Al-Risala · July 2009

No Second Chance.

Al-Risala, July 2009, pp. 6–9

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس اشتہار میں مذکورہ ادارے کا دعویٰ تو ایک غلط دعویٰ تھا۔ کیوں کہ دنیا میں انسان کو دوسرا موقع (second chance) بار بار ملتا رہتا ہے۔ البتہ ایک اور پہلو کے بارے میں یہ بات یقیناً درست ہے، اور وہ آخرت کا پہلو ہے۔ آخرت کے اعتبار سے ہر عورت اور مرد کو صرف ایک بار موقع ملتا ہے اور وہ قبل از موت دورِ حیات کا موقع ہے۔ بعد از موت دورِ حیات میں کسی کو دوسرا موقع ملنے والا نہیں۔

اس فلائٹ کے کیپٹن مسٹر ولیم تھے۔ وہ خالص امریکی لہجے میں انگریزی بول رہے تھے۔ ساتھیوں نے اُن کو ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) مطالعے کے لئے دی۔ یہ ایک چھوٹا اس میں صرف دو ائر ہوسٹس کام کر رہی تھیں۔ اُن دونوں کو بھی ریلیٹی آف لائف دی گئی۔ شکریہ کے ساتھ اس کو قبول کیا۔

دہلی سے احمد آباد کا فاصلہ 916 کلومیٹر ہے۔ سوا گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز احمد آباد کے ائیر پورٹ پر اتر گیا۔ احمد آباد ائیر پورٹ ایک قدیم ائیر پورٹ ہے۔ لیکن اب اس کو نئے سرے سے زیادہ اچھا بنایا گیا ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے ائیر پورٹ کے عملے کو مطالعے کے لیے دعوتی پمفلٹ دیے۔ ائیر پورٹ پر مسٹر اروند کمار پنکی دو گاڑیوں کے ساتھ ہماری رہنمائی کے لئے موجود تھے۔ احمد آباد سے مہوا تک کا سفر ہمیں بذریعہ کار طے کرنا تھا۔

احمد آباد گجرات کا مرکزی شہر ہے۔ اس کو سلطان احمد شاہ (وفات: 1443) نے 1411 میں آباد کیا تھا۔ انھیں کے نام پر اس کو احمد آباد کہا جاتا ہے۔ احمد آباد کے لیے میرا پہلا سفر 1971 میں ہوا تھا۔ یہ میرا پہلا ہوائی سفر تھا۔ اُس وقت میں پہلی بار انڈین ائیر لائنز کے ذریعے احمد آباد سے دہلی آیا تھا۔ اس سفر نامے کی روداد اُس زمانے میں الجمعیۃ ویکلی (نئی دہلی) کے شمارہ 10 ستمبر 1971 میں شائع ہوئی تھی۔ اس سفر نامے میں سا برمتی آشرم (قائم شدہ: 1917) کا ذکر کرتے ہوئے میں نے لکھا تھا:

”رولٹ کمیٹی کی سفارشات (Rowlatt committee's recommendations) شائع ہوئیں، جس میں ہندوستان کے لئے ڈومی نین اسٹیٹس Status) کا فیصلہ کیا گیا تھا، گاندھی جی نے اس فیصلے کو تو ہین آمیز محسوس کیا۔ چناں چہ ان کی تحریک کے تحت، اپریل 1919 کو اس کے خلاف سول نافرمانی (civil disobedience) کی تحریک اٹھ کھڑی اس سلسلے میں احمد آباد اور دوسرے مقامات پر جو مظاہرے ہوئے، اُن میں عوام نے تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ گاندھی جی کو ستیہ گرہ کی رو سے اس معاملے سے بہت تکلیف پہنچی۔

انھوںنے کہا کہ سول نافرمانی کی تحریک اٹھانا ہمارے لئے ایک عظیم قسم کا غلط اندازہ (Himalayan miscalculation) تھا۔ چناں چہ انھوں نے فوراً سول نافرمانی کی تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ ‘ (صفحہ 5)۔

اسی قسم کا تجربہ موجودہ زمانے کے مسلم رہنماؤں کے ساتھ بار بار پیش آیا ہے۔ پچھلے دو سو سال کے اندر مسلم رہنماؤں نے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھائیں۔ یہ تمام تحریکیں بلا استثناء اپنے نشانے کو حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہیں۔ ناکامی کا یہ واقعہ عرب دنیا میں بھی پیش آیا اور غیر عرب دنیا اس ناکامی کا سبب مشترک طور پر یہ تھا کہ جن مسلم عوام کی بنیاد پر یہ تحریکیں اٹھائی گئی تھیں، وہ مسلم عوام اس قسم کی تحریک کے لئے فکری اور اخلاقی اعتبار سے بالکل تیار نہ تھے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان اس اعتبار سے ایک غیر تربیت یافتہ گروہ کی حیثیت رکھتے تھے، نہ کہ تربیت یافتہ گروہ کی مگر دو سو سال کی تاریخ بتاتی ہے کہ کسی ایک مسلم رہنمانے بھی اپنی غلطی کا کھلا اعلان نہیں کیا۔ مسلم رہنماؤں کی اسی بے اعترافی کا نتیجہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تباہ کن سیاست کا سلسلہ ابھی تک نتیجے کے اعتبار سے شدید ناکامی کے باوجود ابھی تک اُس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا۔ ہم لوگ ائر پورٹ سے باہر آئے تو ہمارے ساتھ ذاتی سامان کے علاوہ، کتابوں کے پانچ بڑے بڑے کارٹن (carton) تھے۔ یہ سب اسلامی لٹریچر تھا جن کو ہم اجتماع میں لوگوں کو دینے کے لیے لے جا رہے تھے۔ مسٹر اروند کمار پنکی جو کہ ایک صنعت کار ہیں اور اسی کے ساتھ وہ مراری باپو کے شاگرد وہ ہمارے ساتھ ساتھ تھے۔ ائر پورٹ پر میں نے دیکھا کہ مسٹر پنکی نہایت شوق سے کتابوں کے بنڈل اٹھا اٹھا کر گاڑی میں رکھ رہے ہیں۔ یہی منظر دوبارہ مجھے سد بھاؤنا فورم کے کنونشن میں پہنچ کر وہاں میں نے دیکھا کہ غیر مسلم حضرات نہایت شوق کے ساتھ ہماری کتابوں کو لوگوں کے درمیان تقسیم کررہے تھے۔ اس قسم کا منظر مجھے بار بار ملک کے اندر اور ملک کے باہر ہونے والی کانفرنسوں میں دیکھنے کو ملا ہے۔

یہ بلاشبہ ایک نیا ظاہر ہ ہے۔ قدیم زمانہ مذہبی تعصب کا زمانہ تھا۔ قدیم زمانے میں ایسا ہونا

ممکن نہ تھا کہ ایک مذہب کے لٹریچر کو دوسرے مذہب کے لوگ ذوق و شوق کے ساتھ دوسروں کو مطالعے کے لئے دے رہے ہوں۔ مذہبی رواداری کا یہ ماحول جدید سائنسی انقلاب کے بنا پر وجود میں قدیم زمانے میں اگر متعصب ہونا کسی آدمی کے لیے اس کے مذہبی ہونے کی علامت ہوتا تھا تو موجودہ زمانے کی قابلِ تعریف بات یہ بن گئی ہے کہ آدمی مذہب کے معاملات میں غیر متعصب ہو۔ ہر ایک کی مذہبی آزادی کا احترام کرے۔

اس طرح کے منظر کو دیکھ کر میرے اندر غیر معمولی شکر کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ ہوں کہ خدایا، تیرا کیسا عجیب احسان ہے کہ تو نے اس کو ممکن بنا دیا کہ دعوت کا کام خود مدعو کے تعاون سے کیا جائے:

Printed page