نفرت کلچر
Al-Risala, June 2009, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
امریکہ کے سابق صدر جارج بش اپنے آخری دور صدارت میں عراق گئے، وہاں 4 دسمبر 2008 کو بغداد میں ایک پریس کانفرنس تھی۔ اس موقع پر ایک عراقی صحافی منتظر الزیدی نے اپنا جوتا نکال کر جارج بش کی طرف پھینکا۔ اس واقعے پر سارا مسلم ورلڈ جھوم اٹھا۔ ایک عرب دولت مند نے اس صحافی کو ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا، وغیرہ۔ اس واقعے کے بعد مسلم دنیا میں ایک نیا احتجاجی کلچر چل پڑا جس کو جوتا کلچر کہا جا سکتا ایک مسلم اخبار نے جوتا پھینکنے کے ان مناظر کی تصویریں چھاپی ہیں اور اس پر یہ عنوان قائم کیا ہے: Shoes that made history. موجودہ زمانے کے مسلمان منفی سوچ میں جی رہے ہیں۔ مذکورہ واقعہ اس منفی سوچ کا ایک انتہائی بدنما مظاہرہ ہے۔ اس جوتا کلچر کا صرف یہ نتیجہ ہوا کہ اس نے عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کی تصویر بگاڑ دی ۔ اس لیے اس کا صحیح عنوان یہ ہونا چاہیے: