Al-Risala · July 2009

گجرات کا سفر

Al-Risala, July 2009, pp. 50–4

By Maulana Wahiduddin Khan

بھاؤنگر (گجرات) میں ایک مقام مہوا (Mahuva) ہے۔ یہاں ایک فلاحی تنظیم قائم ہے۔ اس تنظیم کا نام سدبھاونا فورم (Sadhbhavna Forum) ہے۔ اس تنظیم کے تحت، مہوا میں ایک آل انڈیا کنونشن (convention) ہوا۔ اس کنونشن کی کارروائی 25 فروری 2009 سے 27 فروری 2009 تک جاری رہی۔ اس کنونشن کی دعوت پر گجرات کا سفر ہوا۔ یہ سفر ایک قافلے کی صورت میں ہمارے ساتھ سی پی ایس انٹرنیشنل کی ٹیم کے چار افراد شامل تھے۔ مولا نا محمد ذکوان ندوی، مسٹر جت مہہوترا، اتھی مہہوترا، اور سعد یہ خان۔

گجرات انڈیا کی ایک ریاست ہے۔ وہ بحر عرب (Arabian Sea) کے کنارے واقع عرب کے تاجر قدیم زمانے سے یہاں آتے رہے ہیں۔ تیرھویں صدی عیسوی میں یہاں واگھیلا خاندان (Vaghela Dynasty) کی حکومت تھی۔ سلطنت دہلی کے سلطان علاؤ الدین خلجی (وفات: 1316) نے 1298 میں اس علاقے پر قبضہ کیا اور یہاں اپنی حکومت بنائی۔ اس کے بعد مغل بادشاہ اکبر (وفات: 1605) نے 1577 میں یہاں مغل دور حکومت کا آغاز اٹھارھویں صدی کے وسط میں مراٹھا (Marathas) کی فوج یہاں داخل ہوئی۔ اس نے اس علاقے میں مغل حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 1818 میں گجرات ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں آگیا۔ کے بعد 1947 سے گجرات میں نیشنل گورنمنٹ کا آغاز ہوا۔

گجرات کے لئے ہمارا سفر 25 فروری 2009 کی صبح کو شروع ہوا۔ اُس وقت لوگوں کے درمیان گجرات کے حوالے سے ایک خبر کا کافی چرچا تھا۔ یہ خبر 22 فروری 2009 کو تمام اخباروں میں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ گجرات کی مودی گورنمنٹ نے ریاست میں پولیس کے سب سے بڑے عہدے پر ایک مسلمان شبیر حسین شیخ آدم کو مقرر کیا ہے۔ یہ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس (DGP) کا عہدہ ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار کسی مسلمان کو یہاں اتنا بڑا عہدہ دیا گیا ۔ یہ عہدہ ریاست کی

مودی گورنمنٹ نے دیا ہے جو 2002 کے فرقہ وارانہ فساد میں کافی بدنام ہوئی تھی۔ عام رواج کے مطابق ، لوگوں نے اس واقعے کو منفی پہلو سے لیا۔ عام طور پر یہ کہا جانے لگا کہ چوں کہ ہندستانی پارلیمانٹ کا الیکشن بہت جلد ہونے والا ہے ، اس لیے مودی گورنمنٹ نے ریاست کے مسلم ووٹروں کو اپنی پارٹی کی طرف راغب کرنے کے لیے ایسا کیا ہے ، یعنی یہ امیج بلڈنگ اسٹریٹجی (image building strategy) کا ایک حصہ ہے۔

میں نے کچھ لوگوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کا منفی تبصرہ صرف ایک غیر دانش مندانہ یہ دنیا فرشتوں کی دنیا نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ اربابِ اقتدار اپنے سیاسی مصالح کے تحت اقدامات کرتے ہیں۔ دوسروں کا یہ کام ہے کہ وہ دانش مندانہ عمل کے ذریعے ان اقدامات کو اپنے لیے موافق بنا سکیں۔

اس دنیا کے لیے فطرت کا قانون یہی ہے کہ یہاں کسی شخص یا گروہ کو جزئی مواقع (partial opportunities) ملیں ، کسی کو بھی یہاں کلی مواقع حاصل نہیں ہوتے۔ دانش مندی یہ ہے کہ ناموافق پہلوؤں کو نظر انداز کیا جائے اور موافق پہلوؤں کو دریافت کر کے انھیں استعمال کیا جائے۔

یہی وہ حقیقت ہے جو صحیح البخاری کی ایک روایت میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے : إن الله ليؤيّد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسیر)

اس حدیث میں ایک قانونِ فطرت کو بتایا گیا ہے، یعنی ایک’’فاجر‘‘ انسان اپنے ذاتی انٹرسٹ کے لیے ایک اقدام کرتا ہے۔ اس اقدام سے خود فاجر انسان کا مقصد اپنے ذاتی مفاد کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ ایک نئی صورت حال پیدا ہوتی ہے۔ یہ نئی صورت حال نئے مواقع کھولتی ہے، جن کو استعمال کر کے دوسرے لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس حدیثِ رسول میں جس ’’تائیدِ فاجر‘‘ کا ذکر ہے، اس سے مراد بالواسطہ تائید ہے، نہ کہ براہِ راست تائید۔ روانگی سے صرف ایک دن پہلے (24 فروری 2009) کے اخبارات میں صفحۂ اوّل کی

سب سے بڑی خبر اے آر رحمان (اللہ رکھا رحمان) کی کامیابی کے بارے میں تھی۔ مسٹر رحمان کو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (24 فروری 2009) نے اپنے ایڈیٹوریل میں ایک سچا مسلمان (devout Muslim) لکھا تھا۔ اس کے باوجود مسٹر رحمان نے سب سے بڑا فلمی ایوارڈ حاصل کیا۔ برٹش فلم میکر ڈینی بائل (Danny Boyle) نے ممبئی کے پس ماندہ علاقے کی بنیاد پر ایک فلم اس کا نام سلم ڈاگ ملینیئر (Slumdog Millionaire) تھا۔ اس فلم کے میوزک ڈائریکٹر اے آر یہ فلم نیا پن اور تخلیقیت (creativity) کا ایک نمونہ تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ فلم امید اور محبت اور عزم کی جستجو کا ایک اظہار ہے:

Printed page