All fame and glory is for God alone.
Al-Risala, July 2009, pp. 4–6
By Maulana Wahiduddin Khan
اس خبر پر بات کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ لوگ اکثر بی فیکٹر (bias factor) کی بات کرتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا معاملہ سی فیکٹر (competence factor) کا ہے۔ اگر آپ حقیقی معنوں میں لیاقت کا ثبوت دے سکیں، تو کوئی تعصب اور امتیاز کام نہیں کرے گا۔ غیر موافق حالات کے باوجود آپ اعلیٰ مقام پر پہنچ جائیں گے۔
25 فروری 2009 کی صبح کو ساڑھے چار بجے ائیر پورٹ کے لئے روانگی ہوئی۔ دو گاڑیوں پر مشتمل تھا۔ میں چوں کہ کارسک (car sick) ہوں، اس لیے میں ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر
اُس وقت میں آنکھ بند کئے ہوئے تھا۔ گاڑی نہایت تیز رفتاری کے ساتھ چل رہی تھی۔ مجھے ذاتی طور پر ایسا محسوس ہو رہا تھا، جیسے گاڑی ٹھہری ہوئی ہے۔
یہی سادہ طور پر نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) ہے۔ ہم چیزوں کو صرف ان کی اضافی نسبت کے اعتبار سے جانتے ہیں۔ مثلاً اگر میں اُس وقت گاڑی میں بیٹھا ہوا ہوتا اور باہر کی طرف دیکھ رہا ہوتا تو مجھے محسوس ہوتا کہ گاڑی تیزی کے ساتھ دوڑ رہی ہے۔ چوں کہ باہر کے مناظر ٹھہرے ہوئے تھے اور ان کے درمیان گاڑی تیزی سے چلی جا رہی تھی۔ حرکت اور ٹھہراؤ کے درمیان اس تقابل کی بنا پر میں محسوس کرتا کہ میں تیزی کے ساتھ سفر کر رہا ہوں۔ لیکن جب میں نے آنکھیں بند کر لیں تو اُس وقت میں نسبتی مشاہدہ نہیں کر رہا تھا۔ اس لیے مجھے اپنی ذات کی نسبت سے یہی محسوس ہو رہا تھا کہ گاڑی ٹھہری ہوئی ہے۔
ہم لوگ دہلی ائر پورٹ پر پہنچے تو وہاں کافی بھیڑ نظر آئی۔ یہاں ہم لوگوں نے فجر کی نماز ادا کی۔ میرے ساتھی بورڈنگ کارڈ اور سامان کی بکنگ کے لیے ائر انڈیا کی ونڈو پر چلے گئے۔ میں ایک کرسی پر بیٹھ گیااور ائرپورٹ کے اندر کے مناظر دیکھنے لگا۔ میرے سامنے کی کرسی پر ایک عورت اپنے چھوٹے بچے کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔ بچہ رونے لگا تو عورت اس کو لے کر کھڑی ہوئی اور بچے کو گود میں لے کر اس کو چپ کرانے لگی۔
یہ منظر دیکھ کر مجھے حالیہ فلم (Slumdog Millionaire) کا ایک مکالمہ یاد آیا جو مجھ کو کسی نے اس مکالمے میں ایک دولت مند آدمی ایک غریب بچے سے کہتا ہے کہ میرے پاس دولت ہے، میرے پاس شہرت ہے، میرے پاس کار اور بنگلہ ہے، میرے پاس شان دار جاب ہے۔ اس کو سن کر بچہ آہستگی کے ساتھ جواب دیتا ہے: میرے پاس ماں ہے۔
یہ سوچتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ میری زبان سے نکلا کہ کیسی عجیب بات ہے کہ اس بھری ہوئی دنیا میں کوئی شخص یہ کہنے والا نہیں کہ ــــ میرے پاس خدا ہے۔ انسان کو خدا نے پیدا کیا۔ انسان کے پاس ہے، وہ سب کا سب خدا کا دیا ہوا ہے۔ مگر یہی سب سے بڑی حقیقت کسی کو دکھائی نہیں دیتی۔
لوگ مخلوق کو جانتے ہیں، لیکن خالق کو جاننے والا کوئی نہیں۔ اگر کچھ لوگ خدا کا نام لیتے ہیں تو اُن کے دل میں بھی خدا کے لیے وہ عظیم اعتراف موجود نہیں جو سمندری طوفان کی طرح سینے سے ابل پڑے۔ پانچ بڑے کارٹن (carton) میں ہمارے ساتھ چھپا ہوا اسلامی لٹریچر موجود تھا۔ ائرپورٹ پر چیک ان (check in) کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ ہمارے ساتھیوں نے اپنے بیگ میں بھی کتابیں رکھ لی تھیں ۔ یہ کتابیں اردو، ہندی اور انگریزی زبان میں تھیں۔ لٹریچر کی تقسیم کی صورت میں ائرپورٹ کے اندر داخل ہوتے ہی دعوہ ورک شروع ہو گیا ۔ ہمارے ساتھی جس کو بھی لٹریچر دیتے، وہ اس کو دھنیہ واد، یا تھینک یو کہہ کر خوشی کے ساتھ قبول کر لیتا۔ قرآن کے مطابق، یہ لسانِ قوم (ابراہیم : 4) میں دعوت پہنچانے کے ہم معنی تھا۔
دہلی سے احمد آباد کے لیے ائر انڈیا کی فلائٹ (7617 CD) کے ذریعے روانہ ہوا۔ کا نام انڈین ائر لائنز ہوتا تھا۔ اب انڈیا کی دونوں سرکاری ہوائی کمپنیوں ائر انڈیا اور انڈین ائر لائنز کو ملا کر اُن کا مشترک نام ائر انڈیا (Air India) کر دیا گیا ہے۔
جہاز کے اندر مطالعے کے لیے مختلف اخبارات موجود تھے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (25 فروری 2009) کے صفحہ 3 پر ایک اشتہار چھپا ہوا تھا۔ یہ ایک تعلیمی ادارہ (MBA Career Launcher) کا اشتہار تھا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ہمارے ادارے کے ذریعے ایم بی اے کا کورس کرو اور اعلی ترقی سے ہم کنار ہو۔ اس اشتہار کے اوپر جلی حرفوں میں لکھا ہوا تھا— دوسرا موقع ملنے والا نہیں: