Al-Risala · January 2009

کامیاب زندگی کا سفر

Al-Risala, January 2009, pp. 32–33

By Maulana Wahiduddin Khan

تمام مقبول ناول وہی ہیں جو ٹریجڈی کے طور پر لکھے گئے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر آدمی مایوسی کے احساس میں جیتا ہے، اس لیے ٹریجک ناول اس کے مائنڈ کو زیادہ ایڈریس کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، کامیڈی اس کے مائنڈ کو ایڈریس نہیں کرتی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے اعتبار سے آئڈیل کو چاہتا ہے، لیکن ساری کوشش کے باوجود اس کو دنیا میں صرف آئڈیل سے کم (less than ideal) حاصل ہوتا ہے۔ یہ محرومی اتنی زیادہ عام ہے کہ اس میں کسی عورت، یا مرد کا کوئی استثنا نہیں۔

یہ بلاشبہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف اُس وقت معلوم ہوتا ہے، جب کہ اس کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کی روشنی میں دیکھا جائے۔ سوا، کوئی بھی طریقہ اس معاملے کی توجیہ نہیں کرتا۔

اصل یہ ہے کہ خدا نے ہر انسان کو معیار پسند (idealist) ہستی کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اپنی پیدائش کے اعتبار سے ایک متلاشی معیار حیوان (ideal-seeking animal) ہے۔ معیار (ideal) موجودہ دنیا میں سرے سے قابل حصول نہیں۔ وہ صرف آخرت میں، جنت کی صورت میں کسی انسان کو مل سکتا ہے۔

خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) کے مطابق، موجودہ دنیا آزمائش (test) کی دنیا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو صرف اِس لیے رکھا گیا ہے، تاکہ وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے تیار کرے۔ موجودہ دنیا کے حالات میں جو لوگ اپنے عمل سے اس بات کا ثبوت دیں کہ وہ جنت کی معیاری دنیا میں بسانے کے قابل ہیں، وہ موت کے بعد اس میں بسائے جائیں گے، اور بقیہ لوگوں کو چھانٹ کر الگ کر دیا جائے گا۔

طلب اور مطلوب میں یہی تضاد ہے جو لوگوں کے اندر محرومی کی نفسیات پیدا کر دیتا ہے۔

انسان اپنے پیدائشی مزاج کے مطابق، اپنے لیے ایک کامل دنیا چاہتا ہے، ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز پرفیکٹ اور آئیڈیل ہو۔ لیکن ساری کوشش کے باوجود اس کو یہاں صرف ایک غیر کامل دنیا (imperfect world) ملتی ہے، ایک ایسی دنیا جہاں ہر چیز غیر کامل اور غیر معیاری ہے۔

اس مسئلے کا حل صرف یہ ہے کہ انسان، خدا کے تخلیقی پلان کو سمجھے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ وہ موجودہ دنیا کو تیاری کی دنیا (preparatory world) سمجھے، نہ کہ اپنے مطلوب کو پانے کی دنیا۔ جو انسان، خدا کے اس تخلیقی پلان کو جانے اور اس کے مطابق، اپنی زندگی کا نقشہ بنائے، وہ بہ یک وقت اپنے لیے دورمتوں کو حاصل کرے گا۔ ایک یہ کہ دنیا کی زندگی میں وہ ٹینشن اور مایوسی کا شکار نہ ہوگا۔ اور دوسرے، یہ کہ موت کے بعد جب وہ اگلی دنیا (world hereafter) میں پہنچے گا، تو وہاں وہ جنت کو پالے گا، یعنی ابدیت (eternity) کی دنیا۔

ہر انسان ایک کامل زندگی کی تلاش میں ہے۔ لیکن ہر انسان اُس سے محروم ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنی مطلوب منزل کو قبل از موت کی دنیا میں تلاش کر رہا ہے، جب کہ خالق کے تخلیقی پلان کے مطابق، وہ موت کے بعد کی دنیا میں رکھ دی گئی ہے۔ یہی وہ دریافت (discovery) ہے جس سے کامیاب زندگی کا سفر شروع ہوتا ہے۔

خدا کے تخلیقی پلان کو نظر انداز کرنے سے، انسان کی زندگی المیہ (tragedy) بن جاتی اگر خدا کے تخلیقی پلان کو اپنا رہ نما نہ بنایا جائے تو انسان کی زندگی ایک طربیہ (comedy) بن جائے گی۔

دعوتی مقصد کے لیے ماہ نامہ الرسالہ اور مولا نا وحید الدین خاں کی کتابیں مفت حاصل کریں :

Dehradun Road, Saharanpur

Printed page