Al-Risala · July 2009

Fragrance of our Religions in Context of Islam.

Al-Risala, July 2009, pp. 21–25

By Maulana Wahiduddin Khan

اس جلسے میں راقم الحروف کے علاوہ اسٹیج پر تین اور صاحبان موجود تھے۔

Prof. Ramjee Singh, Dr. Rudolf Haredia, Prof. Narottam Palan

میں نے اپنی تقریر میں کلمۂ سواء کے اصول کے مطابق، اسلام کا مثبت تعارف پیش کیا۔ میں نے قرآن اور حدیث اور سیرتِ رسول کی روشنی میں بتایا کہ اسلام امن اور شانتی اور روحانیت کا اسلام میں کٹر پن اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، تمام مرد اور عورت ایک ماں باپ کی اولاد ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے خونی بھائی (blood brothers) اور خونی بہن (blood sisters) کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس جلسے کے صدر پروفیسر رام جی سنگھ تھے۔ سب سے پہلے انھوں نے تقریر کی۔ تحریریں پڑھے ہوئے تھے۔ انھوں نے اپنی تقریر میں بار بار میری تحریروں کا حوالہ دیا۔ کہا کہ میں نے مولانا وحید الدین خاں صاحب کی کتاب (True Jihad) کا مطالعہ کیا ہے۔ پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ مولانا صاحب نے جہاد کی جو تشریح اپنی کتاب میں کی ہے، وہی اصل جہاد ہے، یعنی کسی اعلیٰ مقصد کے حصول کے لیے پرامن جدوجہد۔ میں اپنے اس مطالعے کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ اسلام امن اور شانتی کا مذہب ہے، اسلام میں تشدد اور دہشت گردی کے لیے کوئی انھوں نے کہا کہ میں آپ لوگوں سے کہوں گا کہ اگر آپ صحیح اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ مولانا صاحب کے لٹریچر کا مطالعہ کریں۔

پروفیسر رام جی سنگھ کے اس کھلے اعتراف کا اتنا اثر ہوا کہ پروگرام کے خاتمے پر جب اسٹیج سے یہ اعلان کیا گیا کہ یہاں راقم الحروف کی کتابیں موجود ہیں، جو لوگ دل چسپی رکھتے ہوں، وہ یہاں سے اُن کتابوں کو حاصل کرلیں ۔ اس اعلان کے بعد لوگ ہماری کتابوں پر ٹوٹ پڑے۔ ساتھیوں کے ہمراہ اردو، ہندی اور انگریزی میں چھپے ہوئے دعوتی پمفلٹ اور کتابیں تھیں ۔ ساتھ قرآن کا ہندی اور انگریزی ترجمہ بھی ان کے پاس تھا۔ حاضرین نے اس لٹریچر کو نہایت ذوق وشوق کے ساتھ لیا۔ پروگرام کے ہندو منتظمین نے ہمارے ساتھیوں سے کہا کہ آپ لوگ زحمت نہ کریں، ہم خود لوگوں تک ان کتابوں کو پہنچائیں گے ۔ چناں چہ وہ لوگ حاضرین کے پاس جاکر شوق سے انھیں دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔

لوگوں کے شوق کا یہ حال تھا کہ تھوڑی ہی دیر میں کتابوں کے کئی پیکٹ ختم ہو گئے۔ ساتھیوں کے پاس قرآن کے جو نسخے تھے، وہ بھی سب حاضرین کے درمیان تقسیم ہو گئے۔ سے زیادہ جو چیز مانگ رہے تھے، وہ قرآن کا انگریزی ترجمہ تھا۔ قرآن کے انگریزی ترجمے کے نسخے ختم ہونے کے بعد بہت سے لوگوں نے ہمارے ساتھیوں کو اپنا پتہ نوٹ کرایا۔ انھوں نے کہا کہ آپ دہلی جا کر ہم کو قرآن کا انگریزی ترجمہ بھیجیں۔ ہماری دلی خواہش ہے کہ ہم براہ راست قرآن کو ہمارے ساتھیوں نے جلسے کے خصوصی مہمانوں کو دعوتی پمفلٹ اور قرآن کے انگریزی ترجمے کے علاوہ، اُنھیں حسب ذیل کتابیں دیں:

The Ideology of Peace The True Jihad پروفیسر رام جی سنگھ حاضرین کے نزدیک اُن کے بڑے کی حیثیت رکھتے تھے۔ اُن کے اِس اعتراف کے بعد لوگوں نے راقم الحروف کی کتابوں کے معاملے میں جس ذوق وشوق کا اظہار کیا، اُس میں ایک بہت بڑا سبق موجود ہے۔ وہ یہ کہ کسی قوم کے بڑوں کا اعتراف اُس کے چھوٹوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بن جاتا ہے، اور اُن کے بڑوں کی بے اعترافی ان کے چھوٹوں کے لیے بھٹکاؤ کا ذریعہ۔ قرآن کے مطابق ، سچائی کے معاملے میں بڑوں کی خاموشی اُنھیں دہرے عذاب (الأحزاب: 68) تک پہنچانے والی ہے، وہ ہرگز اُنھیں نجات دلانے والی نہیں۔

اِس جلسے میں مراری باپو بھی موجود تھے۔ وہ حاضرین کے ساتھ فرش پر بیٹھے ہوئے تھے۔ تقریر سے پہلے اپنے طریقے کے مطابق، انھوں نے مجھ کو ہاتھ کے ذریعہ کتے ہوئے سوت کی مالا اور دستی طور پر بنی ہوئی سوتی چادر اڑھائی۔ مگر انھوں نے ایسا نہیں کیا کہ وہ اچانک میرے پاس آئیں اور مجھ کو مالا پہنا دیں۔ اس کے برعکس، انھوں نے یہ کیا کہ پہلے میرے ساتھیوں سے اجازت لی۔ بعد انھوں نے مجھ کو مالا پہنایا اور چادر اڑھائی۔ میں نے اُسی وقت اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مالا اور چادر اتار کر اپنے ساتھی کو دے دیا۔

بعض لوگ اِس قِسم کی چیزوں کو مذہبی نوعیت کی چیز سمجھتے ہیں اور اِس سے اُنھیں محسوس ہوتا ہے کہ اُن کا ایمان خطرہ میں ہے۔ مگر یہ سرتا سرا یک نادانی کی بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ اس طرح کی چیزوں کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ وہ کلچرل نوعیت کی چیزیں ہیں۔ اور کلچرل نوعیت کی چیزوں کے بارے میں اسلام کا اصول تالیف قلب ہے، نہ کہ کٹر پن۔ ایک داعی کو چاہیے کہ وہ اِس قِسم کی چیزوں کو تالیف قلب کے طور پر قبول کرے۔ یہی دعوت کا تقاضا ہے۔

تجارتی اخلاقیات میں جس چیز کو کسٹمز فرینڈلی بہیوئر(customer-friendly (customer-friendly behaviour) کہا جاتا ہے، دعوتی اخلاقیات میں اُسی کو تالیف قلب کہا جاتا ہے، یعنی مدعو فرینڈلی بہیوئر

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تالیفِ قلب ایک ابدی آپ کی زندگی میں تالیف قلب کی بہت سی مثالیں پائی جاتی ہیں۔ مثلاً حدیبیہ کے موقع پر قریش کے سردار حلیس بن علقمہ کی آمد پر قربانی (ھَدْی) کے جانوروں کے ذریعے ان کا استقبال کرنا، واضح طور پر تالیفِ قلب کا ایک واقعہ تھا۔

آشرَم کے تجربے کے تحت میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ تالیفِ قلب کوئی وقتی چیز نہیں، وہ دعوت کا ایک ابدی اصول ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ عملی اعتبار سے پچانوے فی صد تالیف قلب ہے، اور پانچ فی صد دعوہ ورک۔ مزید یہ کہ تالیف قلب کسی ایک چیز کا نام نہیں۔ کی سیکڑوں صورتیں ہیں۔ اگر آپ کے اندر دعوت کا درد ہے تو آپ خود بخود ہر موقع کے لحاظ سے تالیف قلب کا اصول جان لیں گے۔

میں نے کہا کہ غزوۂ حنین (8 ہجری) کے بعد کچھ لوگوں کو تالیف قلب کے طور پر بھیڑ بکری اور اونٹ دئے گئے تھے۔ یہاں کے آشرَم میں اگر آپ بھیڑ بکری اور اونٹ کا تحفہ لائیں تو یہاں کے لوگ اُس کو ایک مسئلہ (problem) سمجھیں گے اور تالیف قلب کا مقصد حاصل نہ ہوگا۔ اس کے بجائے اللہ تعالیٰ کی توفیق سے یہاں ایسا ہوا کہ ان کے اسٹیج سے مجھے ایک گھنٹہ کی تقریر

کرنے کا موقع ملا۔ میں نے یہ تقریر تالیف قلب کے اصول پر کی۔ اس کا اثر اتنا زیادہ ہوا کہ ہم جو دعوتی لٹریچر کئی کارٹن میں پیک کر کے یہاں لائے تھے، اُس کو خود انھیں لوگوں نے ہم سے لے کر سب کے درمیان تقسیم کیا۔ اگر آپ تالیف قلب کی اس حکمت کو سمجھ لیں تو آپ دورِ جدید کا ایک عظیم امکان دریافت کریں گے، اور وہ ہے مدعو کی قیمت پر دعوہ ورک کرنا:

Printed page