Doing Dawah work at the cost of mad‘u.
Al-Risala, July 2009, pp. 25–42
By Maulana Wahiduddin Khan
تالیف قلب دراصل بالواسطہ انداز میں دعوہ ورک ہے۔ پہلے بالواسطہ دعوہ ورک کیا جاتا ہے، اس کے بعد یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ براہِ راست زیادہ مؤثر طور پر دعوہ ورک کیا جاسکے۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ مصلحت اور دعوتی حکمت میں بہت بڑا فرق ہے۔ مصلحت اُس فعل کا نام ہے جو دنیوی مفاد کے لئے کیا جائے۔ اس کے برعکس، دعوتی حکمت یہ ہے کہ دعوت کو فروغ دینے کے لیے دانش مندی کا کوئی طریقہ اختیار کیا جائے۔ مصلحت ذاتی مفاد کے لیے ہوتی ہے، اور حکمت دعوہ ورک کی ترقی کے لیے۔
26 فروری 2009 کے جلسے میں میری تقریر تھی۔ اس جلسے میں احمد آباد اور اطراف کے کچھ مسلمان بھی شریک تھے۔ تقریر کے بعد ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے مجھ سے کہا کہ آپ نے یہاں اسلام کو اس کی مکمل صورت میں پیش نہیں کیا۔ آپ کو چاہئے تھا کہ آپ ان لوگوں کے سامنے اسلام کو اس کی ٹوٹیلٹی (totality) میں پیش کرتے، تاکہ حاضرین کو اسلام کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہو سکتیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات آپ خود اپنے ذہنی معیار کی بنا پر کہہ رہے ہیں۔ قرآن اور حدیث کے مطابق، یہ بات درست نہیں۔ اس نظر سے آپ قرآن اور حدیث کا مطالعہ کیجئے تو آپ پائیں گے کہ دعوتی کلام ہمیشہ حقیقی صورت حال کے مطابق ہوتا ہے، نہ کہ فہرست احکام کے مطابق۔ اگر فہرست احکام کے مطابق دعوت مطلوب ہوتی تو قرآن 23 سال کے دوران نجماً نجماً نہ اترتا، بلکہ پورا قرآن بیک وقت اتار دیا جاتا۔
26 فروری 2009 کو ای ٹی وی اردو (ETV Urdu) کی ٹیم نے راقم الحروف کا ایک
انٹرویو ریکارڈ کیا۔ انٹرویو کے دوران جو سوالات کیے گئے، اُن میں سے ایک سوال یہ تھا کہ لوک سبھا کا الیکشن قریب ہے۔ اس موقع پر آپ مسلمانوں کو کیا مشورہ دیں گے۔
میں نے کہا کہ میرا مشورہ یہ ہے کہ مسلمان اس معاملے میں اپنی سابقہ سیاسی روش کو چھوڑیں اور نئی سیاسی روش اختیار کریں۔ میں نے کہا کہ مسلمان اب تک یہ کرتے رہے ہیں کہ وہ ہمیشہ منفی نیگیٹو ووٹنگ (negative voting) کرتے ہیں، یعنی کسی پارٹی کو اینٹی مسلم (anti-Muslim) قرار دے کر اُس کو ووٹ نہ دینا، اور کسی پارٹی کو پرومسلم (pro-Muslim) قرار دے کر اس کو ووٹ دینا۔ مسلمانوں کو اس معاملے میں جمہوری طریقہ اختیار کرنا چاہئے، نہ کہ فرقہ وارانہ طریقہ۔ اسی غلط ذہن کی وجہ سے مسلمان اب تک انڈیا کے جمہوری نظام سے فائدہ نہیں اٹھا سکے۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے خلاف تقریر کرتے ہیں، حالاں کہ اُن کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔
جلسہ کے خاتمے پر ہم لوگ آ شرم کے مہمان خانے میں آگئے۔ یہاں ہم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ظہر کی با جماعت نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میں نے اپنے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عبادت کے بارے میں حدیث میں یہ الفاظ آئے ہیں: تعبد الله كأنك تراه۔ یعنی تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو جیسے کہ تم اُس کو دیکھ رہے ہو۔ میں نے کہا کہ اس حدیث میں رؤیت کا لفظ لیکن رویت سے مراد رویت عینی نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد نفسیاتی رویت ہے۔ یہ ایک لطیف روحانی تجربہ ہے، نہ کہ سادہ معنوں میں کوئی مشاہداتی تجربہ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ بندے پر خدا کی موجودگی (presence of God) کا تجربہ اتنا شدید ہو کہ اُس کو ایسا محسوس ہونے لگے جیسے کہ وہ خدا کو دیکھ رہا ہے۔
دعوت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کی سورہ نمبر 3 میں دعوت کے اسلوب کو بتاتے ہوئے کلمہ سواء (آل عمران: 64) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ یہ دعوت کا ایک اہم ہمارے مفسرین نے عام طور پر اس کو محدود طور پر اہل کتاب سے متعلق قرار دیا ہے۔ ایک حکیمانہ تعلیم ہے اور اُس کا تعلق عمومی طور پر داعی اور مدعو سے ہے، نہ کہ محدود طور پر صرف پیغمبر اسلام
کے معاصر اہل کتاب سے۔ اس سے مراد صرف کلمۂ سواء بین الیہود و المسلمین نہیں ہے، بلکہ اُس کا تعلق کلمۂ سواء بین الداعی والمدعو سے ہے۔
اس کنونشن میں ہماری ملاقات مہاد یو دیسائی کے بیٹے نارائن مہاد یو دیسائی (پیدائش 1924) نارائن دیسائی نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل گجراتی زبان میں ایک کتاب لکھی ہے۔ نام یہ ہے۔ باپو کی گود میں۔ نارائن دیسائی نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل گجراتی زبان میں ایک کتاب اس کا نام یہ ہے۔ باپو کی گود میں۔
مہاد یو دیسائی (وفات: 1942) ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص تھے۔ وہ اپنا کام چھوڑ کر مہاتما گاندھی کے سیکرٹری بن گئے۔ وہ لمبی مدت تک سیوا گرام (مہاراشٹر) میں مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے۔ مسٹر دیسائی سے میری ملاقات شام کے وقت کھانے کی میز پر ہوئی۔ اس ملاقات میں ان کے سوا جسٹس ادھکاری بھی وہاں موجود تھے۔ میں نے مسٹر نارائن دیسائی سے پوچھا کہ آپ نے مہاتما گاندھی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی کوئی خاص بات بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ 1946 میں مشرقی بنگال (نو اکھلی) کے علاقے میں فرقہ وارانہ فساد پھیل گیا۔ اُس وقت مہاتما گاندھی دہلی سے نواکھلی گئے اور گاؤں گاؤں دورہ کرکے لوگوں کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے گجرات کے ایک کانگریس ورکر کے نام ایک خط لکھا تھا۔ یہ تاریخی خط اب تک محفوظ ہے۔ اس خط میں مہاتما گاندھی نے لکھا تھا— میں جہاں ہوں، وہاں ہر طرف آگ اور خون کا منظر ہے، لیکن میرے من میں شانتی ہے۔
گجرات کی ریاست بحر عرب کے ساحل پر واقع ہے۔ مہوا سے ساحل بہت قریب تھا، یعنی کار کے ذریعے پندرہ منٹ کا راستہ۔ 26 فروری 2009 کی شام کو ہم لوگ ساحل پر گئے۔ ہم لوگ وہاں کچھ دیر ٹھہر کر سمندر کا منظر دیکھتے رہے۔ ساحل پر ایک تاریخی مندر ہے۔ اس کو بھوانی کا مندر کہا جاتا ہمارے ساتھیوں نے ساحل پر لوگوں کو دعوتی لٹریچر مطالعے کے لیے دیا۔ یہاں کئی چھوٹے چھوٹے ہوٹل اور کچے ناریل کی دکانیں تھیں ۔ ہمارے ساتھ آ شرم کے ایک کارکن ناتھ جی تھے۔
وہ ہمارے ساتھیوں سے ہندی پملفلٹ (ستیہ کی کھوج) لے کر ساحل پر موجود دکان داروں اور وہاں کے مندر میں موجود زائرین کو دے رہے تھے۔
سمندر کو دیکھنے کے بعد میرے ایک ساتھی نے کہا کہ ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے خدا کی عظمت و کبریاُئی کے اظہار کے لیے جو الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، وہ صرف خدا کی تصغیر (underestimation) کے ہم معنی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی عظمت اس سے بہت زیادہ ہے کہ الفاظ کا کوئی ذخیرہ اُس کا احاطہ کر سکے۔
ہم لوگ ساحل سے مہوا کے آشرم میں لوٹے تو مغرب کا وقت ہو رہا تھا۔ ہم لوگوں نے یہاں جماعت کے ساتھ نماز ادا کی۔ نماز کے بعد میرے ایک ساتھی نے کہا کہ آج جب میں نے نماز کی نیت باندھنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاتے ہوئے اللہ اکبر کہا تو ایسا محسوس ہوا جیسے خدا کی عظمت اور اس کی کبریاُئی کا دائرہ لامحدود حد تک وسیع ہو گیا ہے۔ ٹھاٹھیں مارتا ہوا بحرِ بے کراں میری نگاہوں کے سامنے میں نے سوچا کہ وہ خدا کتنا عظیم ہوگا جو اس سمندر کا خالق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی موجودہ محدودیت کے ساتھ خدا کی لامتناہی عظمت کا تصور نہیں کر سکتا۔
آشروم میں میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو ایک برائی سے بہت زیادہ بچنا ہے۔ یہ بے اعترافی کی برائی ہے۔ موجودہ زمانہ میں بے اعترافی کا مزاج اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ تقریباً ہر آدمی بے اعترافی کی نفسیات میں جیتا ہے۔ لوگ اس معاملے میں اتنا زیادہ کنڈیشنڈ ہو گئے ہیں کہ اُن کو یہ احساس بھی نہیں کہ بے اعترافی ایک مہلک برائی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مثال کے طور پر میں نے پایا ہے کہ جب ایک تنظیم یا ادارہ کوئی سیمنار یا کانفرنس کرتا ہے تو وہ اُس میں شرکت کے لیے مختلف لوگوں کو دعوت دیتا ہے۔ ان لوگوں کے لیے ہر قسم کا انتظام کیا جاتا ہے۔ کانفرنس کے شرکاء جب اس کا ذکر کرتے ہیں تو عام طور پر اُن اجزا کا ذکر کرتے ہیں جن میں خود ان کی اپنی شان بڑھتی ہو ۔ مثلاً ائر پورٹ پر شان دار استقبال۔ مگر جہاں تک منتظمین کا ذکر ہے، اُن کا حقیقی اعتراف میں نے لوگوں کی تحریر و تقریر میں نہیں پایا۔
اس معاملے پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ لمبی مدت تک ایک خاص طرح کی زندگی گزارتے ہوئے لوگ اب بے اعترافی سے اتنا زیادہ مانوس ہو چکے ہیں کہ بے اعترافی اُن کے لیے معمول کی ایک چیز بن چکی ہے۔ بے اعترافی کا کلمہ بولتے ہوئے اُنہیں یہ محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کوئی غلط بات بول رہے ہیں۔ بے اعترافی کے الفاظ اُن کے لیے اُسی طرح سہل الادا ہوگئے ہیں جس طرح کسی کے لیے تکیہ کلام۔ اس برائی سے بچنے کا ایک طریقہ ہے، وہ یہ کہ اپنا اتنا زیادہ محاسبہ (introspection) کیا جائے کہ اعتراف آدمی کے لیے مانوس چیز بن جائے، اور بے اعترافی اس کے لیے ایک نامانوس چیز۔
اس کنونشن میں مقامی لوگوں کے علاوہ بیرونی مقامات کے بہت سے لوگ آئے تھے۔ جاتے ہوئے انھوں نے ہمارے ساتھیوں سے یہ کہہ کر مزید لٹریچر حاصل کیا کہ ہم اس کو اپنے مقام پر لوگوں کو پڑھنے کے لیے دیں گے۔ اس طرح یہ اسلامی لٹریچر بالواسطہ طور پر بہت سے دوسرے مقامات کے لوگوں تک پہنچ گیا۔
ایک نشست میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عام طور پر موجودہ زمانے کے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ اسلام کو’’اغیار‘‘ کی طرف سے خطرہ ہے۔ وہ تحفظِ اسلام کے نام پر بڑی بڑی کانفرنسیں مگر اس قسم کی باتوں کا خدا کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اپنے آخری دین کی حفاظت کی ذمہ داری خود لے لی ہے۔ ایسی حالت میں خطرہ اگر ہو سکتا ہے تو وہ خود مسلمانوں کو ایک گروہ کی حیثیت سے ہو سکتا ہے۔ اسلام کو خدا کا آخری دین ہونے کی حیثیت سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنے قومی خطرے کی طرف منسوب کر کے یہ کہتے ہیں کہ خدا کے دین کو خطرہ ہے۔ مگر یہ بات مضحکہ خیز حد تک خلاف واقعہ ہے۔ مسلمان جس چیز کو ملی خطرہ کہتے ہیں، اس کا واحد حل صرف دعوت الی اللہ ہے۔ اگر وہ دعوت الی اللہ کی ذمے داری کو درست طور پر ادا کرنے لگیں تو’’خطرہ‘‘ کا تصور اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
میں نے اس سلسلے میں اپنے تین دعوتی تجربات کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ گزشتہ چار مہینوں میں میں نے تین مقامات کا سفر کیا ہے اور تین مذاہب کی کانفرنس میں شرکت کی ہے۔ یہودیوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنس (اکتوبر 2008)، قبرص میں عیسائیوں کی طرف سے منعقد ہونے والی کانفرنس (نومبر 2008)، اور یہاں گجرات میں ہندوؤں کی طرف سے منعقد ہونے والی موجودہ کانفرنس (فروری 2009)۔ ان تینوں مقامات پر میں نے اور میرے ساتھیوں نے کھلے طور پر اسلامی دعوت کا کام کیا۔ مگر کسی مقام پر ہم کو نہ کسی تعصب کا سامنا کرنا پڑا اور نہ کسی مخالفت کا، بلکہ ہر جگہ ہمارے ساتھ مکمل تعاون کا معاملہ کیا گیا۔
اس قسم کا تجربہ مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو بار بار پیش آیا ہے۔ میں نے اس کے سبب پر غور میری سمجھ میں آیا کہ ایسا معاملہ ہمارے ساتھ کسی اتفاق کے نتیجے میں پیش نہیں آیا، بلکہ یہ تمام تر روح عصر (spirit of the age) کے نتیجے میں پیش آیا ہے۔ اصل یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مذہبی رواداری (religious tolerance) ایک مسلمہ جمہوری اصول (democratic norm) بن چکا ہے۔ آج کا انسان اس بات کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اُس پر مذہب کے معاملے میں عدم رواداری کا الزام لگایا جائے۔ اس قسم کا الزام اُس کے لیے اپنی حیثیت عرفی کو کھونے کے ہم معنی ہے۔ اس لیے جب آج کا انسان کسی دوسرے مذہب کے لوگوں کے ساتھ رواداری کا سلوک کرتا ہے تو وہ خود اپنی حیثیت عرفی کو ثابت شدہ بنانا ہے۔
جو لوگ اس معاملے کی حقیقت نہیں سمجھتے، وہ اپنی بے خبری کی بنا پر اس طرح کے معاملے کو سازش کا معاملہ سمجھنے لگتے ہیں، حالاں کہ اس طرح کے معاملے کو سازش کہنا خود اپنی بے خبری کا اعلان ہے، نہ کہ دوسرے کے بارے میں کسی حقیقت کا اظہار۔ ایسے لوگوں کے بارے میں صرف یہ کہا جا سکتا ہے کہ نہ اُن کے اندر خدا کا اتنا خوف ہے کہ وہ خدا کی پکڑ کے اندیشے سے چپ رہیں، اور نہ اُن کے پاس اتنی عقل ہے کہ وہ اس معاملے کو اس کی اصل حقیقت کے اعتبار سے سمجھ سکیں۔ ایک مسلمان سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کے مسلمان عام طور پر دوسری
قوموں کو اپنا دشمن بتاتے ہیں اور ان سے نفرت کرتے ہیں۔ مگر یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ اس لیے کہ اس قسم کی سوچ ایک قیمت چاہتی ہے۔ اگر آپ وہ قیمت ادا نہ کریں تو آپ کو منافقت کا طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے، یعنی ایک چیز کو برا مانتے ہوئے ذاتی مفاد کی بنا پر اس کے ساتھ مصالحت کر لینا۔ میں نے کہا مثال کے طور پر ساری دنیا کے مسلمان امریکا کو اسلام کا دشمن نمبر ایک سمجھتے ہیں، اس کے باوجود امریکا میں تقریباًً سب ملیں مسلمان رہ رہے ہیں۔
میں نے امریکا میں مقیم ایک پاکستانی مسلمان سے کہا کہ آپ لوگ امریکا کو اسلام کا دشمن بتاتے ہیں اور پھر یہیں آکر رہتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تو روزی کا معاملہ ہے۔ آدمی کی روزی جہاں لکھی رہے گی، وہاں وہ جائے گا۔ میں نے کہا کہ خدا نے آپ کی روزی ’’پاک لینڈ‘‘ میں نہیں لکھی، اُس نے آپ کی روزی ’’ناپاک لینڈ‘‘ میں لکھ دی—یہی موجودہ زمانے میں تقریباًً تمام مسلمانوں کا مزاج ہے۔
یہاں ماہ نامہ الرسالہ کے ایک قاری سے ملاقات ہوئی ۔ وہ بنگلور کے رہنے والے ہیں۔ میں نے اُن سے پوچھا کہ آپ لمبی مدت سے الرسالہ کا مطالعہ کر رہے ہیں، یہ بتائیے کہ آپ کو اس مطالعے سے کیا ملا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں مختصر الفاظ میں اس کا جواب دوں تو وہ یہ ہوگا کہ الرسالہ کے مطالعے سے پہلے میں بے شعوری کی زندگی گزار رہا تھا، الرسالہ کے مطالعے کے بعد میں شعور کی طرف آیا الرسالہ کا مطالعہ میرے لیے ایک ذہنی سفر تھا، یعنی بے شعوری سے شعور کی طرف سفر۔ شعوری زندگی کا حصول ہر آدمی کی ایک لازمی ضرورت ہے۔ بے شعور آدمی ایسا ہی ہوتا ہے جیسے کہ کوئی حیوان۔ وہ اپنے فطری تقاضوں کے تحت کماتا ہے اور کھاتا ہے اور پھر مر جاتا ہے۔ مقابلے میں، باشعور انسان ہی حقیقی انسان ہے۔ یہ صرف شعور ہے جو ایک انسان کو حیوانات سے الگ بے شعوری کی زندگی یہ ہے کہ آدمی ما ألفينا عليه آبائنا (البقرۃ: 170) کی سطح پر جیتا ماحول سے اُس نے جو کچھ سیکھا، آس پاس کی دنیا سے اُس کو جو باتیں ملیں، اُن کو وہ مانتا چلا گیا۔ ایسا انسان اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ ایسے ہی انسان کو بے شعور انسان کہا جاتا ہے۔
با شعور انسان وہ ہے جو خود اپنے شعور کی تربیت کرے، جو براہ راست مطالعے کے ذریعے چیزوں کو جانے، جو سوچے سمجھے فیصلے کے تحت دنیا میں زندہ رہنا سیکھے۔ دین اور دنیا دونوں اعتبار سے یہی با شعور انسان حقیقی معنوں میں انسان کی حیثیت رکھتا ہے۔ با شعور انسان کو دوسرے لفظوں میں سیلف میڈ مین (self-made man) کہا جا سکتا ہے۔
با شعور زندگی کا تعلق دین سے بھی ہے اور دنیا سے بھی۔ دین کے اعتبار سے دیکھیے تو زندہ عقیدہ اور زندہ عبادت اور زندہ اخلاق صرف اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ آدمی بے شعوری سے نکل کر اپنے آپ کو با شعور بنا چکا ہو۔ شعوری دریافت کے بغیر دین صرف بے روح رسموں کا مجموعہ ہے، اِس کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہی معاملہ دنیا کے اعتبار سے بھی ہے۔ بے شعور آدمی ہمیشہ شکایتوں میں جیتا ہے۔ ترقی نہیں کر پاتا۔ اِس کے برعکس، با شعور آدمی شکایتوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے، وہ مثبت شعور کے تحت اپنے عمل کی منصوبہ بندی کر کے اعلیٰ کامیابی تک پہنچ جاتا ہے۔
مہوا کے اِس آشرم میں بہت سے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اپنے گرو کی زیارت کے لیے یہ لوگ اکثر اِس طرح کے جملے بولتے تھے کہ ہم کو جو کچھ ملا ہے، وہ گرو جی کی کرپا سے ملا ہے۔ ٹھیک یہی مثال خود مسلمانوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ مسلمان جو کسی درگاہ سے یا کسی بزرگ سے وابستہ ہیں، وہ بھی اِس قسم کے الفاظ کہتے ہیں کہ ہم کو جو کچھ ملا ہے، وہ سب حضرت کی دعاؤں کے طفیل ملا ہے۔ یہ ایک مشترک گمراہی ہے جو ہندو اور مسلمان دونوں میں مشترک طور پر پائی جاتی ہے۔ دنیوی چیزیں ہر ایک کو ملتی ہیں۔ جو شخص بھی اِس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، اُس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام مادی چیزیں دی جاتی ہیں، کیوں کہ ان مادی چیزوں کے بغیر کسی کا امتحان ممکن نہیں۔ مادی چیزوں کو پرچہ امتحان کے بجائے بزرگوں کا فیض سمجھ لینا بلاشبہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے شرک مزید یہ کہ اِس قسم کی سوچ ہمیشہ ذہنی جمود پیدا کرتی ہے۔ جس ماحول میں اِس قسم کی سوچ ہو، وہاں ذہنی ارتقا کا عمل رک جائے گا۔
ایک صاحب نے سوال کیا کہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں کو اپنے بزرگوں سے
والہانہ محبت ہوتی ہے، ایسی محبت جس کا مشاہدہ خدا کے معاملہ میں نظر نہیں آتا۔ ایسا کیوں ہے۔ میں نے کہا کہ اس کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ ہے فطرت میں چھپے ہوئے ربانی جذبات کو کسی غیر خدا سے منسوب کر لینا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر انسان کی فطرت میں خدا کی طلب بے پناہ حد تک موجود ہوتی ہے۔ لیکن قلتِ معرفت کی بنا پر وہ خدا کی غیر مشہود عظمت کو دریافت نہیں کر پاتا، اس لیے وہ انسان کی مشہود عظمت کو اپنا مرکز تو جہ بنا لیتا ہے۔ وہ قرآن کے الفاظ میں، یحبونهم كحبّ الله (البقرہ: 165) کا مصداق بن جاتا ہے۔
گجرات جانے سے پہلے کنونشن کے مقامی ذمے داروں سے ہمارے ساتھیوں نے وہاں کے موسم کے بارے میں پوچھا، انھوں نے بتایا کہ اس وقت گجرات میں بہت گرمی ہو رہی ہے۔ پھر بھی ہم لوگوں نے احتیاطاً اپنے ساتھ گرم کپڑے رکھ لیے۔ وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ رات میں وہاں سردی ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں کے کہنے پر اگر ہم لوگ اپنے ساتھ گرم کپڑے نہ رکھتے تو ہمیں سردی کا سامنا کرنا پڑتا۔ میرا تجربہ ہے کہ اکثر لوگوں کا مشاہدہ بہت کم زور ہوتا ہے۔ وہ اس طرح کے معاملات میں درست رائے نہیں دے پاتے۔ میرے تجربے کے مطابق، لوگ یا تو بات کو گھٹا کر کہتے ہیں یا وہ بات کو بڑھا کر ٹھیک ٹھیک رائے دینا ایک نادر صفت ہے، اور یہ نادر صفت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی مزید یہ کہ لوگ ایسا بھی نہیں کرتے کہ وہ صاف طور پر کہہ دیں کہ ہمیں اس کا علم نہیں۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ صرف بولنا جانتے ہیں۔ چپ رہنا بھی ایک عمل ہے، لیکن لوگ عام طور پر عمل کی اس قسم سے بالکل بے خبر ہیں۔
کیلاش آشرم کے چاروں طرف ناریل کے ہرے بھرے درخت دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ ایسا معلوم نہیں ہوتا تھا کہ ان درختوں کے درمیان کوئی بستی موجود ہے۔ عشاء کے وقت اذان کی آواز سنائی پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہاں ہمارے بالکل پڑوس میں ایک بستی ہے۔ اس کا نام مہوا ہے۔ گجرات کا کشمیر کہا جاتا ہے۔ وہ اپنے قدرتی حسن اور فطری مناظر کی وجہ سے کافی مشہور ہے۔ 27 فروری 2009 کو مولانا محمد ذکوان ندوی نے یہ پروگرام بنایا کہ وہ فجر کی نماز مہوا میں
ادا کریں گے۔ چناں چہ وہ ایک مقامی ساتھی حافظ محمد شبیر صاحب (برم گاؤں) کو اپنے ساتھ لے کر فجر کے وقت مہوا گئے۔ وہاں انھوں نے مختلف لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو دعوتی لٹریچر دیا۔ میں 14 مسجدیں ہیں۔ یہاں ہندواور مسلم دونوں طبقے کے لوگ باہم محبت اور بھائی چارے کے ساتھ رہتے ہیں۔ مولا نا محمد ذکوان ندوی نے مہوا کی مختلف مسجدوں میں جا کر ان کے ائمہ سے ملاقات کی، اور اُن کو مطالعہ کے لئے ماہ نامہ الرسالہ کے متفرق شمارے اور تذکیر القرآن (اردو) دیا۔ لوگوں نے ہمارے ساتھیوں کے ساتھ بے حد خلوص اور محبت کا سلوک کیا۔
ان میں سے ایک یادگار ملاقات وہ تھی جو مہوا کی جامع مسجد کے امام مولاناعبدالواحد پالن پوری مہوا کی جامع مسجد ایک کشادہ اور وسیع مسجد ہے۔ وہ سنگڑ یا بازار میں چوک کے قریب واقع مولانا عبدالواحد صاحب ایک سنجیدہ انسان ہیں۔ یہاں ان کا بہت اثر ورسوخ ہے۔ ہمارے ساتھی کا بھر پور تعاون کیا اور مہوا کی مختلف مسجدوں میں’’تذکیر القرآن‘‘ پہنچانے میں ہماری روانگی سے قبل مہوا کے علماء اور ائمہ حضرات آشرم میں ہم لوگوں سے ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے الرسالہ مشن سے اپنی گہری دل چسپی کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ وقت کی آواز ہے اور ہم اس آواز کو دوسروں تک پہنچائیں گے۔
میں نے کہا کہ مسلم ملت آج ایک بڑی ملت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اُس کے افراد کی تعداد ایک بلین سے زیادہ ہے۔ ملت کے اندر مختلف قسم کے کام مطلوب ہیں ۔ مثلاً تعلیم ، دعوت ، دینی اصلاح، اصلاح ذات البین، وغیرہ۔ ان میں سے ہر کام کی اہمیت ہے اور یہ بالکل فطری بات ہے کہ ملت کے اندر مختلف حلقے اور تنظیمیں ہوں جو مختلف دائرے میں اپنی ذمے داریاں انجام دیں۔ اس طرح کی تقسیم کار (division of work)بالکل فطری ہے اور ملت کی مجموعی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔ لیکن اس معاملے کو بہتر طور پر انجام دینے کے لیے ایک ضروری شرط ہے، وہ شرط ہے— باہمی اعتراف (mutual acknowledgement)۔
صحیح طریقہ یہ ہے کہ لوگ اپنے اپنے ممکن دائرے میں اپنی صلاحیت اور اپنے وسائل کے
مطابق کام کریں ۔ ہر ایک اپنی ذمے داریوں کو انجام دے اور اسی کے ساتھ ہر ایک دوسرے کا اعتراف کرے ۔ باہمی اعتراف کے ساتھ تقسیم کار ، یہی اس معاملے میں صحیح اور قابلِ عمل طریقہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ملت کی مجموعی ترقی کے لیے تقسیم کار کا اصول لازمی طور پر ضروری ہے۔ لیکن تقسیم کار کا اصول اُسی وقت مفید ہوسکتا ہے ، جب کہ ہر گروہ دوسرے کا اعتراف کرے ، ہر گروہ کے لوگوں میں دوسرے گروہ کے لیے خیر خواہی ہو ، ہر گروہ دوسرے گروہ کی اُسی طرح قدر دانی کرے جس طرح وہ خود اپنی قدر دانی چاہتا ہے۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مختلف گروہوں کے درمیان اختلاف ختم ہو جائے گا۔ فطرت کا ایک اصول ہے ، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں ۔ جو چیز مطلوب ہے ، وہ اختلافات کا خاتمہ نہیں ہے ، بلکہ اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا ہے ، اختلاف کے باوجود متحد ہو کر کام کرنا جس طرح ہر چیز کی ایک قیمت ہوتی ہے ، اُسی طرح تقسیم کار کی بھی ایک قیمت ہے ، وہ قیمت یہ ہے ــــ کام کی تقسیم کے باوجود دلوں کی تقسیم نہ ہونا۔
آشرم کے قریب ایک بستی ہے۔ اُس کا نام مہوا ہے۔ اِسی بستی میں مراری باپو کا قیام رہتا ہے۔ بستی کے کچھ مسلمانوں نے بتایا کہ گودھرا فساد (2002) کے بعد گجرات کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فساد شروع ہو گیا تھا۔ اِس موقع پر کچھ ہندو بلوائی مہوا بھی آگئے۔ وہ چاہتے تھے کہ یہاں بھی اِس وقت مراری باپو نے بہت بڑا رول ادا کیا۔ وہ اپنے گھر سے نکل کر باہر آئے۔ فسادیوں کو سختی سے روکا ، اور کہا کہ تم لوگ یہاں سے چلے جاؤ ، ہم اپنی بستی میں فساد نہیں ہونے دیں اس کے بعد وہ لوگ مایوس ہو کر مہوا سے چلے گئے۔
یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن اور حدیث میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہا گیا ہے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہ تو اسٹیج سے عوامی خطاب کرنے کا نام ہے ، اور نہ وہ یہ ہے کہ حکومت پر قبضہ کرنے کے لیے سیاسی تحریک چلائی جائے اور یہ کہا جائے کہ ہم حکومت کے زور پر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں ہی غیر متعلق طریقے ہیں۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر یہ ہے کہ متعین اور مشخص طور پر اس کام کو انجام دیا جائے_ پیش آمدہ صورت حال میں قوم کے سر بر آوردہ افراد کھڑے ہو جائیں۔ وہ موقع پر پہنچ کر کہیں کہ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔ تم کو ہر حال میں اپنے شر سے باز ہونا پڑے گا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام فوری طور پر اور متعین طور پر مداخلت کے ذریعے انجام دیا جاتا ہے۔ اس کام کا تعلق نہ تو اسٹیج کی تقریر سے ہے اور نہ سیاسی ہنگامہ آرائیوں سے۔
آج کل یہ حالت ہے کہ کہیں کوئی منفی واقعہ پیش آئے تو لوگ اخباری بیانات دیتے ہیں۔ ہندو لکھنے اور بولنے والے لوگ مسلمانوں کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں۔ اور مسلمان لکھنے اور بولنے والے لوگ ہندوؤں کے خلاف لکھتے اور بولتے ہیں ۔ اس قسم کی چیزیں سر تا سر لیڈری ہے۔ کچھ بھی تعلق امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے مطلوب کام سے نہیں۔ فرقہ وارانہ فساد کے موقع پر کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ مسلم رہنما مسلمانوں کے مفسد عناصر کے خلاف بولیں، اور ہندو رہنما ہندوؤں کے مفسد عناصر کے خلاف بولیں ۔ اس طرح فرقہ وارانہ فسادات پر روک لگ سکتی ہے۔ کے سوا کوئی اور صورت فرقہ وارانہ فسادات کو ختم کرنے والی نہیں۔
مسلمانوں کے درمیان لمبی مدت سے اصلاحِ معاشرہ کے نام پر تحریکیں چل رہی ہیں۔ ان تحریکوں کا عملاً کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ یہ تحریکیں ہمیشہ عمومی انداز میں خطاب کرتی اصلاحِ معاشرہ کا کام کبھی بھی عمومی انداز میں مؤثر نہیں ہو سکتا۔ اس کام کے صرف دو طریقے ہیں ـــ ایک، متعین مداخلت ۔ اور دوسرا، متعین نشان دہی۔ اگر آپ صاحبِ اثر ہیں تو موقع پر پہنچ کر متعلق افراد پر دباؤ ڈالیے اور اُنھیں برائی سے روکیے، اور اگر آپ صاحبِ اثر نہیں ہیں تو کم از کم آپ کو یہ کرنا ہے کہ آپ برائی کی متعین نشان دہی کریں، یعنی جو افراد برائی میں ملوث ہیں، اُن کا نام لے کر اُن کی مذمت کریں ۔ ان دو طریقوں کے سوا کوئی تیسرا طریقہ اس کام کو انجام دینے کا نہیں_ 27 فروری 2009 کوروانگی کا دن تھا۔ سب سے پہلے مراری باپو کے بھائی دیوا کا ملاقات کے لیے ہماری قیام گاہ پر آئے ۔ یہ ان کی طرف سے رخصتی ملاقات تھی۔ انھوں نے ہمارے ہر ساتھی کو
گفٹ (gift) پیش کیا اور مراری باپو کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد جب چلنے کا وقت ہوا تو مراری باپو ملاقات کے لیے خود ہماری قیام گاہ پر آئے۔ انھوں نے ہم لوگوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپ لوگ یہاں آئے، اس کے لیے ہم آپ کے بہت شکر گزار ہیں۔
یہاں کا ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ ہمارے ایک نئے ساتھی اپنی اہلیہ کے ساتھ اس سفر میں وہ اسلام سے کافی دل چسپی رکھتے ہیں اور آج کل وہ قرآن کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ والدہ ایک قدیم مذہبی خاتون ہیں۔ اسلام کے مطالعے کی وجہ سے اُن کے گھر میں کشیدگی کا ماحول تھا۔ گجرات کے سفر میں مراری باپو نے ہمارے مذکورہ ساتھی کی اہلیہ کو گفٹ کے طور پر ایک قیمتی ساڑی پیش کی اور ہمارے ساتھی کے ساتھ اپنی تصویر کھنچوائی۔
ہمارے ساتھی نے اپنی والدہ کی تالیف قلب کے طور پر یہ ساڑی ان کو دکھاتے ہوئے کہا، یہ مراری باپو کا آشیرواد ہے۔ انھوں نے اپنی والدہ کو مراری باپو کے ساتھ اپنی تصویر بھی دکھائی۔ والدہ مراری باپو کی بہت عقیدت مند تھیں ۔ اُن پر اس واقعے کا بہت اثر ہوا کہ مراری باپو نے میرے بیٹے کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویر کھنچوائی اور خود اپنے ہاتھ سے میری بہو کو ساڑی کا تحفہ پیش کیا۔ خوش ہوئیں اور گھر کے ماحول میں جو کشیدگی تھی، وہ ختم ہوگئی۔
اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ دعوت کا کام اگر حکمت کے ساتھ کیا جائے تو کس طرح ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی مدد آتی ہے اور سارے معاملات خود بخود درست ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس قسم کی نصرت صرف اُس دعوتی کام پر آتی ہے جو تالیفِ قلب کے قرآنی اصول پر حکمت کے ساتھ خیر خواہانہ انداز میں انجام دی جائے۔
27 فروری 2009 کو ظہر کی نماز پڑھ کر آشرم سے واپسی ہوئی۔ مہوا سے احمد آباد ائرپورٹ تک کا یہ سفر پانچ گھنٹے کا سفر تھا۔ میرا یہ طریقہ ہے کہ میں سفر میں ہر صورت حال کو ذہنی تربیت کے لیے پوائنٹ آف ریفرنس کے طور پر استعمال کرتا ہوں۔ میرے نزدیک یہی طریقہ تربیت کا صحیح طریقہ ہے۔ تربیت گاہ اور تربیتی پروگرام کی شکل میں جو رسمی تربیت دی جاتی ہے، وہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے بالکل بے فائدہ ہے۔
تربیت حقیقت میں دو چیزوں کا نام ہے— ایک ایسا شخص جو پورے معنوں میں معلم تربیت ہو، اور دوسرے، ایسے افراد جو اپنے اندر ذاتی اصلاح کا جذبہ رکھتے ہوں اور پھر مربی ہر موقع کو اصلاحِ فکر کے لیے استعمال کرے۔ حقیقی تربیت ہمیشہ پوائنٹ آف ریفرنس کے حوالے سے ہوتی ہے، نہ کہ رسمی نوعیت کے تربیتی نظام کے ذریعہ۔
مثلاً جب ہماری کار سڑک پر دوڑ رہی تھی تو میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ اس واقعے کی اہمیت کو آپ صرف اُس وقت سمجھ سکتے ہیں، جب کہ آپ اس کو تقابلی طور پر دیکھ سکیں۔ میں نے کہا کہ آج سے 80 سال پہلے میرے بچپن میں نہ ایسی سڑکیں ہوتی تھیں اور نہ ایسی کار۔ اُس وقت کے ماحول میں میں نے جو پہلا سفر کیا، وہ کچے راستے پر پیدل کی صورت میں تھا۔ اس کے بعد مختلف قسم کے سفر پیش آتے رہے— بیل گاڑی پر سفر، یکہ اور تانگہ پر سفر، بائسکل پر سفر، بس پر سفر، ٹرین پر سفر، بحری جہاز پر سفر، پھر آخر میں جدید کار اور تیز رفتار ہوائی جہاز پر سفر۔
میں نے کہا کہ میں غور کرتا ہوں تو مجھے اپنے سفر میں انسانی تہذیب (civilization) کا سفر دکھائی دینے لگتا ہے۔ آغاز میں انسانی زندگی بالکل سادہ تھی۔ اس کے بعد ہزاروں سال تک نسل در نسل بے شمار لوگوں نے محنتیں کیں، اس کے بعد یہ تمام سواریاں اور دوسرے ترقیاتی ذرائع وجود میں آئے۔ اس واقعے پر غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوگا کہ پوری نسل انسانی نسل در نسل مسلسل محنت کرتی رہی، اس کے بعد یہ ممکن ہوا کہ جدید طرز کی سڑکیں اور جدید طرز کی سواریاں وجود میں آئیںجن پر میرے جیسا آدمی بہ آسانی سفر کر سکے۔
میں ہر معاملے میں اسی طرح غور کرتا ہوں۔ چناں چہ میرے دل میں انسان کے لئے کوئی نفرت یا شکایت کا جذبہ موجود نہیں، جیسا کہ لوگوں کا حال ہے۔ میں پوری انسانیت کو اپنا محسن سمجھتا ہوں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پورا انسانی قافلہ مسلسل سرگرمی کے ذریعے انسانی تہذیب کو ترقی دیتا رہا، یہاں تک کہ موجودہ ترقیاں وجود میں آئیں جن سے تمام لوگ فائدہ اٹھارہے ہیں۔
اسی کا نام تربیت ہے۔ دینی تربیت کا لفظ علماء میں اور اسلامی جماعتوں میں بہت بولا جاتا ہے۔
مگر یہ لوگ اس سے بے خبر ہیں کہ تربیت کیا چیز ہے۔ ان لوگوں کے نزدیک تربیت کا تصور یہ ہے کہ تربیتی پروگرام کے تحت لوگوں کو ایک مقام پر اکٹھا کیا جائے۔ وہاں تربیت کے عنوان پر تقریریں کی جائیں اور قرآن وحدیث کا درس دیا جائے۔ یہ تربیت کا رسمی طریقہ ہے، اور رسمی تربیت کے ذریعے کبھی کسی کی تربیت نہیں ہوتی۔
تربیت یہ ہے کہ مختلف مواقع کو بطور ریفرنس استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو تربیت کی غذا دی جب ایسا کوئی مواقع پیدا ہوتا ہے تو اُس وقت انسان سننے کے لیے بالکل تیار ہو جاتا ہے۔ وقت حکیمانہ انداز میں اُس موقع کو پوائنٹ آف ریفرنس (point of reference) کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ذہنی غذا دینا، یہی تربیت کا اصل طریقہ ہے۔
میں نے اپنے ساتھیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اصحاب رسول نے اپنے زمانے میں انتہائی سخت حالات میں دعوت کا کام کیا۔ بعد کے زمانے میں جو لوگ دعوت کا کام کریں گے، اُن کو خدا کی خصوصی نصرت حاصل ہوگی۔ اس کے نتیجے میں اُن کا سفر ایک شاہانہ سفر بن جائے گا۔ اس حقیقت کو بتائے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اُن کا حال اس طرح ہوگا، جیسے کہ بادشاہ تختوں پر بیٹھے ہوئے (كالملوك على الأسرة)۔
میں نے کہا کہ اس حدیث رسول میں نئے دورِ دعوت کی پیشین گوئی موجود ہے۔ میں ”كالملوك“ کی تمثیل بہت بامعنی ہے۔ اُس کا مطلب شاہانہ مواقع ہیں، نہ کہ لفظی معنی میں شاہی اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد کے زمانے میں جب مذہبی جبر کا دور ختم ہوگا، آزادی کا دور آئے گا اور صنعتی ترقیوں کے نتیجے میں جدید امکانات کھل جائیں گے، اُس وقت جو لوگ ان امکانات کو دعوت الی اللہ کے لیے استعمال کریں، وہ بظاہر اگرچہ سیاسی اقتدار کی کرسی پر بیٹھے ہوئے نہیں ہوں گے لیکن عملاً ان کے لیے وہ تمام مواقع عالمی سطح پر پوری طرح کھل جائیں گے جن کا استعمال قدیم زمانے میں صرف کسی بادشاہ کے لیے ممکن ہوتا تھا۔
دعوت الی اللہ کے یہ شاہانہ موقع صرف اُن لوگوں کے حصے میں آئیں گے، جن کا حال یہ ہو کہ وہ
اس قِسم کے واقعے سے فخر کی غذا نہ لیں، بلکہ ان کے احساسِ عجز میں اور اضافہ ہو جائے، وہ اس کو پوری طرح خدا کے خانے میں ڈال سکیں۔ اُن کی پوری شخصیت شکر اور حمد کے اُس ربانی احساس میں ڈھل جائے جس کو ایک حدیثِ رسول میں اہلِ جنت کی صفت کے طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يُلْهَمُونَ التَّسْبِيحَ وَالْحَمْدَ كَمَا تُلْهَمُونَ النَّفْسَ (صحیح مسلم، کتاب الجنة) یعنی آدمی کے اندر جس طرح سانس آتی جاتی ہے، اُسی طرح اس کے اندر مسلسل طور پر حمدِ خداوندی کا چشمہ جاری ہو جائے گا، پورا ماحول حمدِ خداوندی کے لیے کامل معنوں میں پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، اس کے لیے وہ گہرا عمل درکار ہے جس کو حدیث میں جہاد بالنفس کہا گیا اصل یہ ہے کہ اس قِسم کی حمد کے لیے وہ شخصیت درکار ہوتی ہے جو کامل معنوں میں مثبت شخصیت ہو، جس کے اندر منفی احساس کا ایک ذرہ بھی باقی نہ رہے۔ ایسی شخصیت لمبی جدوجہد کے بعد بنتی ہے۔ شخصیت کی تعمیر کے لیے وہ اعلیٰ شعور درکار ہے جو منفی تجربے کو مثبت احساس میں کنورٹ کر سکے۔ اسی قِسم کی مثبت شخصیت کو اعلیٰ حمد کی توفیق ملتی ہے، اور اسی قِسم کی مثبت شخصیت کو جنت میں داخلہ دیا جائے گا۔ مہوا اور احمد آباد کے راستے میں باگودرا (Bagodra) کے مقام پر ہماری گاڑی رکی۔ مسافروں کے لیے مختلف قِسم کی دکانیں اور ہوٹل تھے۔ یہاں عنبر نام کا ایک بڑا ریسٹورنٹ تھا۔ نے وہاں چائے پی۔ ہمارے ساتھیوں نے ریسٹورنٹ کے مالک اور دیگر مسافروں کو انگریزی اور ہندی زبان میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔
27 فروری 2009 کو شام کو 6 بجے ہم لوگ احمد آباد ایرپورٹ پہنچے۔ 25 فروری 2009 کو جب ہم لوگ احمد آباد کے ایرپورٹ پر اترے تھے، اُس وقت ہمارے ساتھ دعوتی لٹریچر کے 5 بڑے بڑے کارٹن (carton) تھے۔ آج جب کنونشن سے واپس ہو کر ہم لوگ یہاں آئے تو ہمارے ساتھ کوئی کارٹن نہیں تھا، کیوں کہ یہ سارا لٹریچر دعوتی مقصد کے تحت لوگوں کو مطالعے کے لیے دیا جا چکا تھا اور لوگوں نے بخوشی اُن کو لے لیا تھا۔
ایرپورٹ پر ہمارے ساتھیوں کی دعوتی سرگرمی جاری رہی۔ یہاں انھوں نے ایرپورٹ کے
عملہ (staff) سے مل کر اُن کو اسلامی پمفلٹ اور بروشر دیے۔ ایئر پورٹ میں داخل ہو کر ہم لوگ لاؤنج (lounge) میں بیٹھ گئے۔ وہاں بھی ہمارے ساتھیوں نے لوگوں سے مل کر اُن کو ہندی اور انگریزی میں چھپا ہوا پمفلٹ دیا۔ لوگوں نے اس کو نہایت شوق سے لیا اور ہم لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ ہم لوگ جب احمد آباد ایئر پورٹ کے لاؤنج میں بیٹھے ہوئے تھے، اُس وقت ایک واقعہ ہوا۔ ہمارے ایک ساتھی چیونگ گم (chewing gum) کا پیکٹ خرید کر لائے۔ وہ خود بھی چیونگ گم کھا رہے تھے۔ انھوں نے اپنے ایک دوسرے ساتھی کی طرف چیونگ گم کا پیکٹ بڑھاتے ہوئے کہا کہ آپ بھی لیجیے۔ مجھ کو معلوم ہوا تو میں نے کہا کہ فوراً اس کو اپنے منہ سے نکال لیے اور اس کا بقیہ پیکٹ واپس کیجیے۔ یہ کوئی حقیقی ضرورت کی چیز نہیں ۔ یہ صرف ایک عادت ہے۔ عادت میں ہمیشہ کا ما (comma) لگا رہتا ہے، اس میں کبھی فل اسٹاپ نہیں آتا۔ ہماری ٹیم ایسی کسی چیز کا تحمل نہیں کر سکتی جو صرف ایک غیر ضروری چیز کی حیثیت رکھتی ہو۔ عادت کیا ہے ۔ عادت یہ ہے کہ کوئی کام آدمی بار بار کرتا رہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کے لاشعور کا حصہ بن جائے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو آدمی اُس کام کو سوچے سمجھے بغیر خود بخود کرتا رہتا ہے۔ اُس کو یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں فلاں غیر ضروری کام کر رہا ہوں ۔ مثلاً ہاتھ کی انگلیاں توڑنا، کرسی پر بیٹھ کر پاؤں ہلانا، ہنسی مذاق کرنا، جوک (joke) چھوڑنا، زیادہ بولنا، بناوٹی بات کرنا، جھوٹ بولنا، بلا ضرورت اورزور زور سے ہنسنا، دوران کلام بیچ میں بولنا، ٹیلی فون پر زور سے بات کرنا، پانی اور لائٹ کا بے جا استعمال کرنا، وغیرہ۔
اِس موقع پر میں نے اپنے ساتھیوں کو ایک حدیث سنائی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: مِنْ حُسْنِ اسلام المرء ترکه ما لا يعنيه (الترمذی، کتاب الزهد) یعنی آدمی کا حسن اسلام یہ ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کر دے۔
میں نے کہا کہ اس حدیث کے مطابق ، ایک اسلام وہ ہے جو صرف رسمی نوعیت کا اسلام اور دوسرا اسلام وہ ہے جو ”حسنِ اسلام‘‘ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایمان اور اسلام کا اعلیٰ ذائقہ
صرف اُسی انسان کو مل سکتا ہے جو حسنِ اسلام کو اپنا کنسرن(concern) بنائے اور غیر حسنِ اسلام کو شعوری فیصلے کے تحت مکمل طور پر چھوڑ دے۔ احمد آباد سے جیٹ ائرویز کی فلائٹ (9W0706) کے ذریعے دہلی کے لیے روانگی ہوئی۔ احمد آباد سے جہاز ٹھیک ٹائم (8:30) پر روانہ ہوا۔ جہاز کے اندر بھی ہمارے ساتھیوں کی دعوتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ یہاں بھی انھوں نے لوگوں کو دعوتی پمفلٹ دیا۔ انھوں نے جہاز کے عملہ اور اس کے کیپٹن مسٹر ارونِد سنگھ کور ریلیٹی آف لائف (The Reality of Life) کی ایک ایک کاپی دی۔ انھوں نے نہایت خوشی اور شکریہ کے ساتھ اس دعوتی پمفلٹ کو قبول کیا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ جہاز سے نکل کر ائربورٹ کے اندر داخل ہوئے۔ یہاں دوبارہ ہمارے ساتھیوں نے دعوتی سرگرمی شروع وہ لوگوں سے ملتے تھے اور انھیں مطالعے کے لیے اسلامی لٹریچر دیتے تھے۔ لوگ نہایت خوشی کے ساتھ اس کو قبول کر رہے تھے۔ وہ بار بار تھینک یو (thank you) کہہ کر اپنی خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ ہم لوگ ائربورٹ سے باہر آئے تو یہاں مسٹر اشوک کار کے ساتھ موجود تھے۔ ہم لوگ اُن کے ساتھ کار پر بیٹھ کر روانہ ہوئے اور 11 بجے رات کو نظام الدین ویسٹ (نئی دہلی) پہنچ گئے۔ (یہ سفر نامہ مولانا محمد ذکوان ندوی کے تعاون سے تیار کیا گیا)۔
Watch Maulana Wahiduddin Khan's lectures live on USTREAM .tv English — Saturday 5.30 pm (IST)
Urdu — Sunday 10.30 am (IST)