پوُ سے سیٹی دیا اور پھر چل پڑی
Al-Risala, May 2009, pp. 40–49
By Maulana Wahiduddin Khan
اُس زمانے کا جو ماحول تھا، اُس کی یہ ایک مثال ہے۔ اپنی نوجوانی کی عمر میں، میں ریلوے کے بارے میں اس سے زیادہ اور کچھ نہ جان سکا۔ بعد کو میں نے جواہر لال نہرو (وفات: 1969) کی کتاب (آٹو بياگرافی) پڑھی۔ اُس میں مصنف نے لکھا تھا کہ انگریزوں نے انڈیا میں جو ریلوے لائن بچھائی ہے، وہ ریلوے نہیں ہے، بلکہ یہ لوہے کی زنجیریں ہیں۔ ان کو انگریزوں نے انڈیا کو اپنی غلامی میں جکڑنے کے لیے بچھایا ہے۔
آزادی سے پہلے کے دور میں، میں ریلوے کے بارے میں اتنا ہی جان سکا تھا۔ میں ہر طرف اسی قسم کی منفی باتیں چھائی ہوئی تھیں جو دوسروں کی طرح میرے ذہن کی بھی کنڈیشننگ کر رہی تھیں۔ بعد کو جب میں نے براہِ راست طور پر چیزوں کا مطالعہ کیا تو میں نے ذاتی دریافت کے
ذریعے یہ جانا کہ برٹش جونو آبادیاتی نظام کے تحت انڈیا میں آئے، وہ ایک تاریخی عمل کا جز تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، انڈیا میں اُن کا آنا جدید سائنس اور انگریزی زبان کا انڈیا میں آنا تھا۔ جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب (The Discovery of India) میں لکھا ہے کہ عرب جو ہندستان میں آئے، وہ یہاں ایک شان دار کلچر(brilliant culture) لے کر آئے۔ اسی طرح برٹش جو انڈیا میں آئے، وہ انڈیا میں ایک شان دار سائنس لے کر آئے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اُن کا انڈیا میں آنا تاریخ کا ایک مثبت واقعہ تھا، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی منفی واقعہ۔
انڈیا میں جو بڑے بڑے عربی مدارس ہیں، اُن سب میں مشترک طور پر ایک نقص پایا جاتا ہے، وہ یہ کہ یہ تمام مدارس، تعلیم برائے مسلک کے اصول پر قائم کیے گئے ہیں۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ مدارس کو تعلیم برائے تعلیم کے اصول پر قائم کیا جائے ۔ ہر مدرسے کا اپنا ایک مسلک ہے اور یہی مسلک اس کی تمام تعلیمی سرگرمیوں میں چھایا رہتا ہے ۔ مدرسۃ الاصلاح کا اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ مدرسۃ الاصلاح کا مسلک مولانا حمید الدین فراہی کے تصورِ نظمِ قرآن پر قائم ہے۔ نظمِ قرآن کی الگ سے جو بھی حیثیت ہو، لیکن اس کو مدرسے کا مسلک قرار دینا ہرگز درست نہیں۔
اہلِ علم عام طور پر یہ شکایت کرتے ہیں کہ مدارس میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹر پن کا مزاج ہوتا ہے، جب کہ کالجوں اور یو نیورسٹیوں میں تعلیم پائے ہوئے افراد کے اندر عام طور پر تعصب اور کٹرپن کا مزاج نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہی ہے کہ مدارس میں "تعلیم برائے مسلک" کا اصول رائج ہے، جب کہ سیکولر ادارے "تعلیم برائے تعلیم" کے اصول پر چلائے جاتے یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ "تعلیم برائے مسلک" کا ایک بہت بڑا نقصان ہے، وہ یہ کہ ان اداروں میں آزادانہ تفکیر کا ماحول نہیں ہوتا۔ اور آزادانہ تفکیر کا خاتمہ ہمیشہ ایک بھاری قیمت پر ہوتا ہے، وہ یہ کہ ایسے ماحول میں تخلیقی فکر (creative thinking) ختم ہو جاتی ہے۔ تخلیقی فکر کا نشو و نما نہ پانا اتنا بڑا نقصان ہے جس کی تلافی کسی بھی دوسری چیز سے ممکن نہیں۔
مدرسۃ الاصلاح سے رات ہی کو ہم لوگ بڑھ کر واپس آئے، جو تقریبا تین میل کے فاصلے پر واقع
ہم نے بڑھریا میں رات گزاری۔ یکم جنوری 2009 کی صبح کو ہم لوگ قافلے کی صورت میں چھاؤں کی طرف روانہ ہوئے۔ چھاؤں میں ہم لوگوں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور یہاں کئی گھنٹے قیام کیا۔ چھاؤں، ضلع اعظم گڑھ کا ایک گاؤں ہے۔ یہاں کا پروگرام مسٹر شکیل احمد خاں نے بنایا تھا۔ پروگرام کے مطابق، ہم کو چھاؤں میں کچھ دیر قیام کرنا تھا۔ چھاؤں میں ایک سبق آموز واقعہ پیش آیا۔ میرے ساتھیوں نے چاہا کہ میں اس کو دیکھوں اور اس کو اپنے سفر نامے میں شامل کروں۔ چھاؤں تک پختہ سڑک بن گئی ہے۔ ہماری گاڑی چلتے ہوئے مسٹر شاہد کے فارم ہاؤس پر پہنچی۔ یہ فارم ہاؤس 18 بیگہ زمین کے رقبے پر بنایا گیا ہے۔ اُس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ میں نے دہلی کے آس پاس کئی فارم ہاؤس دیکھے ہیں، مگر یہ فارم ہاؤس مجھے اُن سے بہتر نظر آتا ہے۔ یہاں پر ایک وسیع اور خوب صورت تالاب ہے۔ مختلف قسم کے پھولوں اور پھلوں کے درخت یہاں موجود ہیں۔ جیسی فضائی آلودگی (air pollution) یہاں موجود نہیں۔ خالص ہوا، سنہری دھوپ، فطرت کا ماحول اور مکمل سکون، اس طرح کی چیزوں نے اس مقام کو جنت کا ایک تعارف بنا دیا ہے۔ فضا میں اُڑتی ہوئی چڑیاں اس کی خوب صورتی میں مزید اضافہ کر رہی تھیں۔ یہاں میں نے ماحول کی نسبت سے کچھ باتیں کہیں جو ویڈیو کی صورت میں اُسی وقت ریکارڈ کر لی گئیں۔ مسٹر شاہد کے بھائی مسٹر ظہیر الاسلام یہاں موجود تھے، انھوں نے ہمارے ساتھ ہر قسم کا تعاون کیا۔
میں نے کہا کہ مسٹر شاہد میرے عزیز ہیں۔ اُن کو میں بچپن سے جانتا ہوں۔ بعض اسباب کی بنا پر وہ گھر کو چھوڑ کر بمبئی چلے گئے تھے۔ اُس وقت ظاہری اعتبار سے اُن کے پاس نہ بزنس کرنے کے لیے کوئی سرمایہ تھا اور نہ سروس کرنے کے لیے کوئی ڈگری۔ بظاہر وہ کسی خصوصی صلاحیت کے مالک بھی دکھائی نہ دیتے تھے۔ بمبئی پہنچ کر انھوں نے ایک مزدور کی حیثیت سے اپنا کام شروع کیا، اور وہ تھا گھروں میں پینٹنگ (painting) کرنا۔ وہ اپنا کام نہایت محنت اور توجہ کے ساتھ کرتے تھے۔ چناں چہ اُن کا کام بڑھا، یہاں تک کہ انھوں نے اپنی کمپنی بنا لی۔ اب اُن کا یہ کام ایک بڑے کاروبار کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اُن کا کام اتنا اچھا ہوتا ہے کہ ہر طبقے کے لوگ ان سے اپنا کام لینا پسند کرتے
اپنے کام کے اعتبار سے اُن کو مارکیٹ میں زبردست اعتماد حاصل ہو چکا ہے۔ اسی کے ساتھ مسٹر شاہد کے اندر اخلاقی صفات بھی پوری طرح پائے جاتے ہیں۔ اپنی کمائی کو فضول ضائع نہیں کیا۔ انھوں نے اپنے آبائی گاؤں (چھاؤں) میں جدید طرز کا ایک فارم ہاؤس بنایا۔ یہ فارم ہاؤس ایک قسم کی صحت گاہ ہے۔ یہاں پہنچ کر آدمی اپنے آپ کو فطرت کی دنیا میں پاتا ہے۔ یہاں منفی احساسات اور ذہنی ٹنشن جیسی چیزیں اپنے آپ ختم ہو جاتی ہیں۔ میں نے اور میرے ساتھیوں نے یہاں چند گھنٹے گزارے۔ میں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ یہ فارم ہاؤس خاموش زبان میں ایک پیغام دے رہا ہے، وہ یہ کہ انڈیا میں مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی ترقی کے مواقع پوری طرح موجود ہیں۔ ضرورت صرف دانش مندانہ منصوبہ بندی کی ہے۔ اگر دانش مندی اور منصوبہ بند عمل کا ثبوت دیا جائے تو اس ملک میں ہر قسم کی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔
ہندوستان میں اکثر یہ سوال کیا جاتا ہے کہ یہاں کے مسلمان کیا کریں۔ میں کہوں گا کہ مسلمان صرف یہ کریں کہ وہ خدا کا شکر ادا کریں۔ مسلمانوں کے لیڈروں نے پچھلے سو سال کے اندر مسلمانوں کو طرح طرح کے مسائل سے دوچار کیا ہے۔ لیکن خدا کی اس دنیا میں مواقع اتنے زیادہ ہیں کہ کوئی بھی نادانی اس کا خاتمہ نہیں کرتی۔ چناں چہ مسلم رہنماؤں کی مسلسل نادانیوں کے باوجود اب بھی یہاں قیمتی مواقع موجود ہیں جن کو استعمال کر کے مسلمان ہر قسم کی ترقی حاصل کر سکیں۔ اس صورتِ حال میں مسلمانوں کو صرف شکر کرنا ہے۔ شکایت اور احتجاج جیسی چیزوں کے لیے یہاں کوئی جواز موجود نہیں۔ یکم جنوری 2009 کو جب کہ میں چھاؤں کے اس فارم ہاؤس میں بیٹھا ہوا تھا، گاؤں کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان مجھ سے ملنے کے لیے آئے۔ وضع قطع کے لحاظ سے بظاہر وہ خوش حال دکھائی حسبِ معمول میں نے اُن سے کہا کہ اپنے کچھ تجربات بتائیے۔ انھوں نے کہا تجربات کیا، آپ کو معلوم ہے کہ آج کل مسلمانوں کے ساتھ کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ مسلمانوں کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے ہیں۔ میں نے ان سے زیادہ بات نہیں کی۔
میں سوچنے لگا کہ مثبت واقعات کے درمیان آدمی منفی بات کیوں کرتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے
کہ لوگ اپنے قدموں کے نیچے نہیں دیکھتے۔ وہ اپنے آس پاس کی دنیا کو دیکھ کر رائے نہیں بناتے۔ کی خبروں کو لے کر اپنی رائے بناتے ہیں۔ اس بنا پر وہ دیکھتے ہوئے بھی نہ دیکھنے والے بن جاتے ہیں۔ جاننے کے باوجود نہ جاننے والوں کی طرح بولنے لگتے ہیں۔ یہ انسان کی عجیب کم زوری ہے کہ منفی باتیں اس کو خوب دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن مثبت باتوں کو دیکھنے کے لیے وہ اندھا بن جاتا ہے۔ چھاؤں کے فارم ہاؤس کا موجودہ استعمال صرف یہ ہے کہ وہ لوگوں کے لیے مفت تفریح (free entertainment) کا ذریعہ بنا ہوا ہے۔ عزیزوں اور دوستوں کے علاوہ، ممتاز افراد بھی یہاں آتے ہیں اور تفریح کے کچھ لمحات گزار کر چلے جاتے ہیں۔ میرا احساس ہے کہ یہ اس مقام کا صرف ایک کم تر استعمال ہے۔ موجودہ زمانے کے اعتبار سے اس مقام کو کوئی تعمیری مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً یہاں ایک معیاری اسکول قائم کیا جائے، جیسا کہ بڑھریا میں قائم کیا گیا ہے، یا یہاں ایک اچھا اسپتال بنایا جائے جہاں جدید طرز پر لوگوں کے لیے علاج کا انتظام ہو، وغیرہ۔ موجودہ زمانے میں صنعتی کثافت (industrial pollution) کی بنا پر شہروں کی فضا نہایت خراب ہو گئی ہے۔ لوگ مجبورانہ طور پر شہروں میں رہتے ہیں، ورنہ عام طور پر شہروں میں یہ احساس پایا جاتا ہے کہ شہر اب رہنے کے قابل نہیں ہیں۔ ایسی حالت میں اگر فطرت کی اس دنیا میں اسکول اور اسپتال جیسی چیزیں بنائی جائیں تو لوگ دور دور سے یہاں آئیں گے۔ وہ اس کی بڑی بڑی قیمت دے کر اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح اس مقام پر جب لوگوں کا آنا جانا ہونے لگے گا تو اُس سے ایک اور زیادہ بڑے فائدے کے مواقع نکل آئیں گے اور وہ ہے دعوت الی اللہ، یعنی یہاں آنے اور جانے والوں کے درمیان دعوتی ملاقاتیں، یہاں دعوتی لکچر کا انتظام، دعوت کے مقصد کے تحت لائبریری اور ریڈنگ روم، لوگوں کو دعوتی کتابیں فراہم کرنا، وغیرہ۔
دوپہر کے کھانے کے بعد ہم لوگ چھاؤں سے اعظم گڑھ کے لیے روانہ ہوئے۔ شہر میں داخل ہونے کے بعد ہم لوگ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں پہنچے۔ یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے ظہر کی نماز نماز کے بعد میں نے مختلف نشستوں میں اپنے کچھ تجربات بیان کیے ۔ یہ تجربات تقریر کی
صورت میں تھے۔ وہ اُسی وقت ریکارڈ کر لیے گئے۔ ڈاکٹر احمد صفی انصاری اِس پورے سفر میں ہمارے اُن کا پورا تعاون ہم کو حاصل تھا۔
یکم جنوری 2009 کی شام کو عصر کے بعد اعظم گڑھ سے دہلی کے لیے روانگی کا پروگرام تھا۔ معلوم ہوا کہ ”کیفیات ایکسپریس“ بہت زیادہ لیٹ ہے۔ اِس لیے ڈاکٹر احمد صفی انصاری کی دعوت پر ہم لوگ گیسٹ ہاؤس سے روانہ ہو کر اُن کے مکان، محلہ ریڈو پور پہنچے۔ یہ مکان شہر کے کنارے کھلی جگہ پر یہاں پہنچ کر ہم لوگوں نے رات کا کھانا کھایا۔ یہاں ہماری ٹیم کے لوگوں کے علاوہ خاندان کے کئی افراد اکٹھا ہو گئے۔ اُن کے سامنے مختلف موضوعات پر دیر تک بات ہوتی رہی۔ میں نے جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ اکثر لوگ پُرخوری (overeating) کا شکار رہتے ہیں۔ اِس کے نتیجے میں طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ مولانا اشرف علی تھانوی (وفات: 1943) سے اُن کے ایک شاگرد نے پوچھا کہ آپ اکثر کم خوری کی نصیحت کرتے ہیں۔ کا طریقہ کیا ہے۔ کیسے آدمی کو یہ معلوم ہو کہ اُس نے ضرورت کے بقدر کھانا کھا لیا ہے اور اب مزید کھانا پُرخوری کہلائے گا۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے کہا کہ کھانا کھانے کے دوران ایک مرحلہ آتا ہے، جب کہ آدمی کا دل چاہتا ہے کہ مزید کھانا کھائیں یا نہ کھائیں۔ یہی مرحلہ کم کھانے کا مرحلہ ہے۔ چاہیے کہ وہ اُس وقت اپنا ہاتھ روک لے اور مزید کھانا نہ کھائے۔
مولانا اشرف علی تھانوی کی یہ بات بالکل درست تھی۔ اِس معاملے میں سائنسی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ آدمی جب کھانا کھاتا ہے اور ضرورت کے بقدر اس کا پیٹ بھر جاتا ہے تو شعوری طور پر فوراً اِس کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔ شکم سیری کے معاملے کو شعوری طور پر سمجھنے میں تقریباً بیس منٹ لگ جاتے ہیں: It takes your body about 20 minutes to signal to your brain that it is full. So eat slowly, and stop when you feel half full. (The Times of India, September 28, 2007)
یہاں ایک مسلم نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ایک صاحب کی بہت تعریف کی جوان کے نزدیک موجودہ زمانے میں اسلام کے سب سے بڑے ہیرو ہیں۔ یہ صاحب تقریریں کرتے ہیں اور اپنی
تقریر میں ایسی باتیں کہتے ہیں جن سے مسلمانوں کو دوسروں کے مقابلے میں فخر کی غذا ملتی ہے۔ خوش ہوکر ان کے جلسے میں تالیاں بجاتے ہیں۔ میں نے مذکورہ مسلم نوجوان سے دو باتیں کہیں ۔ اُن سے پوچھا کہ جن کو آپ اسلام کا ہیرو بتاتے ہیں ، کیا ان کے جلسے میں تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ کہا کہ ہاں، میں خود بھی تالیاں بجاتا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کی جماعت میں خطاب فرماتے تھے۔ کیا صحابہ وہاں تالیاں بجاتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ جو کام صحابہ نے نہیں کیا ، وہ آپ لوگ کرتے ہیں اور اس کو اپنے لئے فخر سمجھتے ہیں ، یہ تو بلا شبہ ایک بدعت ہے اور بدعت کو حدیث میں ضلالت (گمراہی) کہا گیا ہے۔ ایسی تقریر قابلِ مذمت ہے، نہ کہ قابلِ تعریف۔ دوسرا سوال میں نے ان سے یہ کیا کہ مذکورہ مسلم اسپیکر کی آپ اتنی زیادہ تعریف کرتے ہیں۔ یہ بتائیے کہ ان کی تقریریں سننے یا ان کے پروگرام دیکھنے سے خود آپ کی شخصیت میں کیا تبدیلی ہوئی: What change do you feel has come to your personality after listening to his speeches. مذکورہ مسلم نوجوان نے میرے اس سوال کو اس طرح سنا جیسے کہ ان کے لئے یہ ایک عجیب سوال وہ میرے اس سوال کے جواب میں اپنی شخصیت کے اندر کسی تبدیلی کا حوالہ نہ دے سکے۔ کہا کہ مذکورہ مقرر کو آپ اسلامی داعی کہتے ہیں۔ زیادہ صحیح الفاظ میں وہ اسلام کے نام پر تفریح مہیا کرنے والے (Islamic entertainer) ہیں۔ ان کی تقریریں سننا ایسا ہی ہے جیسے تفریح کے لئے کوئی فلم اس قسم کے پروگرام مقرر اور سامع دونوں کے لئے ایک گناہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسلامی نقطۂ نظر سے ایسے پروگراموں میں شرکت بھی گناہ ہے اور اس کے لئے کسی قسم کا تعاون دینا بھی گناہ۔ میں نے کہا کہ اسلامی تقریر کا معیار یہ نہیں ہے کہ اس کو سن کر لوگوں کو اپنی برتری کی غذا ملے، وہ کوئی شخص ان کو اپنا ہیرو دکھائی دینے لگے۔ اس کے برعکس، اسلام کی تقریر و تحریر کا معیار یہ ہے کہ اس سے لوگوں کے اندر ذاتی محاسبہ (introspection) کی سوچ جاگے ۔ اس سے لوگوں کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کی پکڑ کا احساس پیدا ہو۔ اس سے لوگوں کی سوچ میں اور ان کے عمل میں بدلاؤ آنے اس سے لوگوں کو دینی غذا ملے اور ان کے ایمان میں اضافہ ہو۔ جس تقریر و تحریر سے لوگوں کو اس قسم کا
ذاتی فائدہ حاصل نہ ہو وہ صرف ایک ذہنی تفریح ہے، اس کا دین سے کوئی تعلق نہیں۔ میں نے کہا کہ اگر آپ بزنس کریں تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ بزنس کا معیار آمدنی جس بزنس کا یہ حال ہو کہ ساری محنت کے باوجود آپ کو اس سے کوئی آمدنی نہ ملے، ایسا بزنس صرف وقت اور مال کا ضیاع ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی بزنس۔ میں نے کہا کہ ایسے بزنس کو ہر آدمی چھوڑ دے گا۔ یہی معاملہ آپ کو مذکورہ قسم کے پروگرام کے بارے میں کرنا چاہیے۔ میں نے کہا آپ جیسے لوگ بزنس کے معاملے میں سنجیدہ ہیں اس لئے بزنس کے معاملے کو خوب سمجھتے لیتے ہیں۔ لیکن اسلام کے معاملے میں آپ سنجیدہ نہیں، اس لئے اسلام کی بات آپ کی سمجھ میں نہیں آتی۔ اسلام کے نام سے آپ صرف اپنے قومی فخر کو جانتے ہیں، نہ کہ خود اسلام کو۔ ڈاکٹر احمد صفی انصاری کے گھر سے روانہ ہو کر ہم لوگ اعظم گڑھ ریلوے اسٹیشن پہنچے۔ میں ہماری گاڑی بارہ گھنٹے لیٹ تھی ۔ یہ تاخیر کہر (fog) کی وجہ سے ہوئی تھی۔ ہم لوگ اسٹیشن پہنچے تو گاڑی آچکی تھی۔ ہم لوگ گاڑی پر سوار ہو گئے۔ اعظم گڑھ اسٹیشن سے ہم دہلی کے لیے روانہ ہوئے تو رات کے تقریبا بارہ بج چکے تھے۔ یہ رات کا وقت تھا، اس لیے زیادہ وقت سونے میں گزرا۔ 2 جنوری 2009 کو رات ایک بجے ہم لوگ دہلی پہنچے۔ ہم لوگ اسٹیشن سے باہر آئے تو یہاں ہمارے ساتھی کار کے ساتھ موجود تھے۔ ہم اُن کے ساتھ روانہ ہو کر دوبارہ نظام الدین ویسٹ پہنچ گئے۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)
صنعتی انفجار کے زمانے میں معاشی محرومی کی شکایت کرنا ایسا ہی ہے جیسے بارش کے زمانے میں پانی نہ ملنے کی شکایت کرنا۔
بسم الله الرحمن الرحيم جاری کردہ 1976 اردو اور انگریزی میں شائع ہونے والا اسلامی مرکز کا ترجمان قرآن کی ایک آیت حبل اللہ، حبل الناس تعلم ایمان، تعلم معرفت نصف ثانی کی سیاست 2 20 شور شور، شور 3 21 22 غیر دعویٰ ذہن کا نقصان 4 علم، ایمان، علم معرفت 24 مفکر کون 5 تقویٰ کیا ہے مولاناوحیدالدین خاں 25 سیاسی تعبیر ، راہبانہ تعبیر 6 شکایت کو نفرت تک پہنچانا صدر اسلامی مرکز عمل کی تزئین قرآن اور عقل خدا کا فلسفیانہ تصور معرفت کے درجات سب سے بڑی عبادت سے محرومی تعمیر دنیا، تیاری آخرت دعوت، دعوت، دعوت اخلاق کیا ہے موت کی طرف سفر 7 اپنی نماز جنازہ 8 وقت ختم ہوگیا 9 عمر اور صحت 10 تعزیتی جلسے ایک بدعت 11 حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ کامیابی کا راز 12 محبت، خیرخواہی 13 ترقی کا زینہ 14 پھر سے سوچیئے 15 سوال جواب 18 خبر نامہ اسلامی مرکز 19