھر انھوں نے عربی زبان کا یہ مقولہ سنایا: ”لا أدری‘‘، نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے) اس کی تشریح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اگر تم لوگ یہ جانتے کہ تم اونٹ کے سم کے بارے میں بے خبر ہو تو گویا
کہ اس معاملے میں تمھارے پاس آدھا علم موجود ہوتا۔ کیوں کہ اپنی لا علمی کو جاننے کے بعد تمھارے اندر یہ شوق پیدا ہوتا کہ تم اپنے علم کو مکمل کرنے کے لئے یہ معلوم کرو کہ اونٹ کے سم کیسے ہوتے ہیں۔ اگر لا ادری کا شعور تمھارے اندر بیدار ہوتا تو اونٹ پر نظر پڑتے ہی تم اس کے سم کو غور سے دیکھتے اور پھر تم اپنے نہ جاننے کو جاننا بنا لیتے ۔ ‘‘ (صفحہ 140) مدرسے کا یہ واقعہ میرے لئے اتنا مؤثر ثابت ہوا کہ یہ میرا عمومی مزاج بن گیا کہ میں ہر معاملے میں اپنی نا واقفیت کو جانوں، تاکہ میں اس کو واقفیت بنا سکوں۔ علمی تلاش کا یہ جذبہ مجھے ابتداء مدرسہ سے بعد کو میں نے اس موضوع پر مغربی مصنفین کی کچھ کتابیں پڑھیں، مثلاً اسپرٹ آف انکوائری (Spirit of Inquiry)۔ ان سے معلوم ہوا کہ تجسس کا یہی جذبہ تمام علمی ترقیوں کی اصل بنیاد ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سائنسی دریافتوں کا آغاز شبہات (doubts) سے ہوا۔ سائنس داں ایک واقعے کو دیکھتا ہے، پھر اس کے اندر ایک شبہہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ وہ اس کی تحقیق میں لگ جاتا ہے۔ آخر کار وہ ایک ایسی حقیقت کو دریافت (discover) کرتا ہے جو اس سے پہلے اس کو معلوم نہ تھی۔ برٹرینڈ رسل کی کتاب ول ٹو ڈاؤٹ (Will to Doubt) خاص اسی موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال بھاپ کی طاقت (steam power) کی دریافت ہے۔ ہے کہ برٹش سائنس داں جارج اسٹیفنسن (George Stephenson) ایک دن اپنے گھر پر تھا۔ نے دیکھا کہ اس کے گھر والے ایک برتن میں پانی گرم کر رہے ہیں۔ جب اُس کا درجہ حرارت ایک خاص نقطے پر پہنچا تو اندر سے ابال آیا اور برتن کے اوپر رکھا ہوا ڈھکن اٹھ گیا۔ اُس کو دیکھ کر جارج اسٹیفنسن اس کے بارے میں سوچنے لگا۔ اس نے جاننا چاہا کہ برتن میں ابال کیوں آیا اور ڈھکن اوپر کیوں اٹھ گیا۔ اس پر غور کرتے ہوئے وہ اس دریافت تک پہنچا کہ پانی کا درجہ حرارت جب 100 ڈگری سے زیادہ ہو جاتا ہے تو پانی کے سالمات (molecules) ٹوٹنے لگتے ہیں۔ ایٹم (atoms) منتشر ہونے لگتے ہیں۔ اس ایٹمی انتشار (atomic disintegration) سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے، اس کا نام اسٹیم پاور (steam power) ہے۔ جارج اسٹیفنسن نے
اس ٹیم پاور کو دریافت کر کے اس کو انجن میں استعمال کیا اور اس طرح اس نے پہلی بار 1814 میں ایک دخانی انجن (locomotive) کو چلایا۔
دینی مدارس میں عام طور پر تقدس (holiness) کا مزاج چھایا ہوا ہوتا ہے۔ جہاں تقدس آیا، وہاں پُر اسراریت آگئی۔ اس ماحول میں ایسا ہوتا ہے کہ لوگ چیزوں کو مقدس سمجھ لیتے ہیں۔ وہ اُن پر مزید غور و فکر کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ اس طرح تقدس کا مزاج فکری ارتقا کے لیے قاتل بن جاتا ہے۔ فکری ارتقا کا آغاز شبہہ (doubt) سے ہوتا ہے۔ شبہہ سے آغاز کر کے آدمی حقیقت کی شعوری دریافت تک پہنچتا ہے۔ جہاں شبہہ کو عیب سمجھ لیا جائے، وہاں ذہنی ارتقا کا آغاز بھی نہیں ہوگا۔ مدرسۃ الاصلاح ریلوے لائن کے قریب واقع ہے۔ اس علاقے میں یہ ریلوے لائن برٹش دور میں 1901 میں بچھائی گئی تھی۔ میرے ایک استاد مولانا نور الہدی اصلاحی (وفات: 1972) تھے، وہ شاعر بھی تھے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا تھا کہ ہماری کلاس چل رہی ہے۔ اس دوران ریلوے اسٹیشن سے انجن کی سیٹی کی آواز آئی اور پھر مخصوص آواز کے ساتھ ٹرین چلنے لگی۔ مولانا نور الہدی اصلاحی اپنا یہ شعر پڑھتے تھے: