Al-Risala · June 2009

تعزیتی جلسے ایک بدعت

Al-Risala, June 2009, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کل عام طور پر یہ رواج ہے کہ جب کوئی بڑا شخص مرتا ہے تو تعزیت کے نام پر جلسے کیے جاتے ہیں اور تعزیتی بیانات اخباروں میں چھپوائے جاتے ہیں۔ یہ طریقہ بلاشبہ ایک بدعت اس قسم کی تعزیت کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ محض ایک مظاہرہ ہے، نہ کہ کوئی اس طریقے کے بدعت ہونے کا یقینی ثبوت یہ ہے کہ رسول اور اصحاب رسول کے زمانے میں تعزیتی دھوم کا ایسا کوئی واقعہ ثابت نہیں۔

موت کے بارے میں اسلام کا طریقہ کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ دوسرے کی موت کو دیکھ کر اپنی موت کو یاد کیا جائے، اور اپنی تنہائیوں میں خدا سے اپنے لیے اور مرنے والے کے لیے دعائیں کی جائیں۔ موت کا واقعہ خدا کی طرف سے ایک یاددہانی ہے، یہ یاددہانی کہ جس طرح ایک شخص کی موت ہوئی ہے، اسی طرح دوسرے تمام مردوں اور عورتوں کی موت واقع ہوگی۔ موت کے واقعے کو اسی یاددہانی کے اعتبار سے لینا چاہیے، نہ کہ کسی اور اعتبار سے۔ دوسرے تمام طریقے جو آج کل مسلمانوں میں رائج ہیں، وہ سب کے سب بدعت ہیں، اور بدعت بلاشبہ صرف ایک ضلالت ہے، نہ کہ کوئی مطلوب اسلامی فعل۔ کسی بڑے انسان کی موت کے بعد جو تعزیتی جلسے کیے جاتے ہیں، یا تعزیتی بیانات جاری ہوتے ہیں، اُن میں صرف مرنے والے کا تعریفی تذکرہ کیا جاتا ہے، نہ کہ موت کا تذکرہ۔ حالاں کہ ایسے موقع پر اصل ضرورت یہ ہے کہ موت کو یاد کیا جائے۔ موت کے بارے میں اپنے شعور کو زندہ کیا جائے۔ کے بعد پیش آنے والے حساب وکتاب کو سوچ کر خدا سے دعائیں کی جائیں۔

موت کا مطلب مرنے والے کے لیے یہ ہے کہ وہ عمل کی دنیا سے نکل کر جزا کی دنیا میں چلا گیا۔ وہ اپنے خالق کے سامنے حساب وکتاب کے لیے کھڑا کر دیا گیا۔ جہاں تک زندہ رہنے والوں کا معاملہ ہے، موت اُن کے لیے ایک سنگین یاددہانی (reminder) ہے۔ ان کو یہ سوچ کر اور زیادہ سرگرم ہو جانا ہے کہ عمل کی دنیا سے نکلنے اور جزا کی دنیا میں داخل ہونے کا وقت بہت قریب آگیا۔

Printed page