Even a minor change in any species would
Al-Risala, June 2009, pp. 32–36
By Maulana Wahiduddin Khan
لیکن حیاتیاتی تبدیلیوں (mutations) کا یہ عمل اگر بالفرض وقوع میں آسکے، تب بھی اس طویل حیاتیاتی عمل کا موجودہ زمین (planet earth) پر وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ زمین کی عمر اس طرح کے طویل عمل کے لیے سراسر نا کافی ہے۔ چارلس ڈارون کے زمانے میں زمین کی عمر معلوم نہ تھی۔ مگر اب ٹکنالوجی کی ترقی کے بعد زمین کی عمر قطعی طور پر معلوم ہو چکی ہے۔ ارضیاتی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ زمین ابتدائی طور پر دو بلین سال پہلے وجود میں آئی۔ وقت وہ نہایت گرم تھی۔ اس کے بعد زمین ٹھنڈی ہوئی اور پانی وجود میں آیا۔ (geological studies) کے مطابق، ایک بلین 23 کروڑ سال پہلے زمین ٹھنڈی ہو کر اس قابل ہوئی کہ زندگی جیسی چیز اُس کے اوپر وجود میں آسکے۔ اب اگر ڈارون ازم کے مفروضہ کے مطابق، انسان اور دوسری انواع حیات ارتقائی عمل کے ذریعے وجود میں آئی ہیں تو زمین کی مذکورہ عمر ایسے عمل کے لیے انتہائی حد تک نا کافی ہے۔ ایک بلین 23 کروڑ سال کے اندر اس قسم کے ارتقائی عمل کی تکمیل سرے سے ممکن ہی نہیں۔
بیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں جب زمین کی عمر دریافت کی گئی تو ارتقاء پسند علماء کو محسوس ہوا کہ اُن کا نظریہ موجودہ زمین کی نسبت سے قابل عمل ہی نہیں ہے۔ اب انہوں نے قدیم نظریہ ارتقاء میں ایک اور تصور کا اضافہ کیا۔ انھوں نے یہ نظریہ قائم کیا کہ زندگی کی ابتدائی صورت زمین کے سوا کسی اور سیارہ (planet) پر ظہور میں آئی، پھر وہاں سے سفر کر کے وہ زمین پر پہنچی اور زندگی کا اگلا تر قیاتی عمل موجودہ زمین پر پیش آیا۔ اس نظریے کو اصطلاحی طور پر پینس پرمیا (panspermia) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک نئی دوڑ شروع ہوئی۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد خلائی سائنس (space science) کا زمانہ آگیا۔ اسی کے ساتھ الیکٹرانک دوربینیں ایجاد ہو گئیں ۔ چناں چہ ایسے خلائی راکٹ بنائے گئے جن پر طاقت ور الیکٹرانک دوربینیں نصب تھیں ۔ یہ راکٹ زمین سے اوپر خلا میں بھیجے گئے۔ زمین سے کافی بلندی پر گردش کرتے ہوئے انھوں نے کائنات کے بعید ترین حصوں کے فوٹو لیے اور اُن کو زمین پر بھیجا۔ ان تصویروں کو کمپیوٹر کو محفوظ کر لیا گیا۔ مگر تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ ہماری زمین کے سوا کہیں بھی کوئی دوسرا سیارہ ایسا موجود نہیں ہے جہاں زندگی جیسی چیز نشوونما پا سکے ۔ پینس پرمیا کا نظریہ عملی طور پر ختم ہو گیا ۔
اب یہ سوال تھا کہ زمین کی محدودیت کے اندر مفروضہ ارتقائی عمل کس طرح وقوع میں آیا۔ سوال کو حل کرنے کے لیے دوبارہ ایک نئی تحقیق شروع ہوئی ۔ اس تحقیق میں کئی اعلیٰ سائنس داں شامل اب اس تحقیق کے نتائج امریکہ کے مشہور جنرل نیچر (Nature) میں شائع کیے گئے ہیں ۔ تحقیق کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (13 فروری 2009) میں دیکھا جاسکتا نظریہ ارتقاء کے بارے میں اس قسم کی تحقیق جرمنی اور کینیڈا، وغیرہ میں بھی ہوئی ۔ اس تحقیق کے نتائج مجلہ سائنس (Science) کے شمارہ 13 فروری 2009 میں شائع ہوئے ہیں۔
ارتقاء کے بارے میں نئی ریسرچ ارتقاء کے اصل سوالات کو حل نہیں کرتی ۔ وہ صرف یہ کرتی ہے کہ نظریہ ارتقاء کی توجیہہ کے لیے ایک نیا ٹیکنکل لفظ (technical term) دیتی ہے ۔ ارتقاء کا روایتی تصور تبدیلیوں (mutations) کے اصول پر قائم تھا، یعنی نسل در نسل چھوٹی چھوٹی تبدیلیوں کے جمع
ہونے سے ایک نوع کا دوسری نوع کا دوسری نوع کی صورت اختیار کر لینا ۔ کلاسکل تبدیلی (classical mutation) کا نظریہ اس سوال کا جواب نہیں دیتا تھا کہ خود یہ تبدیلی کیسے واقع ہوتی ہے۔ کیوں کہ کسی بھی ریسرچ سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ یہ بے شمار تبدیلیاں تدریجی (gradual) طور پر اپنے آپ ہو سکتی ہیں۔ نئی ریسرچ نے صرف یہ کیا ہے کہ اُس نے آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کرتے ہوئے وہ نظریہ وضع کیا جس کو انھوں نے جنیناتی تبدیلی (genetic change) کا نام دیا اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ تبدیلی تدریجی انداز میں نہیں ہوئی، بلکہ انفجاری انداز میں ہوئی: These are like volcanoes in the تاہم اس نئی ریسرچ کے بعد بھی اصل مسئلہ بدستور باقی ہے۔ یہ ریسرچ مفروضہ طور پر جو کچھ بتاتی ہے، وہ صرف تبدیلیوں کے وقوع کی مفروضہ تو جیہہ ہے، نہ کہ اس بات کی توجیہہ کہ زمین کی محدود مدت میں بے شمار تبدیلیاں کیسے وقوع میں آئیں۔ ہماری زمین کی محدود مدت کی نسبت سے یہ نئی’’تحقیق‘‘ بھی اتنی ہی ناکافی ہے، جتنا کہ قدیم کلاسکل تو جیہہ۔
نظریہ ارتقاء کا یہ دعویٰ ہے کہ واحد الخلیہ (single cellular) امیبا میں تبدیلیاں ہوئیں، اس کے بعد وہ کثیر الخلیہ (multi-cellular) حیوان بن گیا۔ مچھلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ چڑیا بن گئی۔ بکری کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ زرافہ بن گئی۔ بلی کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ شیر بن گئی۔ بندر کے اندر تبدیلیاں ہوئیں، یہاں تک کہ وہ انسان بن گیا۔ مذکورہ نئی تحقیق صرف یہ کرتی ہے کہ وہ ان تبدیلیوں کو تدریجی نوعیت کی تبدیلی قرار دینے کے بجائے اُن کو انفجاری نوعیت کی تبدیلی بتاتی ہے۔ مگر اس نئی ’’تحقیق‘‘ کے بعد بھی یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ان گنت تبدیلیوں (countless changes) کے اس عمل کے لیے جو بے حد لمبی مدت درکار ہے، موجودہ سیارۂ ارض پر ان کا وقوع میں آنا ممکن نہیں۔ کیوں کہ سیارۂ ارض کی عمر معلوم طور پر اُس سے بہت زیادہ کم ہے جو کہ ان مفروضہ تبدیلیوں کے لیے درکار ہے۔ اس ’’تحقیق‘‘ میں ارتقائی عمل کے لیے درکار مطلوب مدت کے مسئلے کو اس طرح حل کیا گیا ہے
کہ یہ فرض کر لیا گیا کہ حیاتیاتی ارتقاء بذریعہ انفجار (explosion) پیش آیا ہے۔ محققین نے اس معاملے کو آتش فشانی انشقاق (volcanic eruption) پر قیاس کیا ہے۔ اُن کا ماننا ہے کہ جس طرح ایک آتش فشانی پہاڑ اچانک پھٹتا ہے اور اس کے اندر سے لاوا (lava) کی صورت میں ایک نئی چیز نکل آتی ہے، اُسی طرح انفجار کے ذریعے زندگی کی مختلف صورتیں ایک کے بعد ایک نکلتی چلی گئیں۔ اس ارتقائی انشقاق (evolutionary eruption) کا مطلب یہ ہے کہ واحد الخلیہ نوع میں انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک کثیر الخلیہ نوع وجود میں آگئی۔ مچھلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک چڑیا وجود میں آگئی۔ بکری کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک زرافہ وجود میں آگیا۔ بلی کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک شیر وجود میں آگیا۔ بندر کے اندر انشقاق ہوا، اس کے بعد اچانک انسان وجود میں آگیا، وغیرہ۔
انشقاق (eruption) کا یہ نظریہ کسی حقیقی سائنسی دریافت پر مبنی نہیں ہے۔ وہ دوبارہ اُسی طرح غیر متعلق قیاسات (irrelevant suppositions) پر مبنی ہے، جیسا کہ ڈارون نے اِسی طرح کے غیر متعلق قیاسات پر بنارکھتے ہوئے ابتدائی طور پر اپنا نظریہ ارتقاء وضع کیا تھا۔ نظریہ ارتقاء میں بے شمار قسم کی گم شدہ کڑیاں (missing links) موجود تھیں، تاہم ان گم شدہ کڑیوں کو قیاسی طور پر فرض کرتے ہوئے ارتقاء کا نظریہ تسلیم کر لیا گیا۔ یہی معاملہ جدید تحقیق کا بھی اس تحقیق میں بھی بے شمار قسم کی نامعلوم کڑیاں ہیں، لیکن ان نامعلوم کڑیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے محض قیاس کی بنیاد پر یہ جدید نظریہ وضع کر لیا گیا۔
ارتقاء کا نظریہ یہ فرض کرتا ہے کہ انواع حیات میں مسلسل تغییرات ہوئے ہیں۔ یہ تغییرات ماحول کے تعامل سے وجود میں آتے ہیں، یا آۓ ہیں۔ اس ارتقائی اصول کو موافقت (adaptation) کہا جاتا ہے۔ یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ اس موافقت کے نتیجے میں جو تغییرات پیش آتے ہیں، وہ نسل در نسل جمع ہوتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ ایک نوع دوسری نوع میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ موافقت (adaptation) کے اس مفروضہ نظریے کے حق میں کوئی دلیل یا مثال موجود
البتہ کچھ غیر متعلق مثالیں پیش کی جاتی ہیں، مگر یہ مثالیں مغالطے سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ مشہور مثال پتنگا (moth) کی ہے۔ مشاہدے سے معلوم ہوا کہ جو پتنگے سبز درختوں اور پودوں کے درمیان رہتے ہیں، وہ ہرے (green) ہو جاتے ہیں، اور جو پتنگے پتھریلے علاقوں میں رہتے ہیں، اُن کا رنگ پتھر یارنگ بن جاتا ہے۔
اس مثال سے ارتقاء کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ زیادہ سے زیادہ جو چیز اس سے ثابت ہوتی ہے، وہ یہ کہ خارجی ماحول ظاہری رنگ پر اثر انداز ہوتا ہے، جیسا کہ سرد ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سفید فام ہوتے ہیں اور گرم ممالک میں رہنے والے لوگ اکثر سیاہ فام۔ مگر نظریہ ارتقاء کے ضمن میں جو اصل بحث ہے، وہ جسم کے خارجی رنگ (colour) میں تبدیلی کی نہیں ہے، بلکہ نوع (species) میں تبدیلی کی ہے، اور پتنگے کی مثال سے نوع میں تبدیلی کا اصول ثابت نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ 1859 میں بھی ایک غیر سائنسی نظریہ تھا، جب کہ چارلس ڈارون کی کتاب اصل الانواع (The Origin of Species) پہلی بار چھپی اور 2009 میں بھی وہ اتنا ہی غیر سائنسی ہے، جب کہ امریکی جنرل نیچر (Nature) میں کچھ امریکی پروفیسروں کے ”نتائج تحقیق“ شائع ہوئے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کے نظریے کو موجودہ زمانے کے تعلیم یافتہ طبقے میں عمومی قبولیت (general acceptance) حاصل ہو چکا ہے، مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اس نظریے کی یہ مقبولیت اس لیے نہیں ہوئی ہے کہ سائنسی طور پر وہ ثابت ہو گیا ہے۔ اس کا سبب یقینی طور پر صرف یہ ہے کہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ زندگی کی تشریح خدا کے بغیر کرنا چاہتا ہے۔ جدید طبقے کو یہ نظر آتا ہے کہ نظریہ ارتقاء کی صورت میں اس کو ایک ورک ایبل نظریہ (workable theory) حاصل ہو گیا ہے۔ اس کے سوا کوئی بھی حقیقی علمی بنیاد نظریہ ارتقاء کے حق میں موجود نہیں۔