Al-Risala · January 2009

گھِیٹو ذہنیت کا نقصان

Al-Risala, January 2009, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ تمام مسلمان منفی سوچ (negative thinking) میں جی رہے ہیں۔ مذہبی مسلمان اور سیکولر مسلمان دونوں یکساں طور پر اس قسم کی سوچ رکھتے ہیں، اُن کے مرد بھی اور ان کی عورتیں بھی۔ کسی مسلمان سے بات کیجیے، کسی مسلمان کے جلسے میں جائیے کسی مسلم ادارے کا معائنہ کیجیے، مسلمانوں کا کوئی اخبار یا میگزین پڑھیے، ہر جگہ آپ کو یہی منفی سوچ دکھائی دے گی۔ منفی سوچ ہمیشہ کسی کے خلاف ہوتی ہے، مگر یہ ایک سنگین حقیقت ہے کہ منفی سوچ کا نقصان خود منفی سوچ والوں کو ہوتا ہے، نہ کہ اُن لوگوں کو جن کے خلاف منفی انداز میں سوچا جارہا ہے۔ فطرت کا قانون ہے، اور اس قانون میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔

منفی ذہنیت (negative mentality) کا مطلب ہے، گھِیٹو ذہنیت (ghetto mentality)۔ اس طرز فکر کا نتیجہ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ایسے لوگ دوسروں سے کٹ جاتے ہیں۔ وہ علاحدگی پسندی کے خول میں جینے لگتے ہیں۔ اس طرح دوسروں کے ساتھ اُن کا انٹرییکشن (interaction) ختم ہو جاتا اس کا بھیانک نتیجہ پس ماندگی اور کجھڑڑے پن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ یہ صورتِ حال فریقِ ثانی کے لیے بے حد مفید ہے۔ 1947 سے پہلے اس ملک میں انگریزوں کا اصول یہ تھا کہ لڑاؤ اور حکومت کرو (divide and rule)۔ مسلمان اپنی منفی ذہنیت کی بنا پر آج کی’’غیر قوم‘‘ کو یہ موقع دے رہے ہیں کہ۔ مسلمانوں کو منفی ذہنیت میں جینے دو، اس طرح ہمارا دبدبہ ان کے اوپر قائم رہے گا۔

زندگی کا راز علاحدگی پسندی میں نہیں ہے، بلکہ انٹرییکشن میں ہے۔ زندگی کا راز لوگوں سے قریب ہونے میں ہے، لوگوں سے دور ہونے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز دوسروں کا خیر خواہ بننے میں ہے، دوسروں سے نفرت کرنے میں نہیں ہے۔ زندگی کا راز مثبت طرزِ فکر میں ہے، منفی طرزِ فکر صرف ہلاکت کا ذریعہ ہے، نہ کہ زندگی کا سرچشمہ۔

Printed page