Doing Dawah work by the support of Madʻu.
Al-Risala, July 2009, pp. 9–21
By Maulana Wahiduddin Khan
احمد آباد سے ہمارا قافلہ دو کاروں کی صورت میں مہوا کے لیے روانہ ہوا۔ یہ تقریباً پانچ گھنٹے کا سفر یہ سفر ہمارے لیے کوئی تفریحی سفر نہ تھا، بلکہ وہ ایک تربیتی سفر کے ہم معنی تھا۔ اس اعتبار سے اس کو متحرک کلاس (class on wheel) کہا جا سکتا ہے۔ سفر کے دوران جو باتیں ہوئیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ آج کل ساری دنیا کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام خطرے میں مگر یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ صحیح یہ ہے کہ اسلام خطرے میں نہیں، بلکہ مسلمان خود اپنی نادان سیاست کے نتیجے میں خطرے میں ہیں:
Muslims are in danger due to their unwise policies. احمد آباد کا شہر سا برمتی دریا کے کنارے واقع ہے۔ احمد آباد ائر پورٹ سے تقریباً آدھا گھنٹہ سفر کرنے کے بعد مشہور سابر متی آشرم آیا۔ یہاں ہم لوگ آشرم کو دیکھنے کے لیے کچھ دیر ٹھہرے۔ سابر متی دریا کے کنارے ایک وسیع رقبے میں قائم ہے۔ وہ نہایت سادہ اور منصوبہ بند انداز میں بنایا گیا پورے آشرم میں نظم اور صفائی اور سرسبزی نمایاں طور پر دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے ساتھیوں نے آشرم کے اندر اپنا دعوتی کام جاری رکھا۔ انھوں نے یہاں کے لوگوں کو
ستیہ کی کھوج“ نامی ہندی پمفلٹ دیا۔ اس کے علاوہ، وہاں باہر کے کچھ ٹورسٹ آئے ہوئے تھے، اُن کو انگریزی میں چھپا ہوا پمفلٹ ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) مطالعے کے لیے دیا گیا۔ اس آشرم میں گاندھی جی کی بہت سی یادگاریں موجود ہیں۔
سابرمتی آشرم جولائی 1917 میں قائم ہوا۔ مشہور ڈانڈی مارچ (12 مارچ 1930) گاندھی جی نے اِسی آشرم سے شروع کیا تھا۔ اُس وقت 40 آدمیوں کا قافلہ یہاں خیمے کے اندر رہتا تھا۔ آشرم شہر سے مل گیا ہے۔ مگر اُس وقت وہ شہر سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ آشرم کا خاص مقصد اُس وقت دستی کرگھے کے ذریعے سوتی کپڑا تیار کرنا تھا۔
سابرمتی آشرم دیکھنے کے بعد ہم لوگ مہوا کے لیے روانہ ہوئے۔ احمد آباد سے مہوا تقریباً تین سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ سڑک ہائی وے نمبر 2 (2 highway no) تھی۔ سڑک اچھی اور چوڑی بنی ہوئی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف کھیتوں کے سرسبز مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ یہ زیادہ تر کپاس کے کھیت تھے جس میں روئی (cotton) کے پھول صاف طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ کے علاوہ یہاں گندم اور پیاز کی فصل بھی نظر آرہی تھی۔ اس طرح گویا کہ یہ سفر دو چیزوں کے دوران طے ہو رہا تھا۔ ایک طرف، سڑک اور کار جو صنعتی تہذیب کی علامت ہے۔ اور دوسری طرف، سرسبز کھیت جو فطرت کے عطیات کا مشاہدہ کرا رہے تھے۔ پہلا منظر یہ کہہ رہا تھا کہ تاریخ میں انسان کے کنٹری بیوشن (contribution) کا اعتراف کرو۔ اور دوسرا منظر یہ دعوت دے رہا تھا کہ خالق کے عطیات کو محسوس کرتے ہوئے خالق کا اعلیٰ شکر ادا کرو۔
اس طرح کے پُر کیفیت ماحول میں ہماری گاڑی تیزی سے آگے بڑھ رہی تھی۔ ہمارے ڈرائیور صاحب نے گاڑی کے اندر اے سی چلا دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے ماحول میں بے جا دخل اندازی کر دی ہو۔ میں نے کہا یہ مشینی اے سی بند کر دیجیے اور گاڑی کا شیشہ کھول دیجیے، تا کہ فطرت کا اے سی ہم تک پہنچنے لگے۔ میں نے اکثر دیکھا ہے کہ گاڑی یا گھر کے باہر اچھی ہوا چل رہی ہے، لیکن لوگ کھڑیوں کو بند کر کے اے سی چلاتے ہیں اور اِس کے اندر بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔
یہ موجودہ زمانے کا اے سی کلچر (AC Cultrue) ہے ۔ میں اس اے سی کلچر کو سخت ناپسند کرتا موجودہ زمانے میں اس اے سی کلچر کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر فطرت (nature) سے دور اور مشینی تمدن سے قریب ہو گئے ہیں ۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ وہ مشینی ترقیوں کی تعریف کرتا رہتا ہے ، لیکن خدا کی عظیم تر رحمتوں کے لیے کسی کے سینے میں شکر و اعتراف کا سر چشمہ جاری نہیں ہوتا ۔
راستے میں ہماری گاڑی سڑک کے کنارے ایک ہوٹل پر ٹھہری ۔ اس کا نام ملن رستورنٹ یہ ایک ہندو کا ہوٹل تھا۔ اس علاقہ کا نام دھند کا (Dhanduka) ہے۔ دھند کا ایک گاؤں پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں 14 مسجدیں ہیں۔ یہاں قابلِ لحاظ تعداد میں مسلمان موجود ہوٹل کی ایک کرسی پر ایک حافظ صاحب اپنے ہاتھ میں قرآن لئے ہوئے نظر آئے ۔ آواز میں وہاں بیٹھے ہوئے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے۔ انھوں نے اپنا نام حافظ محمد اسماعیل وہ یہاں کی ایک مسجد میں امام ہیں۔
ہوٹل کے سامنے پان کی ایک دکان تھی۔ وہاں ریکارڈ بج رہا تھا۔ یہ غالباً قوالی تھی۔ اس میں بار بار یہ الفاظ دہرائے جا رہے تھے ۔ یہ سب خواجہ کا کرم ہے۔ ایک طرف یہ ریکارڈ تھا اور دوسری طرف ہمارے ساتھ چلنے والے مسٹر اروند کمار پنکی کا یہ حال تھا کہ ہر موقع پر وہ کہتے تھے کہ یہ سب باپو کی کرپا ہے۔ یہ منظر دیکھ کر ہمارے ایک ساتھی مولا نا محمد ذکوان ندوی نے کہا کہ آج کل کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان حقیقت کے اعتبار سے کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا ، دونوں میں سے کسی کو بھی خداوند ذوالجلال کی خبر نہیں۔ دونوں صرف غیر خدا کی عظمت کو جانتے ہیں۔ دونوں کے قومی بڑے عملاً اُن کے لیے خدا کا درجہ رکھتے ہیں ، دونوں کے درمیان صرف تسمیہ(nomenclature) کا فرق ہے ، مسلمانوں کے قومی بڑوں کا نام عربی اور فارسی زبان میں ہے ، اور ہندوؤں کے قومی بڑوں کا نام ہندی اور سنسکرت زبان میں ۔
سڑک کے دونوں طرف تعمیراتی سرگرمیوں کے مناظر دکھائی دئے۔ جگہ جگہ بڑے بڑے مندر
اور آشرم بن رہے تھے۔ ایک جگہ دکھائی دیا کہ سمنٹ کی ایک بہت بڑی پختہ ناؤ ہے اور اس کے اندر مندر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ان تعمیراتی مناظر کو دیکھ کر خیال آیا کہ ٹھیک یہی صورت حال خود موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ مسلم علاقوں میں ہر جگہ مسجد اور مدرسے کی بڑی بڑی عمارتیں تعمیر کی گویا کہ ظاہری فارم میں زبردست ترقی ہو رہی ہے۔ لیکن جہاں تک مذہب کی اسپرٹ کا تعلق ہے، وہ ہندوؤں میں بھی مفقود ہے اور مسلمانوں میں بھی مفقود۔ ہندو اور مسلمان دونوں کا مشترک طور پر یہ حال ہے کہ ظواہر کی دھوم کو انھوں نے مذہب سمجھ لیا ہے، لیکن مذہب کی اصل روح نہ ہندوؤں میں پائی جاتی ہے اور نہ مسلمانوں میں۔
یہ صورتِ حال دراصل دورِ جدید کی پیداوار ہے۔ موجودہ زمانے میں تمام لوگوں کا اصل کنسرن (concern) مادی ترقی بن گیا ہے۔ داخلی صورت کے اعتبار سے ہر ایک مادہ پرست (materialist) ہے، البتہ فارم کی دھوم مچا کر وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ اُس نے مذہب کو چھوڑا نہیں ہے، یہی وہ صورتِ حال ہے جس کا انتباہ پیشگی طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ان الفاظ میں دیا تھا: مساجد هم عامرة، وهي خراب من الهدی (رواه البيهقي في شعب الإيمان) یعنی ان کی مسجدیں بظاہر آباد نظر آئیں گی، مگر وہ ہدایت کے اعتبار سے ویران ہوں گی۔ ہماری گاڑی کا جو ڈرائیور تھا، وہ ایک تجربہ کار آدمی معلوم ہو رہا تھا۔ وہ پورے انہماک کے ساتھ گاڑی چلا رہا تھا۔ وہ تقریباً 25 سال سے گاڑی چلا رہا ہے۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ کے ساتھ کبھی ایکسیڈنٹ کا واقعہ ہوا۔ اُس نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس کا راز کیا ہے۔ اُس نے گجراتی لہجے میں جواب دیا—دوسرے کو دیکھتے ہوئے اپنی گاڑی کو چلانا۔
میں نے سوچا کہ کامیاب اجتماعی زندگی کے لیے یہی سب سے اچھا فارمولا ہے۔ آدمی سماجی یا اجتماعی زندگی میں اکیلا نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے درمیان زندگی گزارتا ہے۔ لوگوں کا مزاج عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کی شکایت کرتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے ہر نقصان کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دیتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ غیر مفید بھی ہے اور ناقابلِ عمل بھی۔ کامیاب اجتماعی زندگی کے لیے
اس دنیا میں قابلِ عمل طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے دوسروں کی رعایت کرتے ہوئے اپنا کام کرنا۔ اپنے آپ کو یک طرفہ اخلاقیات کا پابند بنا لینا۔
25 فروری 2009 کو ہم لوگ تقریباً 2 بجے مہوا کے آشرم میں پہنچے۔ اس کے بانی مراری باپو (63 سال) ہیں۔ اس کا نام یہ ہے۔ اس کا کیمپس کافی بڑا اور وسیع ہے۔ گروکل میں غریب طلبا کے قیام و طعام اور ان کی تربیت کا انتظام ہے۔ وہ دن کے اوقات میں مہوا کے اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ اور اس کے بعد وہ گروکل کے ہاسٹل میں آ کر قیام کرتے ہیں۔ کو تمام ضروریاتِ زندگی آشرم کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں۔
یہ پورا آشرم جدید طرز پر ایک منصوبہ بند انداز میں بنایا گیا ہے۔ یہاں ایسا نہیں ہے کہ پورا آشرم ایک ہی بڑی عمارت میں ہو۔ اس کے بجائے یہاں کا نقشہ یہ ہے کہ بہت سی عمارتیں الگ الگ بنائی گئی اُن کے درمیان کھلے علاقے ہیں جہاں درخت اور سبزہ اُگا ہوا ہے۔ پورے آشرم میں ناریل کے درختوں کی سرسبز قطاریں پھیلی ہوئی ہیں۔ صاف ہوا اور کھلی فضا یہاں کی خصوصیت ہے۔ فضائی کثافت نہ ہونے کی وجہ سے رات کے وقت آسمان میں ستارے جگمگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ہم لوگوں کو قیام کے لیے ایک مستقل عمارت دی گئی تھی۔ اس کا نام ’’رادھکا گیٹر‘‘ تھا۔ طرز کی ایک خوب صورت عمارت تھی۔ یہ پوری عمارت ہم لوگوں کے استعمال میں تھی۔ اس کے فرسٹ فلور پر ایک بڑا ہال اور کئی مختلف اور وسیع کمرے تھے۔ اس کے اوپر کھلی چھت پر ایک کشادہ کمرہ تھا۔ یہ یہاں کا گیسٹ ہاؤس تھا۔ اس میں ضرورت کی تمام چیزیں اعلیٰ معیاری صورت میں موجود تھیں۔ یہ ادارہ بنانے کا جدید تصور ہے، یعنی فطرت کے کھلے ماحول میں ادارے کی منصوبہ بند تعمیر۔ تصور کے مطابق، ادارہ صرف عمارتوں کا نام ہوا کرتا تھا۔ لیکن موجودہ زمانے میں ادارے کا یہ تصور متروک ہو چکا ہے۔ اب ادارہ ایک ایسی خوب صورت دنیا کا نام ہوتا ہے، جہاں منصوبہ بند عمارتیں ہوں۔ جگہیں ہوں اور سرسبز و شاداب ماحول ہو۔ وہ عمارتوں کا جنگل نہ ہو، بلکہ فطرت کے شاداب ماحول میں بنا ہوا ایک چھوٹا سا منصوبہ بند شہر ہو۔ اس سفر میں ہم نے دو آشرم دیکھے۔ سابرمتی آشرم، اور مراری باپو کا آشرم۔
ہم نے پایا کہ دونوں آشرم اسی جدید تصور کے مطابق بنائے گئے ہیں۔
فطرت کے ماحول میں آشرم یا ادارہ بنانے کا ایک اور فائدہ ہے، وہ یہ کہ ایسے مقامات پر کثرت سے بیرونی سیاح اور فارنر (foreigner) آتے ہیں۔ مغربی دنیا ن بدن تمدن کا جنگل بنتی جارہی ہے۔ فطرت کا سکون وہاں کے ماحول میں موجود نہیں۔ اس سے اکتا کر مغربی دنیا کے لوگ بڑی تعداد میں مشرقی دنیا میں آتے ہیں۔ اُن کو عمارتوں کے جنگل سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ روحانی سکون چاہتے ہیں جو انھیں فطرت کے ماحول میں ملتا ہے۔ چناں چہ مذکورہ قسم کے ہندو آشرم میں اکثر فارنر گھومتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مگر مسلم اداروں میں اس قسم کے مغربی سیاح دکھائی نہیں دیتے ۔ کیوں کہ مسلم ادارے عام طور پر اپنے روایتی ذوق کی بنا پر عمارتوں کا جنگل ہوتے ہیں ، نہ کہ فطرت کے ماحول میں بنی ہوئی دنیا۔
جب میں آشرم میں پہنچا اور وہاں کے فطری ماحول کو دیکھا تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ یہ سادہ طور پر صرف ایک آشرم نہیں ہے، بلکہ وہ ایک اسپر پچول گارڈن (spiritual garden) ہے۔ اسپر پچول گارڈن کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہاں روحانی باتیں بتائی جائیں اور روحانیت کے موضوع پر تقریر کی جائے۔ لیکن صرف یہ بات کافی نہیں۔ کسی اسپر پچول گارڈن کو جو چیز اسپر پچول گارڈن بناتی ہے، اُس میں سب سے زیادہ دخل اس بات کا ہوتا ہے کہ اس کو فطرت کے ماحول میں بنایا گیا ہو، یعنی ایک ایسا ماحول جہاں کوئی بولنے والا جب روحانیت کی بات بولے تو وہاں کا فطری ماحول اس کی عملی تصدیق بن گیا ہو۔ 25 فروری 2009 کو ہم لوگ آشرم میں پہنچے۔ یہ دوپہر کا وقت تھا۔ ہم لوگوں نے یہ طے کیا کہ سب سے پہلے ظہر کی نماز ادا کی جائے۔ ہم لوگ پانچ آدمی تھے۔ ہم نے وہاں کے مہمان خانے میں باجماعت نماز ادا کی۔ کسی نئے ماحول میں پہلی بار نماز ادا کرنا ایک انوکھا تجربہ ہوتا ہے۔ یہ احساس کہ اس وقت میں اُس مقام پر خداوند برتر کے آگے سجدہ کر رہا ہوں، جہاں مجھ سے پہلے کسی نے سجدہ نہیں کیا۔ یہ احساس دل کے اندر ایک عجیب عبادتی کیفیت پیدا کرتا ہے جس کو انسانی الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔
صحابہ کا طریقہ یہ تھا کہ وہ ایسا نہیں کرتے تھے کہ نماز کی ادائیگی کے بعد فوراً اٹھ کر چلے جائیں۔ نماز کے مقام پر کچھ دیر بیٹھے رہتے تھے اور پھر خاموشی کے ساتھ اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ ہم لوگ بھی نماز کی ادائیگی کے بعد کچھ دیر وہاں بیٹھے رہے۔ اُس وقت میں نے نماز کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ میں نے کہا کہ نماز کیا ہے۔ نماز کوئی رسمی عمل نہیں۔ نماز دراصل اپنی عبدیت کا عملی اعتراف نماز کے ذریعے ایک مومن خدا کے سامنے جھک کر اپنی تواضع (modesty) کو اسٹیبلش (establish) کرتا ہے۔ اُس وقت ہمارے اردگرد صرف فطرت کا ماحول تھا— درخت، چڑیاں، ہوائیں، سورج کی روشنی، وغیرہ۔ اُس وقت ایسا محسوس ہوا جیسے پورا عالمِ فطرت اپنے خالق کے آگے جھکا ہوا ہے۔ نا قابلِ مشاہدہ فرشتے بھی اِس عبادتی کلچر کا حصہ ہیں۔ اِیسی حالت میں اگر انسان خدا کے سامنے نہ جھکے تو وہ پوری کائنات کے اندر کائنات کے ایک باغی فرد کی مانند ہو جاتا ہے۔ نماز یہ ہے کہ انسان اِس عبادت گزار کائنات میں خود بھی عابد بن کر اِس کا ئناتی کلچر میں شریک ہو جائے۔ عبادت کے بارے میں ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: إِنّ الرجل لينطلق إلى المسجد فيصلي، وصلاته لا تعدل جناح بعوضة. وإنّ الرجل ليأتي إلى المسجد فيصلي، وصلاته تعدل جبل أحد، إذا كان أحسنهما عقلاً (كنز العُمّال، رقم الحديث : 7049) یعنی ایک شخص مسجد کی طرف جاتا ہے اور وہاں نماز پڑھتا ہے اور اس کی نماز خدا کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ اور ایک شخص مسجد میں آتا ہے اور نماز ادا کرتا ہے اور اس کی نماز خدا کے نزدیک احد پہاڑ کے برابر ہوتی ہے، جب کہ دوسرا شخص پہلے کے مقابلے میں عقل کے اعتبار سے زیادہ بہتر ہو۔ یہ حدیث روحِ نماز کو بتاتی ہے۔ قرآن کے مطابق، حقیقی نماز وہ ہے جس میں خشوع پایا جاتا ہو۔ اسی طرح مشہور حدیث جبرئیل میں بتایا گیا ہے کہ اعلیٰ نماز وہ ہے جس میں آدمی کو خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ ہونے لگے (تعبد الله كأنك تراه)۔ یہ دونوں باتیں، یعنی خشوع اور خدا کی موجودگی، کوئی پراسرار چیز نہیں ہے۔ اس کا براہ راست تعلق عقل اور شعور سے ہے۔ سطح پر جب آدمی خدا کو دریافت کرتا ہے تو اس شعوری دریافت کے نتیجے میں وہ کیفیت پیدا ہوتی ہے
جس کو خشوع یا خدا کی موجودگی کا تجربہ کہا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نماز اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے ایک شعوری عمل ہے، نہ کہ محض اعضا و جوارح کا ایک بے شعور عمل۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی جب نماز پڑھنا شروع کرے تو اس وقت وہ اپنی عقل کا استعمال بھی شروع کردے۔ اس قسم کا وقتی استعمال سرتا سر غیر فطری ہے۔ اصل یہ ہے کہ جو شخص رات اور دن اپنی مسلسل زندگی میں اپنی عقل کو معرفتِ الہیٰ کے حصول میں لگائے رہتا ہے، اُسی کو یہ توفیق ملتی ہے کہ اس کی نماز عقل و شعور کی نماز بن جائے۔ نماز سے پہلے عقل کا استعمال یادِ الہیٰ کے لئے ہوتا ہے۔ نماز کے دوران عقل کے استعمال کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جب شعوری اعتبار سے تیار ذہن کا مالک ہوتا ہے تو اس کی نماز میں شعوری معرفت کا عنصر شامل ہو جاتا ہے۔ اس کی نماز رسمی نماز نہیں رہتی، بلکہ پورے معنوں میں وہ ایک زندہ نماز بن جاتی ہے۔
ہم لوگوں کے کھانے کا انتظام یہاں کے مہمان خانے کے ایک حصے میں علاحدہ طور پر کیا گیا نماز سے فراغت کے بعد ہم لوگ وہاں گئے اور دوپہر کا کھانا کھایا۔ یہ سادہ قسم کا ونجیٹرین (vegetarian) کھانا تھا۔ اس موقع پر ہم لوگوں نے گجراتی اخلاقیات کا تجربہ کیا۔ یہ کئی لوگ تھے جو تواضع کا پیکر بنے ہوئے تھے اور نہایت انہماک کے ساتھ کھانا کھلا رہے تھے۔ یہ عام لوگ نہیں تھے، بلکہ وہ دہلی اور گجرات کے بڑے بڑے تاجر تھے۔ وہ اتنے ذوق و شوق سے کھانا کھلا رہے تھے جیسے کہ ہم لوگ کوئی وی آئی پی گیسٹ (VIP guest) ہوں۔
گجراتیوں میں، بلکہ عمومی طور پر ہندوؤں میں یہی اخلاق پایا جاتا ہے۔ میں نے تجربہ کیا ہے کہ یہ لوگ نہایت عزت و احترام کا سلوک کرتے ہیں اور اپنے مہمانوں کے ساتھ خصوصی قدردانی کا معاملہ کرتے ہیں۔ یہ سب اُن کے بڑے کرتے ہیں، جب کہ مسلمانوں کے یہاں یہ رواج ہے کہ عام طور پر ”خادم“ کے درجے کے لوگ اس قسم کا کام کرتے ہیں۔
یہاں گجرات کے کئی مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک صاحب نے کہا کہ ایک بار وہ ایک بڑے مدرسے میں گئے۔ وہاں ان کی ملاقات مدرسے کے ایک استاد سے ہوئی۔ یہ استاد راقم الحروف
کے بارے میں کچھ منفی خیالات رکھتے تھے۔ تاہم انھوںنے میری کتاب "مذہب اور جدید چیلنج" کی تعریف کی اور میرے بارے میں کہا کہ اس شخص کو اگر جنت ملے گی تو وہ اس کی مذہب اور جدید چیلنج کی بدولت ملے گی۔
میں نے کہا کہ اس قسم کی بات خدا کی عظمت کی تصغیر کے ہم معنی ہے۔ خدا اس سے برتر ہے کہ کسی کی کوئی کتاب اُس کے یہاں انعام کا ذریعہ بنے۔ خدا کے یہاں جو تحفہ قابلِ قدر پائے گا، وہ کتاب کا تحفہ نہیں ہے، بلکہ عجز کا تحفہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان قادرِ مطلق اور عاجزِ مطلق کی نسبت ہے۔ انسان اگر کوئی چیز اپنے رب کو پیش کر سکتا ہے تو وہ صرف عجز ہے، حقیقی عجز کے سوا کوئی بھی دوسری چیز خداوند ذوالجلال کے یہاں کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ دوپہر کے بعد ہم لوگ مہمان خانے میں تھے۔ آشرم کے ایک شخص نے آکر بتایا کہ مُراری باپو آپ سے ملنے کے لئے آرہے ہیں۔ اتنے میں مراری باپو اندر داخل ہوئے ۔ وہ دونوں ہاتھ جوڑے ہوئے تھے، جیسا کہ ہندو لوگوں کا طریقہ ہے۔ انھوں نے ہم لوگوں کی خیریت دریافت کی اور پوچھا کہ آپ لوگ یہاں کمفرٹبل (comfortable) ہیں۔ انھوں نے غایتِ احترام کا مظاہرہ کیا۔ مشہور کتھا کار ہیں۔ ہندوستان میں اور ہندوستان کے باہر اُن کی کتھائیں بہت مقبول ہوتی ہیں۔ ماننے والوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔
مراری باپو کی واپسی کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مراری باپو ہندوؤں کے نزدیک ایک ٹاپ کے گرو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح کے لوگ عام طور پر خود کسی سے ملنے نہیں اس وقت مراری باپو کا یہاں آنا کوئی سادہ بات نہ تھی ۔ ان لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ چاہتے ہیں کہ منتظمین کسی مہمان کے ساتھ خصوصی اکرام اور اہتمام کا معاملہ کریں تو وہ خود اس کے پاس چلے جاتے ہیں۔ اُن کا اس طرح جانا منتظمین کے لیے ایک خاموش ہدایت ہوتی ہے۔ چناں چہ ہم نے دیکھا کہ ہمارے قیام کی پوری مدت میں وہاں کے لوگوں نے ہمارے ساتھ خصوصی معاملہ کیا۔ یہاں جن لوگوں سے ملاقات ہوئی، وہ مراری باپو کو سب سے بڑے گرو کا درجہ دیتے تھے۔
مزید یہ کہ اُن کے نزدیک گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔ اُن خیال تھا کہ جو گرو ہے، وہی بھگوان یہی معاملہ تقریباً تمام ہندوؤں کا ہے۔ ہندو لوگوں کا عام عقیدہ ہے کہ جو گرو ہے، وہی بھگوان۔ ان کے نزدیک گرو اور بھگوان میں کوئی فرق نہیں۔
اس معاملے پر میں نے غور کیا کہ آخر یہ لوگ گرو کو بھگوان کا درجہ کیوں دیتے ہیں۔ کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ دراصل وحدتِ وجود کے نظریے کا فطری نتیجہ ہے۔ (monotheism) اور وحدتِ وجود (monism) دونوں دو الگ الگ نظریے ہیں۔ توحید کا عقیدہ پرسنل گاڈ (personal God) کو مانتا ہے۔ اس کے برعکس، وحدتِ وجود کا نظریہ غیر شخصی خدا (impersonal God) پر مبنی ہے۔
توحید کے نظریے میں خدا کو خالق مانا جاتا ہے۔ اس طرح توحید میں تمام واقعات کی توجیہہ مل لیکن وحدتِ وجود میں کوئی الگ ذات واقعات کی توجیہہ کے لیے موجود نہیں ہوتی۔ وحدتِ وجود کو ماننے والے لوگ جب ایک شخص کو گرو کے طور پر دیکھتے ہیں تو وہ مان لیتے ہیں کہ یہی شخص تمام واقعات کو وجود میں لانے کا سبب ہے۔
ہندوؤں میں وحدتِ وجود کا نظریہ نظریہ’’ادُوئت واد‘‘ کے نام سے رائج ہوا۔ چناں چہ انھوں نے گرو کو خدا کا درجہ دے دیا۔ ٹھیک یہی نظریہ صوفیوں کے ذریعے مسلمانوں میں رائج ہوا۔ مسلمانوں میں بھی اسی قسم کے عقائد پھیل گئے۔ مسلمانوں میں صوفیوں کو عملاً وہی خدائی کا درجہ دے دیا گیا جو ہندوؤں میں گرو کے لیے سمجھا جاتا تھا۔ اس نظریے کے زیر اثر مسلمانوں میں قطب اور ابدال جیسے نظریات پیدا ہوئے، جو بلاشبہ سرتا سرا یک باطل نظریہ ہے۔
جس وقت ہم لوگ مہمان خانے میں تھے، وہاں بمبئی کی ایک جدید تعلیم یافتہ خاتون ملاقات کے لیے آئیں۔ وہ انگریزی میں گفتگو کررہی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ مراری باپو کی عقیدت مندوں میں سے ہیں۔ ہمارے ساتھیوں نے اُن سے کچھ دعوتی باتیں کیں اور ان کو انگریزی زبان میں چھپا ہوا اسلامی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔
اُن کے جانے کے بعد میرے ایک ساتھی نے سوال کیا کہ اس طرح کے انگریزی یافتہ لوگ کیسے کسی گرو کے عقیدت مند بن جاتے ہیں۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی۔ میں نے کہا کہ اصل یہ ہے کہ ہر انسان کے اندر فطری طور پر خدا کی طلب موجود رہتی ہے۔ ہر انسان خدا کو پانا چاہتا ہے۔ مگر خدا کو ماننے کی صورت میں آدمی کو سرینڈر کرنا پڑتا ہے۔ اس کو اپنی آزادی پر پابندی لگانی پڑتی ہے۔ جدید تعلیم یافتہ انسان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرینڈر کرنا نہیں چاہتا۔ اس کو ایسا خدا نہیں چاہئے جو اس کی آزادی پر پابندی ایسی حالت میں یہ لوگ کسی انسان کو خدا کا درجہ دے دیتے ہیں۔ اس طرح کے کسی انسان کو خدا کا درجہ دینے سے ان کے فطری جذبے کو فرضی تسکین (false satisfaction) مل جاتی ہے، اور اسی کے ساتھ اُن کی آزادی بھی باقی رہتی ہے۔
مراری باپو کے عقیدت مندوں کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ 25 فروری 2009 کی شام کو مراری باپو کے کچھ عقیدت مند ہم لوگوں سے ملاقات کے لئے آئے ۔ یہ لوگ دہلی اور بمبئی اور گجرات سے تعلق وہ کافی دیر تک مراری باپو کی کرامات کے بارے میں پُر اسرار قصے سناتے رہے۔ نے پوچھا کہ آپ لوگ بہت دنوں سے مراری باپو کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔ آپ کو اُن سے کون سی خاص سیکھ (learning) حاصل ہوئی۔ میں نے یہ سوال اُن میں سے ہر ایک سے کیا، لیکن اُن میں سے کوئی بھی اس سوال کا متعین جواب نہ دے سکا، بس یہ کہا کہ یہ سمجھ لیجئے کہ ہم لوگوں کو آنند ہی آنند مل رہا گرو جی کو دیکھتے ہی ہماری آتما گدگد ہو جاتی ہے۔
میرا تجربہ ہے کہ خود مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ وہ لوگ جو مسلم تحریکوں اور مسلم شخصیتوں سے جڑے ہوئے ہیں، جو اُن کے اجتماعات میں شریک ہوتے رہتے ہیں، اُن سے میں اکثر یہ پوچھتا رہتا ہوں کہ آپ کو وہاں جانے سے کیا چیز ملی، آپ نے وہاں کیا خاص سبق سیکھا۔ مگر کسی شخص کے پاس کوئی خاص بات بتانے کے لیے نہیں ہوتی۔ ہر ایک ایسی بولی بولتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہاں جانے سے ہمارے دل کے اندر نور پیدا ہوا، وہاں جانے سے ہماری روح کو سکون حاصل ہوا، وغیرہ۔ اس قسم کے تاثرات جو ہندو اور مسلمان دونوں بتاتے ہیں، وہ بلا شبہہ بے حقیقت ہیں ۔
اس لیے کہ میں اس قسم کے سوالات جس سے کرتا ہوں، وہ ایک انسان ہوتا ہے۔ انسان ایک شعوری مخلوق (conscious being) ہے۔ شعور ہی انسان کے وجود کی اصل ہے۔ اس لیے انسان کے لیے پانا یہ ہے کہ وہ شعور کی سطح پر کچھ پائے۔ جو یافت شعوری یافت نہ ہو، وہ کسی حیوان کے لیے اہم ہوسکتی ہے، لیکن ایک انسان کی نسبت سے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ ایک انسان کے لیے کوئی چیز اس کی یافت صرف اس وقت بنتی ہے، جب کہ وہ شعور کی سطح پر اس کو ملے۔ جو چیز شعور کی سطح پر نہ ملے، اس کی حیثیت صرف ایک موہوم خیال کی ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کسی یافت کی۔
گجرات کے اس آشرَم میں قیام کے دوران بہت سے ہندوؤں سے ملاقات ہوئی۔ ہر ہندو کا حال یہ تھا کہ وہ ’’گروجی‘‘ کی بڑائی کا چرچا کرتا تھا۔ ہر ایک یہ سمجھتا تھا کہ اُس کو جو کچھ مل رہا ہے، وہ سب گروجی کے آشیرواد سے مل رہا ہے۔ کسی کو میں نے خدا کا چرچا کرتے ہوئے نہیں سنا۔ سے آشرَموں میں گیا ہوں۔ ہر جگہ میں نے پایا کہ لوگ اپنے گروجی کی عظمت میں گم ہیں۔ اوپر کسی طاقت کی عظمت کی اُنھیں خبر نہیں۔
عجیب بات ہے کہ اس معاملے میں خود مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے۔ مسلم جماعتوں اور مسلم اداروں میں ہر جگہ اپنے اکابر کا چرچا ہوتا ہے۔ کچھ شخصیتوں کو انھوں نے بڑا سمجھ لیا ہے اور ان کی بڑائی کا اظہار کر کے وہ خوش ہوتے رہتے ہیں۔ غالباً کوئی بھی مسلم جماعت یا مسلم ادارہ ایسا نہیں ہے، جہاں حقیقی معنوں میں خدا کی بڑائی کا چرچا کیا جاتا ہو۔
ایک بار میں ایک مشہور مسلم خانقاہ میں گیا۔ اس خانقاہ میں ذکر بالجہر کا رواج تھا۔ میں نے دیکھا کہ رات دن کے ہر حصے میں کوئی نہ کوئی شخص اللہ، اللہ کے الفاظ مخصوص انداز میں بول کر بظاہر خدا کا چرچا کر رہا ہے۔ مگر اس رسمی ذکر بالجہر کے سوا، وہاں کی مجلسوں میں انسانی اکابر کا چرچا ہوتا تھا۔ اکابر اتنے زیادہ محترم سمجھے جاتے تھے کہ اُن کا نام لینا بھی بے ادبی تھی۔ جب بھی کسی شخص کو اُن کا حوالہ دینا ہوتا تھا تو ہمیشہ ’’حضرت‘‘ کا لفظ بول کر اُن کا حوالہ دیتا تھا، حتیٰ کہ بعض اوقات میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہوتا تھا کہ ’’حضرت‘‘ سے کون شخص مراد ہے۔
اس اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمانے میں مسلم اور غیر مسلم میں صرف نام کا فرق ہے (لا يبقى من الاسلام إلا اسمه)۔ حقیقت کے اعتبار سے دونوں ہی دین اکابر پر کھڑے ہوئے ہیں۔ دونوں میں یہ فرق ہے کہ غیر مسلموں کے پاس کوئی محفوظ الہامی کتاب موجود نہیں، جب کہ مسلمانوں کے یہاں محفوظ خدائی کتاب موجود ہے۔ یہاں ایک شخص ایسا کر سکتا ہے کہ وہ قرآن کو پڑھ کر یہ جان سکے کہ خدا کا وہ حقیقی دین کیا ہے جس کو اُس نے اپنے پیغمبر کے اوپر نازل کیا تھا۔ آشرم میں ایک ہندو تاجر سے ملاقات ہوئی۔ بظاہر وہ بہت مطمئن نظر آتے تھے۔ دوران انھوں نے اپنے گرو جی کی کئی کرامتیں بتائیں۔ یہ کسی ایک ہندو کی بات نہیں۔ تمام ہندو حتی کہ سیکولر ہندو بھی کسی گرو سے وابستہ ہوتے ہیں اور وہ ان کی کرامتیں بیان کرتے رہتے ہیں۔ میں ٹھیک یہی حال خود مسلمانوں کا بھی ہے۔ مسلمان بھی اولیاء کی کرامتوں اور پیغمبر کے معجزوں کے تصور میں گم رہتے ہیں۔ ان کو خدا کے اعلیٰ معجزات کی خبر نہیں۔
اصل یہ ہے کہ اس کائنات میں سارا اختیار صرف خدا کو ہے۔ جو کچھ ہوتا ہے، وہ صرف خدا کے حکم کے تحت ہوتا ہے، حتی کہ جو معجزے کسی پیغمبر سے منسوب ہیں، وہ بھی خدا کے معجزے ہیں۔ بلاشبہ ایک کھلا ہوا اندھا پن ہے کہ آپ معجزات انسانی میں گم رہیں اور معجزات خداوندی کو دریافت نہ کیسی عجیب بات ہے کہ لوگ خدائی معجزات کو کسی انسان سے منسوب کر کے اُس انسان کی عظمت کا چرچا کرتے ہیں۔ خدا کی عظمتوں کو نہ انھوں نے دریافت کیا اور نہ اُن کی تقریروں اور تحریروں میں کہیں اُس کا چرچا دکھائی دیتا ہے۔
26 فروری 2009 کو یہاں کے جلسے میں میری تقریر تھی۔ مجھے ایک گھنٹے کا وقت دیا گیا تھا۔ یہاں ہر ایک کو یہ موضوع دیا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کی روشنی میں اپنے خیالات کا اظہار کرے۔ میری تقریر کا موضوع یہ تھا: