Al-Risala · June 2009

نظریہ ارتقاء اور مذہب

Al-Risala, June 2009, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

نظریہ ارتقاء کے ابتدائی زمانے میں مسیحی چرچ اُس کا سخت مخالف بن گیا تھا۔ مگر اب غالباً

حالات کے دباؤ کے تحت، مسیحی چرچ نے نظریۂ ارتقاء کی واقعیت کو تسلیم کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں میڈیا میں جو رپورٹیں آئی ہیں، اُن کا ایک حصہ یہاں درج کیا جاتا ہے: The Vatican has admitted that Charles Darwin’s theory of evolution should not have been dismissed and claimed it is compatible with the Christian view of creation. According to the Telegraph, Archbishop Gianfranco Ravasi, the head of the pontifical Council for Culture, said while the church had been hostile to Darwin’s theory in the past, the idea of evolution could be traced to St Augustine and St Thomas Aquinas. Father Giuseppe Tanzella-Nitti of the Pontifical Santa Croce University in Rome, added that 4th century theologian St Augustine had “never heard the term evolution, but knew that big fish eat smaller fish” and forms of life had been transformed “slowly over time”. (The Times of India, New Delhi, February 12, 2009, p. 19) نظریۂ ارتقاء کے بارے میں اس قسم کی رائے کا اظہار کچھ مسلم اہل علم نے بھی کیا ہے۔ الجزائر کے شیخ ندیم الجسر (قصۃ العلم بین الفلسفۃ والعلم والقرآن)، اور پاکستان کے ڈاکٹر محمد رفیع الدین (قرآن اور علمِ جدید) وغیرہ۔ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ خدا کے انکار کے ہم معنی نہیں ہے، کیوں کہ وہ زندگی کو ابتداءً وجود میں لانے کے لیے خدا کو سبب اول (first cause) کے طور پر مانتا ہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر زندگی کی مختلف انواعِ مفروضہ ارتقائی طریقے کے مطابق، وجود میں آئیں، تب بھی ان کو ابتدائی طور پر وجود میں لانے والا ایک خدا (God) تھا۔ لیکن یہ توجیہہ درست نہیں۔ مذہبی نقطۂ نظر کے مطابق، خدا کی حیثیت صرف ’’سببِ اول‘‘ کی نہیں ہے، بلکہ خدا مسلسل طور پر ہماری زندگی میں شامل ہے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق، خدا مسلسل طور پر کائنات کو کنٹرول کر رہا ہے۔ خدا اور انسان کے درمیان تعلق ایک مسلسل تعلق ہے جو بلا انقطاع ہر لمحہ جاری پھر یہ کہ خدا محاسب اور مُجازی ہے۔ قیامت کے دن خدا مالکِ یوم الدین کی حیثیت سے تمام انسانوں کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ خدا کی یہ تمام حیثیتیں، نظریۂ ارتقاء میں حذف ہو جاتی

ایسی حالت میں حیاتیاتی ارتقاء کا نظریہ مذہبی اعتبار سے کبھی قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ خدا اور بندے کے درمیان جو تعلق مطلوب ہے، وہ ایک زندہ تعلق ہے۔ وہ ذکر اور دعا، اور عبادت اور تفکر اور تدبر اور توسّم کے ذریعے ہر وقت اور ہر لمحہ قائم رہتا ہے۔ انسان ہر لمحہ خدا سے مانگتا ہے، اور ہر لمحہ وہ خدا کی طرف سے پاتا ہے۔ انسان جس طرح وجود میں آنے کے لیے خدا کا محتاج ہے، اُسی طرح وہ اپنی بقا کے لیے بھی مکمل طور پر خدا کا محتاج ہے۔ خدا اگر ایک لمحے کے لیے انسان کو نظر انداز کردے تو انسان تباہ ہو کر رہ جائے۔ مذہبی عقیدے کے مطابق، خدا نہ صرف خالق (creator) ہے، بلکہ وہ رازق اور قیوم (sustainer) بھی ہے۔ ایسی حالت میں نظریہ ارتقاء عملاً خدا کی نفی ہے، نہ کہ خدا کی تصدیق ۔

Printed page