Shoes that distorted the image of Islam.
Al-Risala, June 2009, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
جوتا پھینکنے کا یہ کلچر اپنی حقیقت کے اعتبار سے دوسروں پر جوتا پھینکنا نہیں ہے، بلکہ وہ خود اپنے آپ پر جوتا پھینکنا ہے۔ ایسا کر کے مسلمان دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچارہے ہیں، بلکہ وہ خود اپنے آپ کو ایکسپوز (expose) کر رہے ہیں۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات یہ بتاتے ہیں کہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے پاس دوسروں کے لیے صرف نفرت کا سرمایہ ہے۔ یہ بلاشبہہ وہی نفسیات ہے جس کا مظاہرہ آدم کی تخلیق کے وقت ابلیس نے کیا تھا۔ جو لوگ انسان کے خلاف اس قسم کی نفرت آمیز نفسیات میں مبتلا ہوں، انھیں سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے اس عمل سے کس کی پیروی کر رہے ہیں۔ کے افعال بلاشبہہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والے ہیں۔ وہ کسی کو خدا کی رحمت کا مستحق بنانے والے سچا مومن وہ ہے جو انسان سے محبت کرے۔ جو لوگ انسان سے نفرت کریں، وہ سچے مومن نہیں۔ جوتا کلچر انسانی شرافت کے بھی خلاف ہے اور ایمان اور اسلام کے بھی خلاف۔